متحدہ عرب امارات میں 3 ہزار 523 پاکستانی قید - Daily Qudrat

عرب دنیا میں قید پاکستانیوں کی تعداد کا ایک نیا ریکارڈ برپا ہوگیا ہے، جس میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ ساتھ کویت اور قطر شامل ہیں۔

انٹرنیشنل کوآرڈینیشن برائے قومی اقوام (ایاوائی سی) کے مطابق 3،523 پاکستانی اس وقت قید ہیں جو متحدہ عرب امارات میں رہ رہتے ہیں جبکہ کویت اور قطر میں ان کی تعداد 500 سے کم ہے۔

دلائل کے مطابق، ابوظہبی وفاقی قیدیوں کی تعداد میں اضافے کا سبب یہ ہے کہ حکومت متحدہ عرب امارات نے انھیں اس وقت قید کر رکھا جس سے یہ بھی پتا چلا کہ وہ فوری معافی کی اپیل کرتے ہیں جو ختم ہوچکی ہے۔

عوامی افادیت کے لئے اس سے متعلق 2000 کی پالیسی کے تحت، نومبر 2025 تک 769 پاکستانی قیدیوں کو قانونی معاونت دی گئی ہے، جس میں ایک ہزار چالاس پاکستانی شہری اور 909 غیر ملکی پناہ گزین شامل ہیں۔

مگر ان سے زیادہ، حکومت نے کہا کہ وہ اس عرصے کے دوران اپنی معافتی کی درخواستیں جمع کرائیں گی، اور پاکستانی قیدیوں کے لیے ایسے سے معافی کی درخواستیں بھی جمع کرائیں گی جیسے وہ 2018 میں ان پر دباو ہوا تھا۔
 
ابوظہبی میں فوجی عدالت کے نتیجے میں قید شدہ پاکستانیوں کی تعداد اچھی طرح बढ گئی ہے، یہ تو عجیب ہے کہ اب یہ وہاں رہتے ہیں جسے انھوں نے اپنی زندگی میں پچیس سال سے بھگتا ہوا تھا، اور اسی طرح کے حالات کو یہاں 500 سے کم افراد پر بھی جکڑا جا رہا ہے۔
 
عرب دنیا میں قید پاکستانیوں کی تعداد میں اضافہ ایک شدید ناسازغر حوالہ ہے، خاص طور پر جس بات کو نظر انداز کیا گیا ہے کہ وہ اس وقت قید رہتے ہیں جب وہ معافتی کی اپیل کرنے کے لئے اپنا لازمی موقف چھوڑ دیتے ہیں... 😕

آپ کو یہ بات بھی بے حسی لگ سکتی ہے کہ اُبھی حکومت کو ملکی افادیت کے لئے ایسے پالیسیوں کو اپنایا گیا ہے جو غیر نافذ کرنی چاہیے، خاص طور پر جب یہ معافی کی طلب کو قانونی ماحول میں لانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے... 🙄

لیکن اس بات کو نظر انداز نہ کیا جا سکta ہے کہ یہ معافی کی طلب اور معافتی کی وعدوں کا ایک پرانا گیم ہے جس میں پاکستانی قیدیوں کا ساتھ اچھی طرح سے نہیں دیا گیا ہے... 😔
 
ابوظہبی میں پاکستانی قیدیوں کی تعداد 3،523 ہو گئی ہے اور یہ تو کہتا ہے کہ کویت اور قطر کا اہل خانہ بھی اس سے زیادہ نہیں اور اب وہاں سے صرف 500 تک پاکستانی رہتے ہیں، یہ تو یہ بات پہچاننا ہو گی کہ جس معافتی کی تقریباً ختم ہونے والی ہے وہاں سے بھی معافتی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں ان کی تعداد ابھری ہوئی ہے، یہ تو نومبر تک 2000 کی پالیسی کے تحت وہاں سے معافتی دی گئی ہو گی اور اب اس کے لیے بھی معافتی کا مطالبہ کر رہے ہیں، یہ تو اس بات پر زور دیتا ہو کہ وہاں سے زیادہ ان کی تعداد نہیں اُبل سکتی
 
ایسا تو کچھ غمندگی اور غصہ دلاتا ہے کہ عرب دنیا میں پاکستانیوں کی تعداد ایک نیا ریکارڈ برپا کر گئی ہے۔ ان کو کتنے عرصے سے قید میں رکھا گیا ہے؟ ان کی زندگی کس طرح بدل رہی ہے؟ ان کی خواہشوں اور خوات کو کیسے نئیوں دیکھنا پڑے گا؟
 
اس بات کو یقینی بنانا مشکل ہوگا کہ اس عرصے میں زیادہ سے زیادہ پاکستانی قیدیوں کی تعداد نہیں ہوتی، اس کا کوئی بھی Reason ایک political Game Play نہیں ہوگا۔ 2000 کی پالیسی سے قبل بھی یہ پتہ چلتا تھا کہ اب بھی عوامی افادیت کے لئے پاکستانی قیدیوں کو قانونی معاونت دی جاتی ہے؟ یہ تو ہر Type کی Poltical Party بھی اس سے کام کرتی ہے? 🤑
 
اس وقت پاکستانیوں کی تعداد عرب دنیا میں قید میں اچھی سے اچھی رہی ہوئی ہے، مگر 2020 کے بعد یہ تعداد پچتھی دلیٹ سے چل رہی ہے! اب وہاں میمون نہیں رہتے تھے تو اب اسی تعداد پر ان کے ہم آہنگی کو بھی قید کی سیٹ میں لپٹا دیا گیا ہے! 😐 یہ معاملہ ان لوگوں کے لیے مشکل ہوگا جو اپنی معافتی کی ایڈیشن کرنا چاہتے ہیں اور اب وہ اس پر تینے میں رہتے ہیں۔
 
عرب دنیا میں قید ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد کا یہ ریکارڈ تو نئی ہے، لیکن اورہی ہے کہ 3 سال پہلے اس میں سے کتنی گنجائش تھی؟
اس لیے ایسا لگتا ہے جیسے اب Pakistani کو کویت اور قطر نہیں دیکھنا چاہیں، انھوں نے 2000 کی پالیسی بھول دی ہوئی ہے
مگر وہ قیدی جس کے لیے فوری معافیت مہیا کرنے والا حکومت تھی، اب وہ کئی سالوں سے رہ رہتے ہیں
یقیناً ان پاکستانی قیدیوں کو جانتے ہوں گے کہ نومبر 2025 تک وہ کتنی معافتی کی درخواستیں جمع کرائیں گی؟
 
یہ تو کچھ حقیقی طور پر دھکیلے ہیں! پہلے بھی چکھایا تھا کہ عرب ممالک میں پاکستانیوں کی تعداد کم سے کم ہوتی جاتی ہے اور اب یہ واضح ہوگيا کہ متحدہ عرب امارات بھی اس کو اپنے معاملے میں شامل کر رہا ہے!

سچ میں، پانی کی کیلا کتھے سے اٹھتا ہے؟ انہوں نے یہ کیا فैसलہ لیا کہ وہ قیدیوں کو بھی ایسا ہی معافتی کی درخواستیں جمع کرائیں گے جیسے وہ پچھلے سال تھے!

آپنے لوگوں کو ان کھیت میں ڈال رکھیں تو سچ مانیںگی کہ یہ عرب ممالک کی نیند بھی ایسے ہی رہتی ہے! 😴
 
بہت غلطی ہے کہ حکومت متحدہ عرب امارات نے پوری دنیا سے پاکستانیوں کو بکھرے ہوئے ، یہ تو ایک بڑا گریپ ہے ، اور اب تک کی گزری ہوئی معافتی کے مطالبے پر اسے زیادہ دباو نہیں دیا گیا ، یہ بھی تو ایک بات ہے کہ وہ پورے عرصے سے معافتی کی درخواستیں جمع کرائیں گے؟

دیکھو ان کس طرح ناکام ہوئے ہیں ، اور اب یہ تو ان پر فوری معافی کی کوشش کر رہے ہیں ، یہ تو ایک بڑا سہارہ ہے ، اور ہمیں ڈر نہیں چاہئیے کہ ان کی معافتی کی درخواستوں پر ایسا دھ्यان دیا جائے جو وہ 2018 میں اپنی جانوں کو اچچا کرنے پر مجبور کر گئے تھے! 🤕
 
ابھی پچیس سال قبل یہ کہیں سے اٹھتے ہوئے ہیں... اس وقت بھی پوچھنا جاری ہے کہ اتنے مہngerے معافتی کی طلب کیسے کروائی جائے؟ اور وہ لوگ جو اپنی زندگی کو معافتی کی لالچی کے لیے خطرناک بناتے ہیں، ان کا یہ بھی کیا حقدار ہے کہ وہ ہمیشہ سے اپنی معافتی کی طلب کروں گے؟ 🤔
 
ابوظہبی میں فوجی ریزولوشنز کی پوری تھی؟ یقیناً نومبر 2025 تک قید ہونے والے 769 پاکستانی کے لیے ایک بڑا چکر چلایا گیا ہے، اور وہ اس وقت تک معاف ہیں جب تک ایسے نئے معاملات پیدا نہیں ہوتے؟ government کے ایک پہلو کو دیکھتے ہوئے تو یہ بھی دیکھنا ہے کہ پاکستانیوں کی تعداد کو کویت اور قطر میں قید کرنے سے نکلایا گیا ہے، جیسا کہ یہ واضع تھا کہ اس وقت ان پر معافتی کی درخواستیں جمع نہیں کی جا سکتیں?
 
اب وہ لوگ جو شام اور ایف جی کی جنگ میں فوج میں شامل تھے اب وہ ملک چھوڑ کر عرب ممالک میں رہ رہتے ہیں اور اب ان کا بھی اس سے زیادہ نتیجہ ہوا ہے، یہ ایسا لگتا ہے کہ پریشانیوں کی پوری رات کو ایک دوسرے پر مشتمل ہو کر کھیلنا بھی اکلا نہیں کچھ اور توسیع کی ضرورت ہے.
 
مگر یہ تو بہت بدقسمتی ہے کہ پاکستانی قیدیوں کی تعداد عرب دنیا میں رہ رہی ہے 🤕 اور وہاں کی حکومت ان کو قید میں رکھ کر معافتی کی درخواستیں جمع کرائے گی! یہ تو بہت کڑوا ہے ⚠️، جیسے ہی پوری دنیا میں معافی کی درخواستیں جمع کرائی گئیں تو ان پر اسی ہی قید کیوٹر واپس آ جائے گی! 😟
 
اس عالمی معاملے پر غور کرتے وقت، میرا ذہن اسی بات پر پڑتا ہے کہ یہ بھی ایک دلچسپ بات ہے۔ 2000 کی پالیسی کے تحت ان پاکستانی قیدیوں کو قانونی معاونت دی گئی ہے جو اس وقت اپنی معافتی کی درخواست کرتے رہے ہیں۔ لیکن یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انھوں نے پوری صلاحیت سے معافتی کی درخواست کیسے جمع کی اور وہ اسی طرح کی معافی کی دعا کیسے کرے گئے ہیں جسے 2018 میں ان پر دباو تھا؟ یہ بات بھی ضروری ہے کہ ان پاکستانی قیدیوں کو واپس جانے کی چانس دی جا سکتی ہے لेकن اس سے قبل وہ اپنی صلاحیتوں پر زور دیتے ہیں اور ایک معافی کی دعا کرتے ہیں جو انھیں آئندہ سالوں میں مل سکی ہوگی۔
 
اس وقت عرب دنیا میں باقیہ قیدیوں کا اہم کردار کیوں نہیں رکھتے؟ یہ بات تو صاف اور لازمی ہے کہ وہ جو پاکستانی ہوتے ہیں، ان پر خصوصی دباؤ دبایا جاتا ہے اور ان کی معافی کی درخواستوں کو کمزور کیا جاتا ہے 🤦‍♂️

جس سے متحدہ عرب امارات نے اپنے پچھلے عرصے میں اپنا فوری معافتی نظام ختم کر دیا ہے، اسی طرح کے دباؤ کو دیگر ممالک بھی لگای سکتے ہیں جس سے وہ اپنے قیدیوں کی معافتی کی درخواستوں کو بھی کمزور کیا جا سکتا ہے 😬
 
اس نئے ریکارڈ کے باوجود، ملک کے لوگ اس بات سے خوش ہوں گے کہ اب یہ پاکستانی قیدیوں کو 2000 کی پالیسی کے تحت قانونی معاونت دی جا رہی ہے جو انھیں اپنی معافتی کی واپسی میں مدد دے گی۔

آج بھی زیادہ سے زیادہ پاکستانی قیدیوں کو قانونی معاونت نہیں دیا جاسکتا تو یہ ایک گڑھی بات ہوتی۔ لاکھوں کی کثرت میں کچھ بھی رہ جاتا ہے، اور اب ان سے زیادہ بھی نہیں ہوسکتا۔
 
واپس
Top