موڈی کی ملازمت سے دوچھلے خارجہ پالیسی اور تعلیمی میدان میں ناکامیت کا نتیجہ وہاں بھی پہنچ گیا ہے جہاں یہ ملازمت کی لاپتہ پر ہوئی تھی۔ دی اکنومک ٹائمز کا کہنا ہے کہ مودiji کی دوغلی پالیسیوں نے امریکا میں بھارتی طلبہ کے داخلے پر سخت پابندیاں لگا دیے جس کے باعث ان کی تعداد میں 75 فیصد کمی ہوئی ہے، اور وہاں اس سے بھارت کی معیشت کا بھی تباہ کن اثرانداز ہو رہا ہے۔
امریکا میں اب تقریباً 72 فیصد ایچ 1بی ویزا حاصل کرنے والے بھارتی شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں اور اس سے ملک بدر کی تعداد بھی 3،800 تک پہنچ گئی ہے جو سب سے زیادہ بھارت کی شہریوں میں تھیں۔
بھارتی شہریوں نے ملازمت سمیت دیگر مواقع حاصل کرنے کا ایک اور بھی مشکل تجربہ پورا کر لیا ہے جس سے وہاں کی معیشت پر تباہ کن اثر ہو رہا ہے۔
دوسرے دیکھا جائے تو امریکا میں بھارتی ویزا کی طلب میں سوچ سے نکل کر گریپ ہوگئی ہے اور ان شہریوں کے پاس اب وہاں داخلے کے لئے کوئی یقین بننا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
بھارتی ناقص خارجہ پالیسی کی وجہ سے امریکا کی جانب سے وہاں شانہ دہ اور تجارتی رکاوٹیں پیدا ہوچکی ہیں جس کے نتیجے میں بھارتی شہری دنیا بھر میں ذلت کا شکار ہوئے ہیں۔
امریکا میں یہ پالیسی ناکامی کی وجہ سے بھارت پر سختی لگائی جائیگی اور وہاں کے شہریوں کو اب تک نہیں حاصل ہوسکا ہے کہ وہ وہاں اپنے لئے ایک بھارتی کاروباری ادارے کی منصوبہ بندی کریں۔
امریکا نے کہا ہے کہ وہ یہ پالیسی کو ایسے ساتھ لے گئے ہیں جو ان شہریوں کو ناکام اور کراہت رکھ دیتے ہیں۔
امریکا میں اب تقریباً 72 فیصد ایچ 1بی ویزا حاصل کرنے والے بھارتی شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں اور اس سے ملک بدر کی تعداد بھی 3،800 تک پہنچ گئی ہے جو سب سے زیادہ بھارت کی شہریوں میں تھیں۔
بھارتی شہریوں نے ملازمت سمیت دیگر مواقع حاصل کرنے کا ایک اور بھی مشکل تجربہ پورا کر لیا ہے جس سے وہاں کی معیشت پر تباہ کن اثر ہو رہا ہے۔
دوسرے دیکھا جائے تو امریکا میں بھارتی ویزا کی طلب میں سوچ سے نکل کر گریپ ہوگئی ہے اور ان شہریوں کے پاس اب وہاں داخلے کے لئے کوئی یقین بننا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
بھارتی ناقص خارجہ پالیسی کی وجہ سے امریکا کی جانب سے وہاں شانہ دہ اور تجارتی رکاوٹیں پیدا ہوچکی ہیں جس کے نتیجے میں بھارتی شہری دنیا بھر میں ذلت کا شکار ہوئے ہیں۔
امریکا میں یہ پالیسی ناکامی کی وجہ سے بھارت پر سختی لگائی جائیگی اور وہاں کے شہریوں کو اب تک نہیں حاصل ہوسکا ہے کہ وہ وہاں اپنے لئے ایک بھارتی کاروباری ادارے کی منصوبہ بندی کریں۔
امریکا نے کہا ہے کہ وہ یہ پالیسی کو ایسے ساتھ لے گئے ہیں جو ان شہریوں کو ناکام اور کراہت رکھ دیتے ہیں۔