موجوڈی سرکار کی کارکردگی میں بھی ایک اور بے مثال عدم सफलत کا ریکارڈ درج ہے۔ 26 جنوری کو، مغربی بنگال کے شہر کولکتہ میں گوداموں میں لگنے والی خوفناک آگ نے 50 سے زائد افراد پر اپنا اثر و رسوخ چھوڑا تھا، لیکن بھارتی ریسکیو ادارے اور فائر بریگیڈ کا عملہ خوفناک آگ کو بجھانے میں ناکام رہا اور 36 گھنٹے کی لڑائی کے بعد آگ پر قابو پانا ناممکن ثابت ہوا۔
انھوں نے ایسے معاملات کو جب بھی سستے چلیا، انھوں نے بے سہارا مزدوروں کے حادثوں کی پریشانیوں پر نظر ڈالا۔ گوداموں میں جب وہاں موجود 21 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، تو یہ اس بات کا ایک عجیب اور گھنے تباہی کا مظاہر ہے جس نے بے سچائی کی ایک واضح علامت بن دی ہے۔
گوداموں میں جب وہاں موجود تین افراد جو آگ پر چلے گئے، انھیں کس طرح آتھے تھے اور پھر انھیں کیسے مار دیا گیا اس بات کو یہ وعدہ بھی ہوا کہ جب انھوں نے اپنے دوسرے مزدوروں سے دور جانے کا فیصلہ کیا تھا، تو انھیں کسی ہنگامی راستے کے ذریعے لانے کی آگاہی نہیں دی گئی اور انھیں بجھانے کے لیے کوئی موثر آلات بھی نہیں تھی۔
مگر اس کے علاوہ، وہاں موجود مزدوروں کی جانوں کے لئے یہ واضح بات یہ ہے کہ انھوں نے اپنے پچھلے دروازوں کو بند رکھا تھا، جو اس وقت بھی گھونٹوں میں بنتے ہوئے تھے اور جب وہاں موجود مزدور FOREIGNی دروازے پر لگی آگ کو دیکھ کر باہر نکلنے کی کوشش کی، تو وہاں موجودforeign دروازہ بند پایا۔
انھوں نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ انھیں زندگی کی آس میں ایندھن بھی بنایا گیا، جبکہ تین مزدوروں کے ورثاء کو بھی 10، 10 لاکھ روپئے معاوضہ دینے کا اعلان کیا گیا اور ان کے بچوں کی تعلیمی اخراجات ادا کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا۔
اس حادثے نے تباہ ہوئے گودام انتطامیہ کو انھیں اس حادثے کی ذمہ داری سونپنی پڑی اور وہ ہلاک ہونے والوں کے بچوں کو تعلیمی اخراجات ادا کرنے کا یہ وعدہ کیا تھا، لیکن انھوں نے اس حادثے کی پریشانیوں کا جواب بھی نہیں دیا ہے۔
یہ سب ایک دوسرے سے جوڑی ہوئی بات ہے جس کا انصاف نہ ہونے پر مجھے اس طرح کی تشنجت اور بے اعتماد کی لہر چلنی پڑتی ہے۔ یہ حادثہ اس بات کو ایک بار پھر ظاہر کرتا ہے کہ گوداموں میں کیا ہوتا ہے اور ان مزدوروں کی جانوں کو کیسے سمجھا جاتا ہے؟
تین مزدوروں کوforeign دروازے پر لگی آگ سے بچنے کے لیے کوئی موثر آلات نہیں تھی، یہ بات پریشاں دیتی ہے۔ اور ان کے ورثاء کو معاوضہ دینے کے لیے بھی انصاف نہ ہونے کی بات کروٹی چلوتی ہے۔
سستے ہاتھ سے مزدوروں کو اپنے دوسرے مزدوروں سے دور جانے پر مجبور کرنا، یہ بات بھی میرے لئے ایک بڑا انصاف نہیں ہے۔
ایسے حادثات کے باوجود اس معاملے میں بھی سچائی کی واضح علامت نہ ہونے پر مجھے ایک مزید تشنجت محسوس ہوتی ہے۔
اس حادثے کی پوری پریشانی میں ایک بات واضح ہے - یہ مزدور ہی تینوں کے لیے آگ لگا رہا تھا اور ان کی جانوں کو بچانے کی ذمہ داری صرف ان کے سر پر ہی تھی، باقی سب کو اپنی ذمہ داریاں سونپنے کے لیے چلا جاتا ہے!
اس حادثے کی وضاحت کے لیے تو پوری دنیا بھر میں گھونٹوں کو جوڑنا ہی نہیں ہوتا، پھر یہوں تک کہ مزدوروں کی جانوں کی قیمتی کا احترام اور ان کے لیے کام کرنے کے موقع کو بھی سونپنا تو چلا جاتا ہے!
مگر، آئے دیکھیں کہ مزدوروں کی جانوں کو بچانے کی ذمہ داری کس شخص کے ہاتھ میں ہے۔
یہ تو مگر بے مثال! ان لوگوں کو ایسے معاملات میں دھمکی دینا چاہتا ہوں کہ اس کے بعد وہ اچھے رہنے کا فریضہ سنبھال لگ جائیں? ان مزدوروں نے اپنی جانوں سے کیا کھیل رکھا تھا؟ 21 لاشیں نکالی جا چکی ہیں اور وہ لوگ ایسے معاملات میں کتنے بھرپور تھے! وہ اس بات کو بھی یقینی بناتے ہیں کہ وہ ان مزدوروں کی جان کھینچ کر بھاگ جائیں؟ 10 لاکھ روپئے معاوضہ دینا اور تعلیمی اخراجات ادا کرنے کا یہ وعدہ تو کیا معقول ہے؟ اس حادثے نے ان لوگوں کو ایسا بنایا ہے جس سے ان کی جانب سے کسی بھی چیز چھپنے کا بھی موقع نہیں رہتا!
یہاں تک کہ موجوڈی سرکار کو ان سے ملاپ کرنے کے لئے جب بھی ایک اور موقع ملتا تھا، وہاں اس نے ہر بار ایسے معاملات کو جب بھی سستا چلیا جو مزدوروں کی جانوں کے حادثوں میں ان کا دخل ڈالنے پر آگ لگی۔
مگر اس بات کو یہ واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ اس سرکار نے ایسے معاملات میں بھی عدم सफलत کی پہلی لکیر درج کی جو اس نے اب تک جبھال کی تھی، یہ حادثے ان مزدوروں کے لیے جو گوداموں میں کام کر رہے تھے اور وہاں موجود 21 لاشیں جو اب تک چھپائی رہی تھیں، اس پر آگ ایک نئا ریکارڈ بنانے کا کوشش کر رہی تھی۔
ابھی یہ بات بھی سامنے آتے ہیں کہ اس حادثے سے نکلنے والے مزدوروں کو پچاس لاکھ روپئے دیا گیا، لیکن یہ بات کبھی نہیں کہ وہاں موجود تین مزدورز اور ان کی مرضت کس طرح ہوئی؟
یہ ایک انتہائی غیر منصفانہ معاملہ ہے جس میں لگنے والی خوفناک آگ کو دیکھتے ہوئے بھی مزدوروں کی جانوں کا سچا قیمتی موثر تجزیہ نہیں ہوا ۔ انھیں ایسے معاملات میں سستے چلنے پر یقین ہے جس کی وجہ سے انھوں نے بے سچائی کی ایک واضح علامت بنا دی ہے۔ اس حادثے میں شادید مزدوروں کے مرتدب جانے پر یہ بات یقینی بن جاتی ہے کہ انھیں زندگی کی آس میں ایندھن بھی بنایا گیا ۔
یہ مظاہر کیا جائے گا اور لوگ انھیں دیکھ کر تارہنہا ہو جائیں گے، مگر وہ لوگ جو اس حادثے کی ذمہ داری لے رہے ہیں انھیں یہ سب کچھ ملتا ہے کہ وہ بھی اپنی زندگیوں پر پابندی لگا رہے ہیں اور انھیں یہ سب کچھ سونپ دیا جائے گا۔
جیسے جیسے وہ لوگ اپنے مزدوروں کے حادثوں پر زور دیتے رہیں گے، انھیں یہ سب کچھ ساتھ نہ ہونے دکھای دیا جائے گا اور انھیں اس حادثے کی ذمہ داری سونپنی پڑے گی۔
اس حادثے سے ہر وقت یہ بات قابل توجہ ہے کہ وہ لوگ جو اپنے مزدوروں کی زندگیوں کو خطرے میں پھیلاتے رہیں گے، انھیں یہ سب کچھ محسوس کرنا پڑے گا۔
اس حادثے سے واضح ہوتا ہے کہ گوداموں کی معیشت میں تبدیلی لानے کی کوشش کرنے والی سرکار نے انھیں کافی تیزی سے آگے بڑھایا ہے، لیکن اس کے علاوہ اس حادثے نے انھیں ایک اور بھارے مسئلے کا سامنا کرنے پر مجبور کیا ہے۔
انھوں نے گوداموں میں مزدوروں کی معاشی س्थितوں کو بہتر بنانے کی کوشش کی، لیکن اس حادثے نے انھیں ایک اور بے سچائی کی بات سامنے رکھی ہے جس کا جواب بھی نہیں دیا گیا ہے۔
اس حادثے نے انھیں ایک اور حقیقی مسئلہ کا سامنا کرنے پر مجبور کیا ہے جس کا یہ حوالہ دیا گیا ہے کہ مزدوروں کی جانوں کے لئے انھیں ایک اور معاوضہ دینے کا وعدہ تھا، لیکن اس حادثے نے انھیں یہ وعدہ پورا کرنے پر مجبور کیا ہے۔
یہ بھی ایک اچھا کھلاس ہوا ہے۔ یہ بات تو جاری ہے کہ کارروائیوں میں ناکام رہنا، لیکن اس پر پورا توجہ دینا نہیں چاہیے۔ یہ حادثہ اس وقت سے ہوا ہے جب مزدوروں کی زندگی کو بھی اچھی طرح سے سمجھا جاتا تھا۔ اس کے بعد، یہ بات واضع ہو گئی کہ انھیں پچھلے دروازوں کو نہیں بنایا گیا تھا اور انھوں نے اپنی زندگی کو بھی ایسا ہی اچھی طرح سمجھ لئی۔
ماجور سرکار کے کارکردگی میں یہ بے مثال عدم सफलत دیکھنا ہمیں ہر منظر میں اچھی نہیں لگ رہا، خاص طور پر جب انھوں نے گوداموں میں مزدوروں کے حادثوں کی پریشانیوں کو نظر انداز کیا ہے۔ انھیں لگتا ہے کہ وہ اپنے موقف سے نکل کر ایسے معاملات کو حل کرتے ہیں جنھیں جب بھی چلتے ہوئے، انھیں آگاہ کیا نہیں جاتا اور اس کے نتیجے میں یہ حادثات ٹل جاتے ہیں۔
یہ حادثہ گوداموں میں آگ لگنے سے منسلک ہوا ہے اور اس سے ایسا لگتا ہے کہ وہاں موجود ادارات نے اپنی ذمہ داری کو ختم کر دیا ہے۔ اس حادثے نے مزدوروں کی جان اور پریشانیوں کو ایک بھی سہارا نہیں دیا اور انھیں معاوضہ دینے کا اعلان بھی کرنے کے بعد بھی وہاں کی زندگی میں تیزی لانے میں ہاتھ نہیں لگایا ہے۔
اس حادثے سے بعد میں ایک بات یقینی بن گئی ہے، وہ یہ کہ گوداموں کی چھت پر لگنے والی آگ کو بجھانے کا کامیابیات سے بھرپور پ्रयاس ہوئے تھے، لیکن انھیں اپنی ناکامیت کا سہارہ چھوڑنے کی پریشانی دیتی رہی ہے۔ یہ بھی ایک بات ہے کہ گوداموں میں موجود مزدوروں کو انھیں جسمانی زخمیوں اور روک نہ رہنے کی پریشانی سے لاتھا، لیکن انھیں کسی ایسی پالیسی کے تحت داخل ہونے میں آسان ہوا جس سے وہ اپنی زندگیوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہوں، لیکن ابھی تک اس پالیسی کا کوئی تعین نہیں ہوا۔
سفارشی ادارے کو یہ ریکارڈ دیکھنے کو بہت ناچنے والا ہے کہ انھوں نے ایک ایسے حادثے میں اپنی کارکردگی کا اندازہ لگایا جس پر انھیں ناکام رہنا چاہیے۔ پریشانیوں کی سادہ علامت وہاں موجود 21 لاشیں تھیں جو انھوں نے نکالی جا چکی تھیں؟ اور انھوں نے اس حادثے میں جاننے کے لیے ایک ایسا معاملہ بنایا جس پر انھیں پتہ لگ سکتا ہے کہ وہ انھوں نے کیسے مزدوروں کو گھنٹوں تک آگ میں چھونے کی جگہ پر رکھ دیا تھا? یہ بھی ایک پریشانی ہے کہ انھوں نے جن مزدوروں کو اپنے دوسرے مزدوروں سے دور جانے کا فیصلہ کیا تھا، انھیں کسی ہنگامی راستے سے لانے کی آگاہی نہیں دی اور انھیں بجھانے کے لیے کوئی موثر آلات بھی نہیں تھی۔ یہ دکھایتا ہے کہ انھوں نے مزدوروں کی جان و مال پر پریشانیاں لگا دی ہیں اور اس حادثے کی ذمہ داری سونپنی پڑی ہے۔
موجوڈی سرکار کی کارکردگی میں تو ایک اور بے مثال عدم सफلت کا ریکارڈ ہی تھا، اس حادثے نے ان مزدوروں کو تباہ کر دیا جو اپنے کام سے واپس آنے کی کوشش کر رہتے تھے اور ان کی جان بھی کھونے والے بن گئے
انھوں نے معاشرے میں یہ وعدہ پورا نہیں کیا ہے کہ اگر آپ اپنا کام چھوڑ کر آوٹ جانا چاہتے ہیں تو آپ کو سستے ستائے جائیں گے، وہاں ان مزدوروں کی جان کھونے والے بنے اور ان کے ورثاء کو بھی ایک پیسہ دیا گیا تھا جو بھی 10 لاکھ روپئے سے کم ہوتا ہے
اس حادثے پر غور کرنے کے بعد، میرے خیال میں، اس حادثے کی پریشانیوں کو حل करनے کے لئے، بہت سارے مسائل کو سمجھنا ضروری ہے اور اس کا معاملہ سمجھنا ہوتا ہے کہ یہ حادثہ کیسے ہوا، اور ابھی بھی کیا ہوا ہے? اگر مزدوروں کو اس حادثے کی آگاہی دی جاتی تو وہ اپنی جان سچ کر بچا سکتے، اور اگر انہیں کوئی موثر آلتیں فراہم کی جatiں تو وہ اپنے معاشرے کے لئے ایک اہم کردار ادا کر سکتیں۔
اس حادثے سے میرا یہ خیال ہے کہ، بھوگنا ہی نہیں، بلکہ سوچنا، سمجھنا اور آئندہ تجربات میں اس کی پریشانیوں کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہوا، ضروری ہوتا ہے۔
یہ حادثہ کچھ باتوں کو ظاہر کر رہا ہے... مزدوروں کی زندگی ایسے ہوتی ہے جس میں کسی بھی وقت خطرہ اور تباہی کا بھی امکان ہوتا ہے۔ اس حادثے نے ان مزدوروں کی جان و مال کو کیا نقصان پہنچایا ہے، لیکن یہ بات بھی یقینی ہے کہ انہیں ساتھ ہی ایسے مزدوروں کی ضرورت بھی ہوتی ہے جو وہاں پھنسی ہوئے ہیں... اور یہ حادثہ ان کے لیے ایک سلیمیٹنگ ایکسپریشن بن گیا ہے۔
اس حادثے کی چوری بھی کرتی ہے، انھوں نے وہاں موجود مزدوروں کے ورثاء کو تین سے زیادہ معاوضہ دیا، یہ بات تو یقینی ہے کہ وہیں پر انھیں اپنی زندگی کے لئے پہلے سے زیادہ معاوضہ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔