بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں واقع ایک میڈیکل کالج کو سرکار کی جانب سے منسوخ کردیا۔ یہ فیصلہ نیشنل میڈیکل کمیشن کی جانب سے چھ جنوری کو سامنے آیا، جس کے بعد کالج میں طلبہ اور والدین میں تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کو منسوخ کردیا جانے کا یہ فیصلہ مسلم طلبہ کی بڑی تعداد کے داخلے پر دائیں بازو کے ہندو گروپوں کے احتجاج کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
بھارت میں نیشنل انٹرنس ایگزامنیشنز ٹیسٹ دوسرے ملک جیسے پاکستان، بھیلا اور تھائی لینڈ سے مقابلہ کرتا ہے۔ ہر سال دو ملین سے زائد طلبہ نیشنل انٹرنس ایگزامنیشنز ٹیسٹ دیتے ہیں تاکہ تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار ایم بی بی ایس نشستوں میں داخلہ حاصل کر سکیں۔
شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کا لائسنس منسوخ کردیا جانے کے بعد مقبوضہ کشمیر کی رہائشی 18 سالہ طالب علم ثانیہ جان نے بتایا کہ جب وہ نیشنل انٹرنس ایگزامنیشنز ٹیسٹ پاس کر گئیں تو وہ خوشی سے جھوم اُٹھی تھیں۔ اس نے یہ بھی کہا کہ شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے اپنی تعلیم حاصل کرنے کی تangaہی اور والدین کی مصیبت سے وہ بہت متاثر ہوئی ہے۔
مظاہروں میں شدت آنے پر کالج کی بندش کا مطالبہ بھی سامنے آگیا۔ نیشنل میڈیکل کمیشن نے 6 جنوری کو اعلان کیا کہ کالج حکومت کی مقرر کردہ کم از کم تعلیمی معیار پر پورا نہیں اترتا اور اس کی پہچان منسوخ کر دی گئی ہے۔
یہ واضح ہے کہ بھارت میں تعلیم کو سیاسی تحریر بنادیا جا رہا ہے۔ جب ایک محنت کش طبقے کے گروہ نے اپنی ناک لگائی تو فوجی اور انتظامی ماحول نے اس پر پھیلاؤ دیا۔ ہو سکتا ہے یہ وہ ایک نئا رواج ہو جس کے بعد ہر سیاسی گروہ اپنی ناک لگائی اور سب کو دوسرے کی سرزمی کرنے کے لیے ملتا جلتا ہو گیا ہو۔ اس سے تعلیم میں رائے براہ راست متاثر ہوتی ہے اور وہ لوگ جو دوسروں کے حق میں اٹھتے ہیں ان کی زندگی پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔
تھوڑا سا سوچتا کروں تو یہ بات بہت تباہ کن ہے کہ ایک اسکول کو منسوخ کر دیا جائے جو وہاں کی طلبہ اور ان کی والدین کے لئے تعلیم کا باعث بنتا ہوا چلا گیا ۔ نیشنل میڈیکل کمیشن کا یہ فیصلہ ایک مسلم طلبہ کی بڑی تعداد کی داخلے پر دائیں بازو کے ہندو گروپوں کی احتجاج کی وجہ سے ہوا تو نہیں بلکہ اس نے ایسا فیصلہ کیا جس کے بعد بھارتی حکومت کو اپنی وہی ناکام پالیسیوں کے لئے blames کرنا پڑے گا۔ اس سے ہم پتہ چلتا ہے کہ بھارت میں تعلیم کی پالیسیس جیسے ہی ہو رہی ہیں جہاں مذہبی وہتمام اور دھمکیوں پر چلنے کے لئے ہی سول سیکtor کو پہچانتا جاتا ہے۔
وہ فیصلہ جس سے شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کو منسوخ کردیا گیا، اس سے بھارت میں نیشنل انٹرنس ایگزامنیشنز ٹیسٹ کی پوزیشن پر ایک گھنٹہ اور بیس مिनट کا نقصان ہوگا!
یہ فیصلہ مسلم طلبہ کی بڑی تعداد کے داخلے پر دائیں بازو کے ہندو گروپوں کے احتجاج کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے، لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس فیصلے سے نیشنل انٹرنس ایگزامنیشنز ٹیسٹ کو بھارت میں نیشنل انٹرنس ایگزامنیشنز ٹیسٹ کی پوزیشن پر ایک گھنٹہ اور بیس مिनट کا نقصان ہوگا!
شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کا لائسنس منسوخ کردیا جانے کے بعد مقبوضہ کشمیر کی رہائشی 18 سالہ طالب علم ثانیہ جان نے بتایا کہ جب وہ نیشنل انٹرنس ایگزامنیشنز ٹیسٹ پاس کر گئیں تو وہ خوشی سے جھوم اُٹھی تھیں...
ماضی میں بھی یہی صورتحال آ چکی ہے، جب نیشنل انٹرنس ایگزامنیشنز ٹیسٹ کا معیار کمزور کیا گیا تو اس کی پوزیشن پر نقصان ہوگا!
شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کو منسوخ کردیا جانے سے نیشنل انٹرنس ایگزامنیشنز ٹیسٹ کی پوزیشن پر نقصان ہوگا!
مظاہروں میں شدت آنے پر کالج کی بندش کا مطالبہ بھی سامنے آگیا...
شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کا لائسنس منسوخ کردیا جانے سے نیشنل انٹرنس ایگزامنیشنز ٹیسٹ کی پوزیشن پر نقصان ہوگا!
بھارت میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایک لاکھ سات سو میڈیکل اسٹوڈنٹس کو داخلہ دینے کی اجازت نہیں دی گئی، اور اس وقت شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کا لائسنس منسوخ کردیا گیا ہے جو مسلم طلبہ کی بڑی تعداد کو داخلے کا موقع دیتا تھا۔
یہ فیصلہ کبھی نہیں ہوا تھا، اس میں ایک پہلے سے موجود اور جاری ترجیح موجود تھی۔ مگر یہ فیصلہ کیا گیا ہے اور یہ بات اب واضع ہے کہ جو بھی طالب علم ہندو گروپ سے تعلق رکھتے ہیں ان کی جانب سے اس فیصلے پر شدید تنقید کی جائے گی۔
میں اس فیصلے سے نا محتسب ہوں، حالات ناقصیں ہیں. میں دیکھا ہے کہ ایک ہی کالج کو منسوخ کردیا گیا ہے جو مسلم طلبہ کے بڑے تعداد سے پرندہ ہوا ہے، اس کی پہچان منسوخ کر دی گئی ہے؟ یہ ان کو ہو سکتا ہے کہ وہ کیسے چل رہے تھے، مگر ان لوگوں کی پوری تصویر نہیں دیکھی جا سکتی۔
انھوں نے نیشنل انٹرنس ایگزامنیشنز ٹیسٹ میں بھی بڑی تعداد میں نمائش دی ہے، اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ ہی بہتر ہیں، مگر انھوں نے بھی اپنے راستے پر چلنا پڑا ہے، حالانکہ یہ ایک معذور ملک میں ہے۔
اب جب اس کالج کو منسوخ کردیا گیا ہے تو وہ لوگ کیسے چل رہے تھے؟ انھوں نے اپنی اشتہارات میں کیسے پیش کیں؟ یہ پریشانی تو جب تک اس کالج پر لائسنس ہوتا ہے، ہمیشہ نہیں رہی، مگر اب جب وہ منسوخ ہو چکا ہے تو یہ بات اور ہمیں ملتی ہے؟
مریضوں کے لئے ایسا یقینی بنانا مشکل ہو رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی کوئی بھیmedical کالج سرکاری طور پر منسوخ نہیں کر دیا جائے جبکہ ایسی حالات میں ان میں داخلہ لینے والوں کے لئے یقینی تعلیم کی چنگیزوں نہیں بنتی ہیں، اس میں سے ایک شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کو منسوخ کرنا اور یہ بھی یہ فیصلہ صاف دکھای رہا ہے کہ ایسے ہی چالाकانہ پالیسیوں سے ملک کی تنگانی پر لگنا مشکل نہیں ہے
امنے بھی تھا یہ فیصلہ، مگر واضح طور پر مسلم طلبوں کے لیے نہیں، دوسروں سے تو تعلقات ہیں جو کہ ہندو گروپوں کی طرف سے اٹھے تھے ۔ نیشنل انٹرنس ایگزامنیشنز ٹیسٹ میں بھی کئی دوسری ملک بھی شامل ہوتے ہیں، اسے کوئی خاص ملک کے ساتھ تعلق نہیں ہوتا ۔ اس فیصلے کی وضاحت یہ نہیں بھی ہو سکتی کہ ہم کس طرف رہائش پر چلے گئے تھے، پھر نہیں تو کیا انٹرنس ٹیسٹ میں کچھ مختلف ہوتا؟
انٹرنیٹ پر یہ ساری جگہ کی معلومات اور تشویشوں کے بارے میں بہت سی پوسٹس لگ رہی ہیں، یہ بات تو واضح ہے کہ شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کے لیے اس فیصلے کی ایک بھرپور بحث کا موقع بن گیا ہے، لیکن یہ بھی بات فہم کرنی چاہئیں کہ وہ فیصلہ کیسے لیا گیا تھا اور اس سے شہری معاشرے پر کس طرح اثرات پڑے گئے ہیں، تو یہ کس ملک میں پوسٹ کریں؟
اس نئی خبر سے میرا خیال یہ ہے کہ ہندو گروپوں کے احتجاج کی وجہ سے منسوخ کردیا جانے والے میڈیکل کالج نے مقبوضہ کشمیر کی بہت سی مسلم طلبہ کو اپنی تعلیم حاصل کرنے کی مہ Mills دے دی، اس لیے ان کا احتساب یہی ہو سکتا ہے
اس فیصلے سے کیسا محسوس ہوا؟ یہ فیصلہ ہندوستان میں ایک گروہ کی ناکام حلم کا ظاہر ہوتا ہے، جس نے نوجوانوں کو اپنی سیاسی اور مذہبی وضھ بے چینیوں کے لئے ایک طالب علم تعلیمی انسٹی ٹیوٹ پر قبضہ کر لیا ہوا، جہاں ہندوستانی نوجوانوں کی سست مہنگی پائش کو مسلم طلبوں کے بھرپور اخراجات والے تعلیمی انسٹی ٹیوٹ میں منتقل کرنے پر مجبور کردیا گیا ہوا…۔