نیب کی گزشتہ برس 62 کھرب، 13 ارب روپے کی ریکارڈ ریکوری | Express News

صحرا نورد

Well-known member
اسلام آباد میں نیب نے سال 2025 کی اپنی سالانہ کارکردگی کی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں 62 کھرب، 13 ارب روپے کی ریکارڈ ریکوری کی گئی ہے۔

سہیل ناصر، پراسیکیوٹر جنرل احتشام قادر شاہ اور امجد مجید اولکھ کے ذریعہ ان کی کارکردگی پر بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ موجودہ چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (رٹائرڈ) نذیر احمد کی قیادت میں نیب نے یہ ریکوری بنائی ہے، جو نیب کے قیام سے اب تک کی سب سے بڑی سالانہ رقم ہے۔

اس سال نیب نے 29 لاکھ، 80 ہزار ایکڑ سرکاری اور جنگلاتی اراضی واگزار کرائی جس کی مجموعی مالیت تقریباً 59 کھرب، 80 ارب روپے ہے۔ اس میں سکھر میں 3,730 ارب، بلوچستان میں 1,374 ارب اور ملتان میں 653 ارب روپے کی زمین بحال کی گئی ہے۔

نیب نے ہا ئوسنگ سکیموں کے متاثرین کو بھی خاطر خواہ ریلیف فراہم کیا جس کے تحت 1لاکھ،15ہزار متاثرین کو 180ارب روپے منتقل کئے گئے ہیں۔ پہلی بار ڈیجیٹل نظام کے ذریعے 2.8-arab rupees براہِ راست متاثرین کے بینک کھاتوں میں منتقل کئے گئے ہیں۔ اسٹیٹ لائف ہائوسنگ کے متاثرین کو 72.23 ارب روپے مالیت کے پلاٹ واپس دلائے گئے ہیں جبکہ ایڈن ہا ئوسنگ، الباری گروپ اور دیگر متاثرین کو اربوں روپے کی واپسی ممکن ہوئی ہے۔
 
اس سال نیب نے اتنا جیتا ہے کہ چاہے تم اس کے لیے بھگتا ہو یا پھٹتا ہو اس میں سے ایک تھوڑی دیر سے لنگر رہے ہیں، اس پر یہ بات بھی اچھا ہے کہ لوگ اس نے انہیں جتنے پیسے دیئے ہیں اس میں سے واپسی کا بھی موقع ہو گا۔ لاکھوں روپوں کی ریکوری ایک ساتھ ساتھ دیکھ کر ہوا ہے، چاہے یہ ماحول پر بہت منفی اثر ڈالے گی یا نہیں، وہ کہیں بھی جو آئیں گا اس پر یقین رکھنا چاہیے۔
 
اس سال نئا بینچ مارکیٹ کس طرح بھرپور رہا، جس میں دائرہ کار پر فوج اور انسداد بلاکسٹوں کی جانب سے بھی ہمدردی کی گئی ہے... 🤝

امید تھی کہ واپسی کا پہلو ہونے کے ساتھ اس معاملے میں نیشنل اینٹی ٹرولنگ لائسنس ایکٹ کو بھی قانون بنایا جائے گا، لیکن یہ رپورٹ بھی ڈیجیٹل نظام کے ذریعہ متاثرین کے بینک کھاتوں میں منتقل کرنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے...

اسے بھی دیکھنا ہوگا کہ اس سال نئے بینچ مارکیٹ کی چیئرمین کی منصوبہ بندی میں ہمیشہ کے برعکس کام ہوا، جس کے بعد کسی اور کو بھی انہوں سے پوچھنا ہوگا...
 
اس سال نیبو کے ریکارڈ ریکوری سے ہونے والی چھٹاڈائی بہت زیادہ ہے، اگرچہ یہ بات تو بتنی چاہئیے کہ اسے وہیں ڈالنے کے لئے کیا جاسکتا ہے۔ نیبو میں انہوں نے ایسی زمین پر بھی اور سے بھی واگزار کرائی ہے جو ایک چیٹھی ہی لگتی ہے؟ اس طرح کی بات کروانے کے بعد بھی انہوں نے ہوا سہمی، پلیٹ واپس دلاتے اور متاثرین کو مالیت دلائی، یہ تو ایک منظر نہیں بلکہ ایک کہانی ہے!
 
اس سال نیب نے اس سے قبل بھی بڑی سی کارکردگی دکھائی ہے، لہٰذا یہ خبر اچھی ہو گی جب تک کہ اس نے اس کی کامیابیوں کو اپنے خاندان میں بھی تقسیم کر دیا جائے ۔ یہ ریکوری 62 ہزار روپے سے لے کر ایک لاکھ روپے تک کی ملکی اور بین الاقوامی سرزمین پر چلائی گئی ہے، جو 1990 کے عرصے میں بھی انہوں نے ایسی واحد کارکردگی نہیں دکھائی تھی۔
 
اس سال کا نیب رپورٹ ایک بھارے دھن سے چل رہا ہے، یہاں تک کہ اس نے اپنی ایک لاکھ eighty ہزار ایکڑ سرکاری اور جنگلاتی اراضی واگear کر دی ہے جو تقریباً پچاس رات ہرے ارب روپے کی ہے! اس طرح یہ نیب کا قیام سے اب تک کی سب سے بڑی سالانہ رقم ہے، اس پر میں صرف کہنا چاہتا ہوں کہ کس طرح ہر ایک نے ان کھلے دل سے معاف کرنے اور اس نئی سرکاری زمین پر اپنی زندگی بستائی ہے؟

میں یہ سوچتا ہوں کہ نیب کی یہ کارکردگی ان کے چیئرمین سے باہم پھیلی ہوئی ہے، نہ صرف اس نے ان پر دباو ڈالا ہے بلکہ انہوں نے اپنی زندگی بھی ان کے لیے وقف کر دی ہے۔ اور یہ تو ایک قابل استعاثہ کام ہے، 1 لاکھ پندرہ ہزار متاثرین کو 180 ارب روپے منتقل کیا گیا ہے، ایسا سمجھنا بھی آسان ہے کہ اس کے ساتھ ہلاک ہونے والوں کی تعداد بھی اس سے اچھی طرح کم تھی!
 
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نیب نے بہت سے متاثرین کو معاونت فراہم کی ہے، انہوں نے بھی ایک بڑا ریکارڈ بنایا ہے، یہ ریکارڈ نیب کے قیام سے اب تک اسی سے بڑا ہے اس کو دیکھتے ہی محسوس ہوتا ہے کہ نئی حکومت نے اچھے فائدے کا مظاہرہ کیا ہے۔
 
اس سال نیب نے جس ریکارڈ ریکوری بنایا ہے وہ پورے ملک کے لیے ایک بڑا پیمانہ ہے! 62 کھرب روپے کی رقم اس سال نیب نے جمع کی ہے، جس سے یہ علم milta hai کہ انہوں نے واقفین اور زمینداروں کو کافی معیار پر مدد دی ہے 📈

سکھر میں 3,730 ارب روپے کی زمین بحال کرنے کا یہ کام بھی نیب کی سالانہ کارکردگی کے لیے ایک بڑا تصرف ہے، بلوچستان میں 1,374 ارب اور ملتان میں 653 ارب روپے کی زمین بحال کرنے کی یہ کارروائی ناقابل تسلیب ہے! 🤯

یہ سیریز کا یہ حصہ بھی دیکھنا مुशکلی بات نہیں ہے کہ نیب نے 1لاکھ،15ہزار متاثرین کو 180ارباب روپے منتقل کیے ہیں اور پہلی بار ڈیجیٹل نظام کے ذریعے 2.8-arab rupees براہِ راست متاثرین کے بینک کھاتوں میں منتقل کیے گئے ہیں! 🤑
 
یہ سب سے زیادہ انعام دیتا ہے کہ جس نے آپ کو اس سے اچھا لाभ ہوا ہو ۔ وہ لوگ جو ایڈن ہا ئوسنگ، الباری گروپ اور دوسرے متاثرین کے لئے پلاٹ واپس کرائے گئے ہیں، انھوں نے اپنی معیشت کو قائم رکھنے کی صلاحیت کا بھی ایک اچھا نمونہ پیش کیا ہے۔ انھوں نے پریشانی سے نکل کر اسے اپنی جہت پر چلتے ہوئے ۔
 
اس سال نیب نے سچ بڑھان لیا ہے، 62 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نیند پہلی بھی نیند تھی جو انہیں اس مقام پر لے کر آئی ہے۔ لاکھوں روپے کی زمین واگزار کرنے کا یہ کام اس کی سست پیداواریں کی وجہ سے Possible Nahi Ho Skta ہے، نیند بھرے کھیل اور جھگڑے کی وجہ سے اس نے اس ریکوری کو ممکن بنایا ہے۔
 
اس سال نی ب کی کارکردگی پر غور کرتے ہوئے سچ میں یہ سب کچھ ہوسکتا تھا نہیں؟ یہ لاکھ پانچون لاکھ ایک سو اٹھائس ہزار ایکڑ سرکاری اور جنگلاتی اراضی واگذار کرنے کی سے بھی زیادہ ہو گا جب کہ نائب کو یہ بھی دھندلائی مہر کی بنا پر لائیس چالیس ارب روپے مل چکے ہیں…
 
مگر یہ کیسے تو ہوا؟ نیب نے ایسا کیا ہے کہ پورے ملک میں 62 کروڑ روپے کی ریکارڈ رقم ہوئی ہے! اس کی سارے کچھ جانتے نہیں، اور اب تو یہ جاننا بھی مشکل ہو گیا ہے کہ نیب کو کیوں چیئرمین رکھا گیا؟ اور اس سے پہلے کیا تھا? وہ لوگ جو کچھ بتاتے ہیں، وہ بھی کافی نہیں۔ مگر یہ یقینی بات ہے کہ نیب کو اچھی طرح سے جانتے ہوئے اس معاملے میں کیا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہوگا۔
 
اس ریکوری نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ معیشت میں اس کا کوئی حد سے زیادہ نہ تو ہو اور نہ ہی کم، 62 کروڑ روپے کی ایک ریکوری صرف اس لئے ممکن ہوسکتی ہے جو لوگ اسے بنانے میں ملوث ہوں گے جیسے ان کی کوششوں کو کافی معیار پر اچھے لگنے کا موقع مل سکا ہو، اور یہ ریکوری نے ایک بات بھی مجھے یाद دلائی ہے کہ کسی کی بھی کارکردگی کو دوسروں کی مدد سے دیکھا جاسکا ہے، سہیل ناصر اور امجد مجید اولکھ ان سب لوگوں کو کھل کر شکر گزاری رہے جنہوں نے نیب کی کارکردگی میں اپنا حصہ ڈالا۔
 
مرہم خاندان سے جارہا ہوں کہ میرے بچوں نے اگلی سال میں کمپیوٹر کوین کی خریداری کی وہ اپنے پہلے کیمپ اور پہلی نائٹ ریمنڈریج پر قیمتی وقت گزارا ہوں... 😊 میرے لئے یہ بات فصیل میں کہتا ہوں کہ جو لوگ اس وقت بھی اپنی معیشت کے بارے میں سوچ رہے ہیں وہ ایسی معیشتی نئیں بنائی ہوگی جس میں نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے ساتھ ساتھ ان کا تعاون ہو

مگر یہ ریکوری بھی لگتا ہے کہ اس پہلے کی معیشت میں کس قدر بھاگ چکی ہو، جیسا کہ میرے دل کی بات ہو لازمی ایک ساتھ نہیں کہیں بھی پہلے اور پھر بعد میں اس پر فخر کی جائے
 
اس سال نیب نے کیا عجائب ہوا؟ چلیس لاکھ ایکڑ سرکاری اور جنگلاتی اراضی واگزار کرائی، اور اس پر بھرپور جائے دیر کوئی انाम نہیں دیا؟ اور ہو سکتا ہے کہ اس پلیٹ کی قیمت واپس دی گئی ہو اور اس پر بھی کسی کا اہداف ہوا، بس ہر سال ایسا ہی کیا جاتا رہتا ہے۔
 
واپس
Top