امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک اور بڑا امریکی بحری بیڑہ تیزی سے ایران کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انھوں نے ایک مرتبہ پھر ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں سے متعلق مذاکرات کے لیے میز پر آئے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں امریکا کا اگلا حملہ کہیں زیادہ شدید ہوگا، جب کہ روس اور چین کی قیادت نے دفاعی اتحاد کے تحت ایران اور وینز ویلا پر مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے طویل پریس کانفرنس میں دھمکی دی ہے کہ غزہ کی تعمیر نو سے قبل حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنا ضروری ہے، حماس کے غیر مسلح ہونے تک غزہ پر سیکیورٹی کنٹرول ہماری فوج کا رہے گا، تعمیر نو بھی نہیں ہونے دیں گے۔
مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر عالمی سیاست کے اس نازک ترین مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جہاں طاقت، مفادات اور نظریات کی کشمکش کسی بھی لمحے ایک بڑے تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات، ایران کے خلاف کھلی عسکری دھمکیاں اور خطے میں امریکی بحری و فضائی قوت کی غیر معمولی نقل و حرکت نے عالمی سطح پر تشویش کو جنم دیا ہے۔
امریکا کا یہ اعلان کہ ایک اور بڑا अमریکی بحری بیڑہ تیزی سے ایران کی جانب بڑھ رہا ہے، دراصل عسکری طاقت کے اظہار کے ساتھ ساتھ نفسیاتی دباؤ کی ایک منظم کوشش بھی ہے۔ یو ایس ایس ابراہم لنکن جیسے جدید طیارہ بردار جہاز کی قیادت میں آنے والا بحری بیڑہ محض دفاعی ضرورت نہیں بلکہ ایک سیاسی پیغام ہے کہ امریکا خطے میں اپنی مرضی مسلط کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایران پہلے ہی سخت معاشی پابندیوں، تیل کی برآمدات میں کمی اور مالیاتی نظام پر دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں اگر اسے مزید عسکری دھمکیوں کے ذریعے مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی جائے تو یہ عمل مفاہمت کے بجائے تصادم کو جنم دے گا۔
امریکا کے تعاقب سے ایران کے نقصانات تیزی سے زور پڑتے جاتے ہیں، یہ اس بات کی واضح علامت ہوگی کہ ایران کی آزادی اور عزتی کو کبھرایا جا رہا ہے۔
سفارشی شہرت میں امریکی سفارت خانے نے ایک نئی پالیسی پیش کی ہے جو کہ ایران کے ساتھ تعامل کو بے مشرقی تصور پر متعارف کرائیں گے اور فوری طور پرIran کے ساتھ طاقت کا تبادلہ کرنے کی کوشش کرنے کی طرف متحرک ہوگا۔
مشرقِ وسطیٰ ایک بھرپور اور گہری تاریخ رکھتا ہے جس میں ان کئی ملکوں نے اپنی فوجی اور سیاسی طاقت میں بڑھا کر دوسروں پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ سب کو ایک ایسی دنیا میں پہنچاتا ہے جہاں جنگ اور تصادم کا فریزر رہتا ہو گا۔
امریکی صدر نے اپنے خطاب میں یہ بھی بتایا ہے کہ وہ اس وقت میڈیا کو انھیں ایران کی جانب سے جان کے حوالے دینا چاہتے ہیں، جس طرح مائیڈیا نے 2003 میں افغانستان کے خلاف جنگ کا مقابلہ کیا تھا۔
امریکا کی جانب سے شام اور یمن پر حملے نے عالمی سیاست کو ایک خطرناک مقام پر پہنچایا ہے۔ دنیا کے ممالک میں اس بات کے دھونے والے بے جان گئے ہیں کہ امریکا کی یہ پالیسی صحت مند نہیں، جس سے دنیا کو انچھوتے ہوئے کافی خراب اور اس پر بھاری ٹیکس لگ رہی ہے۔
امریکا کی پالیسیوں نے دنیا کی آخری ماحولیت کی ایک بے مثال تباہی کو جنم دیا ہے۔ اس نے دنیا کے مختلف حصوں میں اچانک اور انچھوتے ہوئے حملے کی جانے سے دنیا کو ایک بے خوفناک مقام پر پہنچایا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے طویل پریس کانفرنس میں دھمکی دی ہے کہ غزہ کی تعمیر نو سے قبل حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنا ضروری ہے، حماس کے غیر مسلح ہونے تک غزہ پر سیکیورٹی کنٹرول ہماری فوج کا رہے گا، تعمیر نو بھی نہیں ہونے دیں گے۔
مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر عالمی سیاست کے اس نازک ترین مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جہاں طاقت، مفادات اور نظریات کی کشمکش کسی بھی لمحے ایک بڑے تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات، ایران کے خلاف کھلی عسکری دھمکیاں اور خطے میں امریکی بحری و فضائی قوت کی غیر معمولی نقل و حرکت نے عالمی سطح پر تشویش کو جنم دیا ہے۔
امریکا کا یہ اعلان کہ ایک اور بڑا अमریکی بحری بیڑہ تیزی سے ایران کی جانب بڑھ رہا ہے، دراصل عسکری طاقت کے اظہار کے ساتھ ساتھ نفسیاتی دباؤ کی ایک منظم کوشش بھی ہے۔ یو ایس ایس ابراہم لنکن جیسے جدید طیارہ بردار جہاز کی قیادت میں آنے والا بحری بیڑہ محض دفاعی ضرورت نہیں بلکہ ایک سیاسی پیغام ہے کہ امریکا خطے میں اپنی مرضی مسلط کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایران پہلے ہی سخت معاشی پابندیوں، تیل کی برآمدات میں کمی اور مالیاتی نظام پر دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں اگر اسے مزید عسکری دھمکیوں کے ذریعے مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی جائے تو یہ عمل مفاہمت کے بجائے تصادم کو جنم دے گا۔
امریکا کے تعاقب سے ایران کے نقصانات تیزی سے زور پڑتے جاتے ہیں، یہ اس بات کی واضح علامت ہوگی کہ ایران کی آزادی اور عزتی کو کبھرایا جا رہا ہے۔
سفارشی شہرت میں امریکی سفارت خانے نے ایک نئی پالیسی پیش کی ہے جو کہ ایران کے ساتھ تعامل کو بے مشرقی تصور پر متعارف کرائیں گے اور فوری طور پرIran کے ساتھ طاقت کا تبادلہ کرنے کی کوشش کرنے کی طرف متحرک ہوگا۔
مشرقِ وسطیٰ ایک بھرپور اور گہری تاریخ رکھتا ہے جس میں ان کئی ملکوں نے اپنی فوجی اور سیاسی طاقت میں بڑھا کر دوسروں پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ سب کو ایک ایسی دنیا میں پہنچاتا ہے جہاں جنگ اور تصادم کا فریزر رہتا ہو گا۔
امریکی صدر نے اپنے خطاب میں یہ بھی بتایا ہے کہ وہ اس وقت میڈیا کو انھیں ایران کی جانب سے جان کے حوالے دینا چاہتے ہیں، جس طرح مائیڈیا نے 2003 میں افغانستان کے خلاف جنگ کا مقابلہ کیا تھا۔
امریکا کی جانب سے شام اور یمن پر حملے نے عالمی سیاست کو ایک خطرناک مقام پر پہنچایا ہے۔ دنیا کے ممالک میں اس بات کے دھونے والے بے جان گئے ہیں کہ امریکا کی یہ پالیسی صحت مند نہیں، جس سے دنیا کو انچھوتے ہوئے کافی خراب اور اس پر بھاری ٹیکس لگ رہی ہے۔
امریکا کی پالیسیوں نے دنیا کی آخری ماحولیت کی ایک بے مثال تباہی کو جنم دیا ہے۔ اس نے دنیا کے مختلف حصوں میں اچانک اور انچھوتے ہوئے حملے کی جانے سے دنیا کو ایک بے خوفناک مقام پر پہنچایا ہے۔