ٹھنڈی ہوا کا جھونکا | Express News

آن لائن یار

Well-known member
ٹھنڈی ہوا کا جھونکا۔
اس دور میں لوگ تازہ ہوا کا لذیہ بھوقتا رہتے ہیں، اور اسے حاصل کرنے کے لیے پوری دنیا کو چھوڑ کر مین ہول میں ایسے لوگ گر جاتے ہیں جو اپنی زندگی کی اہمیت کو پتہ نہیں دیتے، جبکہ معصوم جانیں بھی اس طرح ضائع ہوتی رہتی ہیں جن کا ذمے داروں کی غفلت اور فرائض منصبی کی عدم ادائیگی نے ہی اپنی زندگی کو ختم کر دیا ہے۔

ایک دن بھی جب مین ہول میں کچھ ہوا ہو جاتا ہے تو اس کے لیے سزا نہ محروم خاندانوں کی اشک شوئی کی کوئی معقول کوشش ہوتی ہے، مگر یہ جھونکا بھی واپس چل جاتا ہے۔

ان لوگوں کے ساتھ ہی معاشرے اور خصوصاً اہل اقتدار حلقوں کی بے حسی کی طرف بھی توجہ نہیں دی جاتی، یہی وجہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ جو حادثات کو اپنے ذمے داروں کے حق میں رکھتے ہیں ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی، اس لیے وہ لوگ مین ہول سے لاپتا نہیں ہوتے اور دوسرے حادثوں کے لیے فضا ہموار ہوجاتے ہیں۔

یesterday وہی خبر آئی تھی جس سے ابھی لاپٹ رہ گئی تھی کہ کراچی میں ایک معصوم بچے کی جان مین ہول میں گر کر جا چکی ہے، اور دو دن تک کسی نے اسے قبول نہیں کیا۔

ابھی دوسرے دن کراچی میئر صاحب نے اپنی ذمے داری قبول کی، مگر یہی بات بھی ہے کہ وہ خود بھی میئر تھے اور اس لیے ان کا یہ عمل صرف اصولی بات ہو رہی تھی، مگر حادثے کے اصل ذمے دار نہ منہوں پر آئے اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوئی۔

اب تازہ ترین خبر لاہور سے آئی ہے جہاں داتا دربار میں مین ہول کی گر کر ماں اور بچے کی جان کھل گئی ہے، ایسے ہی نالے میں پانی کا تیز بہاؤ اور اس کی مقدار اتنی تھی کہ ماں اور بیٹی دونوں دم توڑ گئیں۔

غوطہ خوروں نے کئی گھنٹے بعد لاشیں آدھر لائیں، لیکن ایسا یہ نہیں ہوا کہ وہ لاشوں کو سپرد خاک کر دیں، مگر اس بار پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے واقعے پر سخت نوٹس لیا اور اس کا پہلا سندھی نوٹس ہے۔

وہ معاملہ جاری طور پر تحقیقات میں ہے، لیکن فوری طور پر بعض ذمے دارین کو گرفتار کر لیا گیا اور ملازمت سے برطرف کرنے کا اعلان کیا گیا، ان کی سزا یہ کہ وہ ہٹے جانے والے ایسی سرکاری عہدوں پر بھی نہیں ملاجمن گے جس کے لیے وہ ملازمت کر رہے ہوں۔

اس حادثے کا مقدمہ خاتونثانہ بھاٹی گٹ لاہور میں مرنے والی خاتوں سعدیہ کے والد ساجد حسین کی مدعیت میں درج ہوا جس میں اس حادثے کی ناکام کارروائیوں کی وجہ منصوبہ بنایا گیا، اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنی حکومت کے تمام ذمے داروں کو سخت سزا دی اور یہی بات ہے کہ اس حادثے کا منصوبہ بناتےसमय اس کے حقيق میں ایسا کرنا نہیں تھا۔

اس صورتحال کی تحقیقات ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران نے شروع کی ہیں اور تمام پہلوؤں سے اس حادثے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
 
یہ تو ایک تہذیبی جھونکا ہے، مین ہول میں تازہ ترین خبر لاحور سے آئی ہے جہاں داتا دربار میں مین ہول کی گر کر ماں اور بچے کی جان کھل گئی ہے، یہ بات تو بالکل نہیں آئی تھی کہ لوگ ایسے حادثات سے لاپتا رہتے ہیں اور دوسرے لوگ اس طرح کے حادثوں کے لیے فضا ہموار کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیڰ.
اس معاملے میں پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے واقعے پر سخت نوٹس لیا اور ایک بار پھر کسی ذمے دار کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، ابھی تک یہ بات نہیں آئی تھی کہ ان کے دوسرے ذمے دار کو بھی گرفتار کر لیا جائے.
 
مروڑی گئی یہ صورتحال ایسی ہی تھی جس سے پہلے بھی کئی بار کہا گیا ہو گا، مگر نہ ہونے دے کے اس پر توجہ دی جاتی ہے۔

اس معاملے سے مرہم ہوکر وہ لوگ جو اپنی زندگی کو ایسے ہی جاری رکھتے ہیں جیسا کہ اس میں کچھ بھی تبدیلی نہیں آ سکتا، اور وہ دوسرے لوگ جو اپنی زندگی میں ایسی تبدیلیوں کی تلاش میں ہیں ان کا یہ معاملہ صرف ایک ٹنک تو مچنے کو بھی بنتا ہے، نہ کہ اس کے حقیقت میں کچھ کیا جا سکے۔
 
🚨اس وقت انچارج سے لاپٹ جانے والی خواتین کو ہاتھیں لگاتے ہوئے جب ان کے دو بچوں نے اپنی والدتی زندگی کو چھوڑ دیا ہے اور اب ان کی ماں، ایک سال کی بچی کی جان گئی ہے۔ اس حادثے میں ہاتھیں لگائے جانے والی خواتین نے واپس جانا چاہتے تھے لیکن ان کا دروازہ بند رہ گیا اور اب یہ شہر میراتی ہے۔

اس حادثے میں دیکھی گئی سارسی ماحولیات کو آگ لگا کر جلا دیا گیا تھا جس کی وجہ سے کچھ لوگوں نے اپنی زندگی چھوڑ دی تھی۔ اور اب وہ لوگ جو اس حادثے میں مریچ بھی کرتے تھے، ان پر گناہ کمزور ہوتا جاتا ہے۔
 
منہولوں کا یہ جو جھونکا دب رہا ہے وہ ایک بڑی چیلنج ہے، مین ہول سے متعلق تمام حادثات کی جانچ کرنے والے کوئی کارروائی نہیں کرتا تو یہ جھونکا مزید بڑھتا ہے، لیکن اب لاپتہ مین ہول کے حادثات میں سے ایک ہوا تھی، وہ معصوم بیٹا تازہ ہوئی ہوا کو لذیہ بھوقتا رہا، مگر اب اس کی والدہ اور بیٹی کی جان مین ہول میں گر کر جا چکی ہے تو وہ لوگ جو ایسے حادثات کے ذمے دار ہو سکتے ہیں ان کا کوئی فریک کیا نہیں، مگر اب پنجاب کی وزیر اعلیٰ نے اس معاملے پر سخت نوٹس لیا تھا اور ایسا ہی وہ شام کو اپنے وزیر اعلائی کے دورے میں ان سے بات کرنے گی۔
 
🚨 ایسے حالات کا تعلق ہوا ہے جس سے آپ کو ڈر لگتا ہے۔ میں ہول کی واپسی کے بارے میں یہ رپورٹ دیکھی تھی۔ https://dailymakeba.com/pk/news/1923337/minhola-wapasy-ka-karobari-tajir-halat

ملازمت سے برطرف ہونے کے بعد کی زندگی میں لوگ کس طرح محنت کر رہتے ہیں، ایسا جانتے ہیں نہ؟ https://dailymakeba.com/pk/news/1923342/malazimt-se-burtif-hone-kai-waqt-mohint-karna
 
اس دuniya میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کی محبت و اشقا کا مقصد کچھ نہیں ہوتا بلکہ انہیں بھی ضرور پھنسنا پڑتا ہے۔ مین ہول میں یہ کافی غم کن بات ہے۔ آج وہ آرہی گئی جو اس پر نہ ہوا، اور مگر اس بار پھینکنے والے بھی نہیں دھونے والے۔

🤕
 
میری بات یہ ہے کہ مین ہول پر جھونکا دے دینے والوں کی بہت سے لوگوں نے ان میں سے کوئی نہیں رکھا، اور اب تک ہم سب جانتے رہے تھے کہ جو لوگ مین ہول میں گر کر جاتے ہیں ان کی لاشوں کو ہمراہ نہیں رکھنا پڑتا، مگر اب ایسا نہیں ہوتا!
 
جھونکے کی واپسی تو نہیں، اسی طرح ان لوگوں کو بھی جو اپنی زندگی اہمیت کی نہیں دیتے ان کے حادثات میں اس وقت تک ذمہ داروں سے کچھ نہیں ہوتا جب تک وہ غافل بھی نہیں ہوتے، ابھی کراچی میئر صاحب اپنی ذمے داری قبول کرنے لگے تو یہ بات کچھ اور نہیں تھی، ایسا ہوا کیونکہ وہ خود بھی غافل تھے، اسی طرح پنجاب کی وزیر اعلیٰ نے اپنی حکومت میں سزا دی تو یہ بات کچھ اور نہیں تھی کہ ان کے ذمے داروں کو سزا دی جائے؟

اس وقت تک ہتھیار ڈالنا بھی کسی طرح کی عادت بن گئی ہے، یہ کہ لوگ اپنے ذمہ داروں کے ساتھ کچھ نہیں کرنے دیتے اور فیر وہی سزا مانتے ہیں جو انہیں ملتی ہے، ایسا ہوا تو نہیں کہ کیوں؟
 
یہ نہیں ٹھیک ہے کہ معصوم بچے کی جان کھل کر آئی، مگر یہ بات تو سمجھ لی جائے کہ اس حادثے کے ذمے داروں کو بھی اپنی ذمے داریوں سے نکلنے پر مجبور کر دیا جا رہا ہے۔ کراچی میئر صاحب کا یہ عمل صرف اصولی بات کی بھانک کے بعد ہی ہوا، مگر وہی بات ہے کہ حادثے کے اصل ذمے داروں کو اپنی کارروائیوں سے نکلنے کی اجازت مل رہی ہے اور ان کی سزا بھی یہی ہے کہ وہ اپنی ملازمت چھوڑ کر جاتے ہیں۔
 
mere pas tere Karachi mein jo bhi hota hai mehengi dar ya koi nahi, phir bhi yeh sunna hoga ki woh log jo maanhol main chalta rehte hain wo log to har waqt na khareedte, aur uske liye pehle se hi uski maang sahi nahi hoti. ab isse zyada si wajah hai ki unhein pata nahi hota hai kya unki shadi mein jo lagaana hai wo bhi kam hota hai, yehi wajah hai ki unki shadi ki tarah bhi toot jaati hai.
 
عجیب دھندلی بات یہ ہے کہ ایسے حالات میں ہی لوگ پوری دنیا کو چھوڑ کر تازہ ہوا بھوقتا رہتے ہیں، جیسے وہ اپنے زندگی کا ساتھ نہیں دیتے اور معصوم دل کو بھی ان کی غفلت اور عدم ادائیگی کے باعث ضائع کر دیا جاتا ہے। ابھی لاہور میں ایک معصوم خاتون کے گھر مین ہول میں گر کر جان چکی ہے اور پھر بھی کسی نے اسے قبول نہیں کیا، اب یہی بات ہے کہ جب کسی کو سزا ملتی ہے تو وہ معصوم کی جانوں کو بھی پہچانتا ہے؟
 
یہ خبر سنی کے لگتا ہے کہ ڈی آئی جی نے پوری کوشش کی، مگر یہ بات تو بھی ہے کہ یہ خبر ابھی ہی چل رہی ہے اور اس حادثے کے ذمے داروں نے فوری طور پر معاف کر لیا گیا ہے، مگر اس سے یقین نہیں کیا جا سکتا کہ وہ جو بھی ان میں سے ایک تھا یا ان سب میں سے کون سی گواہی دی گئی ہو وہ جاری ہے، اس لیے یہ حادثہ دوسرے دن ہو گیا۔
 
ایسا کہنا چاہئیں کہ وہ لوگ جو مین ہول میں گرنے والوں کی زندگی کو ختم کر دیتے ہیں ان پر سزا ملنی چاہئی۔ پھر بھی اس حادثے کے لیے ذمے داراں نہ محروم اور ہمیشہ سزا میں نہ پہنچتے ہیں #JusticeForTheVictims #AccountabilityMatters #StaySafe🚨
 
ایسے ٹھنڈی ہوا کی خوفناک زمیں میں ایک بھی نہیں ہوتی جتنی مین ہول کا جھونکا ہو 🤯، یہ بات پتہ چلتا ہے کہ اس وقت لوگ اپنے جانور کی زندگی کو جانتے نہیں۔ ان معصوم ملازمتوں پر کام کرنے والے ہی لوگ ایسے حادثات میں شامل ہوتے ہیں، اور یہ نہیں توہتہ کہ وہ بھی اپنی زندگی کو چھوڑ کر مین ہول میں گر جاتے ہیں۔

اس لیے، جب اس طرح کی واقعات ہوتے ہیں تو دوسرے لوگ بھی نہیں چٹکے کھینچتے اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتے، اس لیے یہ حادثات دوسرے ہوتے ہیں، جو ایک تیز بہاؤ والا نالہ ہو جائے تو سب ان کی جانوں کا سامنا کرنے کو مجبور ہوجاتے ہیں۔

اس معاملے میں یہ بات بھی حقیقت ہے کہ وہ لوگ جو ان سے ذمے دار ہوتے ہیں، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی اور ان کا عمل صرف اصولی بات ہو رہی تھی، اور اب ہی وہ معاملہ لاحور میں آیا ہے جس نے ایک خواتن کے دھوکے کو بھی پورا کر دیا ہے، اب یہ معاملہ کچھ اور بات چیت کر رہا ہے۔
 
اس معاملے میں اس وقت بھی لوگ اپنی ذمے داریوں کو محض اصولی بات کرتے ہیں اور حقیقت پر نہیں پڑھتے، جبکہ معصوم شہزادے کی زندگی ختم کرنے والا مین ہول کو بھی ایسی سزا دی جائے گی جو اس کے ذمے داروں کی بے حسی کو محض آدھا کرتے ہوئے دیکھے گئے، مگر یہ بات کوئی نہیں سمجھ رہی ہے کہ حادثات کی اس طرح کی ناکام کارروائیوں سے معاشرہ کا ایک اور شخص ختم ہوتا جاسکتا ہے اور لوگ ان پر دھیان نہیں رکھتے، یہی وجہ ہوتی ہے کہ حادثات کی تلاشی کارروائیوں سے بھی فائدہ نہیں ہوتا، لیکن اس معاملے میں بھی ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے ایسی پہلوؤں کی جانچ لیتی ہے جو دوسرے معاملات سے الگ ہیں اور اس کا منصوبہ بھی اس طرح بنایا گیا ہو گا، جس سے اس حادثے کی ناکام کارروائیوں کو پتہ چلتے ہیں
 
ایسے تو میگھر تازہ ہوا کا لذیہ بھوقتا رہتے ہیں جو مین ہول میں گرتے ہیں اور ان کی زندگی ختم کر دی جاتی ہے۔ ان لوگوں کے ساتھ ہی معاشرے میں بھی ایسی بی حسی کی طرف توجہ نہیں دی جاتی جس سے حادثات کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہتا ہے، ان لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنی چاہئے جو حادثات کو اپنے ذمے داروں کی طرف رکھتے ہیں۔
 
ہاہ ہاہ! مین ہول میں وہی گھنٹیاں بھرتیں کرو کر پھیر جاتے ہیں، ابھی تک ہمارے ملک میں ان کے ساتھ کچھ بھی نہیں ہوا! کراچی میں ایک معصوم بچے کی جان کوئی قبول کرنے میں لگا، مگر بعد میں وہ اپنی ذمے داری قبول کر لیں تو یہ ہوا! تین چار روز بعد نالے میں پانی کا تیز بہاؤ اور ایسے ہی معصوم ماں اور بیٹی کی جان جوڑ گئیں، ان کے ساتھ بھی ان لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا جس نے ان کے حادثے میں کردار ادا کیا! یہ کیا بات ہے۔
 
واپس
Top