چین کی عدالت نے پاکستانیوں کے لیے ایک غاضب معامله کو ختم کر دیا ہے، جو اس وقت ابھی ہی اپنی آن لائن فراڈ کمپاؤنڈز میں پھنسا پڑا تھا جس سے ملینوں چینی شہریوں کو بھی نقصان ہوا۔
چینی عدالت نے دھندوں میں ملوث 11 افراد کو موت کی سزا سنائی ہے جنھوں نے اپنی دھندے سرگرمیوں کا احاطہ کرنے کے لئے ایک پاکستانی اور تھائی شہری جسٹس کو بھی قتل کر دیا تھا۔
چینی حکام نے تین سال سے پھیلے فراڈ دھندوں کا مطالعہ ہوتے رہے اور ان کی چاروں جانب سے جھٹکے لگتے ہوئے، چینی شہریوں کے خلاف جرائم کے علاج کے لئے ایک چارٹر سے بھی ان پر دباؤ اور پھینکتا جاری رہا ہے تاکہ انہیں اپنے خلاف گھوڑے اٹھانے کی اجازت نہ ملے۔
چینی حکومت نے 20 نومبر کو ان دھندوں میں سے ایک چینی شہری ننگ فیملی کرمنل گروپ کے رہن، اور تین غیر ملکیوں کا بھی مطالعہ شروع کیا تھا، جس میں پاکستانی، تھائی اور کمبوڈیائی شامل تھے۔
غیر ملکی شہروں کے دھندے میں ملوث 11 افراد کو موت کی سزا نہیں دی گئی کیونکہ ان کا معاملہ ابھی ایک ایسے جج کے سامنے آ رہا تھا جسے آگے چلائے جانے کے لئے ملاقات کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
چینی حکومت نے پاکستانیوں کے لیے ایک اور معاملہ بھی سامنے لایا جس میں ان کے دھندے سرگرموں کو موت کی سزا دی گئی ہے، جس میں پاکستانیوں کی جانوں اور ملینوں چینی شہروں میں ایک بڑا نقصان پھنسا تھا۔
بہت سارے دھندے ہیں جو اس معاملے کا حصہ تھے اور ان کی جان کی گھنٹیاں چھوڑیں تھیں
لگتا ہے وہ لوگ جو دھندوں میں ملوث تھے، ان کا معاملہ ایک ایسے جج کے سامنے آ رہا ہے جس نے اس سے پہلے دھندوں کو موت کی سزا دی ہوگی اور اب ان کے معاملات کو حل کرنے کے لئے ایک چارٹر کا استعمال ہوا ہیں
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ چینی حکومت نے اس معاملے میں پاکستانی اور تھائی شہری جسٹس کو بھی قتل کر دیا تھا، یہ ایک بہت خطرناک بات ہے وہ لوگ جو دھندوں میں ملوث تھے اور ان کی جان کھوائی تھی، اب وہ معاملات کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
یہ بات کا ایک واضح اشارہ ہے کہ چین کی عدالت نے اپنے شہروں میں ہونے والی دھندے سرگرمیوں کو بڑی حد تک روکنے کے لئے ایک اچھا ریسولشن بنایا ہے
جبکہ 11 افراد کو موت کی سزا دی گئی ہے تو یہ بات بھی ظاہر ہو رہی ہے کہ ان لوگوں نے اپنی دھندے سرگرمیوں میں پھوسے جانے سے قبل واضح رہ گئے تاکہ ان کو نقصان نہ ہو سکے
لेकن، ایک بات بھی قابل ذکر ہے کہ چین کی حکومت نے اپنے شہروں میں ہونے والی دھندے سرگرمیوں کو روکنے کے لئے ایک اچھا پلان بنایا ہے اور اب اس پر عمل شروع کرنا ہو رہا ہے
علاج کے لئے دباؤ ہی سے یہ دھندے سرگرم ہوئے! 11 افراد کی موت کی سزا، ایک پاکستانی اور تھائی جسٹس کو بھی قتل کر دیا گیا تھا، ان کے معاملات میں گھناسیر ملوث نہیں ہوا! چینی حکومت نے یہ سزا دی۔ 20 نومبر کی وارننگ سے قبل اور بعد میں بھی، ان دھندوں کے معاملات میں گہرے درجے کا مطالعہ کیا گیا!
چینی حکومت کو اس کے لئے 14 سال کی جنجال پورے کرنی پڑیں گے، اور ابھی تک انہوں نے صرف ایک پاکستانی اور تھائی شہری بھی مار دیا! اور ملاقات کا منصوبہ بنایا گیا ہے جسے یہ معاملات پورے کرنے کے لئے، ابھی بھی ایک نئا جج سامنے آ رہا ہے!
اس ساری گہری جنجالیت کی طرح، ایسے معاملات میں ملوث دھندوں کو موت کی سزا ہی نہیں دی گئی! چینی حکومت کا یہ بات چیت ہے اور پاکستانی شہریوں کے لیے ایک بڑا Relief ہے...
ایسا لگتا ہے کہ اس معاملے سے بچنے کے لئے چینی حکومت نے دھندوں پر آگے رکھی ہوئی سزائیں سنائی ہیں، جس سے یہ معاملہ ختم ہو گیا ہے اور پاکستانیوں کو پھنسی گئی دھندلی سرگرمیوں سے بچایا جا سکا ہے
اس معاملے میں ملوث 11 افراد کے بارے میں بتایا گیا ہے، لیکن یہ بات تھی کہ ان لوگوں نے ایک پاکستانی اور تھائی شہری جسٹس کو بھی قتل کر دیا تھا، اور اب وہ اس معاملے میں ملوث ہو رہے ہیں جو چینی حکومت نے شروع کی تھی۔
کبھی کبھار جبچوں کی طرح چینی حکومت بھی لوگوں کو دھندلی سرگرمیوں سے بچانے کے لئے آگے رہتی ہے، اور اب یہ معاملہ ختم ہو گیا ہے، لیکن اس سے پہلے ملینوں لوگوں کو نقصان ہوا تھا، اور اب ہم نے کیا یہ معاملہ ختم ہو گیا تھا؟
یہ دیکھنا اچھا ہے کہ چین کی عدالت نے ان دھندوں کو ملا پکڑا ہے جو پاکستانیوں اور تھائیوں سے دھنجے ملوث تھے، یہ تو اپنی کارروائیاں ٹھیک کرنے کا ایک بڑا قدم ہے. میںHope کرتا ہوں کہ آگے بھی انہیں جسٹس کی فیکٹری سے کوئی وعدہ نہیں کرنے دیں گے. اور ایسی حالت میں نہیں آئے جس سے کھونے والوں کی جان بھی ہار جائے
یہ بہت اچھی خبری ہے کہ دھندوں کی سزائی ہوئی ہے، لیکن مجھے یہ سوچنے میں تلافی ہوا کہ اس معاملے میں انصاف کی تکلیف بھی ہوسکتی ہے اور اس سے واقفین کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ان ملوث شخصوں پر موت کی سزا دی جانی چاہئیں تاکہ ان کی دھندلی سرگرمیوں کو کسی نہ کسی نقصان سے روکنے میں مدد مل سکے اور بھی اس کے لئے ایک نیا معاملہ سامنے لایا گیا ہے جس میں ان کی موت کی سزا دی گئی ہے، یہ تو ہمیشہ ایسی ہوگی کی کوئی نہ کوئی معاملہ سامنے آتا رہے گی۔
عذریت سے کہتا ہوں میرا ناجائز معاملات پر یقین رکھنا بہت مشکل ہے لेकن اچھی طرح سمجھا تو پata چلا گيا کہ ان دھندوں نے کیا تھا۔ اس سے پہلے میں بھی ایسی ایک معاملہ آ گیا تھا جس میں لوگ 1000 روپے کے ایک نیٹ ورک سے 5000 روپے تک کی دھندلیڈاری کر رہے تھے اور میری بھننیڈی نے ان کی کوئی نہ کوئی جان کر لیا تھا مگر میں اسے ہلا کر دیا تھا۔ اب یہ بات کھل کر سامنے آ رہی ہے کہ ان دھندوں نے جسٹس کی جان لے لی تھی میرے بعد میں۔ اور اب یہ 11 افراد موت کی سزا پر چلے آ رہے ہیں۔
یہ سب کچھ تو ان دھندوں نے خود کی، ایسے لوگ جو اپنے پیارے دھंडوں میں ملوث ہونے کے لئے کسی جان کو بھیฆال ملنے پر مجبور کر سکتے ہیں اور پھر واپس آنے کا کہیں جائے? آج تک چینی حکومت نے دھندوں کی چاروں جانب سے جھٹکے لگتے ہوئے اور انہیں اپنے خلاف گھوڑے اٹھانے کی اجازت نہ ملنی چاہتی ہے، لیکن اب یہ سچ بھی نکلتا ہے کہ انہیں ان دھندوں کے لئے مجرم قرار دیا جا رہا ہے جنہوں نے کیا یہ ان کے خلاف بھی کھل کر چرچا ہوگا؟
اس معاملے کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا جاتا ہے کہ چینی حکومت نے ایسے دھندوں کی پیٹی کم کرنی تھی جو ملینوں لوگوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور ان کی جانوں کا بھی خطرہ جاتا ہے!
جب تک یہ معاملہ نہیں ٹھیک ہوگا، تو ہم پاکستانیوں کو یہاں آن لائن دھندے سے نمٹانے میں مشکل موڑنا پڑتا رہی گيا!
چینی حکومت کی جانب سے ایسے دھندوں کو موت کی سزا دی گئی ہے، لیکن اس سے یہ نہیں کہ لوگ ان کے دھندے سرگرموں سے ڈरنے لگے گی اور وہ اپنی دھندے سرگرمیوں جاری رکھنے کی کوشش کرنگی!
ان معاملات کو ٹھیک کرانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم ان دھندوں سے نمٹنے کے لئے ایک اچھی قومی پلیٹ فارم پر چلائی جانے کی تنگاتنگ ضرورت ہے!
ان معاملات میں کسی بھی شخص کو یہ نہیں کہنا چاہئیے کہ وہ اس معاملے سے کوئی اچھا نتیجہ حاصل کر گيا ہو یا نہیں!
یہ تو کچھ عمیق موڈ پر رہتا ہے... یہاں تک کہ یہ معاملہ ابھی ابھی ہی شروع ہوا تھا اور بھی اس کا نتیجہ ملا ہے جس میں لاکھوں کی نقصان ہوئی، یہ تو ایک غاضب معاملہ تھا جو ابھی ہی اپنی انٹرنیٹ پر پھنسی پڑا تھا...
چینی عدالت نے موت کी سزا دی 11 افراد کو جسے بھی چینی شہریوں کی جان اور ملازمتوں میں نقصان ہوا یہ تو لاکھوں لوگوں کا دیرپا اثر ہوگا...
مگر پھر ایسا لگتا ہے کہ چینی حکومت نے اس معاملے میں سے کسی بھی رات کو نکل کر ان کا مطالعہ کیا جاری رکھا ہو... تو یہ اور بھی ہے کہ جس پر دباؤ پھیلایا گیا تاکہ وہ اپنے خلاف گھوڑے نہ اٹھائے...
مگر یہ سب کچھ کیونکہ نئی حکومت ہے اور اسے کسی بات پر چیلنج کرنا ہوتا ہے...
بھٹیلا ایم ہے اس غضبتھا معاملہ جس کی ختم کر دئیگی، تو یہ تو اچھا ہے لیکن یہ سوچنا بھی اچھا ہے کہ اس سے ابھی ان فریڈ کمپاؤنڈز میں لوگ پھنسے تھے، یہ تو چینی حکومت کے لئے ایک بڑا کام تھا لیکن وہ لوگ جو نقصان ہوئا تھا ان کی جانوں اور مال کا کیا فائدہ ہوا?
ایسا لگتا ہے کہ چین نے اپنے شہریوں کو ان دھندوں سے محفوظ رکھنا چاہیے جو ملینوں لوگوں کی زندگی کو تباہ کر رہے تھے۔ 11 افراد کو موت کی سزا دی گئی، لیکن یہ صرف ایک چارٹر کے تحت نہیں تھا اور انھوں نے بھی اپنے دھندے سرگرمیوں میں بڑھتے ہوئے تھے۔
پاکستانیوں کو خوف پدھرنا چاہیے کہ اگر ان کی جانوں کو خطرہ ٹھہرایا جائے تو انھیں ہزاروں نقصان ہوئے گئے ہوں گے اور وہ اپنے دھندے سرگرموں کے خلاف کس طرح Fight کر سکتے تھے؟
چینی عدالت نے ان دھندوں کو قتل کر دیا ہے جنھوں نے ملینوں کی کھون لیتے رہے. یہ ایک بڑی بات ہے، لیکن کیا یہ وہ اچھی طرح پوری ہوئی? میں سمجھتا ہوں کہ اگر انہیں موت کی سزا دی گئی تو ان کے دھندے سرگرموں کو ہٹانے میں اچھے نتیجے پائے گئے. لیکن یہ بھی بات ہے کہ انہیں سزا دی گئی سے قبل کیا کیا کیا گیا? اگر وہ دھندے سرگرمیوں کو روکنے میں کامیاب ہوئے تو انہیں موت کی سزا نہیں دی گئی. یہ ایک مشکل معاملہ ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس پر مزید تحقیق کرنی چاہیے.
چنائی سے لگ کر چین کے سارے دھنڈے کو موت کی سزا ملنی چاہیے ہی نہیں؟ پہلے تو یہ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ انہیں کسی جج کے سامنے بھی لا کر پہچانا جائے گا لیکن اب نئی حکومت نے چینی شہروں میں ہونے والے نقصان کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہوگا جس سے انہیں چار سال تک ملازمت پر رکھا جانے کا ایک محفوظ راستہ ملے گا۔
یہ رہی گALT تھی کہ آپ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ پھر دوسری جانب بھی ان دھندلوں کی چاروں جانب سے جھٹکے ہوتے ہیں؟ آپنے ذہن میں کیا کروں یہ دھندے سرگرم وہاں تک بھی نہ پہنچ سکتے ہیں تاکہ آپ ان کی چاروں جانب سے جھٹکے لگاتے رہیں؟ اور اب جو حقدار ہونے پر موت کی سزا دی گئی ہے وہ کس کی نیند سے ہیں؟
عجیب کچھ ہوا ہے، پہلے تو دھندوں کی فہرست زیادہ تھی، اور اب 11 افراد کو موت کی سزا دی گئی ہے۔ یہ بھی دیکھنے کے لئے کہچل رہا ہے کہ چینی حکومت نے ایسے معاملات میں ملوث تین غیر ملکیوں کو موت کی سزا دی گئی تو، انہیں ابھی ایک جج کے سامنے لے جانا ہوا ہے۔ یہ معاملات کچھ عرصہ پہلے سے شروع ہوئے تھے اور اب تک ان پر دباؤ اور جھٹکے لگتے رہے ہیں، اب تو یہ معاملات کچھ بھرپور ہو گئے ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ یہ معاملہ ابھی نا آگے بڑھ سکتا ہے، حالانکہ عدالت نے دھندوں کو موت کی سزا دی گئی ہے لیکن یہ بات بھی پتو چلی ہے کہ اگر انہیں مجرمی کا شکار نہیں سمجھا گیا تو وہ آگے بھی چلے گئے ہوں گے۔ اور یہ بات تو پتہ چلتी ہے کہ حکومت نے ایسا کیا ہے تاکہ ان دھندوں کو اپنی سرگرمیوں میں رہ کر دوڑنا نہ دیا جائے، لیکن یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ وہ ابھی آگے بڑھ سکتے ہیں۔
ایسے سچ کے لئے دھندوں کو پھنسی گئی کیونکہ انہوں نے لوگوں کی ایملیٹی ریز اور پیسا چوری کر لیا ہے! یہاں تک کہ ملینوں لوگوں کو نقصان پہنچا تھا اور انہیں اپنا پانی پینا پڑا تھا۔