''نیپاہ'کے بعد مزید 2 نئے وائرس ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
خطرناک وائرس کی پہچان کے ساتھ ماہرین نے دو نئے وائراستوں کی خبردار کروائی ہے جو دنیا کو ابھرا رہا ہے۔
امریکا میں بھی خطرناک وائرس کی پہچان نکل چکی ہے جس سے صحتِ عامہ پر بے حد اثر Padega. اس بارے میں فلوردیڈا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر جان لیڈنکی نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جو انفلوئنزا ڈی وائرس اور کتوں میں پایا جانے والا کورونا وائرس کی بات کرتا ہے.
اس رپورٹ میں اس کے مطابق انفلوئنزا ڈی وائرس اور کورونا وائرس جانوروں سے پھیلتا ہے، لیکن اب یہ انسانوں تک پہنچ چکا ہے۔ اس نے ان لوگوں میں بھی مرزا کی بیماری پیدا کرنی شुरुआत کردی ہے جس سے لوگ سنہری مایوس ہو گئے ہیں، حالانکہ اب تک اس کی پہچان کا کوئی نتیجہ نہیں نکالا گیا تھا۔
اس حوالے سے جان لیڈنکی نے بتایا ہے کہ اگر ان وائرسز میں انسان سے انسان میں با آسانی منتقل ہونے کی صلاحیت پیدا ہو گئی تو یہ Webbاؤں یا عالمی وباؤں کی صورت اختیار کر سکتے ہیں کیونکہ زیادہ تر لوگوں میں ان کے خلاف قوتِ مدافعت موجود نہیں ہو گی۔
خطرناک وائرس کی پہچان کے ساتھ ماہرین نے دو نئے وائراستوں کی خبردار کروائی ہے جو دنیا کو ابھرا رہا ہے۔
امریکا میں بھی خطرناک وائرس کی پہچان نکل چکی ہے جس سے صحتِ عامہ پر بے حد اثر Padega. اس بارے میں فلوردیڈا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر جان لیڈنکی نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جو انفلوئنزا ڈی وائرس اور کتوں میں پایا جانے والا کورونا وائرس کی بات کرتا ہے.
اس رپورٹ میں اس کے مطابق انفلوئنزا ڈی وائرس اور کورونا وائرس جانوروں سے پھیلتا ہے، لیکن اب یہ انسانوں تک پہنچ چکا ہے۔ اس نے ان لوگوں میں بھی مرزا کی بیماری پیدا کرنی شुरुआत کردی ہے جس سے لوگ سنہری مایوس ہو گئے ہیں، حالانکہ اب تک اس کی پہچان کا کوئی نتیجہ نہیں نکالا گیا تھا۔
اس حوالے سے جان لیڈنکی نے بتایا ہے کہ اگر ان وائرسز میں انسان سے انسان میں با آسانی منتقل ہونے کی صلاحیت پیدا ہو گئی تو یہ Webbاؤں یا عالمی وباؤں کی صورت اختیار کر سکتے ہیں کیونکہ زیادہ تر لوگوں میں ان کے خلاف قوتِ مدافعت موجود نہیں ہو گی۔