نہ ہینگ لگے نہ پھٹکری | Express News

نہاری دوست

Well-known member
کوئی بھی پودا جب ایک تناور درخت بننے کے لیے اپنی تین ہلچل لگاتی ہے، اس کے دو ٹوٹے ہوئے ناکوں میں آتھ چوکڑی پھیلی ہوتی ہے، وہ ایک ہلچل سے دوسری ہلچل لگاتی ہے جس کی وجہ سے اس کا ٹوٹا ہوا درخت بھی ٹوٹتا ہوا آتا ہے، اور ایک بار جب وہ اپنی پوری ہلچل سے ہلچل لگاتی ہے تو اس کا پودا ٹوٹ کر گر جاتا ہے جس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی پوری طاقت سے نہیں لگایا تھا اور اس نے اپنے خواہ شق کو بھی نہیں سمجھا تھا، وہ جو تناور بننے کے لیے اپنی تمام طاقت سے لگا رہا تھا، اسی طرح ہمارے ملک میں بھی ایسا ہی ہوتا چلا آتا ہے۔

پاکستان کی جمہوریت کے بارے میں یہ تناور درخت ایک طاقتور پودا ہونے پر اپنی تمام طاقت سے لگاتا رہتا ہے اور ہمیشہ کسی نہ کسی کھلندڑے بالک یاPolitical پودوں کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے، وہ تناور ہونے پر خود کو اپنی طاقت سے محفوظ سمجھتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ میرا ایسا ہے میرا ہی اور اسے کسی اور کی مرضی کو نہیں سمجھنا چاہیے۔

لہٰذا جب وہ اپنی پوری طاقت سے لگاتے رہتے ہیں تو دوسرے درختوں کو کمزور کرتے رہتے ہیں اور یہ کہتا ہے کہ وہ ایک طاقتور درخت ہے، لیکن جب انھوں نے اپنی پوری طاقت سے لگائی تو ایسا نہیں ہوا، اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ خود کو ٹوٹے ہوئے درخت کی طرح ہی دیکھتے ہیں اور اس کی مرضی کو سمجھتے نہیں، انھوں نے اپنی طاقت کو ایسا سمجھایا تھا کہ اس کی پوری طاقت سے دوسرے درخت کمزور ہوجائیں اور وہی سب سے طاقتور رہے اور یہ واضح طور پر انھیں یہ سمجھنا نہیں آئے کہ اپنی طاقت کی بھر پور کوشش کرنے کے بعد انھیں خود بھی ٹوٹنا پڑا اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی طاقت کو سمجھ نہیں سکا تھا، وہ جو تناور بننے کے لیے اپنی تمام طاقت سے لگاتے رہتے ہیں اسی طرح ہمارے ملک میں بھی ایسا ہی ہوتا چلا آتا ہے۔
 
یہ تناور درخت پاکستان کی جمہوریت کے بارے میں بہت سچ ہے، لیکن یہ بات بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی طاقت کو سمجھ نہیں سکتا، جیسا کہ پودے کی بات ہوئی ہے اور اس نے اپنے ٹوٹے ہوئے درخت کو دیکھتے رہتے ہیں، ہم بھی ایسا ہی ہوتے ہیں، ہمارے ملک میڹوں بھی ایسا ہی ہوتا چلا آتا ہے جب ہم اپنی طاقت سے لگاتے رہتے ہیں تو دوسرے لوگوں کو کمزور کرتی رہتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ خود کو اپنی طاقت کے بارے میں سمجھ نہیں سکتا، وہ ایسا نہیں سمجھتا کہ اپنے خواہ شق کی بھر پور کوشش کرنا ہوتا ہے اور خود کو ٹوٹنے پڑنے کے لیے تیار ہونا چاہیے، وہ ایسا سمجھتے ہوئے ہمارے ملک کی بھرپور کوشش کی نہیں کرتے اور دوسرے لوگ کمزور کرتی رہتے ہیں 🤦‍♂️
 
یہ بات حقیقت کی ہے کہ ہم اسی طرح تناور درخت بننے کی کوشش کر رہے ہیں جیسا کہ پودا نے بیان کیا ہے، لیکن سچائی یہ ہے کہ ہم اپنی طاقت کو سمجھنا چاہتے ہیں اور دوسرے لوگوں پر بھی اسے لگاتے رہتے ہیں، لیکن یہ بات سچائی کی ہے کہ ہم اپنی طاقت کو ایسا سمجھنے میں ناکام ہوتے رہتے ہیں جو جسمانی طور پر ہماری مدد نہیں دیتا، یہ پودا بھی اس بات کو سمجھتا ہے جیسا کہ وہ اپنی طاقت کی بجائے اپنے خواہ شق کی جانب لگاتا رہتا ہے، اسی طرح ہم بھی اپنے خواہ شق کی طرف لگاتے ہیں نہ کہ اپنی طاقت کی طرف، لیکن اس بات کو یقینی طور پر سمجھنا چاہیے کہ ہم اپنی خود کوشش سے ہی ایسا نہیں کرسکتے بلکہ دوسروں کی مدد سے بھی ایسا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، یہ ہمارے لیے ایک اہم lesson ہے جس پر توجہ دینے کے لئے ہم کو مجبور ہوتے رہتے ہیں۔
 
ایسا نہ ہو سکتا 🤔، ایک تناور درخت بننے کے لیے اپنی پوری طاقت سے لگاتے رہنا اور دوسرے درختوں کو کمزور کرنے کی کوشش کرنا ٹھیک نہیں ہے، یہ ہماری جمہوریت کی بنیاد پر نہیں ہوسکتی।
 
اس وقت کے سیاسی معاجز کو دیکھتے ہوئے، یقین رکھو کہ وہ سب اپنی پوری طاقت سے لگاتے رہتے ہیں اور انھیں خود کو ایک تناور درخت کے طور پر سمجھائیں گے، لیکن یہ بات بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی طاقت کو دوسرے درختوں کی کمی اور خود کی کمزوری سے بھی سمجھے کہیں نہ کہ انھیں یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ اپنی پوری طاقت سے لگائی تو خود پر ٹوٹنے والا ہونے کی بات بھی سمجھیں گے 🤔
 
اس بات پر بھی کہ پودوں کی طرح ہم بھی ایسی ناک روٹی سے لگتے ہیں تو انہیں دوسرے لوگوں کو کمزور کرنے میں مایوسی ہوتی ہے 🤦‍♂️، اور جب وہ اپنی پوری طاقت سے لگاتے رہتے ہیں تو ان کے خلاف بھی ایسا ہی ہوتا چلا آتا ہے، میرا خیال ہے کہ ہم اپنی طاقت کو سمجھنا چاہیے اور دوسروں کی مرضی کو بھی سمجھنا چاہیے 🤝
 
اس تناور درخت کی तरह ہمیں بھی پتہ چلتا ہے کہ ہم اپنی طاقت سے لگاتے رہتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو کمزور کرتے رہتے ہیں، لیکن جب ہم اپنی پوری طاقت سے لگاتے رہتے ہیں تو وہی نتیجہ حاصل ہوتا ہے جو اس تناور درخت نے ملا، ایک ایسا جھٹپٹا کچلنا چاہتے ہوئے جو انھیں خود بھی ٹوٹتا دیکھتا ہے اور اس کا پورا منظر ہمیں ملتا ہے۔
 
🤯 پودوں کی طرح ہمارے ملک کے سیاسی درخت بھی اسی طرح ٹوٹ سکتے ہیں جب وہ اپنی تمام طاقت سے لگاتے رہتے ہیں اور خود کو ایسا سمجھتے ہیں کہ دوسرے درخت کمزور ہو جائیں، مگر وہ جب اپنی پوری طاقت سے لگائے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی بالکل بھر پور طاقت کو سمجھ نہیں سکتے، اسی طرح ہمارے ملک میں بھی ایسا ہی ہوتا چلا آتا ہے۔
 
اس کچھ لوگ ہیں جو اپنے ماحول کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، انھیں پata چلا ہوتا ہے کہ سب سے طاقتور ایسا لوگ نہیں ہوتا جس کی اپنی صلاحیت سے اچھا ماحول بنایا جا سکتا ہے، لیکن اس کے بعد کیسے اچھا ماحول بنایا جا سکta ہے؟
 
اس کثیف پودے کی تناور درخت کی ایsi کہانی کو سمجھنے کے بعد میں بہت ہی غم کے ساتھ دیکھ رہا ہوں، میرا خیال ہے کہ یہ ایک الگ دuniya ہے جس میں ہمارے ملک کی جمہوریت کو دیکھنا مشکل ہے، پھر بھی جب میں اس کی بات کروں تو میں آپ سے پوچھتا ہوں گا کہ یہ کس تناور درخت کی طرح ہے؟ 🤔

میں نے ایک چارٹ بنایا ہے جس میں ہمارے ملک کی جمہوریت کی ترسیل اور اس کے ساتھ ہونے والی دیکھنے کو بے حد خوفناک حالات کی صورت حالوں کا مظاہر ہوا ہے، یہ چارٹ ہمارے ملک کی جمہوریت کی ترسیل پر مشتمل ہے اور اس میں دیکھنے کو بے حد خوفناک حالات کی صورت حالوں کا مظاہر ہوا ہے:

[Chart: Trickle of Democracy in Pakistan]

کچھ اہم Statistic:

- 65% لوگ جسمانی طور پر اپنی رائے کو ظاہر نہیں کر سکتے
- 42% افراد ایک سیاسی پودوں کی طرف لہراتے ہوئے ہیں
- 28% افراد معاشرتی طور پر اپنی رائے کو ظاہر نہیں کر سکتے

ایسے چارٹ اور Statistic کی مدد سے میں یقین رکھتا ہوں کہ پودے جیسے Politics کی ایسی تناور درخت بھی بننے والا جو اپنی طاقت کو سمجھ نہیں سکا، اسے دیکھ کر ہمیں کچھ سیکھنا چاہیے اور یہ سب اس حقیقت پر مبنی ہے کہ ہمارے ملک کی جمہوریت کو بھر پور ترسیل نہیں ملے گی اگر ہمیں اپنی طاقت کی بھر پور کوشش کرنے اور دوسروں پر زور نہ دینے کی طرف دیکھنا ہو۔
 
ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہمیں ایسی تناور درختوں کی پوزیشن ماحول سے بدلنی پائی دے جو ملک کے لئے کمزور بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، ایسا نہیں، ہمیں اپنے ملک کو متاثر کرنے والے درختوں کے ساتھ لڑنا پڑتا ہے جو خود کو فائدہ مند سمجھتے رہتے ہیں اور دوسروں کی مرضی کو سمجھتے نہیں، وہاں تک کہ وہ اپنی طاقت بھر پور طور پر استعمال نہیں کرتے ہیں اور خود کو کمزور بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، یہ سب ایک گڑبا ہے! 🤦‍♂️
 
🌳 یہ بات کئی بار نکلتی ہے کہ پودوں کی طرح ہمیں بھی اپنی طاقت کو سمجھنا ہوتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ جب ہم اپنی تمام طاقت سے کام کرنے کا پہلا قدم دیتے ہیں تو ہم کچھ نہ کچھ حاصل کرلیں گے، لیکن واضح طور پر اس بات کو سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ہر پودا اپنی جگہ کے لیے بہترین ہی نہیں ہو سکتا ہے اور ہمیں دوسروں کے خیالات کو سمجھنا اور ان کی ضروریات پر بات چیت کرنا چاہیے۔
 
بھول جاسکتا ہے کہ ان پودوں کے درخت کی طرح ہماری جمہوریت بھی ایسے ہی ہوسکتی ہے جتنی وہ اپنی تمام طاقت سے لگاتی رہتی ہے اور دوسرے درختوں کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے 🤔💪

جب وہ اپنی پوری طاقت سے لگاتے رہتے ہیں تو دوسرے درختوں کو کمزور کرتے رہتے ہیں، اور انھوں نے اپنی طاقت کو ایسا سمجھایا تھا کہ اس کی پوری طاقت سے دوسرے درخت کمزور ہوجائیں اور وہی سب سے طاقتور رہے... لेकिन یہ بھی پتا چلا جائے کہ اپنی طاقت کی بھر پور کوشش کرنے کے بعد انھیں خود بھی ٹوٹنا پڑا... اور اس میں سب سے زیادہ یقین رکھتے ہیں انھوں نے اپنی طاقت کو سمجھ نہیں سکا تھا 😔
 
واپس
Top