2026 میں تعلیم کا نظام مصنوعی ذہانت (ایچ آئی) کی طرف ہر دIREKTا رہے گا، جس نے یہ وعدہ کیا ہے کہ اس سے تعلیم کے شعبے میں بھی ایک واضح تبدیلی آئے گی۔ اے آئی کی ٹیکنالوجی نے پڑھانے، سیکھنے اور تعلیمی نظام کو ایک ایسا ڈیزائن دیا ہے جس میں 2026 تک تمام رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا۔
تعلیم کے شعبے میں اچھی طرح سے تبدیلی آئے گی، اور یہ بدلتے ہوئے نظام اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ ان تمام کی سے کوئی بھی طالب علم جو ضرورت پاتا ہو، ذاتی نوعیت کے مطابق نصاب کا انتخاب کرے گا۔ اس طرح فوری فیڈبیک فراہم کی جائے گی اور کمزور طلبہ کو اضافی مدد ملے گی۔
تعلیم کے شعبے میں اچھی طرح سے تبدیلی آئے گی، اور یہ بدلتے ہوئے نظام اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ ان تمام کی سے کوئی بھی طالب علم جو ضرورت پاتا ہو، ذاتی نوعیت کے مطابق نصاب کا انتخاب کرے گا۔ اس طرح فوری فیڈبیک فراہم کی جائے گی اور کمزور طلبہ کو اضافی مدد ملے گی۔
تعلیم کے شعبے میں ٹیوٹرز اور ورچوئل اسسٹنٹس بھی زیادہ استعمال ہونے لگے ہیں، جو دن رات طلبہ کے سوالات کا جواب دیتے ہیں اور مشکل اسباق کو آسان زبان میں سمجھاتے ہیں۔ ایک ماہر کا کہنا ہے، یہ نظام اساتذہ کی جگہ نہیں لیں گے بلکہ ان کے کام کو آسان بنائیں گے۔
امتحانی اور تشخیصی نظام بھی مصنوعی ذہانت سے زیادہ شفاف اور مؤثر ہو جائے گا، اس طرح اسائنمنٹس، کوئزز اور حتیٰ کہ زبانی جوابات کی جانچ اس کے ذریعے فوری ممکن ہوگی۔ اس سے طلبہ اپنی غلطیوں کو فوراً سمجھ سکیں گے۔ تعلیمی ادارے بھی ایسے ڈیٹا پر مبنی فیصلے کر سکتے ہیں، جن میں کمزور طلبہ کی بروقت نشاندہی، نصاب کی بہتری اور داخلوں کی پیش گوئی شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اساتذہ کا کردار بھی تبدیل ہوگا، وہ محض معلومات دینے والے نہیں بلکہ رہنما اور تربیت کار بنیں گے، جبکہ مصنوعی ذہانت اسباق کی تیاری، گریڈنگ اور کارکردگی کے تجزیے میں معاون ثابت ہوگا۔
تعلیم کے شعبے میں ایسے منصوبے بھی چلائے جائیں گے جو تعلیمی عدم مساوات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے، معذور طلبہ، مختلف زبانیں بولنے والوں اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے طلبہ کے لیے جدید ٹولز تعلیم تک رسائی آسان بنائیں گے۔
لیکن یہ بات یاد رکھنی ہے کہ ایچ آئی پر مبنی نظام کو ایسا استعمال نہیں کیا جا سکتا جس میں ڈیٹا پرائیویسی، شفافیت اور تعصب کی بات نہیں کی جاسکتی۔ اس لیے ذمہ دار اور اخلاقی ایچ آئی کے استعمال کو تعلیمی پالیسیوں کا حصہ بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔
मگر یہ سچ ہی تو ہے کہ مچھلیوں کی طرح تعلیم بھی ایسے ہی ہونے والی ہے جس میں انفراسٹریکچر کی مدد سے ٹرانسمیشن بہت آسان ہوجاتا ہے اور پھر ایسا لگتا ہے کہ معالجوں کی جگہ یہ نظام لے لیوگیا ہے لیکن اس سے بھی کچھ فائدہ ہوسکتا ہے، مثلاً ایسا کیا جائے گا کہ اسے کمزور طلبہ تک بھی رسائی مل سکے اور ان کی مدد کی جا سکے تو یہ بہت محفوظ ہوگا
یہ بات انہیں یاد رکھنی چاہئے کہ تعلیم کے نظام میں بھی تبدیلی آئے گی وہاں تک کہ سب کو اپنے آپ کو سمجھنا اور اپنےPotential کی پہچان کر سیکھنا مل سکے۔ ہر ایک اپنی ذاتی نوعیت کے مطابق نصاب کا انتخاب کر سکتا ہے۔ لہذا، ضرورت کی حد تک فوری فیڈبیک فراہم کی جائے اور کمزور طلبہ کو اضافی مدد ملے۔ اس سے نہ صرف ان کے بھرپور نمونے کو نافذ کیا جا سکے گا بلکہ انہیں اپنے آپ کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
عجیب بات ہے، 2026 میں تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کے بعد بھی کسی نے اسے سمجھے گے کی ایچ آئی نے تعلیم میں جسمانی تبدیلی لا دی ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ اس کی پہلی واضح تبدیلی سے پہلے بھی ٹیوٹرز اور ورچوئل اسسٹنٹز نے اس کا کام شروع کر دیا تھا...
میں سوچتا ہوں گا کہ ایچ آئی کی پہلی تبدیلی ہی اس بات کو ظاہر کرے گی کہ تعلیم میں ساتھ دہش رکھنا بھی ایسی اور نا موثر ہے...
یہ بہت اچھی تھوڑی سا وقت آ جائے گا، اور اس پر مبنی نظام ایک نئی دuniya کو بنانے کے لئے تیار ہوگا، جس میں سب کو برابر اور समان ماحول ملے گا۔ لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ ہمیں اس کے استعمال سے سافٹ ویئر کی دیکھ بھال کرنا پڑے گی، اور اس سے ذمہ دار اور اخلاقی استعمال کو یقینی بنایا جائے گا۔
عمر سے یہ بات ٹھیک نہیں ہے کہ تعلیم کا نظام ٹیوٹرز اور ورچوئل اسسٹنٹس کی مدد سے ہمیشہ بہتر ہوجائے گا؟ اسے یہ بات بھی دیکھنی پڑے گی کہ اساتذہ کے کردار میں تبدیلی کی کی جائے گے یا انہیں صرف معلومات دینے والوں کے طور پر نظر رکھا جائے گا?
ماہرین تعلیم کی نظروں سے یہ بات ایک دوسری بات ہے، اور اس پر وضاحت کی ضرورت نہیں ہے کہ ٹیوٹرز اور ورچوئل اسسٹنٹس کا استعمال کیسے آئے گا؟ لیکن تعلیمی عدم مساوات کو کم کرنے والے منصوبوں میں یہ معاونت کی پوری توجہ دیکھنی چاہیے، خاص طور پر مصنوعی ذہانت کے استعمال میں بھی آئندہ کا ایک اہم حصہ ہو گا؟
سائنسدانوں نے یہ وعدہ کیا ہے کہ 2026 میں تعلیم کا نظام مصنوعی ذہانت (ایچ آئی) کی طرف رہے گا، لیکن یہ سوال ہے کہ ہر جگہ سائنسدانوں کی موجودگی ہو یا انھیں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ ہر ایک اپنی ذاتی نوعیت کے مطابق نصاب کا انتخاب کر سکے گا? ہم نے وہ دیر کی بھی ہمیں اس بات پر زور دیا تھا کہ ہر طالب علم کو اپنی ذاتی نوعیت کے مطابق نصاب کا انتخاب کرنے کی آزادی ملے کی رہے، حالانکہ اب سائنسدانوں نے یہ وعدہ کیا ہے کہ پوری دنیا میں یہ نظام موجود ہو گا، اس لیے ہمیں سوال ہے کہ کیا ہر ملک میں ایچ آئی کی ذمہ داری اساتذہ پر منتقل ہونے والی ہو گی یا انھیں اپنی اہلیتوں پر عمل کرنا چاہیں گے؟
ایسے میتھرل ڈیٹا سیلکشن سے بچنا اور نئی آVENچرز کے لیے بھی اپنے آپ کو لازمی نہ بنایا جائے، انہوں نے بتایا ہے کہ ان تمام کی سے کوئی بھی طالب علم ذاتی نوعیت کے مطابق نصاب کا انتخاب کرے گا۔ میٹھرل ڈیٹا سیلکشن سے بچنا اور نئی آVENچرز کے لیے اپنے آپ کو لازمی نہ بنانا یہ بات ہے کہ ذاتی نوعیت کا احترام ضروری ہے، تو پھر کیوں کیا جائے گا؟
اس نئے نظام میں دیکھتے ہیں، ایک چیز جو بہت اچھی لگ رہی ہے وہ یہ ہے کہ اس کی مدد سے کمزور طلبہ کو بھی اپنی ضرورت پر نصاب منتخب کرنے کی اجازت دی جا سکے گی۔ یہ ایک بڑا قدم ہے، اور یہ بات کبھی نہیں سیکھی ہوگی کہ تعلیم کو کسی کی ذاتی نوعیت پر بھی بنایا جانا چاہئے۔ اس طرح کے نظام میں فوری فیڈبیک اور اضافی مدد بھی جاری رہے گی، جو طلبہ کو بہتر لینے کی ترغیب دے گی۔
اس سے پتہ چلتا ہے کہ تعلیم کا نظام نہ صرف معلومات دینے پر مگر اساتذہ اور طلبوں کو بھی ایک اچھی طرح ترقی کا موقع دے گا۔ اساتذہ اپنی تربیت کی صلاحیت کا استعمال کر سکتے ہیں، اور مصنوعی ذہانت ان سباقوں میں مدد دے گی جس کو لگتا ہے کہ اساتذہ کے کام کی صلاحیت کو کمزور ہوتا رہے گا، لیکن وہ واضح ہیں کہ یہ صرف اس کے کام کو آسان بنانے کے لیے نہیں بلکہ اس بات پر بھی زور دیتے ہوں گے کہ تعلیمی نظام کو بدلتے ہوئے منظر نامے میں بھی ایسا ڈیزائن دیا جائے جو اس بات پر زور دے کہ ہر طالب علم اپنی ذاتی نوعیت کے مطابق نصاب منتخب کر سکے گا۔
مصنوعی ذہانت سے تعلیم میں تبدیلی آگے بڑھتی جا رہی ہے اور یہ نئی پالسی اس بات پر زور دیتی ہے کہ کوئی بھی طالب علم ذاتی نوعیت کے مطابق نصاب کا انتخاب کر سکتا ہو۔
اس نظام میں فوری فیڈبیک فراہم کی جائے گی، اور کمزور طلبہ کو اضافی مدد ملے گی۔ ٹیوٹرز اور ورچوئل اسسٹنٹس بھی زیادہ استعمال ہونے لگے ہیں جو دن رات طلبہ کے سوالات کا جواب دیتے ہیں اور مشکل اسباق کو آسان زبان میں سمجھاتے ہیں۔
امتحانی اور تشخیصی نظام بھی مصنوعی ذہانت سے زیادہ شفاف اور مؤثر ہو جائے گا، اس طرح اسائنمنٹس، کوئزز اور حتیٰ کہ زبانی جوابات کی جانچ اس کے ذریعے فوری可能 ہوگی۔
اساتذہ کا کردار بھی تبدیل ہوگا، وہ محض معلومات دینے والے نہیں بلکہ رہنما اور تربیت کار بنیں گے، جبکہ مصنوعی ذہانت اسباق کی تیاری، گریڈنگ اور کارکردگی کے تجزیے میں معاون ثابت ہوگا۔
تعلیم کے شعبے میں ایسے منصوبے بھی چلائے جائیں گے جو تعلیمی عدم مساوات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے، معذور طلبہ، مختلف زبانیں بولنے والوں اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے طلبہ کے لیے جدید ٹولز تعلیم تک رسائی آسان بنائیں گے۔
اس لیے یہ حقیقت ہے کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال اس بات کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ تعلیمی پالیسیوں میں ایک اچھی واضح تبدیلی آئے گی، جس کی وجہ سے تمام طلبہ کو اس طرح کے جدید اور متعدد نصاب تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے 2026 میں مصنوعی ذہانت کا نظام تعلیم کے شعبے پر بھاری بہار ہوگا... اور یہ بات کتنی بہت سچ ہوگی کہ ان تمام کی سے کوئی بھی طالب علم ذاتی نوعیت کے مطابق نصاب کا انتخاب کرے گا، لیکن یہ سوچنا کتنا اچھا ہوگا کہ اس طرح فوری فیڈبیک فراہم کی جائے گی اور کمزور طلبہ کو اضافی مدد ملے گی...
لیکن مجھے یہ سوچنے میں تختہ جوئا ہوتا ہے کہ اساتذہ کا کردار کیا رہے گا؟ وہ محض معلومات دینے والے نہیں بلکہ رہنما اور تربیت کار بنیں گے، جبکہ مصنوعی ذہانت اسباق کی تیاری، گریڈنگ اور کارکردگی کے تجزیے میں معاون ثابت ہوگا...
مگر یہ بات بھی سوچنی پڑتی ہے کہ ایچ آئی پر مبنی نظام کو اس طرح استعمال نہیں کیا جائے گا کہ ڈیٹا پرائیویسی، شفافیت اور تعصب کی بات نہیں کی جاسکتی...
ایسا لگتا ہے کہ 2026 میں تعلیم کا نظام مصنوعی ذہانت کی طرف بہت تیز رفتار رکھا جائے گا، جو نئی چیلنجز اور فرٹیلیٹیز کو جنم دیگے گا۔ معلمین اپنے کردار کو تبدیل کر کے طلبہ کو تربیت کار اور رہنما کے طور پر دیکھنا پڑے گا، جبکہ مصنوعی ذہانت اسباق کی تیاری اور معائنات میں مددگار ثابت ہوگئے گا
تعلیمی نظام میں ایسی تبدیلی آئے گی جس سے تمام طالب علم کو اپنی ذاتی نوعیت کے مطابق نصاب کا انتخاب کرنے کی اجازت ملے گی، جو اسے بھرپور اور پورا بنائے گا
لیکن، یہ بات یاد رکھنا ہیں کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام کو ڈیٹا پرائیویسی اور اخلاقیات کے حوالے سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہوگی, تاکہ اسے ایسا استعمال نہیں کیا جاسکتا جس میں ڈیٹا پرائیویسی، شفافیت اور تعصب کی بات نہیں کی جاسکتی
میں اس نئے نظام سے بہت متبذل ہoon ، کہاں تک یہ کہہ کے یہ سب پہلے ہی ملا رہا ہوگا، چاہے وہ طالب علم کی ذاتی نوعیت کا انتخاب کرنے میں مدد کرتا ہو یا اساتذہ کو انkiar bana دیتا ہو، یہ سب بھی تو ایک معاملۂ وقت ہوگا۔
یہ واضح تھا کہ 2026 میں تعلیم کا نظام مصنوعی ذہانت (ایچ آئی) پر مبنی ہوگا اور اس سے تعلیم کے شعبے میں بھی ایک واضح تبدیلی آئے گی۔
مصنوعی ذہانت کے استعمال سے پڑھانے، سیکھنے اور تعلیمی نظام کو ایک ایسا ڈیزائن دیا جائے گا جس میں تمام رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا۔ اس طرح فوری فیڈبیک فراہم کی جائے گی اور کمزور طلبہ کو اضافی مدد ملے گی۔
لیکن اگر میں انہیں ایک دوسرا خیال دیں تو یہ کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال 2026 تک تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کی بات بھی نہیں، بلکہ اس میں بھی ان رکاوٹوں کو لگنا پڑے گا جو ذمہ داری اور ذمہ داری کے ساتھ کھیلتے ہیں۔
لیکن یہ بات عام ہے کہ تعلیم کے شعبے میں ایسا ڈیزائن بنایا جائے گا جو تمام طلبہ کو ذاتی نوعیت کے مطابق نصاب کا انتخاب کرنے کی اجازت دی، جو انہیں اپنی ذاتی خصوصیات اورAbilityوں کی بنیاد پر اپنے تعلیمی سفر کو منظم کرسکے گا۔
ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ واضح ہوگا کہ 2026 میں تعلیم کا نظام مکمل طور پر مصنوعی ذہانت (ایچ آئی) کی طرف رہے گا، جو تعلیمی نظام کو ایک نئے ڈیزائن میں لے جائے گا۔ یہ بدلتے ہوئے نظام طالب علموں کو ذاتی نوعیت کے مطابق نصاب کی ترجیح دینے پر زور دے گا، جو ناکام طلبہ کو اضافی مدد فراہم کرے گا۔
لیکن یہ بات ہی اچھی ہو گی جس پر توجہ دی جا رہی ہے کہ ٹیوٹرز، ورچوئل اسسٹنٹز اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے تعلیمی نظام میں تبدیلی آئے گی، جو دن رات طلبہ کے سوالات کا جواب دیتے ہیں اور مشکل اسباق کو آسان زبان میں سمجھاتے ہیں۔
امتحانی اور تشخیصی نظام بھی مصنوعی ذہانت سے شفاف اور مؤثر ہو جائے گا، جو اسائنمنٹس، کوئزز اور زبانی جوابات کی جانچ کو آسان بنائے گا۔ اس کے نتیجے میں طلبہ اپنی غلطیوں کو فوراً سمجھ سکیں گے۔
مصنوعی ذہانت کے استعمال کی بات آئے دن زیادہ ہوتی جا رہی ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ ڈیٹا پرائیویسی، شفافیت اور تعصب کو پہچانتے ہوئے ذمہ دار استعمال کے طریقوں کی بنیاد رکھی جاے۔
عزت ہے کہ ٹیکنالوجی اپنا کردار ادا کر رہی ہے، لے کر تعلیم میں بھی بدلتے ہوئے نظام کا آغاز کر رہی ہے۔ تاہم، یہ بات واضع طور پر سمجھنی چاہیے کہ مصنوعی ذہانت سے تعلیم کی تبدیلی کو تیزی سے لینے میں ساتھ ملنا چاہئے۔ اسے استعمال کرنے سے قبل، ہمہ بھوک کے رکاوٹوں کو دور کیا جانا چاہیے اور معشوق طلبہ کی ضروریات کو یقینی بنایا جائے۔