مریم نواز نے پنجاب میں بسنت کی تمام تقریبات منسوخ کردیں

مریم نواز نے پنجاب میں بسنت کی تمام تقریبات منسوخ کردیں جس پر یہ قرار دیتے ہوئے کہ پاکستان کو شدت پسند خطرات سے لڑنا ہوتا ہے، ان کے خلاف واضح توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مریم نواز نے اسلام آباد میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات کے بعد ایک بیان جاری کیا جس میں انھوں نے ان تمام سرگرمیوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا جن کی تقریبات 11 فروری کو منعقد ہوئی تھیں، جو اس بات کا ایک حقیقی اشارہ ہیں کہ پاکستان میں شدت پسندی کے خلاف سرگرمیوں کی ضرورت ہے۔

انھوں نے اپنے بیان میں یہ بات بھی بتائی کہ لبرٹی اسکوائر میں 11 فروری کو منعقد ہونے والا میگا بسنت شو بالکل منسوخ کر دیا جارہا ہے۔

مریم نواز نے اپنے بیان کے دوران پاکستان کی ایک قوم کی حیثیت کے ساتھ اپنے ملک کو defending کرانے پر زور دیا، انھوں نے بتایا کہ یہ وقت ہی نہیں ہے جب وہ کھڑے نہ ہوں، جو اس سے پہلے بھی تھا اور ہر صدر نے اپنے دور میں ملک کی ایک قوم کی حیثیت پر فخر کرتے ہوئے اپنا کھانے کا نام پاکستان زندہ باد دکھایا ہوتا تھا، جو اس وقت کے نسل کو بھی اسی فخر سے ساتھ لے جائے۔

اس کے ساتھ ہی انھوں نے دہشت گردی اور دیگر شدت پسند خطرات کے خلاف ملک کے لوگوں کو ایک متحد رہنما کی حیثیت پر اپنا مقصد بیان کیا۔
 
اس بات سے منصرف ہو کر نہیں ہوگا کہ مریم نواز نے ان تمام سرگرمیوں کو منسوخ کرنے کا اعلان دیا ہے جن کی تقریبات 11 فروری کو منعقد ہوئی تھیں۔ یہ ایک بات بھی ہے کہ پاکستان میں شدت پسندی کے خلاف سرگرمیوں کی ضرورت ہے، لیکن یہ سبک ہمارا ملک ہے اور اسے کوئی بھی تبدیلی سے پہلے اپنے نئے راستے پر چلنا ہوگا۔ اس وقت تک ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہر ایک اس مقصد کو کیسے حاصل کرے گا۔
 
بilkul, یہ بھی سمجھنی چاہیے کہ مریم نواز نے اپنی جانب سے شدت پسندی کے خلاف سرگرمیوں کی ضرورت پر زور دیا ہے، لیکن یہ بات بھی کوئی نہ کوئی شریک ہوتا ہے اس کو پوری طرح سمجھنا چاہیے کہ ان تقریبات میں سے کون سب واضح توجہ دیتے ہیں اور کون کی گزرتہ ہو رہی ہے.
 
جب تک میں بھول سکتا ہوں تو یہ بات میں تھی کہ پنجاب میں 11 فروری کو منعقد ہونے والی تقریبات پورے ملک میں ناجائز تھیں، اب یہ بھی واضح ہوا کہ اسے منسوخ کر دیا جائے گا... لگتا ہے مریم نواز کو صحت مند خیال ہو گیا کہ دہشت گردی سے ملک کے افراد کے خلاف یہ سرگرمی کچھ نہ کچھ ہو گی...

لگتا ہے یہ بھی ایک گم رہی بات نہیں کہ ملک میں اس وقت کی ایسی پہلی ہے جب سے کسی صدر نے 11 فروری کو منعقد ہونے والی تقریبات پر پورے ملک میں واضح توجہ دی ہو اور اب اس کا ایک احاطہ ہے...
میں سمجھتا ہوں کہ جو لوگ ان تقریبات پر جھیڑ بھر رکھتے تھے ان کے خیالات اب واضح ہوئے ہیں اور ملک میں دوسرے لوگوں کو بھی اس بات پر فخر ہو رہا ہے کہ کسی نے ان خطرات سے لڑنے کی واضح عزم کی ہے...
 
یہ واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان میں صدر نے 11 فروری کو منعقد ہونے والی تقریبات کو منسوخ کرنے کی بات کی، اور مریم نواز نے بھی اس پر زور دیا ہے کہ ڈیپارٹمنٹ آف انفرسٹرکچر کے چیف پروفیسر کو اس سے پہلے ہی منعقلی جات کی مہلت دی گئی تھی، لہذا اور اور یہ بات بھی کہ اس بات کی ناکارانی میں ان لوگوں کو جو اس تقریب میں شامل تھے انھوں نے اپنے فیشن کا مظاہرہ کیا، اور اب انھوں نے دھرمکدھر کر دیا ہے۔
 
🙏 یہ بات تو توہم سے باہر ہی ہے، مریم نواز نے پنجاب میں بسنت کی تمام تقریبات منسوخ کردیں اور اب وہ لوگ جو اس کو منع کر رہے تھے انھیں بھی دیکھنا پڑ گا، یہ بات کھوبال ہے کہ ملک میں شدت پسندی کے خلاف سرگرمیوں کی ضرورت ہے لیکن اس کو ایسے طریقے سے نہیں کیا جا سکتا جس سے لوگ اچھی طرح سمجھ نہ سکیں۔ یہ بات تو ایک معیار ہے، مریم نواز نے اپنے ملک کی ایک قوم کی حیثیت پر دفاع کرانے پر زور دیا لیکن اس کو اچھی طرح نہیں سمجھا گیا تھا، اب ہم پتہ چلتے ہیں کہ یہ صرف ایک معیار تھا اور کچھ مگر کچھ نہیں ہوا، دہشت گردی اور دیگر شدت پسند خطرات کے خلاف ملک کے لوگوں کو ایک متحد رہنما کی حیثیت پر اپنا مقصد بیان کرنا ضروری ہوگا۔
 
مریم نواز نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ہمیں دہشت گردی اور شدت پسندی سے لڑنے کی ضرورت ہے، لیکن پھر بھی ان کو ایسے سرگرمیوں کو منسوخ کرنا چاہیے جو ہمari دھمکی اور دھوکہ دینے کا باعث بن رہی ہیں، جیسا کہ 11 فروری کا میگا بسنت شو تھا جو اب وہی نہیڰا چلا گيا 🚫
 
مریم نواز کی بڑی بات میں سچائی ہے! یہ کہتے ہوئے انھوں نے پوری مدد سے اسلام آباد کا واقعہ معزز کہا ہوا ہے جس پر پورے ملک میں غصہ ہوا۔ یہ بھی سچ کی بات ہے کہ لبرٹی اسکوائر میں منعقد ہونے والا mega busnt show تو بالکل منسوخ کر دیا جا رہا ہے، جو ایک واضح اشارہ ہے کہ پاکستان کو شدت پسندی سے لڑنے کی ضرورت ہے اور اس وقت تک وہ ایسے سرگرمیوں میں شامل نہیں ہونگے جس کا نتیجہ دہشت گردی ہوسکے۔
 
یہ بات تو واضع ہی ہے کہ مریم نواز صاحب کی اس سٹیٹمنٹ سے ان کا بھرپور احترام حاصل ہوتا ہے جو پاکستان کو ایک قوم کی حیثیت دینے کی بات کر رہی ہیں۔ وہ دیکھ رہی ہیں کہ ملک کے لوگ اسی فخر سے اپنے سرپرستوں کے ساتھ ساتھ اپنی خودی کا ان شاعر سے بھی انہیں محبت اور احترام کرتے ہیں جنہوں نے ملک کی ایک قوم کی حیثیت پر فخر کیا ہوتا ہے.
 
اس نئی پالیسی کو نہیں سمجھ سکتا، واضح ہوا بھی ہوئی ہے کہ اس بات کو یقینات نہیں دیا جائے گا کہ اس طرح کی سرگرمیوں کو منسوخ کرنے سے دہشت گردی اور دیگر شدت پسند خطرات دूर ہوجائیں گے …… 🙄
 
بھلا یہ بات صاف ہے، مریم نواز کو پاکستان کی سہولت اور سلامتی کی توجہ دینے کی जरورت ہی نہیں، بلکہ ان کا مقصد ملکی لوگوں کے دिलوں میں hope and unity بنانا ہے۔ یہ سب ایک ایسا سچا اور منصوبہ بندی کیا گیا ہوا لافز ریزہال ہے جو پاکستان کو ek toekar ki tarah sada kaam karne پر مجبور کرتا ہے۔

ہم یہی چاہتے ہیں اور اس سے واقف ہو کر دوسروں کی مدد اور Samarthan se khelna chahiye, ہر individual ko apni baariyan samajhkar ek dusre ke saath milkar kadam rakhna chahiye.

ابھی تک انہوں نے ایک اچھا قدم قدم رکھا ہے، لیکن یہ بھی صاف اور واضح ہے کہ وہ صرف ایک individual ہیں نہیں، ملک کی safety aur security ke liye, unki ek team hai jise pakistaan ko saf rakhne ki zarurat hai.
 
بھائی ان نے پنجاب میں بھی بھاگدھنیاں منسوخ کر دیں ہیں اور یہ حال ہی میں پینٹرنسٹ پریشانیوں کے بعد بھی ہوا ہے، یہ واضح بات نہیں کہ پاکستان میں کبھی کوئی چیز آئی ہے جو دوسرے ساتھ ساتھ آئے ہوں?
 
یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ یہ تقریبات منسوخ ہونے کی بات پوری نہیں ہوگی؟ کوئی proving evidence دیے، تو ہمیں یہ بھی معلوم ہو جاتا کہ ان تمام تقریبات میں کیا تھا جو مریم نواز کے خلاف منعقد کی گئیں؟ پہلے سے تو یہ بات ٹھہر گئی ہوگی کہ 11 فروری کو پاکستان میں دہشت گردی سے لڑنے کا ایک بڑا موقع تھا، اور اب اس نے اس میں کسی نہ کسی رہنما کی حیثیت کی واضح بات کی ہوگی؟
 
بصیرتِ منزِل یہ بات واضح ہے کہ مریم نواز کا یہ اعلان دھمکی دینے کے لیے نہیں بلکہ ایسے لوگوں کی توجہ مبذول کرنے کے لیے ہے جنہوں نے اس شہر میں ایسی اہمیت و معراج کو دھونے کا مہم چلانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اس شہر میں دھومڑ پکڑنے والے یہ واقعات ان سے ایسی ایجوکیشن حاصل کرنے کا موقع ہیں کیونکہ یہ لوگ محسوس نہیں کرتے کہ اس شہر میں کچھ کیا ہوا کہ ان کو پورے شہر سے سہمانے کا اہداف بنایا گیا ہے.
 
میں تو ہمیشہ کہتا تھا کہ مریم نواز کے اقدامات کو نہایت قیادت اور مساوات کے حوالے سے دیکھنا چاہئیے اور انھوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ لبرٹی اسکوائر میں منعقد ہونے والی تقریب کو منسوخ کر دیا جارہا ہے جو مجھے کم دیکھنا تھا، مگر پھر یہ بات بھی نہیں کہ اس پر انھوں نے یہ اعلان کرنے سے قبل شدت پسندی کے خلاف ملک کے لوگوں کو ایک متحد رہنما کی حیثیت سے اپنا مقصد بیان کیا، یہ بات بھی نہیں کہ وہ ایسا نہیں کرتے، اور اس پر انھوں نے پہلے سے ہی کہا تھا کہ یہ وقت ہی نہیں ہے جب وہ کھڑے نہ ہوں، یہ سب کچھ مجھے تو ایک دوسرے سے موازنہ کرنا پڈتا ہے
 
مریم نواز نے اس فیصلے سے واضح طور پر بتایا ہے کہ وہ ملک کی ایک قوم کی حیثت سے اپنے ملک کو defending کرنا چاہتی ہیں۔ یہ بات بھی بات ہے کہ اگر اچھا موقع نہیں ملتا تو اسے خود بنایا جاسکتا ہے۔ اب وہ لوگ جو ان تقریبات میں حصہ لینے کی پوری کوشش کر رہے تھے اب ان کو اچھی نئی مواقع تلاش کرنے پڑے گا۔
 
عوام کے لئے یہ ایک بڑا اہم فیصلہ ہے کہ ان تمام تقریبات کو منسوخ کر دیا گیا ہے جو سوشل میڈیا پر پھیل رہے تھے، لیکن یہ بات تو بہت اچھی ہے، جو کہ اس وقت تک پاکستان کو شدت پسندی سے لڑنے کی ترجحتی ملے تھی، جب ان تمام سرگرمیوں کا مقابلہ کیا جاسکتا تھا…
 
یے تو یہ حقیقت ہے کہ مریم نواز نے اچھا کام کیا ہے، لیکن انھوں نے اس بات پر زور دنا چاہئے کہ پاکستان میں جو بھی ہوا ہے وہ نہیں ہوا ہے، یہ بھی ہے کہ وہ ان تمام سرگرمیوں کو منسوخ کرنے والا اعلان لگاتار دیتا رہتا ہے، نہ تو اس کی اچھائی ہوسکتی ہے اور نہ ہی غلطی۔
 
میں سمجھتا ہوں کہ یہ اہم بات ہے کہ 11 فروری کو منعقد ہونے والی تقریبات میں شدت پسندی کے خلاف سرگرمیاں شامل ہیں۔ مریم نواز کی طرف سے منسوخ کردہ تقریبات کی وضاحت اور انھوں نے ملک کو defending کرنے پر زور دیا جانا، یہ دکھایتا ہے کہ وہ پاکستان کی ایک قوم کی حیثیت پر فخر کرتے ہیں اور شدت پسندی کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ لینا ضروری ہے۔

مریم نواز کو اپنی بھرپور تقریبات منسوخ کرنے کی واضح فہمت دینے سے پہلے، وہ یہ بات بھی بتائی کہ ملک میں دہشت گردی اور دیگر شدت پسند خطرات کے خلاف لوگوں کو ایک متحد رہنما کی ضرورت ہے۔ یہ بات واضح ہو گی کہ مریم نواز ملک کی ایک قوم کی حیثیت پر اپنا مقصد بیان کر رہی ہیں اور وہ اپنے ملک کو defending کرنا چاہتی ہیں۔ یہ تو کہیں سے بھی منفی نہیں اور ہر صدر نے اپنے دور میں ملک کی ایک قوم کی حیثیت پر فخر کرتے ہوئے اپنا کھانے کا نام پاکستان زندہ باد دکھایا ہوتا تھا۔

میں سمجھتا ہوں کہ مریم نواز کی طرف سے ملک کو defending کرنے پر زور دینا، یہ ایک اچھی بات ہے لیکن اسے دوسری طرف دہشت گردی اور دیگر شدت پسند خطرات کے خلاف لوگوں کو ایک متحد رہنما کی حیثیت پر اپنا مقصد بیان کرنا بھی ضروری ہے۔
 
واپس
Top