امریکا نے ہنگامی حالات میں ایران کے حکومت مخالف مظاہروں پر قائم 5 اعلیٰ حکام پر پابندیاں عائد کی ہیں اور ساتھ ہی یہ اہلیت دیکھتے ہوئے دنیا بھر کے بینکوں میں منتقل کی جانے والی رقم پر نظر رکھتی ہے جس کا خاتمہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت ایران پر دباؤ میں اضافے کے لیے کیے گئے تہران کے خلاف اقدامات میں حصہ ہے۔
صدر امریکا نے اپنے محکمہ خزانہ کی جانب سے کہا ہے کہ ایران کے 5 اعلیٰ حکام کو پابندیاں عائد کی گئیں ہیں جو ایران میں مظاہرین پر کریک ڈاؤن میں ملوث تھے جس کے خلاف امریکی حکومت نے قلمند کیا ہے۔ اہلیت کو ایک جانب لائے گئے ہیں جن کی ساتھ ہی دنیا بھر کے بینکوں میں منتقل کی جانے والی رقم پر بھی نظر رکھتی ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے بتایا ہے کہ ایران میں مظاہرین پر کریک ڈاؤن میں قائم 5 اعلیٰ حکام کو پابندیاں عائد کی گئیں ہیں جن میں سپریم کونسل برائے نیشنل سیکیورٹی، پاسداران انقلاب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کمانڈرز شامل تھے۔
امریکی پابندی کی زد میں آنے والوں میں سیکرٹری سپریم کونسل برائے نیشنل سیکیورٹی علی لاریجانی اور دیگر سیکیورٹی کمانڈرز محمد رضا ہاشمی فر، نعمت اللہ باقری، عزیز اللہ ملکی اور ید اللہ بوعلی شامل تھے جس پر یہ پابندیاں عائد کی گئیں تاکہ وہ دیکھتے ہوئے دنیا بھر کے بینکوں میں منتقل کی جانے والی رقم پر نظر رکھتی ہے۔
امریکی سیکرٹری خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ اگر ایرانی قیادت چاہے تو اب بھی وقت ہے کہ وہ تشدد بند کر کے ایرانی عوام کے ساتھ کھڑی ہو جائے اور تھوڑا عرصہ پھر ان کی جانب سے اس معاملے پر سراغ لگائیں گے۔
اسکاٹ بیسنٹ نے مزید کہا کہ ایران کے رہنماؤں کو یقین رکھنا چاہیے کہ اس معاملے پر ایسا کیا جائے گا اور اگر وہ اپنے کھیل کو متواضع کر کے ایرانی عوام کے ساتھ کھڑی ہوتے تو یہ صورت حال بہتر ہوجائے گے۔
اسکاٹ بیسنٹ نے مزید کہا کہ अमریکا مکمل طور پر ایرانی عوام کی آزادی اور انصاف کے لیے اٹھنے والی آواز کے ساتھ کھڑا ہے اور محکمہ خزانہ Iranian حکومت کے ظالمانہ انسانی حقوق کی پامالی کے پس پردہ عناصر کو نشانہ بنانے کے لیے ہر ممکن ذریعہ استعمال کرے گا۔
ایسے میں یہ بات اہم ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران پر عائد یہ پابندیاں ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد پہلا اقدام ہے جس کی وکالت کر کے ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔
صدر امریکا نے اپنے محکمہ خزانہ کی جانب سے کہا ہے کہ ایران کے 5 اعلیٰ حکام کو پابندیاں عائد کی گئیں ہیں جو ایران میں مظاہرین پر کریک ڈاؤن میں ملوث تھے جس کے خلاف امریکی حکومت نے قلمند کیا ہے۔ اہلیت کو ایک جانب لائے گئے ہیں جن کی ساتھ ہی دنیا بھر کے بینکوں میں منتقل کی جانے والی رقم پر بھی نظر رکھتی ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے بتایا ہے کہ ایران میں مظاہرین پر کریک ڈاؤن میں قائم 5 اعلیٰ حکام کو پابندیاں عائد کی گئیں ہیں جن میں سپریم کونسل برائے نیشنل سیکیورٹی، پاسداران انقلاب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کمانڈرز شامل تھے۔
امریکی پابندی کی زد میں آنے والوں میں سیکرٹری سپریم کونسل برائے نیشنل سیکیورٹی علی لاریجانی اور دیگر سیکیورٹی کمانڈرز محمد رضا ہاشمی فر، نعمت اللہ باقری، عزیز اللہ ملکی اور ید اللہ بوعلی شامل تھے جس پر یہ پابندیاں عائد کی گئیں تاکہ وہ دیکھتے ہوئے دنیا بھر کے بینکوں میں منتقل کی جانے والی رقم پر نظر رکھتی ہے۔
امریکی سیکرٹری خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ اگر ایرانی قیادت چاہے تو اب بھی وقت ہے کہ وہ تشدد بند کر کے ایرانی عوام کے ساتھ کھڑی ہو جائے اور تھوڑا عرصہ پھر ان کی جانب سے اس معاملے پر سراغ لگائیں گے۔
اسکاٹ بیسنٹ نے مزید کہا کہ ایران کے رہنماؤں کو یقین رکھنا چاہیے کہ اس معاملے پر ایسا کیا جائے گا اور اگر وہ اپنے کھیل کو متواضع کر کے ایرانی عوام کے ساتھ کھڑی ہوتے تو یہ صورت حال بہتر ہوجائے گے۔
اسکاٹ بیسنٹ نے مزید کہا کہ अमریکا مکمل طور پر ایرانی عوام کی آزادی اور انصاف کے لیے اٹھنے والی آواز کے ساتھ کھڑا ہے اور محکمہ خزانہ Iranian حکومت کے ظالمانہ انسانی حقوق کی پامالی کے پس پردہ عناصر کو نشانہ بنانے کے لیے ہر ممکن ذریعہ استعمال کرے گا۔
ایسے میں یہ بات اہم ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران پر عائد یہ پابندیاں ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد پہلا اقدام ہے جس کی وکالت کر کے ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔