متحدہ عرب امارات نے صدر ٹرمپ کے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی

صدر ٹرمپ کی غزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت پر متحدہ عرب امارات نے کھلتے ہوئے دل سے قبول کرلی
امریکی صدر کو یہ دعوت پہنچی تھی کہ وہ غزہ امن بورڈ میں شامل ہوں، لیکن اب یہ امارات نے اس دعوت کو قبول کرلیا ہے اور صدر ٹرمپ کی قیادت میں غزہ کے لیے امن منصوبے پر کام کرنے کے لیے تیار ہوگئے ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی، جس پر صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ فلسطینی عوام کو 20 نکاتی امن منصوبے کے تحت اپنی پوری طاقت لگائیں گے اور ان کی جائز حقوق حاصل کرنے میں successful رہیں گے۔

متحدہ عرب امارات کا اس فیصلے کے پچیس سالوں سے بھرپور یقین ہے، اور اب یہ امارات نے صدر ٹرمپ کی قیادت میں غزہ کے لیے امن منصوبے پر کام کرنے کے لیے تیار ہوگئے ہیں۔

امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبد الله نے یہ بات صراحت سے بتائی کہ امریکی صدر نے متحدہ عرب امارات کو غزہ امن بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی اور ان کی پوری طاقت لگا کر فلسطینی عوام کو اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے کام کرنے پر تیار کیا تھا۔
 
بھی ڈر یہ ہو گا کہ امارات نے غزہ امن بورڈ میں شامل ہونے کے بعد صدر ٹرمپ کی قیادت میں ایک بڑا کوشش کر لی ہے، لیکن یہ دیکھنا عجیب ہوگا کہ وہ فلسطینی عوام کو انہیں لگائیں گے اور ان کی جائز حقوق حاصل کرنے میں successful رہیں گے یا نہیں؟
 
ایسا لگتا ہے کہ غزہ امن بورڈ میں شامل ہونے سے پہلے یہ کہلا کر امارات کو اچھی جسمانیت ملی ہوگی کہ وہ فلسطینی عوام کی دیکھ بھال کرنے اور انki rights ko guarantee karne mein saksham hain... ab kya logon ka faisla hoga ki inki ekta se koi real change aayegi ya fir phir bhi yeh baat poora nahi ho sakti?
 
🤗 اگر وہ ایسا ہی کروگے تو بھالے ہوں، فلسطینی لوگوں کو اپنے حقوق حاصل کرنے میں ساتھ مل جائیں گے? مگر یہ بھی دیکھنا ہیں کہ غزہ کے لوگ ہمیشہ اپنی زندگی کو کھونے والے مظالم سے نمٹ رہے ہیں، اور اب یہ امن منصوبے پر کام کرنے کا ایک نئا راستہ دیکھنا بہت اچھا ہوگا
 
میں تھوڑا سا دل دिलایا ہوا ہوں... ان کی بات سے لگتا ہے کہ امارات نے اپنا ڈیٹا فراز دی ہوگی اور غزہ امن منصوبے میں اس کے ساتھ ہی بھی کام کرنے کو تیار ہوئے ہیں... ابھی اس کی بات بتا ہوئی ہے اور اس نے بالکل ایک ایسا فیصلہ لیا ہے جیسا یہ کہی۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے اپنی پوری طاقت لگائی دی اور اب تو وہ فوری نتیجے کے لیے تیار ہوئے ہیں... میرا تھوڑا سا شک ہوا ہے کہ کیا انہوں نے اپنے 40 سال پुरانے یقین کو نئے پیمانے پر پیش کیا ہے... 😐
 
امارات نے ایسا فیصلہ لیا ہے جیسا انھوں نے یقین سے کیا تھا... اور اب وہ غزہ کے ساتھ منسلک ہونے کی دعوت قبول کر گئی ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ فلسطینی عوام نے کیا ہوگا? ان کو کیا حقائق پہنچ گئی ہیں اور ان کی جائزیت کیسے حاصل کرنی ہے؟ یہ سارے معاملات ہر ایک کی جانب سے دیکھنا چاہیے...
 
میری بات یہ ہوگی کی غزہ امن بورڈ میں امارات اور Trump کی مشترکہ فوری مداخلت سے فلسطینی عوام کو اپنے حقوق حاصل کرنے کا ایک ایسا ماحول پیدا ہوگا جahan وہ اپنا مستقبل خود بناسکین. امارات نے 45 سال پہلے بھی غزہ کی مدد کی اور اب انھوں نے Trump کی قیادت میڰیئم منصوبوں پر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے. اس کے ساتھ ساتھ Trump بھی اپنی طاقت کو فلسطینی عوام کے لیے ایک موقع کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے.
 
मैंने सोचा tha that UAE kuch nahi kar sakta, lekin ab ye kaha ke UAE ghaza ki shanti mission mein bhi shaamil ho rha hai. par toh maine socha tha ki yeh UAE ka ek baat hi hai, sab kuch sahi nahi hai. koi bhi country apni zindagi ko jeeta hai, aur USA ke president ko lagta hai ki UAE ki sahayata se ghaza mein shanti aayegi. lekin maine socha tha ki yeh to galat mehsoos hota hai, kyunki UAE ka kuch khas nahi hai apne desh ke liye.
 
مگر یہ تو ایک چیٹچ میں ہونے والی بات ہے، میرے خیال میں امارات کو اسی فैसलے سے پہلے اور بعد میں کیا پہلے تھا یہ بھی نہیں بتایا گیا ہے، تو اچھا ہوگا اگر ان کو یہ فैसलہ اپنے کھیل میں لگایا جائے تو دیکھیئے کیا ہوتا
 
ایسے میں تو ایک بات محض بھی نہیں کہ متحدہ عرب امارات انڈسٹریال ٹوریز کی مہارت سے بھرپور ہو چکی ہے، اور اب وہ غزہ امن بورڈ میں شامل ہونے کا ایک نئا تجربہ کرو رہی ہے جس سے ان کے خاندانی بچوں کو کھلے دل سے استفادہ ہوسکتا ہے... 🙄
 
عرب امارات نے غزہ امن بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت قبول کرلی، اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق کی جانب سے انھوں نے اپنی قائدانہ طاقت چھوڑ دی ہوگی۔ اس فیصلے میں عرب امارات کی ایک بھی حد نہا دادی گئی ہے، اب تو انھوں نے وہی دعوت جسے 21 سال پہلے دی گئی تھی قبول کرلی ہے۔
 
ایسا نہیں کہا جائے کہ امارات نے یہ فیصلہ تیزی سے اٹھایا ہے؟ پچیس سالوں کی تحریک میں اب وہ اس قدم پر ہیں جس پر وہ تین دہائیوں قبل کہتے تھے... مگر یہ بات کوئی نہ کوئی چنچل ہے کہ غزہ کا معشق بہت مشکل ہے۔ اب تک امارات کو یہ کامیابی نہیں ملی... پھر تو دیکھو کس طاقت نے انہیں یہ دعوت قبول کرنے پر مجبور کیا ہے؟ اس کا मतलब یہ نہیں کہ امارات کو ایسی باتوں میں بھگڑنا پڑ رہا ہے۔
 
وہ اس فیصلے سے کچھ بھی متاثر نہیں ہوا, ایسا لگتا ہے جو کہ ان کی اپنے آپ کو فخر میں رکھتے ہیں 😂 وہ اس غزہ امن بورڈ کا حامی ہیں، کیا وہ صدر ٹرمپ کی اپنی ایک فैन بھی نہیں? 🤔
 
اس دuniya mein pehle se kai dinon ka samay guzara hai jab pehle to america ya bharat ghazwa ka hissa ban gaye, lekin ab tumhara yeh faisla bahut accha hai. 🙏🌎 ghazwa ke liye ek sahi aur shanti manjha chahiye, jo dono talqeedon ko sambhal sake.

amerika ya arab emirate mein se kisi bhi se is liye apna samarpan karne ka faisla bahut acha hai. ab humein khushi hogi ki unhone apni taqat lagaai aur palestine ke logon ko apne haq mehsoos karne ka mauka diya gaya hai. 🙌💪

yeh ek bada kadam hai, lekin aaj kal is duniya mein shanti ka saamna bahut jatil hai. humein zinda rehkar inmanzur logon ki madad karni chahiye aur shanti ka faisla karne mein unki madad karna chahiye. 🙏🌟
 
تمہیں یہ بات تو معلوم ہوگی کہ متحدہ عرب امارات نے غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت پہنچائی ہوئی لیکن اب وہ آہستہ آہستہ اپنی موٹھیوں سے بھری ہوئی ہے . اس فیصلے کا نتیجہ غزہ پر امن کی گھنٹیاں چڑھانے کا امکانات کے ساتھ لایا گیا ہے .
 
یہ بات کچھ عجیب ہے کہ متحدہ عرب امارات نے غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی دی ہے، جس پر صدر ٹرمپ کا ایک 20 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔ امارات کو یہ دعوت پہنچی تھی کہ وہ فلسطینی عوام کو اپنی پوری طاقت لگائیں اور ان کی حقوق حاصل کرنے میں successful رہیں۔ لیکن اب کیا نتیجہ ہو گا؟ اس سے پہلے امارات نے بھی کچھ معاملات میں بھرپور کردار ادا کیا ہے، تو یہ کوئی بات نہیں کہ غزہ امن بورڈ میں شمولیت سے اس کی جانب سے ہمیشہ لافز کے ساتھ کام کرنا ممکن ہوگا 🤔 #غزہامنبورڈ #متحدہعربامارات
 
یہ تو ایک بڑا خushi ہوا! امارات نے غزہ امن بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت قبول کرلی اور اب وہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں فلسطینی عوام کے لیے امن منصوبے پر کام کرنے لگے ہیں۔ یہ دوسرا۔ 20 نکاتی امن منصوبے سے فلسطینی عوام کو اپنی پوری طاقت مل سکتی ہے اور وہ اپنی حقوق حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے۔ متحدہ عرب امارات نے اس فیصلے پر 45 سالوں سے یقین رکھا ہے اور اب وہ غزہ کے لیے امن منصوبے پر کام کرنے لگے ہیں تو یہ تو ایک بڑا خushi ہوا! 🤞
 
واپس
Top