متحدہ عرب امارات نے امریکی تحریک کی جانب سے ایران پر بڑی فوجی کارروائی کرنے کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے سے انکار کردیا ہے۔
امریکا نے ایرانی بحران پر پھیلائے گئے خطرے کی وجہ سے ایران پر حملے کے لیے خلیجی ملک کی سرزمین استعمال کرنے کے امکانات پر متحدہ عرب امارات کا رد عمل سامنے آیا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ اس کے فضا، زمینی علاقوں اور سمندری پانیوں کو Iran پر حملے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔
امریکا نے Iranian بحران میں کشیدگی کو کم کرنے، مذاکرات، بین الاقوامی قانون کی پابندی اور ریاستوں کی خودمختاری کے احترام کے ذریعہ ہی حل تلاش کیا ہے۔
اس بیان کا جھٹکے سے ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ ایسا بیان ہو رہا ہے جو انہی منصوبوں کو روکتے ہوئے ہے۔
امریکا نے جنگی جہاز بردار طیارہ بردار بحری بیڑے USS Abraham Lincoln کو خلیجی پانیوں میں بھیجا ہے جس کی وجہ سے اب Iran پر حملے کے امکانات کا خیال ہوا کہ اس نے ایران کے خلاف فوجی آپریشن میں استعمال ہوگا۔
امریکا نے Iran کی صورتحال پر قریب سے نظر رکھنے کے لیے army کو بھیجنا ہے، جس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ان کا مقصد ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنا ہے اور اس کے لیے وہ کسی بھی طرح کی مدد یا سہولت فراہم نہیں کرेंگے گا۔
کیوں؟ یہ سب تو بہت غم کی گھنٹی ہے! واضح ہے کہ امریکا ایران پر حملے کے لیے خلیجی ملک کی سرزمین استعمال کرنا چاہتا ہے، اور یہ رہا یہ بیان جو متحدہ عرب امارات نے دیا ہے... ایسا لگتا ہے کہ اسے ایک جواب میں دیا گیا ہے جس کی مدد سے وہ اپنے منصوبوں کو روکتے ہیں!
جب تک ایران پر حملے کا سوال نہیں حل ہوا، تب تک یہ سب کچھ بھی رہے گا۔ اب جب متحدہ عرب امارات نے انکار کردیا ہے تو میں اس سے خوفزدہ ہوں... کیوں؟ کیوں تو!
اس وقت خلیجی ملکوں میں فوجی کارروائیوں کا دور بھی آ گیا ہے، اب تک یہ بات واضع نہیں ہوئی کہ یہ جو تحریک ہے وہ منصوبہ بناتے ہوئے ہیں یا کوئی اور کھیل رہا ہے، یہ سب نہ رہنے دیتے ہیں کہ ایران میں حالات خراب ہو جائیں گے
میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات تو بالکل کوئی surprise نہیں ہوگی کہ متحدہ عرب امارات نے अमریکی تحریک کی جانب سے ایران پر حملے کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے سے انکار کردیا ہے۔ اس میں ایک بات بالکل ٹھیک ہوگی کہ یہ تحریکIran کی صورتحال پر نہیں دیکھ رہی، بلکہ تو ایسا محسوس کر رہی ہے کہ وہ اپنے لئے اور اس بات کو اپنی فائصلوں میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
امریکا نے بھی Iranian بحران میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مذاکرات اور بین الاقوامی قانون کی پابندی پر زور دیا ہے، لیکن اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سے ان کی خفیہ منصوبے تو نہیں روتے? ہم یہ بات بھی دیکھ رہے ہیں کہ अमریکا نے جنگی جہاز بردار طیارہ USS Abraham Lincoln کو خلیجی پانیوں میں بھیجا ہے، جوIran پر حملے کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے۔
یہ طاقتوں کو دیکھنا ہی میں تھوٹی میں آتا ہے کہ ان سے کیا سکتے ہیں؟ متحدہ عرب امارات نے جس طرح अमریکی تحریک کو روک دیا ہے وہی طرح امریکا اور ایران کے لیے بھی اپنی سطوتوں پر استعمال کرنا چاہتا ہے، اس میں کوئی نئی چیز نہیں ہے۔
فضا، زمینی علاقوں اور سمندری پانی بھی کیسے استعمال ہون گے یہ کس نے بتایا؟ اس بیان میں کوئی یقین نہیں ہے۔
امریکا کی جھوٹی زبان سے ہمیں بچنے کی ضرورت ہے۔ وہIran پر حملے کے لیے کس طرح استعمال کرنا چاہتا ہے، یہ بات بتائی نہیں دے رہی۔
یہ تو بہت ہی منصوبہ بندی کرتے ہوئے ایک بات ہی کھیل رہے ہیں! امریکا نے ایران پر حملے کے لیے اسے خلیجی ملکوں سے سہولت کہی، حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ Iran کے ساتھ اس طرح کی کارروائی نہیں بھی جاسکتے گی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکا Iran پر حملے کے لیے کوئی صاف راز نہیں رکھتا، اور وہIran کی صورتحال پر ہمیشہ سے نظر رکھتے رہتے ہیں۔ Iran کے حوالے سے یہ ایک بڑا خطرہ ہوگا، کیونکہ پوری دنیا میں اس پر حملے کے امکانات نہیں رہتے!
اس بات کو یقیناً سمجھنا ہی مشکل ہو گا کہ ایران پر فوجی کارروائی کی جانب سے امریکا نے متحدہ عرب امارات کے خلاف ایسا بیان دیا ہے جو پورا منصوبہ توڑنے کی طرف ہی لے جاتا ہے. ابھی تک یہ بات معلوم نہیں ہو سکتی کہ ایران پر حملے کے لیے انہوں نے خلیجی ملک کا استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں، اور اگر اس میں کچھ استثناء نہیں تو یہ صرف ایسا نظر آ رہا ہے جیسے انہوں نے ایران پر حملے کے لیے سارے منصوبے قائم کر لئے ہیں.
عرب امارات کو کچھ بھی چیلنج کیا جا رہا ہے؟ انھوں نے ایسا کہا ہے جو بھی کرنا پورے دنیا کے سامنے اٹھایا تھا؟ پہلی بار انھوں نے امریکا سے جنگ کہی، اب وہ اس کی مدد کرنے سے انکار کر رہے ہیں!
اس کے بعد میں یہ بات تو باپورے عجیز بھی نہیں تھی۔ عرب امارات نے ایک بار پھر اپنی سرزمین استعمال کرنے سے انکار کردیا ہے، اور اب وہ اس کے لیے کسی نوجوان کو بھی جو کہنا چاہتا ہو، ایک بات کی نہیں!
یہ تو ایک منظر بن گیا ہے جس میں خلیجی ملکوں کو اس وقت کا نعرہ لگ رہا ہے جب امریکا کا ایسا منظر پیش کر رہا ہے جو پھر ایک جنگ کے ساتھ ہی ختم ہوتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی اس پرستش نے مجھے ایسا لگایا ہے جیسے انہیں یہ بات پتہ ہو گئی ہے کہ دنیا میں اب کوئی بھی چیز ایک جانب سے نہیں کہی جا سکتی بلکل۔
یہ بات تو ظاہر ہے کہ امریکا ایران پر حملے کی صورت میں خلیجی ممالک کی سرزمین استعمال کرنا چاہتا ہے اور متحدہ عرب امارات نے ان کی پوری مدد سے انکار کردیا ہے۔ مگر کیا یہ بھی آپشن نہیں تھا؟ اس میں تو ایک طرف کو دوسری طرف کی جانب سے ہٹنا تو بہت مشکل ہوتا ہے اور دوسری طرف سے ہٹنے والا کوئی نہیں رہتا، اس لئے یہ بات بھی قابل معائنہ ہے کہ مگر یہ انسداد تحریک کی صورت میں بھی ایک طرف سے پھیلایا گیا خطرہ کو دوسری طرف سے استعمال کرنا چاہتا تھا اور جب وہاں کیا ہوا تو نہیں، اس لئے اب ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انہوں نے آپشن کو روکنے کی کوشش کی ہو.