کمیٹی کی جانب سے جاری بیان میں اس وقت تک انہوں نے کہا ہے کہ گیس کی سپلائی 24 گھنٹے تک آئندہ صنعتوں اور سی این جی سیکٹر کیلئے بند رہے گی جس کا مقصد صنعتی صارفین کو ایک بار پھیر ملازمت مل سکے، حالانکہ اس میں گیس پرصرف کیا جانے والا نتیجہ غلط ہو سکتا ہے اور صارفین کی بہت سی مصائب ہوسکیں گی، جس سے اس سلسلے میں انتہائی خوفناک کھراب ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے یہ فیصلہ تجربات اور گزشتہ ہفتے کی معطل 48 گھنٹوں گیس سپلائی کو دیکھ کر کیا تھا، جس سے انہیں یہ بات بھی پتہ چلی تھی کہ اگر ایسی صورتحال نہ ہونے پر انہوں نے اس فیصلے سے واپس آنا بھی تو اس میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا تھا، جس کے لیے صنعتوں اور سی این جی سیکٹر کے لئے گیس کی سپلائی معطل رکھنے پر انہوں نے فیصلہ کرنا پڑا۔
اس سلسلے میں industریال صارفین بشمول کیپٹل پاور پلانٹس اور تمام سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی سپلائی 48 گھنٹوں تک معطل رکھی جائے گی، جس سے انہیں گیس کی طلب کو پورا کرنا بھی مشکل ہو جائے گا اور اس سے ان کے لئے بہت سی مصائب ہوسکتی ہیں، جس میں ان کے کاروبار کو بھی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس سے انہیں نقصان ہو سکتا ہے۔
یہ جانتے ہی رہے کہ ایک فیصلہ نہیں ہی اٹھایا جائے بغیر اس کی پوری وجہ کا خیال کیا جائے? ان industry کی صارفین کو گیس کی سپلائی پر انحصار رکھنا بھرپور خطرہ ہے، ایسے میں تو یہی نہیں بلکہ ان کے کاروبار اور زندگی بھی تباہ ہو سکتی ہیں…
یہ فیصلہ انھیں آگے بڑھنے کے لئے آسٹریا اور یورپی یونین کی طرح اس بات پر عمل کرنا ہو گا کہ گیس کی معطل سپلائی کو کبھی بھی نہیں شروع کیا جائےGA۔ اس سے پہلے انھیں اپنی صنعتوں اور سی این جی سیکٹر کو اس فیصلے سے آگاہ کرنا ہو گا تاکہ وہ اپنے کاروبار کے لئے تیاری कर سکیں۔
یہ فیصلہ ان کی جانب سے لگتے ہیں کہ وہ لوگوں کو اس بات سے آگاہ کر رہے ہیں کہ گیس کی سپلائی 24 گھنٹوں میں بھی بند نہیں ہوسکیگی، چاہے یہ کس پوری صنعت کو متاثر کرے، لیکن یہ بات واضح ہے کہ گیس کی سپلائی بند کرنے سے انھیں ایک بار پھر ملازمت مل سکتی ہے، لیکن اس میں گیس کو استعمال کرنے والوں کا بھی نقصان ہوگا۔
ایسا کیا ہوا?! 24 گھنٹے تک گیس کی سپلائی بند کرنا! یہ وہاں پر ہی نہیں ہوگا جہاں انٹریپید ڈیویشن اور سی این جی سیکٹر کے لوگ اپنی ملازمتوں کے لئے تھک پڑتے ہیں! یہ آپ کو بتاتا ہے کہ انسپیکشن کمیٹی نے اس فیصلے پر کیا Reason دیتا ہے... تجربات اور گزشتہ ہفتے کی معطل 48 گھنٹوں کی گیس سپلائی!
مگر وہی سوال ہے کہ اس سلسلے میں انسپیکشن کمیٹی نے اس فیصلے پر کیا Reason دیتا ہے... تجربات اور گزشتہ ہفتے کی معطل 48 گھنٹوں کی گیس سپلائی!
اس سلسلے میں انسپیکشن کمیٹی نے بتایا کہ اگر اس فیصلے پر واپس آنا بھی تو کوئی فائدہ نہ ہوتا!
لیکن اس سے پہلے کیا نہیں کیا گیا?! انسپیکشن کمیٹی نے یہ فیصلہ لینے سے پہلے وہاں پر ان کی جانت اور رائے بھی بھر دی جاتی تھی!
اس لیے اس سلسلے میں انسپیکشن کمیٹی کو یہ بات بتانے کی ضرورت نہیں کہ انسپیکشن کمیٹی نے کیا فیصلہ لियا ہے!
اس سلسلے میں انسپیکشن کمیٹی کا یہ فیصلہ جانتا کرو!
سچ میں یہ کمپیٹی نے آس پاس کوئی ذہن پھرایا ہے، وہ یہ کہ گیس کی سپلائی 48 گھنٹوں تک بند کر دی جائے! ایسی صورتحال سے ان صنعتوں اور سی این جی سیکٹر کے صارفین کو ایک بار پھر ملازمت مل سکے؟ یہ تو صرف فہم نہیں بھی، وہ کیسے دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ گیس کی سپلائی بند کر دی جائے؟ انہوں نے تجربات اور گزشتہ ہفتے کی معطل 48 گھنٹوں گیس سپلائی کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا؟ یہ تو صرف ایک جھگڑا ہی ہے!
گیس کی اس معطل سپلائی کی بات سے میں اتنی خوش نہیں ہو رہا۔ انہوں نے تو تجربات اور گزشتہ ہفتے کی مائنٹس کے بعد یہ فیصلہ کیا تھا، لیکن یہ بات بھی پتہ چلتی ہے کہ ان کو یہ بات ابھی تک نہیں مل رہی کہ یہ معطل سپلائی سے کیا فائدہ ہو گا۔ industryal صارفین اور سی این جی اسٹیشنز پر اس کاImpact تو صرف ایک ہے، انہیں گیس کی طلب کو پورا کرنا مشکل ہو جائے گا اور انہیں بھی نقصان ہونے کا خوف ہو رہا ہے۔ میں یہ سोचتا ہوں کہ کیا انہیں اس صورتحال سے نکلنے کے لیے کچھ اور سوالات اٹھانے پڑenge?
گیس کی 48 گھنٹوں کے لیئے معطل رکھنا، یہ ایک بڑا خطرہ ہے۔ ان پلیٹ فارم پر ایسے لوگ کام کرنے کے لئے جیتتے ہیں جو گیس کی پیداوار سے ہونے والے پیسے کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ لوگ جس کو نچوڈا دیتے ہیں ان پلیٹ فارم پر کام کرنے والوں کے لیے، 24 گھنٹوں میں ایک بڑا کھراب ہو جائے گا، ان کو کہیں گیس ملے گی تو پھر وہ لوگ انہیں جیت سکتے ہیں۔ یہ ایک ناکام فیصلہ ہو گا جو بہت سی مصائب کا سبب بنے گا، اس سے پلیٹ فارم پر کام کرنے والوں کو زیادہ تلافی ملے گا۔
گیس کی سپلائی کو ایک دن تک منھوں سے نکل کر رکھنا کیا ہے؟ یہ فیصلہ پوری دuniya کے لیے ایک بڑی چیلنج ہے، لوگ اس سے قبل میزبان کی جائیدادوں کو دیکھتے ہیں اور انہیں یہ بات پتہ چلتا ہے کہ اگر کچھ دن گیس نہ ملے تو کیا ہوتا ہے، لیکن ایسے میٹھے سے ریکارڈ کیوں بنایا جائے؟ ان صنعتوں اور سی این جی سیکٹر کے لوگ جو اپنے کاروبار کو دیکھتے ہیں، وہ گیس کی طلب کو پورا کرنا مشکل دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ ان کے پاس بھی نئی یोजनوں اور تجربات کا رخ کرنا چاہیے۔
ایسا تو لگتا ہے گیس کی سپلائی کو تیز کرانا بھی ایک ایسا فیصلہ ہے جو صنعتی صارفین کو پچتائے کرے گا، ان کے کاروبار کو کمزور کیا جائے گا، اس سے ان کے لئے بھی بہت سی مصائب ہوسکیں گی…
یہ بات توہم ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ صرف تجربات اور گزشتہ ہفتے کی معطل گیس سپلائی سے لیا تھا، کیا انہیں ان کے حوالے سے کوئی ایسی صورتحال پیش نہیں آئی جس پر انہوں نے یہ فیصلہ لے۔ 48 گھنٹوں کی معطل گیس سپلائی کا مطلب یہ توہم ہے کہ حالات بدلتے ہیں تو انہیں واپس آنا پڑے گا، لیکن جس کے لئے اس کی ضرورت ہے وہ ہو سکتا ہے، کیا انہوں نے اس بات پر توجہ نہیں دی ہے کہ اس فیصلے سےindustry کی بھرپور مصائب ہوسکتی ہیں؟
اس بات کی بھاگ برہن کرتا ہے کہ جب تک یہ فیصلہ ہمیشہ اسٹیٹ انڈسٹریوز اور سی این جی سیکٹر کے لئے گیس کی سپلائی کو کم کر دیا جائے گا تو انھوں نے تین گھنٹے تک بھی اس کی مدد نہیں کی۔ یہ ایک ایسا کچھ ہے جو انھیں پورا کرنا پڑتا ہے، جیسے لوگ گیلت سے بچنے کے لئے اپنی آپ کی توجہ مرکوز کرتی ہیں.
یہ واضح ہی نہیں ہوگا کہ انٹرنیٹ پر یہ بات چل رہی ہے کہ گیس کی سپلائی 24 گھنٹوں میں بند کر دی جائے گی؟ یہ کوئی اچھا سیزن پلاٹ ہے؟ ان لوگوں پر اعتماد نہیں رکھنا چاہئے جو اس بات کو تصدیق کرتے ہیں کہ یہ فیصلہ بھرپور طور پر طویل عرصے تک منصوبہ بند تھا؟ انہوں نے تجربات اور گزشتہ ہفتے کی معطل 48 گھنٹوں گیس سپلائی کو دیکھ کر کیا تھا؟ یہ تو کم از کم ایک بار بھی اس بات کو تصدیق کرتے ہوئے ضروری ہوگا کہ یہ فیصلہ بے فائدہ مند ہوا گیا ہے اور ان لوگوں نے یہ فیصلہ صرف تجربات کی بنیاد پر لیا تھا؟ کیا اس کے لئے کوئی معقول علاج یا حل نہیں تھا جو پہلے سے دیکھا گیا ہو اور جس سے ان لوگوں کو یہ بات پتہ چلی ہو کہ اگر ایسی صورتحال نہ ہونے تو واپس آنا بھی ضروری ہوتا تھا، جس کے لیے انھوں نے یہ فیصلہ کرنا پڑا؟
یہ فیصلہ سے یہ بھی بات سامنے آتی ہے کہ ایسی صورت میں جو گزشتہ 48 گھنٹوں میں نہ ہونے پر انہیں واپس آنا پڑتا تو کیوں نہ ہوتا؟ یہ بھی ایک کثرت کا معاملہ ہے اور اس پر توجہ دی جانی چاہئے کہ انٹرنیٹ پلیٹ فارمز کی موجودگی سے ہی یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے، ایسی صورت میں کہیں گیس کی فراہمی کو ٹھکانہ کرنے کے لیے دوسرے معاملات پر فوج بھیج دی جائے؟
یہ واضح طور پر ایک خطرناک سلسلہ ہے، گیس کی بھرپور قیمتی مصنوعات کے لیے اس طرح کی معطل رکاوٹ کا خلیق کرنا بہت ہی خطرناک ہوگا، یہ جانتے ہیں کہ اگر انصنوعات کو ایک دن تک گیس کی سپلائی نہ مل سکے تو ان کے کاروبار اور اپنی پیداواری سرگرمیاں بھی رو جائیں گی، یہ اس بات سے بھی حقیقی طور پر خطرناک ہوگا کہ جس کے نتیجے میں انصنوعات اور مصنوعات کی صلاحیت اور کارکردگی کمزور ہوجائے گی۔
اس فیصلے کی وہ بچھڑ نہیں ہوئی جو کہتے ہیں، گیس کو صرف ان صنعتوں اور سی این جی سیکٹر میں دو پہرائیں دئیے گئے تو اس میں بھی ایک نتیجہ آئے گا جو غلط ہے، 24 گھنٹوں میں گیس کی پیداوار کو کم کرنا، یہ کچھ ہی ہے جس سے ان صنعتوں اور لوگوں کی ملازمت کا نتیجہ آئے گا، اس سے بہت سی مصائب ہونگی اور کاروباریاں تباہی کا سامنا کرن گیں
تجربات سے ہونے والی 48 گھنٹوں کی گیس سپلائی کا یہ فیصلہ تو بہت کھراب ہوگا، industryal صارفین کو ایک بار پھیر ملازمت مل سکے تو بھی ان کے لئے مصائب زیادہ نہیں ہوسکیں گے کیونکہ کاروبار کا یہ ٹرانسفورمیشن کرنا بہت مشکل ہوگا اور ان کے لیے نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ اگر انہیں ایسی صورتحال نہ ہونے پر واپس آنا پڑتا تو بھی اس میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور ان کے لیے یہ فیصلہ صرف تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔