انفلوئنزا ڈی وائرس اور کورونا وائرس کے بعد نئی رپورٹ میں ایک دوسرا خطرناک وائرس سامنے آیا ہے جو انسانوں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
سابق نپال وائرس کی طرح، انفلوئنزا ڈی وائرس اور کورونا وائرس بھی جانوروں سے پھیلتے ہیں اور انسانوں کو سانس کی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں، جیسا کہ ماہرین نے کہا ہے۔ یہ وائرس اب تک ماہرین کی نظروں سے اوجھل تھے لیکن اب ان کی موجودگی کو تسلیم کرنا ضروری ہو گئا ہے اور ان کے خلاف موثر قوتِ مدافعت تیار کرنی ہو گی۔
دوسری جانب، فلوردیڈا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر جان لیڈنکی نے ایک رپورٹ میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ انفلوئنزا ڈی وائرس اور کورونا وائرس سے انسانوں کے لیے بھی خطرہ ہو سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ انھیں ابھی ابھی دنیا میں پھیلایا جا رہا ہے اور اچانک نہیں آ سکتا۔
علاوہ ازیں، ماہرین نے بتایا ہے کہ اگر ان وائرسز میں انسان سے انسان میں با آسانی منتقل ہونے کی صلاحیت پیدا ہو گئی تو یہ Webbاؤں یا عالمی وباؤں کی صورت اختیار کر سکتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہوسکتا ہے کہ زیادہ تر لوگوں میں ان کے خلاف قوتِ مدافعت موجود نہیں ہو گی۔
سابق نپال وائرس کی طرح، انفلوئنزا ڈی وائرس اور کورونا وائرس بھی جانوروں سے پھیلتے ہیں اور انسانوں کو سانس کی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں، جیسا کہ ماہرین نے کہا ہے۔ یہ وائرس اب تک ماہرین کی نظروں سے اوجھل تھے لیکن اب ان کی موجودگی کو تسلیم کرنا ضروری ہو گئا ہے اور ان کے خلاف موثر قوتِ مدافعت تیار کرنی ہو گی۔
دوسری جانب، فلوردیڈا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر جان لیڈنکی نے ایک رپورٹ میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ انفلوئنزا ڈی وائرس اور کورونا وائرس سے انسانوں کے لیے بھی خطرہ ہو سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ انھیں ابھی ابھی دنیا میں پھیلایا جا رہا ہے اور اچانک نہیں آ سکتا۔
علاوہ ازیں، ماہرین نے بتایا ہے کہ اگر ان وائرسز میں انسان سے انسان میں با آسانی منتقل ہونے کی صلاحیت پیدا ہو گئی تو یہ Webbاؤں یا عالمی وباؤں کی صورت اختیار کر سکتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہوسکتا ہے کہ زیادہ تر لوگوں میں ان کے خلاف قوتِ مدافعت موجود نہیں ہو گی۔