نئی دہلی میں منعقد ہونے والے عالمی کتاب میلے کی ایک طاقتور اور متجسس پریشانی نے سائنس، ماحولیات یا مختلف سماجی مسائل پر لٹریچر کو نظر انداز کیا۔ اس میں ہندویت کے نظریاتی پروپیگنڈے کے لیے سوچ سمجھ کر تیار کردہ پلیٹ فارم شامل ہے جس نے دوسرے مذہب اور علامتیں واضح طور پر غائب کیے ہیں۔
ادبی میلے کا تھیم "انڈین ملٹری ہسٹری – بہادری اور حکمت @75” مسلح افواج کو عزت دینے کے اپنے ارادے میں قابل ستائش تھا، لیکن ایسی طرح لگتا ہے کہ یہ مخصوص مذہبی اور ثقافتی نقطہ نظر سے ڈیزائن کیا گیا ہے جس میں دوسرے مذاہب کی علامتیں واضح طور پر غائب تھیں۔
ماہر نفسیات کے طور پر، مجھے یہ رجحان تشویشناک لگتا ہے۔ جمہوریت مختلف نظریات کے رگڑ پر پروان چڑھتی ہے جب نیشنل بک ٹرسٹ کے تحت ریاستی سرپرستی میں منعقد ہونے والا کوئی پروگرام ایک مخصوص نظریے کے لیے میگا فون بن جاتا ہے، تو اس سے ثقافتی تکثیریت کو کچلنے کا خطرہ ہوتا ہے جو ایک جمہوری قوم کی بنیاد ہے۔
میلے نے ایک متجسس جغرافیائی سیاسی تضاد پیش کیا۔ قطر مہمان خصوصی تھا اور اسپین فوکس کنٹری تھا۔ مسلم ممالک کے ساتھ "دوستی” کا یہ تخمینہ بیرونی اقتصادی اور سفارتی ضروریات کو پورا کرتا ہے، لیکن مقامی طور پر، بہت سے اسٹالوں پر دستیاب لٹریچر نے "لو جہاد” جیسے تفرقہ انگیز اور اسلامو فوبک سازشی نظریات کو فروغ دیا۔
20 لاکھ سے زائد زائرین اور مفت داخلہ کے ساتھ، میلے کی رسائی ناقابل تردید ہے۔ تاہم، آخری دن کے افراتفری کے مناظر، جہاں کتابوں کو "لوٹ کے” انداز میں کچل دیا جا رہا تھا، میلے کے وقار کو نقصان پہنچانے کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ تھیم نے مندرجہ ذیل لکیری سیریز کو بھی پیش کیا جس میں اس خطے میں انڈین ملازمت کی تاریخ اور دوسری ملکیوں کا تعلق شامل ہے، لیکن یہ بات قابل ذکر ہے کہ ملک کی تاریخ میں بھی ایسے پہلو جیسے کہ 1947 کی آزادی اور برطانوی روایت سے منسلک ہونے والے معاشی اور سماجی تبدیلیاں، کو اس میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔
اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ کیسے ایسا ہو سکے کہ لٹریچر کو صرف ایک نظریے سے جوڑ کر دوسرے نظریات کو نظر انداز کیا جائے، اس میں معاشرتی ترقی کی رہنمائی اور مختلف نظریات کا احترام شامل ہوتا ہے۔
یہ سب کچھ اور بھی غ Barbie کیا جا سکتا ہے، ایسی طرح لگتا ہے جیسے انٹرنیٹ پر ہی نہیں تھا یہ طاقوری مل گیی، ماحولیات اورScience کو دیکھتے ہوئے مجھے لگتا ہے کہ دنیا بہت زیادہ سجے دی گئی ہے۔
انٹرنیٹ پر یہ توجہ دھیان میں نہیں لائی جاتی، ماحولیات اور Science کو کافی سے کچھ بھی نہیں ملا ہوتا اور یہ سب سے زیادہ طاقوری مل گئی ہے۔
اس میں ایسا لگتا ہے جیسے کسی کے بھی خیال کو پکڑ کر نہیں کیا گیا، اس کے بجائے سب کچھ ایسی طرح سے چل رہا ہے، اور اس پر غور کرتے ہوئے مجھے لگتا ہے کہ اس میں زیادہ سے زیادہ توجہ نہیں دی جاسکتی۔
اس منعقدہ ادبی میلے میں ایسے واقعات دیکھتے ہیں جیسے نہیں چاہیے، یہ دیکھنا بہुत تھکاؤناک ہے کہ انہوں نے ہندویت کے نظریاتی پروپیگنڈے کو ایک پلیٹ فارم میں تبدیل کر دیا ہے اور دوسرے مذہب کی علامتیں واضح طور پر غائب ہیں। یہ دیکھنا بھی تھکا دہا دہا کہ مختلف سماجی مسائل پر لٹریچر کو نظر انداز کیا گیا ہے اور صرف ایک طرف کی فोकس رکھتے ہوئے۔
میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ جمہوری قوم میں مختلف نظریات کے رگڑ پر پروان چڑھنا بہترین چیز نہیں ہے، مگر یہ بھی دیکھنا ہمت سے گزرتا ہے کہ اسے کچل دیا جائے۔ وہ لوگ جو "لو جہاد” اور Islamo-fobk سازشی نظریات کو فروغ دینا چاہتے ہیں، انہیں اپنی باتوں کے لیے لینے پر مجبور کرنا پٹھا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ اس عالمی کتاب میلے میں پہلے سے ہی ایک خاص دائرہ اختیار کرنا شروع کر دیا گیا تھا، جس میں صرف ایک اچھا لیکچر اور کچھ بک مینو کی پیشکش کیا جاتا تھا، اس طرح دوسری طرف کو کم سے کم استحضار ملتا تھا۔ اس نئی پلیٹ فارم پر منعقد ہونے والے لیکچرز اور انشورنس لکھنے والوں کے لیے یہ ایک بڑا ماحول بنتا تھا جس میں سائنس، ماحولیات یا مختلف سماجی مسائل پر لٹریچر پیش کی جا سکتی تھی اور اسی طرح کے ماحولوں میں دیگر فیلڈز کی پیش کش بھی ہوتی۔
میں بتاتے ہیں اس کتاب میلے نے دوسرے مذہبوں پر مرواجع کرنے میں سے پھنسنا، یہ ایک کافی خطرناک بات ہے، نہ صرف ان لوگوں کا ساتھ چھوڑتے ہیں جنہوں نے اپنی لائچیں بھرنا تھی، بلکہ یہ ماحولیاتی اور دیگر مسائل پر لٹریچر کو دیکھنے سے پھرنا ایسی بات ہے جس کا جواب نہیں ہوتا۔
یہ بہت گمши ہوا نئی دہلی میں عالمی کتاب میلے کی منظر نشانی . ایسے میزبانوں سے کوئی متصادمہ نظریہ کھیلنا چاہتا ہو تو اس طرح کی پریشانی کھیلنا بہت گم جاتا ہے. لیکچرروں نے مختلف سماجی مسائل پر لٹریچر دکھایا ہو گا اور یہ لاکھوں زائرین کے لیے بے معنا تھا.
یہ ایک بڑی غلطی ہے کہ ادب اور ثقافت کے شعبے میں لٹریچر کو دوسرے مذاہب کی علامتیں واضح طور پر غائب کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس سے نہ صرف ثقافتی تکذیبیت ہوتی ہے بلکہ یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ اس ملک میں کسی بھی قسم کی ذلد یا امتیاز کے خلاف لڑنا، ایسی قوم کو دیکھتے ہوئے مشکل ہوتا ہے جو دنیا کے سب سے بڑے مذہب پرست ملک ہے۔
اس میں یہ بات یقینی طور پر شامل نہیں ہو سکتی کہ یہ لٹریچر ایسی ہوتی ہے جو کسی خاص مذہب کی پروپیگنڈا کو فروغ دے، لیکن اس بات سے کوئی شک نہیں ہوگا کہ یہ پلیٹ فارم بھی ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔
اس ماحولیاتی معاملے میں، میں اس بات سے اتفاق نہیں کر sakta کہ یہ ایک متجسس پریشانی نہیں ہے۔ لٹریچر کو نظر انداز نہیں کرنا اور اس میں مختلف سماجی مسائل پر زور دینی، ایک جمہوری قوم کی بنیاد ہے جو دنیا کے سب سے بڑے ذیلدار ملک ہے۔
اس Geoffery Boycott ki tarha اہمیت کی بات یہ ہے کہ انڈین ملٹری ہسٹری – بہادری اور حکمت @75 کا تھیم مسلح افواج کو عزت دینے کے اپنے ارادے میں قابل ستائش تھا، لیکن اسے ایسی طرح ڈیزائن کیا گیا ہے جس میں دوسرے مذاہب کی علامتیں واضح طور پر غائب تھیں۔
اس عالمی کتاب میلے نے مجھے ایسا لگتا ہے جیسا کہ یہ بہت سا منفرد اور متاثر کن تھا، لیکن اس میں کسی ایسے انداز کی کمی ہوئی جس نے مجھے یقین دिलایا کہ Literature اور Science پر زور دیا گیا تھا...لیکن پھر بھی، وہ اسی دھrone میں چلے گئے جو۔
کوئی بھی ایسا ملتمیل جیسا کہ یہ دنیا اس وقت تھا جب بچوں کو انڈین مسٹی کی تاریخ کے بارے میں سیکھنا پڑتا تھا اور اس پر کسی نوجوان کی نظر سے دیکھا جاتا تھا...عجائب گھر میں ایسے لاکھوں کے ساتھ جو ابھی بھی انڈین مسٹی کی تاریخ کو پڑھتے ہیں، یہ ایک لمحہ تھا جب وہ اپنی والدین اور انہیں دیکھنے کے لئے تھے...اس میں کچھ اچھا ہوا گیا ہوگا؟
اس کا ایک حقیقی مشابہی لگتا ہے، لیکن یہ واقف نہیں ہوتا۔
یہ بہت گیلے ہے کہ دنیا بھر سے لاکھوں افراد نے اس میلے میں شرکت کی اور انھیں پکر کر کے بیٹھنا پڑا ۔ میرے خیال میں ایسا ہونا چاہیے کہ ہر شخص اپنی اپنی بات کریے جیسا کہ وہ چاہتا ہو اور نہ ہی کسی کی رو سے دوسروں پر زور دیا جائے۔ اس میلے میں ایسے افراد بھی تھے جو اپنی دہلتی ہوئی دلیو کے سامنے پہچانے کی کوشش کر رہے تھے۔
یہ منعقد ہونے والے عالمی کتاب میلے کی ایسی اہمیت ہے کہ اس میں مختلف نظریات کو نظر انداز کرنے کا یہ پلیٹ فارم کتنی تباہ کن ہوسکतا ہے؟ سائنس، ماحولیات اور سماجی مسائل پر لکھنے والوں کی واضح نہیں ہوئی تو یہ کتنی گھٹیا ہو گیا ہے۔
میری ناکھوز میں سچائی کے لیے ایک بڑا نقصان ہے کہ مختلف نظریات کو نظر انداز کرنا اور صرف ایک پلیٹ فارم کو ترجیح دی جائے۔ یہ نہ صرف ثقافتی تکثیریت کو کمزور کرتا ہے بلکہ جمہوری قوم کی بنیادوں پر بھی چیلنج کرتا ہے۔
اندرین ملٹری ہسٹری کا تھیم تھا جیسا کہ یہ کہنا جاتا ہے، مگر وہ اور اس کے نتیجے کی ایسی اہمیت ہوسکتی ہے کہ اس میں دوسرے مذہب کی علامتیں شامل نہیں تھیں۔ یہ بہادری اور حکمت کی واضح اہمیت کو ایک مخصوص نقطہ نظر سے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس سے دوسرے مذاہب کی علامتیں غائب ہیں۔
جی ضرور! یہ فاسد سے بھری ہوئی ایک شام، نئی دہلی میں عالمی کتاب میلے نے ایک پریشانی پیش کی ہے جو اس وقت تک پھیل گئی ہوگی جب تک کہ لوگ اسے نظر انداز نہیں کرتے...
یہ دیکھو اور کچھ نہ کچھ بتاؤں... دنیا میں یہی پوسٹ کرنا ہوتا ہے جب کوئی اس بات کو بھول گیا ہوتا ہے کہ لٹریچر کس قدر اہم ہوتی ہے۔ یہ سائنس، ماحولیات یا سماجی مسائل پر مرکوز ہونے کے بجائے، ایک مخصوص نظریے کی پروپیگنڈا بن کر رہا ہے جو دنیا کو ایک طرف کر دیتا ہے۔
میرے لئے یہ بھی ایک اہم بات ہے کہ ملک میں مسلم ممالک کی "دوستی" کی بات کی گئی ہو، لیکن اس میں نئی دہلی سے نکل کر آئے تمام مسائل کو حل کرنے والا کھلدا نہیں ہے۔ یہ صرف ایک اقتصادی اور سفارتی ضرورت کی بات ہو رہی ہے جس میں کسی کی ذمہ داری نہیں ہوتی ہے.
ملے میں پھیلنے والی لوٹ کا منظر، میرے لئے بہت ایسے لوگوں کو یقین دلاتا ہے جسے اس میں شامل کیا گیا ہو۔ یہی نہیں بلکہ یہ سارے ملک کے لیے ایک چیلنج ہے جو اسے دھمی کرنا پڑے گا اور پھر اس کے بعد بھی اسے حل نہیں کیا جا سکے گا۔
Wow - یہ بہت افسوسناک ہے، منعقد ہونے والی کتاب میلے میں ایسی پریشانی کھل پائی جیسا کہ اس نے سائنس یا سماجی مسائل پر توجہ نہ دی اور صرف ایک مخصوص نظریے کو دیکھرایا ۔ یہ بھی متعجب کن ہے کہ ہندویت کے تئوریات کی propaganda میں بھرپور توجہ دی گئی ۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ انڈین ملٹری ہسٹری کا تھیم واضح طور پر منسلک کیا گیا ہے جو صرف نیشنل بک ٹرسٹ کے ذریعے سرپرستی حاصل کرنے کی تاکید سے ملوث ہے۔
ایسے میلوں میں مختلف نظریات کی نظر انداز کرنا تشویشناک لگتا ہے۔ بہادری اور حکمت کا تھیم مسلح افواج کو عزت دینے کا آپسی جذبہ ہو سکتا ہے، لیکن یہ بات یقینی ہے کہ مختلف نظریات کی مہمیتوں میں دوسرے مذہب اور علامتیں شامل نہیں ہو سکیںگیں۔
میں یہ بھی چاہوں گا کہ اس ملک کی ثقافتی تکثیریت کو فروغ دیا جائے، اور دوسرے مذہب اور نظریات کو بھی شائع کرایا جائے۔ اس لیے نہیں کہ کسی ایسے مذاہب کی نظر انداز کی جا سکے جو اس ملک میں موجود ہیں اور اس کے لوگ اسے قبول کرنے لگتے ہیں۔
ایک دوسرے مذاہب اور نظریات کو سچم ہونا چاہئے، نہیں کہ کسی ایسے مذاہب کی نظر انداز کرنا جو دوسروں کو برقرار رکھنے میں لٹرچر بنائی جائے اور انھیں قبول کرنے لگتے ہیں।
یہ وہ دیش ہے جس نے سوشل میڈیا پر اپنی طاقت ظاہر کرنے کی جانہوں سے نہیں کھینچنا پریشان ہوتا دیکھا ہے، یہاں تک کہ ایسے مظاہروں پر بھی زور دیا جاتا ہے جو لاکھوں لوگوں کو متاثر کر سکتے ہیں، لیکن یہ وہ سائنس اور علم کے فیلڈ میں ایک عجیب توجہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جس نے ماحولیات پر زور دیا ہے جو اس وقت بھی ایک متشدد مسئلہ ہے۔
یہ مملکت کے دوسرے جانب سے منعقد ہونے والی یہ کتاب میلے میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ اس کے منظم طریقے اور سائنسی موضوعات پر توجہ دینے کی بجائے ایک مخصوص طاقتور نظریے کو چھوٹا چھٹا کرنا ہوتا ہے۔ نیشنل بک ٹرسٹ کے تحت منعقد ہونے والی یہ ادارہ اپنی سائنسی اور سماجی موضوعات پر توجہ دینے کی بجائے اسے ایسا محسوس کرتی ہے جیسے کہ اس میں صرف ایک مخصوص نظریہ کے لیے لکھنے کے لیے مختص کیا گیا ہوہے۔ یہ بات واضح ہی نہیں تھی کہ اس میں دیگر نظریات کی بھی توجہ دی جائے گی اور ان کے ساتھ موازنہ کیے جائے گا۔
یہ مملکت کے دوسرے جانب سے منعقد ہونے والی یہ کتاب میلے نے ایک متجسس جغرافیائی سیاسی تضاد پیش کیا جس میں قطر اور اسپین کو خاص مقام دیا گیا ہے۔ قطر کا مہمان خصوصی سٹیٹ ڈپٹی کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ اسپین کو فोकس کنٹری کے طور پر انوکھا مقام دیا گیا ہے، لیکن یہ بات واضح نہیں تھی کہ دیگر مسلم ممالک کے ساتھ "دوستی” کے اس تخمینے کو مقامی طور پر ایسا استعمال کیا جائے گا جیسا کہ بیرونی اقتصادی اور سفارتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
میلے نے "لو جہاد” جیسے تفرقہ انگیز اور اسلامو فوبک سازشی نظریات کو فروغ دیا جو نہیں چاہئے کہ ایک جمہوری قوم میں واجبیت ہو۔ اس کی بجائے، یہ لکھنے والوں سے یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ انہوں نے اپنی کتابیں ایسے استعمال کیں جس سے لوگوں کو ایک ایسی پابندی اور دھرنے والی زندگی کی توجہ دلائی جائے جو تمام ایسے افراد کو شامل کرے جو جمہوریت کا حق رکھتے ہیں۔
میلیے نے ایک متحرک اور منفرد ماحول پیش کیا جن میں 20 لاکھ سے زائد زائرین شامل تھے، لیکن یہ بات واضح تھی کہ اس کا مقصد کسی بھی ایسے سٹال پر کتابوں کو "لوٹ کے” انداز میں کچلنا نہیں تھا۔
عزیز نے ایسا دیکھا ہے کہ دنیا بھر سے لاکھوں لوگ انڈین ملٹری ہسٹری پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں اور یہ بھی دکھائی دے رہا ہے کہ پوری دنیا کی مختلف سماجی مسائل پر لٹریچر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے @200
بہت مایوس ہو گیا ہوں @DeadThread. یہ دیکھنا بہت مشکل تھا کہ وہ پلیٹ فارم جو ہندویت کی نظریاتی پروپیگنڈے سے لaden ہے، لیکچرز کو دوسرے مذہب اور علامتیں چھونے پر مجبور کر دے رہا ہے۔ وہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے کہ صرف ایک نظریہ ہی بڑھتا ہے، لیکن یہ طاقت کا مظاہرہ ہی نہیں۔
میں بھی اس سے متعمد طور پر اپنے لئے کوئی لیکچر نہیں چنا چاہتا تھا، تاہم اب یہ انٹرنیٹ پر کبھی نہیں دیکھا گیا۔ اس فائدے سے نا گزرتا۔