انٹرنیٹ پر نیند سے متعلق بے شمار مشوروں کی دستیابی کے باوجود، دنیا میں بالغ افراد ون ٹو ون سلیپ کوچز کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ معلومات کی کمی نہیں بلکہ حد سے زیادہ اور متضاد معلومات ہے، جو کئی لوگوں کو مزید الجھن میں مبتلا کر دیتی ہے۔
اس وقت دنیا بھر میں اس کی تعداد میں بڑھ رہی ہے جس نے غلط معلومات کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے، جیسے یہ کہ لازمی 8 گھنٹے کی نیند درکار ہے یا جلدی سونا فائدہ دے گا۔
سلیپ کوچ انفرادی عادات، ذہنی دباؤ اور روزمرہ معمولات کو سمجھ کر رہنمائی فراہم کرتا ہے، لیکن اب اس سے نومولود بچوں تک سीमٹ کر دیا جا رہا ہے اور اس کے علاوہ گہری توجہ و مکمل رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے، خاص طور پر جب ایسے افراد آتے ہیں جن کو پہلے نیند کا مسئلہ نہیں تھا اور اب بھی اسے حل نہیں کر سکتے۔
برطانیہ میں ہفتہ وار اوسطاً صرف 3 دن معیاری نیند حاصل ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں ذہنی صحت کے مسائل زیادہ بھرپور رہتے ہیں اور 14 فیصد افراد کو نیند کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے وہ کامیابی سے کام کر نہیں کر سکتیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر آن لائن مشورے عموماً عمومی نوعیت کے ہوتے ہیں، لیکن غلط معلومات اکثر مسئلے کو بڑھا دیتی ہیں اور وہ لوگ ایسے سلیپ کوچنگ کا استعمال کر رہے ہیں جو ان کی خصوصیتوں پر مبنی ہوتے ہیں، جیسے اپنے روزمرہ معمولات کو سمجھ کر رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
ایک شخص نے بتایا کہ وہ انٹرنیٹ پر مشوروں کی تلاش میں تھورسٹن جیسے سلیپ کوچز کا استعمال کر چکے تھے، لیکن وہ ایسی نیند حاصل کرنے کو لگتے تھے جو ان کی ضرورت کے مطابق تھی۔
تھورسٹن کے مطابق وہ ساتھیوں میں سے ایک تھا جس نے پہلی بار بالغ افراد کے لیے سلیپ کوچنگ کے بارے میں سمجھایا، اور ان کی اس گاہی سے پچھلے دو برسوں میں تقریباً تمام ساتھی نیند کا مسئلہ حل کر چکے ہیں، جن میں سے اکثر کو نیند کی کمی اور ذہنی دباؤ کا سامنا رہتا تھا۔
وہ انفرادی طور پر ایک سیشن میں اسٹرٹ جوئے چکے ہیں جس سے وہ بہت جلدی بستر پر اٹھتے ہیں، لیکن وہ نیند کی کمی کا سامنا کرنے کے بعد یہ سمجھ گئے کہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق سونے کا وقت بدلا کر فائدہ اٹھاتے ہیں، جس سے ان کا مسئلہ خود بخود حل ہو گیا۔
اس وقت دنیا بھر میں اس کی تعداد میں بڑھ رہی ہے جس نے غلط معلومات کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے، جیسے یہ کہ لازمی 8 گھنٹے کی نیند درکار ہے یا جلدی سونا فائدہ دے گا۔
سلیپ کوچ انفرادی عادات، ذہنی دباؤ اور روزمرہ معمولات کو سمجھ کر رہنمائی فراہم کرتا ہے، لیکن اب اس سے نومولود بچوں تک سीमٹ کر دیا جا رہا ہے اور اس کے علاوہ گہری توجہ و مکمل رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے، خاص طور پر جب ایسے افراد آتے ہیں جن کو پہلے نیند کا مسئلہ نہیں تھا اور اب بھی اسے حل نہیں کر سکتے۔
برطانیہ میں ہفتہ وار اوسطاً صرف 3 دن معیاری نیند حاصل ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں ذہنی صحت کے مسائل زیادہ بھرپور رہتے ہیں اور 14 فیصد افراد کو نیند کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے وہ کامیابی سے کام کر نہیں کر سکتیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر آن لائن مشورے عموماً عمومی نوعیت کے ہوتے ہیں، لیکن غلط معلومات اکثر مسئلے کو بڑھا دیتی ہیں اور وہ لوگ ایسے سلیپ کوچنگ کا استعمال کر رہے ہیں جو ان کی خصوصیتوں پر مبنی ہوتے ہیں، جیسے اپنے روزمرہ معمولات کو سمجھ کر رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
ایک شخص نے بتایا کہ وہ انٹرنیٹ پر مشوروں کی تلاش میں تھورسٹن جیسے سلیپ کوچز کا استعمال کر چکے تھے، لیکن وہ ایسی نیند حاصل کرنے کو لگتے تھے جو ان کی ضرورت کے مطابق تھی۔
تھورسٹن کے مطابق وہ ساتھیوں میں سے ایک تھا جس نے پہلی بار بالغ افراد کے لیے سلیپ کوچنگ کے بارے میں سمجھایا، اور ان کی اس گاہی سے پچھلے دو برسوں میں تقریباً تمام ساتھی نیند کا مسئلہ حل کر چکے ہیں، جن میں سے اکثر کو نیند کی کمی اور ذہنی دباؤ کا سامنا رہتا تھا۔
وہ انفرادی طور پر ایک سیشن میں اسٹرٹ جوئے چکے ہیں جس سے وہ بہت جلدی بستر پر اٹھتے ہیں، لیکن وہ نیند کی کمی کا سامنا کرنے کے بعد یہ سمجھ گئے کہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق سونے کا وقت بدلا کر فائدہ اٹھاتے ہیں، جس سے ان کا مسئلہ خود بخود حل ہو گیا۔