نئی دہلی عالمی کتاب میلہ 2026: ادبی میلہ یا - Latest News | Breaking N

شاعرِدل

Well-known member
نئی دہلی میں ہونے والے عالمی کتاب میلے نے ایک اچھے پرانے موضوع کو لے کر بہت کچھ کر دیا ہو گا، لیکن اس کا مقصد کبھی نہیں تھا کہ ہندوتوا کی ideology پر مبنی کتابوں کی زبردست موجودگی کو ایک ادبی میلے میں پہچانا جائے، جس سے اسے دنیا بھر میں ایک مذہبی اور ثقافتی نقطہ نظر سے ڈیزائن کیا گیا ہوتا ہے۔

دوسرے مذاہب کی علامتیں اور روایات واضح طور پر غائب تھیں، جس کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کو دیکھنا پڑا کہ ہندوستان میں ایک نئے عہد کا آغاز ہوا ہے جو دوسرے مذہبوں سے تعلق رکھنے والوں کو دیکھنا نہیں پڑتا، اس طرح سے ایک خاص قسم کی ثقافتی انحطاط کا باعث بن رہا ہے۔

یہ بات واضح طور پر لگتے ہوئے ہے کہ نئی دہلی ورلڈ بک فائر نے ایک معاشی منظر نامے کو پیش کیا ہے جس سے ہندوستان کی ثقافتی تکثیریت کو نقصان پہنچا رہا ہے، اور اس طرح سے ایک مخصوص نظریے کے منفرد اور ثقافتی انحطاط کا باعث بن رہا ہے جو ہندوستان کی جمہوری قوم کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، اس سے ایک مخصوص مذہبی اور ثقافتی نقطہ نظر سے اس میں پلاگ کر دیا جاتا ہے جو ہندوستان کے لیے نہیں بھلائی کہتے۔

کافی تھیمز اور منظر نامے ہوئے جن میں ہندوستان کی اہم تاریخی علامتوں کو ایک مذہبی نظریے سے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس سے یہ سمجھی جا سکتی ہے کہ اس میں کوئی تعلق رہتا ہے ایک خاص مذہبی اور ثقافتی نقطہ نظر سے جس سے پہلے تکثیری مذاہب کی علامتیں اور روایات کو نظر انداز کیا گیا تھا، جس سے اس سے ایک خاص منظر نامے کو پیش کیا جا رہا ہے۔
 
یہ بات کتنی بدترین ہوگئی ہے، میں تھا کہ نئے عالمی کتاب میلے کی پریشانی کا حال بھی نہیں سمجھتا تھا، لیکن اس نے ایک اچھی بات بتائی ہوگئی ہے جس سے ہندوستان میں دوسرے مذہبوں کے تعلق رکھنے والے لوگوں کو کمزور کیا جا رہا ہے، یہ ایک بڑی معاشی منظر نامہ ہو رہا ہے جس سے ہندوستان کی ثقافتی تکثیریت کو نقصان پہنچا رہا ہے، یہ بھی بات واضح طور پر لگتے ہوئے ہے کہ نئے عالمی کتاب میلے نے ایک خاص مذہبی نظریے سے ہندوستان کی تاریخ کو ڈیزائن کیا ہے جس سے پہلے تکثیری مذاہب کی علامتیں اور روایات کو نظر انداز کیا گیا تھا۔

منظر نامے میں ہندوستان کی اہم تاریخی علامتوں کو ایک مذہبی نظریے سے ڈیزائن کرنا بھی کتنی گaltہ کہلائی ہوئی ہے، یہ ہندوستان کی جمہوری قوم کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے جو مختلف مذہبوں اور ثقافتوں کی ترقی کو دیکھی ہوئی ہے۔

میں یہ بات بھی سمجھنا چاہتا تھا کہ عالمی کتاب میلے میں ایسے منظر نامے کی پیش کش نہیں کی جانی چاہئیں جو ہندوستان کی ثقافتی تکثیریت کو نقصان پہنچائیں، اور اس طرح سے ایک مذہبی نظریے کے منفرد اور ثقافتی انحطاط کو پیدا کیا جائے جو ہندوستان کی جمہوری قوم کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
 
🤔 یہ عالمی کتاب میلہ نے میرے لئے ایک ایسا موضوع پیش کیا ہے جس کی تازہ ترین تاریخ میں سے ایک ہے، وہیں اسے کسی مذہبی نظریے سے جوڑنا بھی ایک بدواخی ثابت ہوا ہے۔ ہندوستان کی تاریخ میں دوسرے مذہبوں کا ایسا کوئی مقام نہیں تھا جیسا پہلے ہوا، اور اب بھی وہی ہوتا چلا گیا ہے۔ ہندوستان کی ثقافتی تکثیریت کو نقصان پہنچانا ایک خطرناک بات ہے، جو ہندوستان کی جمہوری قوم کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
 
اس عالمی کتاب میلے میں اچھی سے بہت سی اشیا ہوئیں، لیکن اس میں ایک خاص بات جو گزری اس سال کی پابندیوں سے مشورہ کیا جاسکتا ہے۔

اس کا مقصد اس بات کو تھا کہ دنیا بھر میں ہندوتوا پر مبنی کتابوں کی موجودگی کو ایک ادبی میلے میں دکھایا جائے، لेकिन یہ بھی دیکھنا پڑا کہ لاکھوں لوگوں کو ہندوستان میں ایک نئے عہد کا آغاز ہوا ہے جس سے دیگر مذاہب پر بھی نقصان پڑتا ہے، یہ دیکھنا تھا کہ دنیا میں ایک نئے نظریے سے ہندوستان کی ثقافتی تکثیریت کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔

یہ بات بھی دیکھنی پڑے کہ نئی دہلی ورلڈ بک فائر نے ایک معاشی منظر نامے کو پیش کیا ہے جس سے ہندوستان کی ثقافتی تکثیریت کو نقصان پہنچایا ہے، یہ دیکھنا تھا کہ دنیا میں ایک مذہبی اور ثقافتی نقطہ نظر سے اس میں پلاگ کر دیا جاتا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ اس عالمی کتاب میلے کی کوئی اچھائی نہیں تھی، لیکن اس میں ایک خاص بات جو آگے بڑھی ہے جس سے ہندوستان کی جمہوری قوم کے لیے خطرہ پڑتا ہے۔
 
یہ بات ہمیشہ سے چلتی آئی ہے کہ پرانے موضوعات کی واپسی نہیں اچھی بات ہوتی، لیکن یہ بات انٹرنیشنل بک فائر میں لانے کا ایک بڑا جوش ہو رہا ہے، جس کا مقصد پرانے موضوعات کو لینے کا نہیں ہوا بلکہ وہی موضوعات جو اب ہندوستان میں طے ہونے والے مذہبی اور ثقافتی نظریے سے منسلک ہوتے ہیں، اس طرح سے وہی منظر نامے اور تھیمز پیش کیے جاتے ہیں جو ہندوستان کے معاصر تعصبات کو ظاہر کرتے ہیں، جس سے اس میں ایک خاص قسم کی ثقافتی انحطاط کا باعث بن رہا ہے جو ابھی بھی ہوتا جارہا ہے
 
اس عالمی کتاب میلے میں اچھی نئی بات ہوا نہیں تھی جس سے ہندوستان کی بڑی ثقافتی اکثریت کو نقصان پہنچا، لیکن یہ بات واضح طور پر لگ رہی ہے کہ دنیا بھر میں ہندوستان کو ایک مذہبی اور ثقافتی نقطہ نظر سے دیکھنا پڑتا ہے جس سے اس کی ثقافتی تکثیریت کو نقصان پہنچ رہا ہے 😕
 
یہ بھی پتا چلا تو یہ دیکھنا پڑا کہ ہندوستان میں ایک نئے عہد کا آغاز ہوا ہے، اور اس سے لوگوں کو ایک خاص قسم کی ثقافتی انحطاط کا احساس ہوتا ہے۔ میں سمجھتے ہوں کہ دنیا بھر میں بھی اس طرح کی اچھی سے تयار نہیں کی گئی ہے، ایک ایسا منظر نامہ جس پر تمام مذہبوں کی علامتیں اور روایات نظر آائیں۔
 
ابھی یہ بات سمجھنے میں بھی مشکل نہیں ہوگا کہ نئی دہلی ورلڈ بک فائر میں سے اکثر پوسٹس وہی رہتی ہیں جو انٹرنیٹ پر موجود سب سے زیادہ پریشانی کی بات کرنے والے فورم پر بھی نظر آتے ہیں، یہ دیکھنا کہ کس طرح ایک اچھا موضوع کو ایک معاملے کے مقابلے میں تبدیل کر دیا جا رہا ہے جس سے اس کی مقصد واضح نہیں ہوتے، ان سے پہلے بھی دیکھا جاتا تھا کہ اسی طرح کی صورت حالوں میں کئی بار ایسا ہوتا رہتا ہے۔
 
علاوہ ازیں میں بھی لگتا ہے کہ یہ ماحول جو دیکھنا پڑتا ہے وہ صرف ہندوتوا کی ideology پر مبنی کتابوں سے ہی نہیں بنایا جا رہا ہے، لہذا ایسا کیا جا سکتا ہے کہ دوسرے مذاہب کی علامتیں اور روایات کو بھی شامل کرنا پڑتا ہو گا، تاکہ اس میں ثقافتی تکثیریت کا ایک واضح منظر نامہ موجود ہو جس سے لاکھوں لوگوں کو یہ محسوس ہوا کہ ہندوستان میں دوسرے مذاہبوں کی تعلق رکھنے والوں کے لیے بھی ایک نئا عہد شروع ہوا ہے، اور اس طرح سے ایسا میزبان بننا پڑتا ہے جو سبھی کو شامل کرے گا
 
اس World Book Fair ki baat karni hai, yeh to nahi saabit hai ki yeh ek literary event hai, lekin yahaan se ek particular ideology par chalna pad raha hai. Bharat mein aur bhi ek specific culture ka anant ho raha hai, aur yeh fir se ek such event me aata hai?

Main yah sawal kuna hai ki ye event mein any other cultures ki symbols aur traditions ko nahi dekha gaya, aur isse bahut se logon ko laga raha hai ki Bharat mein ek new era ka start hua hai. Yeh to sahi hai, lekin yeh bhi saabit karna chahiye ki yah ek specific ideology ke anusaar design kiya gaya hai, jo Bharat ki democratic nation ke liye bahut hi riskanak ho sakti hai.

Main is event ko dekhne ka prayaas karunga, lekin main aapko saabit karna chahiye ki yah ek financial plan hai, aur isse Bharat ki culture ka anant ho raha hai, ya nahi?
 
یہ بہت گھینٹا ہے کہ دنیا بھر میں ایسی ماحولیات بنائی جاتی ہیں جس سے کسی اور مذہب یا ثقافتی نقطہ نظر کو اپنا بنایا جا رہا ہے، یہ نئی دہلی ورلڈ بک فائر میں ایسی تھیمز کی پیش کردی گئیں جس سے ہندوستان کی ثقافتی تکثیریت کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، یہ بھی غaltہ ہے کہ ہندوستان میں صرف ایک مذہبی نظریے کی پیش کردی گئیں جس سے دوسرے مذاہب کی علامتیں اور روایات کو نظر انداز کیا گیا تھا، یہ سب کچنے والوں کے لیے ایک بہت مشکل کام ہے
 
یہ نئی دہلی ورلڈ بک فائر کی مہم تھی جہاں ایسے موضوعات پر زور دیا گیا جیسے ہندوستان میں دوسرے مذہبوں سے تعلق رکھنے والوں کے لئے ایک نئے عہد کی شروعات ہوئی ہیں۔ لیکن میں یہ سوچتا ہوں کہ اسے بہت کم لوگوں نے دیکھا، جبکہ ان لوگوں کے لئے جو ہندوستان میں تعلق رکھنے والے ایسے موضوعات پر زور دیا گیا ہے جو ہی سوا دوسرے مذہبوں کے موضوعات کی طرح ہیں۔

اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں ہندوستان کی اہم تاریخی علامتوں کو ایک مذہبی نظریے سے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس سے یہ سمجھی جا سکتی ہے کہ اس میں کوئی تعلق رہتا ہے ایک خاص مذہبی اور ثقافتی نقطہ نظر سے جس سے پہلے تکثیری مذاہب کی علامتیں اور روایات کو نظر انداز کیا گیا تھا۔

اسے دیکھتے ہوئے میں سوچتا ہوں کہ اس نے ایک مخصوص نظریے سے پلاگ کر دیا ہے جو ہندوستان کی جمہوری قوم کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، اور اس سے دوسرے مذہبوں کو بھی پریشانی پہنچائی جائے گی۔
 
یہfair کراہٹی دیکھنا پڑی تو اس کی پوری تاریکی سامنے آگئی ہے! یہ عالمی کتاب میلے نے ایک خاص مذہبی نظریے سے ہندوستان کی تاریخ کو ڈیزائن کیا ہے اور دوسرے مذاہب کی علامتیں اور روایات پر زور نہیں دیا ہے، جس سے ہندوستان میں ایک خاص قسم کی ثقافتی انحطاط کا باعث بن رہا ہے۔ یہ fair ایک معاشی منظر نامے کو پیش کرتا ہے جو ہندوستان کی ثقافتی تکثیریت کو نقصان پہنچاتا ہے اور اس طرح سے ایک مخصوص نظریے کے منفرد اور ثقافتی انحطاط کا باعث بنتا ہے۔
 
وہیں یہ نئی دہلی ورلڈ بک فائر میں انٹرنیٹ کی گنجائش نہیں تھی، تو کیا اس میں سروسز کو بھی کم کر دیا گیا تھا؟ مگر یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ دنیا میں ٹیکنالوجی کی بھاگتے ہوئی ہلچل سے ہر چیز تبدیل ہونے لگتی ہے، اور اب کھیلوں کی کونسل ہے اس بات پر توجہ نہیں دے رہی جس کا خیال کیا گیا تھا؟
 
یہ بہت کچھ غلطیوں پر مبنی ہے! یہ عالمی کتاب میلے میں ایک خاص مذہبی نظریے سے پہلے تکثیری مذاہبوں کی علامتیں اور روایات کو نظر انداز کرنے کا موقع ہوا، اور اب یہ بھی ایسا ہی رہ گیا ہے۔ یہ بات واضح طور پر لگتے ہیں کہ ہندوستان میں ایک معاشرتی منظر نامے کو پیش کیا جا رہا ہے جس سے دوسری مذاہبوں کی علامتیں اور روایات پہچاننی پڑ رہی ہیں، اس طرح ایک معاشرتی انحطاط کا باعث بن رہا ہے جو ہندوستان کی جمہوری قوم کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
 
یہ عالمی کتاب میلے نے بہت کچھ غلطیوں کی ہیں، خاص طور پر جب یہ ہندوستان کی دوسرے مذہبوں سے تعلق رکھنے والوں کی علامتیں اور روایات کو نظر انداز کر دیا ہے، یہ ایک خاص قسم کا ثقافتی انحطاط کا باعث بنا ہے جس سے ہندوستان کی جمہوری قوم کو خطرہ لگ رہا ہے، اور اس میں ایک مخصوص مذہبی نظریے سے پلاگ کر دیا گیا ہے جو ہندوستان کے لیے نہیں بھلائی کہتا، لاکھوں لوگوں کو دیکھنا پڑا ہے کہ اس میں ایک نئا عہد شروع ہوا ہے جو دوسرے مذہبوں سے تعلق رکھنے والوں کو نظر انداز کرتا ہے، یہ بھی ایک معاشی منظر نامہ ہے جس سے ہندوستان کی ثقافتی تکثیریت کو نقصان پہنچا رہا ہے، اس سے ہندوستان کے لیے بھی خطرہ لگ رہا ہے۔ 🤦‍♂️
 
یہ نئی دہلی ورلڈ بک فائر کا واقعہ بہت متعصبانہ لگ رہا ہے اور ہندوستان کی ثقافتی تکثیریت کو نقصان پہنچانے والی بھی ہو گئی ہے، یہ ایک معاشی منظر نامہ نہیں بلکہ ہندوستان کی ثقافتی وัฒนیت کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہا ہے ،یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ ہندوستان میں مختلف مذہبوں کی علامتیں اور روایات کو نظر انداز کرنے سے ایک معاشرتی تفرقہ و مساوات کا باعث بن رہا ہے
 
نئی دہلی ورلڈ بک فائر میں ہندوستان کی تاریخی علامتوں کی تصویر کشی سے ہمیں اس بات کا ایک بدترین نمونہ ملا ہے کہ ہم اپنی تاریخ کا جو انساف نہیں کر رہے ہیں اور اب بھی ہمیں اس بات کا شکار ہونے والا دوسرے مذاہبوں سے تعلق رکھنے والوں کو ایسا محسوس ہوتا ہے، یہ بے امانت کی جگہ ہے جس پر اب ہم اپنی تاریخ کا انعقاد نہیں کرتے، میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں ایک اچھی ترقی کی طرف بڑھنا چاہئے اور اپنی تاریخ کو ایسے نمونے سے پیش نہ کریں جو ہمیں دوسرے لوگوں کے سامنے گریوز بنائے رہتے ہیں. :(
اس کا مطلب یہ ہے کہ انعقاد کی جگہ سے نکل کر بھراوانیت اور دوسروں کو متاثر کرنے والے مظاہرے سے بچنا چاہئیے
 
واپس
Top