بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے ہی ملک میں تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کی وجہ ایران کی چابہار پورٹ سے علیحدگی ہے۔
اس حوالے سے انھوں نے بھارت کو اپنی طے شدہ 120 ملین ڈالر کی رقم ادا کر دی تھی، لیکن کبھی اسی پورٹ پر سرگرمیوں کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ مودی چابہار کا کنٹرول چھوڑنے پر خاموش ہیں، افسو س انھوں نے امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے بعد ٹرمپ کی طرف جھک گئے اور ملک کا نقصان کردیا ہے۔
اس بات کو انھوں نے یقینی بنایا ہے کہ انھوں نے پہلے بھی ٹرمپ کی طرف جھک گئے تھے، اور اب اس سے بھی ممتاز تعلقات رکھتے ہیں۔
مادی پابندیاں لگنے سے قبل انھوں نے ایران کو اپنی ادائیگی کر دی تھی، لیکن اب وہ اس سرمائے کو بھارت کی شمولیت کے بغیر استعمال کر سکتے ہیں۔
نریندر مودی پر کongaری پارٹی نے تنقید کیے ہوئے کہانی لکھی ہے جس میں انھوں نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ وہ ٹرمپ کے آگے سرینڈر اور چابہار پورٹ کی علیحدگی پر خاموش ہیں، ملک کا نقصان کردیا ہے۔
اس حوالے سے انھوں نے بھارت کو اپنی طے شدہ 120 ملین ڈالر کی رقم ادا کر دی تھی، لیکن کبھی اسی پورٹ پر سرگرمیوں کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ مودی چابہار کا کنٹرول چھوڑنے پر خاموش ہیں، افسو س انھوں نے امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے بعد ٹرمپ کی طرف جھک گئے اور ملک کا نقصان کردیا ہے۔
اس بات کو انھوں نے یقینی بنایا ہے کہ انھوں نے پہلے بھی ٹرمپ کی طرف جھک گئے تھے، اور اب اس سے بھی ممتاز تعلقات رکھتے ہیں۔
مادی پابندیاں لگنے سے قبل انھوں نے ایران کو اپنی ادائیگی کر دی تھی، لیکن اب وہ اس سرمائے کو بھارت کی شمولیت کے بغیر استعمال کر سکتے ہیں۔
نریندر مودی پر کongaری پارٹی نے تنقید کیے ہوئے کہانی لکھی ہے جس میں انھوں نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ وہ ٹرمپ کے آگے سرینڈر اور چابہار پورٹ کی علیحدگی پر خاموش ہیں، ملک کا نقصان کردیا ہے۔