مسئلہ فلسطین خطے کے عدم استحکام کی جڑ قرار، پاکستان کا دوٹوک مؤقف | Express News

محقق

Well-known member
پاکستان نے اقوام متحدہ میں ایک مستحکم اور عارض خطہ قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے، غزہ میں جاری جنگ اور اسرائیل کی غیر قانونی کارروائیوں کو ختم کرنے پر زور دیا ہے۔

انہوں نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے، ادارے کی تنصیبات اور یو این آر ڈبلیو اے پر اسرائیل کی حملاؤں کو مذمت کیا ہے۔

پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے مطالبہ کیا ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت طے شدہ امن منصوبے پر مکمل عملدرآمد ناگزیر ہے۔

انہوں نے انhuman سلوک کو ختم کرنے اور غزہ میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کے لیے مطالبہ کیا ہے اور غزہ کی ہنگامی بنیادوں پر تعمیر نو کا آغاز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

عاصم افتخار نے ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کو ناگزیر سمجھایا ہے، جو 1967 سے قبل کی سرحدوں پر قائم ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

انہوں نے ایک ایسی صورت حال کو دور کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کو متزلزل نہ کریں۔
 
بچپن میں میری ماں نے مجھے ایک بات بتائی تھی جس پر اب بھی سوچتا ہوں اور اس پر ابھی تو کئی بار سوچنا شروع کر دیا ہوں... یہ کہ انسائیکلوپیڈیا کی گلی میں ایک پہلوان چلتا تھا اور وہ مجھے دیکھتا تو کہتا: "تم بھی میرے جیسا ہو" اور وہ پہلوان میں سے ایک لاکھ رپے کی قیمتی کچرے لے کر گلی سے نکل جاتا تھا...

اب غزہ میں یہی چیز ہو رہی ہے... پہلوانوں اور مٹھیاں...
 
آپنے ریکارڈ کی کھوٹی کو توڑ کر، اسرائیل کا یہ سلسلہ جاری ہو رہا ہے اور دنیا بھی اس پر نظر انداز ہونے کی تند دھڑکن لگ گئی ہے... ایک طرف غزہ میں ہلاک ہو رہے لوگ اور دوسری طرف فلسطینی لوگوں کو معیشت کا راستہ توڑنا... یہ بات بھی نہیں بلکل، یہ ہمیں پہلے بھی ایسی طرح کی صورتحال دیکھنے پر مجبور کیا ہے۔

انسانیت کے ساتھ ہونے والے غلط فہمی کو یہاں تک نہیں پہنچایا جا سکتا جتنی سے زیادہ تیزگی سے ان شاعروں کے کہلنا چاہئے جن میں لکھا ہو اور اسی طرح ہاتھ پہنچ کر اس بات کو سمجھنا چاہئیے کہ ان شاعروں نے کیا کہیں اور کیا کہا... وہ اسے تیسری جگہ سے مٹا دیتا ہے کیونکہ یہ سب کچھ ہمیں ایک ایسی صورتحال میں دیکھ رہا ہے جو اس وقت تک نہیں ہوا اور اس لیے ایسا محسوس کرنا چاہئیے کہ یہ بھی ایک ماضی کی بات ہے...
 
اس وقت یہ بات واضح تھی کہ غزہ میں جاری جنگ کو ختم کرنا ہی نہیں بلکہ اسرائیل کی غیر قانونی کارروائیوں کو بھی ختم کرنا ہے، مگر اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے کہ یہ ممکن ہوگا? جس طرح سلامتی کونسل کی تنصیبات اور UNRWA پر اسرائیل کی حملاؤں کو مذمت کیا گیا ہے، اسی طرح اس نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت طے شدہ امن منصوبوں پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے۔
 
ایسے باتوں پر غور کرتے ہوئے ، یہ بات چیلتھی ہے کہ غزہ میں جاری جنگ کی واقفیت ہٹانے اور اسرائیل کی غیر قانونی کارروائیوں پر قیام متعین کرنا ایک مشکل کارروائی ہے ، لیکن پھر بھی اسے یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ فلسطینی عوام کی زندگی میں سुधار اورPeace برقرار رہے
 
اس دuniya میں کچھ باتوں کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے، سب کو یہ نہیں معلوم کہ اسرائیل کی اس غیر قانونی کارروائیوں نے کیا ہوا ہے۔ ان کا مقصد پAKستان اور فلسطین کے ساتھ ایک اچھے رिशت کو تباہ کرنا ہوگا؟

انھوں نے سلامتی کونسل کی ایک قرارداد پر زور دیا ہے جو یہ بتاتی ہے کہ اسرائیل کی وہ کارروائی جس سے اس کے منصوبے پھلنے والی ہیں، وہ غیر قانونی ہوگی؟

اسلامی دنیا کا یہ مطالبہ صرف ایک جھूٹا معاملہ نہیں ہے۔ فلسطینی عوام کو اپنی خودمختاری حاصل کرنے کی پوری صلاحیت ہے اور اس کے لیے میں اس پر سچ سے سمجھتا ہوں۔
 
اس خطے کی ساری بات تو چلو پہلی جگہ یہی ہے کہ اسرائیل کا تعلق وطن سے کیا ہے؟ اور انہوں نے فلسطینی عوام کو کیسے چھوڑ دیا جائے گا؟ مگر انہیں یقین تھا کہ ایک آزاد فلسطینی ریاست وطن کی واحد حقیقت ہے، لیکن اُس کے لئے یہ کیسے ممکن ہوگا؟
 
ایسے صورت حال میں اسرائیل کی جانب سے بھی معقول حل تلاش کرنا ضروری ہو گا۔ غزہ میں جنگ کے دوران انسانی شہری حبالات کو نقصان پہنچانے سے انکار نہیں کرنا چاہئیے
 
میری رائے یہ ہے کہ غزہ میں جاری جنگ اور اسرائیل کی غیر قانونی کارروائیوں کو ختم کرنے پر تمام ممالک کا ایک تعاوناں ضروری ہے۔ یہ بات بھی سمجھنی چاہئیے کہ اسرائیل کی کارروائیوں نے فلسطینی عوام کو بہت کھرے ماحول میں پھنسایا ہے اور انہیں ایک مناسب معاوضہ دینے سے بچانے کی ضرورت ہے۔
 
اس غزہ جنگ میں اسرائیل کی جانب سے جاری غیر قانونی کارروائیوں کو ختم کرنا ہی نہیں، بلکہ وہ اسے ختم کرنا ہوتا ہے اور فلسطینیوں کے حقوق کا احترام کیا جائے تو بس اٹھ کھڑے ہوجائیں...
 
یہ بہت گھبراہٹ فیلائی رہی ہے کہ فلسطینی لوگ ان human suloon ko kese dhoondh rahe hain? Israel ka behavior sirf UNRWA par nahi, balki pوری dunia ko dikhaya hai. Pakistan ko yeh bhi bataana chahiye ki kaisa apni ekjuthity ko maintain karne ke liye humara apna saath rakha jaayega? Ghaza mein human aid kaafi hai, lakin Israel aik alag baat hai. Woh sabse pehle humanity ko nahi, balki politics aur power ki talash me raha hai.
 
تخلفی سے کیسے نکلنا پڈتا ہے? غزہ میں جنگ جاری ہے اور اسرائیل کی جانب سے غیر قانونی کارروائیوں کی جاری رہتی ہے، یہ بات تو آسان ہے لیکن کس طرح اس سے نکلنا پڈتا ہے؟ ان کے پاس بھی یہ کہنا ہوتا ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کی جانب سے امن منصوبوں پر عمل درامد کرنا پڑتا ہے لیکن وہ کام بھی نہیں ہوا، یہاں تک کہ اسرائیل کے خلاف مذمت کی جاتی ہے اور پاکستان کو ایک مستحکم خطے قرار دینے پر زور دیا جاتا ہے۔ مگر اس سے کیا ہوگا؟ انہیں اپنے فैसलے کی وجہ دیکھنی پڑتی ہے اور ان سے کچھ بھی نہیں کیا جا sakta اور وہاں تک یہی بات ہے کہ غزہ کی ہنگامی بنیادوں پر تعمیر نو کا آغاز کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے بھی کچھ کیا جائے گا۔
 
اس معاملے میں یہ تھوڑی بھی اچھی بات ہو گی؟ اسرائیل نے فلسطینی عوام پر بہت زیادہ حملے کیے ہیں، اب وہی فلاں بھی کیا جائیے گا? ہمیشہ یہی بات ریکارڈ ہوتی چلی گی, فلسطینی لوگوں کو مارنا، ان کی جائیدادوں پر قبضہ کرنا اور ان کی کیا بات ہے؟
 
واپس
Top