پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی کپتان فاطمہ ثناء نے بتایا ہے کہ ٹیم نڈر اور جارحانہ کرکٹ کھیلنے پر کام کررہی ہے جس سے اس کی مانیں بڑھ گئی ہیں۔ وہ اس حکمتِ عملی کا پہلا مشاہدات اور یقین رکھتے ہیں کہ اس سے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
فاطمہ ثناء نے کہا کہ اس دورے میں وکٹیں تیز ہو رہی ہیں اور گیند بیٹ پر بھی اچھی طرح آرہی ہے جس سے بیٹرز کھیل سے بھرپور لطف اندوز ہو رہا ہے۔ وہ اس بات پر یقین کرتے ہیں کہ ایسی کنڈیشنز میں کھیلنا بیٹنگ لائن کے اعتماد میں اضافہ کرے گا جب کہ فاسٹ بولرز کو بھی یہ کنڈیشنز خوش آئند ہیں کیونکہ وکٹوں سے انہیں مدد ملنے کی توقع ہے۔
پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کا کپتان نے بتایا ہے کہ تیز وکٹیں بولرز کو اپنی صلاحیتوں نکھارنے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ٹیم نے یہاں اپنا پہلا پریکٹس سیشن مکمل کر لیا ہے جس کے دوران کھلاڑیوں کو پچز کی نوعیت کا بخوبی اندازہ ہو گیا ہے اور عملی تیاری سے ٹیم کو میچز میں فائدہ ہو گا۔
فاطمہ ثنا نے بتایا ہے کہ ورلڈ کپ سے قبل اس طرح کے چیلنجز کا سامنا کرنا ٹیم کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گا کیونکہ اس سے کھلاڑی دباؤ میں کھیلنے کی عادت ڈال سکے گی۔
ٹیم کی کپتان نے جنوبی افریقہ کو ایک مضبوط حریف قرار دیا ہے اور اس کے خلاف ٹیم بہترین نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔ وہ بتاتے ہیں کہ ٹیم میں کئی نوجوان کھلاڑی شامل ہیں اور اس سیریز سے انہیں قیمتی بین الاقوامی تجربہ حاصل ہو گا جو مستقبل میں ٹیم کے لیے مفید ثابت ہوگا۔
فاطمہ ثناء نے کہا کہ اس دورے میں وکٹیں تیز ہو رہی ہیں اور گیند بیٹ پر بھی اچھی طرح آرہی ہے جس سے بیٹرز کھیل سے بھرپور لطف اندوز ہو رہا ہے۔ وہ اس بات پر یقین کرتے ہیں کہ ایسی کنڈیشنز میں کھیلنا بیٹنگ لائن کے اعتماد میں اضافہ کرے گا جب کہ فاسٹ بولرز کو بھی یہ کنڈیشنز خوش آئند ہیں کیونکہ وکٹوں سے انہیں مدد ملنے کی توقع ہے۔
پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کا کپتان نے بتایا ہے کہ تیز وکٹیں بولرز کو اپنی صلاحیتوں نکھارنے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ٹیم نے یہاں اپنا پہلا پریکٹس سیشن مکمل کر لیا ہے جس کے دوران کھلاڑیوں کو پچز کی نوعیت کا بخوبی اندازہ ہو گیا ہے اور عملی تیاری سے ٹیم کو میچز میں فائدہ ہو گا۔
فاطمہ ثنا نے بتایا ہے کہ ورلڈ کپ سے قبل اس طرح کے چیلنجز کا سامنا کرنا ٹیم کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گا کیونکہ اس سے کھلاڑی دباؤ میں کھیلنے کی عادت ڈال سکے گی۔
ٹیم کی کپتان نے جنوبی افریقہ کو ایک مضبوط حریف قرار دیا ہے اور اس کے خلاف ٹیم بہترین نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔ وہ بتاتے ہیں کہ ٹیم میں کئی نوجوان کھلاڑی شامل ہیں اور اس سیریز سے انہیں قیمتی بین الاقوامی تجربہ حاصل ہو گا جو مستقبل میں ٹیم کے لیے مفید ثابت ہوگا۔