پھیلتے ہوئے نیپاہ وائرس کے بعد، دنیا میں اب دو نئے خطرات سامنے آ رہے ہیں جس کی سightedگی سے ماہرین صحت کو بھی خبردار ہوئے ہیں۔
اب، دنیا کے مختلف ممالک میں پھیل چکا نیپاہ وائرس اور ابھی نئی عالمیوبھوت کورونا سے نمٹنے کی تیاریاں کر رہی ہیں، جس پر عالمی ادارہ صحت اور دیگر ممالک بھی اپنی جانب سے لگاتارAlertجاری کررہےہیں۔
اس صورتحال کا خاطع ہونے پر ماہرین نے ایک مزید خطرات کا اعلان کیا ہے، جو امریکا میں صحتِ عامہ کے لیے بھی بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔
انفلوئنزا ڈی وائرس اور کتوں میں پایا جانے والا کورونا وائرس، جو جانوروں سے پھیلتا ہے، حیرانی کن طور پر اب تک ماہرین کی نظروں سے اوجھل تھا۔
اس رپورٹ میں ایسی باتاتھی ہے کہ یہ دو وائرس انسانوں میں سانس کی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں اور ان کے خلاف قوتِ مدافعت موجود نہیں ہو گی۔
ان ساتھیوں کا تعلق انفلوئنزا ڈی وائرس اور کورونا وائرس سے ہے، جو اب تک انسانوں میں پھیلتے ہوئے نہیں تھے جس کی وجہ سے ان ساتھیوں کو خطرناک قرار دیا گیا ہے۔
اب تک، اس خطرات کے بارے میں کسی بھی اقدامت نہیں کی گئی ہے جس سے انسانوں کے بچاوء کے لیے موثر کوششوں کو سامنے لیا جا سکتا۔
اس صورتحال کے خاطع ہونے پر ماہرین صحت کو یہ بات بتائی گئی ہے کہ اگر ان وائرسز میں انسان سے انسان میں با آسانی منتقل ہونے کی صلاحیت پیدا ہوگئی تو یہ وباؤں یا عالمی وباؤں کی صورت اختیار کر سکتے ہیں کیونکہ زیادہ تر لوگوں میں ان کے خلاف قوتِ مدافعت موجود نہیں ہوگی۔
اب، دنیا کے مختلف ممالک میں پھیل چکا نیپاہ وائرس اور ابھی نئی عالمیوبھوت کورونا سے نمٹنے کی تیاریاں کر رہی ہیں، جس پر عالمی ادارہ صحت اور دیگر ممالک بھی اپنی جانب سے لگاتارAlertجاری کررہےہیں۔
اس صورتحال کا خاطع ہونے پر ماہرین نے ایک مزید خطرات کا اعلان کیا ہے، جو امریکا میں صحتِ عامہ کے لیے بھی بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔
انفلوئنزا ڈی وائرس اور کتوں میں پایا جانے والا کورونا وائرس، جو جانوروں سے پھیلتا ہے، حیرانی کن طور پر اب تک ماہرین کی نظروں سے اوجھل تھا۔
اس رپورٹ میں ایسی باتاتھی ہے کہ یہ دو وائرس انسانوں میں سانس کی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں اور ان کے خلاف قوتِ مدافعت موجود نہیں ہو گی۔
ان ساتھیوں کا تعلق انفلوئنزا ڈی وائرس اور کورونا وائرس سے ہے، جو اب تک انسانوں میں پھیلتے ہوئے نہیں تھے جس کی وجہ سے ان ساتھیوں کو خطرناک قرار دیا گیا ہے۔
اب تک، اس خطرات کے بارے میں کسی بھی اقدامت نہیں کی گئی ہے جس سے انسانوں کے بچاوء کے لیے موثر کوششوں کو سامنے لیا جا سکتا۔
اس صورتحال کے خاطع ہونے پر ماہرین صحت کو یہ بات بتائی گئی ہے کہ اگر ان وائرسز میں انسان سے انسان میں با آسانی منتقل ہونے کی صلاحیت پیدا ہوگئی تو یہ وباؤں یا عالمی وباؤں کی صورت اختیار کر سکتے ہیں کیونکہ زیادہ تر لوگوں میں ان کے خلاف قوتِ مدافعت موجود نہیں ہوگی۔