چین میں ایک شدت 5.2 ریکارڈ کی گئی، جس کی وجہ سے لوگ گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے ہیں۔
عوامی طور پر 24 نیوز کے مطابق، صوبے گانسو میں زلزلے کی شدت 5.2 ریکارڈ کر گئی ہے جس کی وجہ سے لوگ اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ حالانکہ اب تک کوئی جانی نقصان یا تباہی کی کोई خبر نہیں آئی ہے، لیکن لوگوں میں خوف وہراس کی لہر دوڑ گئی ہے اور انھوں نے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل کر سڑکوں پر چلنا شروع کر دیا ہے۔
محکمہ برائے خاندانی اور شہری ایمنسیٹی کے مطابق، لوگ غلط گمراہی یا جھوٹے اعلان کی وجہ سے یہ زلزلے کے بعد ان گڑھوں میں نکل آئے ہیں جو اس وقت تک کوئی تباہی کا شکار نہیں ہوئی ہے۔ یہ بات بھی صاف ہے کہ لوگ اپنی زندگی کو خطرے میں لے کر سڑکوں پر چل رہے ہیں، جس کی وجہ سے انھیں جانتے پھٹنے اور زخمی ہونے کا بھی خوف ہے۔
اس صورتحال کو دور کرنے کے لئے مقامی حکام اس وقت تک فوری کوشش رہے ہیں جب تک کی معلومات آئی۔
چین میں یہ شدت 5.2 ریکارڈ کرنا تو بھی دیکھا ہو گا کہ لوگ ہر وقت ایسے حالات میں تھک جاتے ہیں جب اس کی وجہ سے انھیں خطرے میں لایا جا رہا ہو۔ ایسے मینٹل ٹرائل کے نتیجے میں لوگ غلط گمراہی یا جھوٹے اعلان کی وجہ سے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آتے ہیں اور یہاں تک کہ سڑکوں پر بھی چلنا شروع کر دیا جاتا ہے۔
اس صورتحال کو دور کرنے کے لئے حتمی طور پر ان لوگوں کو شامिल کیا جانا چاہیے جو یہ دیکھنا پسند کر رہے ہیں اور اس صورتحال کو آگے بڑھانے سے روکنا ہوتا ہے کہ لوگ جانتے پھٹنے اور زخمی ہونے کیوجہ سے ایسا نہیں کرسکتے۔
زلزلے کی شدت 5.2 ریکارڈ ہونے پر لوگ گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے ہیں، یہ تو پچیس سالوں کا عذاب ہے جب لوگ ایک ہلچل میں اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
مگر یہ بھی حقیقہ ہے کہ لوگ یہاں تک نہیں آئے تھے جن کے گھر کوئی تباہی ہوئی ہو، اور وہ لوگ جس طرح چل رہے ہیں ان میں بھی خطرہ ہے، لہٰذا یہاں تک کہ مہنتوں میں لوگ اپنی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔
چین میں زلزلے کا ایسا شدید زور کیا ہے جو لوگوں کو گھروں اور دفاتر سے باہر نکل کر سڑکوں پر چلنا پڑ رہا ہے، یہ تو بہت scary hai । لگتا ہە کہ لوگ غلط گمراہی یا جھوٹے اعلان کی وجہ سے یہ ٹرولنگ کر رہے ہیں، انھیں بہت زیادہ خوف وہراس ہورہا ہے اور وہ اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
عجीब اور کثیف بات یہ ہے کہ لوگ ایسے شدت کی زلزلے کے بعد بھی اپنی زندگی کو خطرے میں لے کر سڑکوں پر چل رہے ہیں۔ یہ خوف وہراس اور ناکام hopes کا ایک نئا پہلو ہو گیا ہے۔ لیکن یہ بات بھی صاف ہے کہ مقامی حکام اس صورتحال کو دور کرنے کی جانب سے کام کر رہے ہیں اور جانتے پھٹنے یا زخمی ہونے سے بچانے کے لئے فوری کوشش کر رہے ہیں۔ اس نئے پہلو کو کبھی کبھار خطرے میں ڈالنا بھی ضرور پڑ سکتا ہے لیکن یہ بات یقینی ہے کہ لوگوں کی زندگی اور صحت کو Priority دی جا رہی ہے
یہ شدید زلزلے کا دوسرا دن بھی پورا ہو گیا ہے اور واضح طور پر لوگ اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں یہ بھی بات سچ کی ہے کہ ان گڑھوں میں کچھ تباہی ہوئی ہوسکتی ہے اور لوگ اس کی وجہ سے نکل آئے ہیں مگر یہ سب کچھ تو جاننا پڑے گا کہ کیا تباہی واقع ہوئی ہے یا نہیں
یہ سچ ہی دکھائی دیتا ہے کہ لوگ پانی میں بھاگتے جب انھیں واضح نہیں ہوتا کہ یہ ایسا کیا ہو رہا ہے؟ اب زلزلے سے پہلے بھی لوگ تینپنڈے ہو جاتے ہیں اور اب اس کی وجہ سے پہلی ہی جگہ سے نکل آتے ہیں؟ یہ سمجھنا چاہئے کہ نیند سے بے ریز ہونے پر اس طرح کی گہری تلافی ہوتی ہے۔
یہ زلزلے کی صورتحال مینے بھی سنی تھی، اور یہ بات تو واضع ہے کہ لوگ کوئی دوسرے لیے ان گڑھوں میں نکل آتے ہیں، اس کی وجہ سے یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ لوگ اپنی زندگی کو خطرے میں لینے والے ہیں اور وہ نہیں پتہ کرتے کہ یہ گھروں سے باہر کی جانے کا کیا نقصان ہوگا۔ مینے سونا دیکھا تھا کہ لوگ ایسے ہی نکل آتے ہیں جیسے وہ اس گھروں میں اپنے آپ کو خطرے میں لینے والے ہوں۔ یہ بات بھی تو صاف ہے کہ لوگ خود کو ان گڑھوں سے باہر نکل کر سڑکوں پر چل رہے ہیں، اور یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ لوگ اپنی زندگی کو خطرے میں لینے والے ہیں۔
یہاں سے 5.2 شدت کا زلزلہ ایسا لگ رہا ہے جو لوگوں کو اس سے قبل ہوا نہیں تھا۔ لوگ اپنی زندگی کو خطرے میں لے کر سڑکوں پر چلنا شروع کر دیا ہے اور یہ سب جس فہرست میں شامل ہونے کے بعد نکل آئے تھے وہی پھیل گئی ہے۔
ناقص معلومات اور غلط گمراہی کی وجہ سے لوگ اس صورتحال میں آئے ہیں جو کہ اس وقت تک کوئی تباہی نہیں ہوئی ہے۔ ایک جانب سے یہ بھی بات کی جاتی ہے کہ لوگ اپنی زندگی کو خطرے میں لے کر چل رہے ہیں جو سچ بھی ہے لیکن اس صورتحال کو حل کرنے کے لئے مقامی حکام کو ناڈر گزرنا پڑ رہا ہے اور وہ اس صورتحال کو دور کرنے کے لئے بھی سچمگزیر کوشش کی جا رہی ہے
ہمیشہ سے ہوں گے یہاں کوئی بھی طوفان، زلزلے یا بھی فریبی کو دیکھنا پڑے تو اسے اچھا نہ ملے… کیا یہ ہمارے لیے ایک نئی چیلنج ہو گا؟ چینیوں کی جانب سے بھی ہمیں پوری دیکھنا پڑے کہ ابھی تو وہی بھی اچھے میکانزمس سے اپنے لوگوں کو پہچانتے رہے ہیں… یوں یہ بھی جیسا ہی کہنا پڑے گا کہ ایک شخص نے اپنی زندگی کو خطرے میں لے کر سڑکوں پر چلنا شروع کر دیا ہے، تو ابھی تک کوئی جانی نقصان یا تباہی کی خبر نہیں آئی…
یہ تو ڈرامہ ہے!!! 5.2 شدت کا زلزلہ چن میں آیا اور لوگ ایسے سڑکوں پر نکل آئے ہیں جہاں وہ نہیں بنے ہیں!!! وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ان گھروں میں کوئی تباہی نہیں ہوئی ہے، تو وہ تو پھینک رہے ہیں!!! لوگوں کی زندگی کو خطرے میں لے کر سڑکوں پر چلنا بھی ایک دیکھ بھال کی کام نہیں ہے!!!
یہ ایک بڑا خطرہ ہے جس پر لوگ نکل آ رہے ہیں، یہ کہنے میں اچھا ہو گا کہ وہ اس وقت سے لپکتے پھریں تھے جب زلزلے کی آواezان سنائی دئیں؟ نہ ہونے پر انھیں اب یہ خوف وہراس کا شکار ہوئی ہے، اس کے لئے مقامی حکام کو اپنی سروسز سے ناکام رہنے کی بات ہی نہیں ہونی چھوڑی، اس صورتحال کو حل کرنا پوری اور جلد تازگی میں ہو گا
یہاں سے بھاگنا اور سڑکوں پر چلنا تو کیا فائدہ ہوگا؟ پہلا زلزلہ بھی ٹھیک نہیں ہوا، ان گڑھوں کی صحت بھی دیکھی نہیں جائے گی تو وہاں سے کیا اچانک چلنا؟ یہ سارے لوگ ایک ساتھ نکل آئے ہیں، یہاں تک کہ ان کی زندگی کو خطرے میں ڈال کر بھی کیا چلنا ہوگا؟ پہلو ہی سے پھیل کر نکلنا اور جس کچھ نہیں کہے تو وہاں سے چلا جانا، یہ سب تو ایک بدقسمتی ہے
اور یہ بات بھی ہے کہ لوگ اپنی زندگی کو خطرے میں لے کر سڑکوں پر چل رہے ہیں، جس کی وجہ سے انھیں جانتے پھٹنے اور زخمی ہونے کا بھی خوف ہے، یہ تو ایک حقیقی صورتحال ہے۔ میرے خیال میں یہ لوگوں کی ہمت کی بات نہیں بلکہ خوف کا اظہار کر رہے ہیں، وہ لوگ جو اس صورتحال کو دور کرنے کے لئے کوشش کر رہے ہیں انھیں اپنا شکریہ دیتا ہوں۔
یہ تو حالات سے خوف زور دیتے ہیں... لوگ اچانک گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آتے ہیں جیسے کہ وہ اپنی زندگی کو خطرے میں لے رہے ہوں... یہ بھی دیکھنا میرا خوفناک ہے کہ لوگ جانتے پھٹنے اور زخمی ہونے کی وجہ سے سڑکوں پر چل رہے ہیں... کم از کم ان کو اس صورتحال کا احترام کرنا چاہئے...
یہ تو بھٹا اور ہر کوئی چین میں زلزلے ہونے پر تیز آگ لگا دیتا ہے! مٹھمبر کے بعد جب تک کی خبر ہوتی ہے تو لوگوں نے گھروں اور دفاتر سے باہر آ کر سڑکوں پر چلنا شروع کر دیا، پھر تو خوف وہراس کی لہر دوڑ گیا! ہمیں یہ نہیں پتہ کیا کہ لوگ کیسے کیا سोच رہے تھے، اور اس لیے یہ بھی نہیں پاتا کہ وہ لوگ کس کی بات سننے کو لے گئے تھے؟ ایسا ہوتا ہے، جب تک ہمیں ایک بار بھی یہ نہیں سنا ہوتا کہ جو چل رہے ہیں وہ لوگ کیسے پڑتال دیتے ہیں!
یہ بات پتہ چل گئی ہے کہ لوگ زلزلے سے پہلے تو بھی ٹول کو انٹرنیٹ پر جالے رکھ دیتے ہیں اور فیکس بک کو اپ ڈیٹ رکھتے ہیں، ایسا کہ وہ پھر اگر کچھ گمراہی ہو تو ان کی جانیات آج مل جائیں۔ ایسا ہی ہوا ہے کہ لوگ اپنے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل کر سڑکوں پر چلنا شروع کر دیا ہے، یہ تو انھیں خطرہ میں ڈال رہا ہے۔ اس صورتحال کو حل کرانے کے لئے مقامی حکام کو تیز رفتار کوشش کرنا پڑے گی، یہ سافٹی کی نہیں بلکہ سافٹی سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا۔