سینٹ پیٹرزبرگ میں آسمان پر ایک غیر معمولی منظر دیکھنے پہنچا ہے جہاں چاند کے ساتھ تین اور چار، نہیں سترہ روناک فلکیاتی دھبے نظر آئے ہیں، جو اس وقت آسمان پر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر دیکھے جاسکتے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ چار چاند موجود ہیں۔ اس منظر کی تصاویر اور ویڈیوز انسٹاگرام اور فیسبک پر تیزی سے وائرل ہو گئیں جس سے لوگ اسے دیکھ کر حیران اور بے صبری سے منسلک ہوئے ہیں۔
انصاف نہیں، یہ منظر پوری توجہ حاصل کر رہا ہے، اس کی تصاویر اور ویڈیوز دیکھ کر لگتا ہے کہ آسمان پر چار سترہ چاند موجود ہیں۔ اس منظر کو ماہرین نے ’فرضی چاند‘ یا ’مون ڈاگ‘ کہا ہے جسے عام لوگ ’پیراسیلین‘ کہتے ہیں۔ اس سے لگتا ہے کہ آسمان پر ایک نایاب اور دلکش منظر دیکھنے پہنچا ہے جو کوئی بھی شخص اپنی جسمت کے سامنے لٹک کر دیکھنا چاہتا ہے لیکن یہ منظر ان سے بھی دور ہے۔
ماہرین فلکیات کے مطابق اس منظر کو ’پیراسیلین‘ کہا جاتا ہے جو عام طور پر چاند سے تقریباً 22 ڈگری یا اس سے زیادہ فاصلے پر دکھائی دیتا ہے اور واضح نظر آنے کی وجہ سے یہ منظر زیادہ دیکھنا چاہیے۔
اس منظر کا تعلق دن کے وقت سن ڈاگز سے ہوتا ہے، لیکن اس وقت جب آسمان میں چاند کے ساتھ تین اور چار روناک دھبے نظر آئے، تو یہ منظر ایسے نہیں رہا کہ وہ بھی ایک ہی وقت میں دیکھ سکیں۔
اس منظر کی وضاحت اس بات سے ہوتی ہے کہ چاند کی روشنی فضا کے اندر موجود برف کے ننھے ذرات سے گزرتی ہے، جس کو ذرات روشنی کو مخصوص زاویے پر موڑ دیتے ہیں اور ان ذرات کی بڑی توجہ کا سبب بنتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے آسمان پر کئی چاند موجود ہیں، جو اس منظر کو حیران کن اور دلکش بناتی ہیں۔
انصاف نہیں، یہ منظر پوری توجہ حاصل کر رہا ہے، اس کی تصاویر اور ویڈیوز دیکھ کر لگتا ہے کہ آسمان پر چار سترہ چاند موجود ہیں۔ اس منظر کو ماہرین نے ’فرضی چاند‘ یا ’مون ڈاگ‘ کہا ہے جسے عام لوگ ’پیراسیلین‘ کہتے ہیں۔ اس سے لگتا ہے کہ آسمان پر ایک نایاب اور دلکش منظر دیکھنے پہنچا ہے جو کوئی بھی شخص اپنی جسمت کے سامنے لٹک کر دیکھنا چاہتا ہے لیکن یہ منظر ان سے بھی دور ہے۔
ماہرین فلکیات کے مطابق اس منظر کو ’پیراسیلین‘ کہا جاتا ہے جو عام طور پر چاند سے تقریباً 22 ڈگری یا اس سے زیادہ فاصلے پر دکھائی دیتا ہے اور واضح نظر آنے کی وجہ سے یہ منظر زیادہ دیکھنا چاہیے۔
اس منظر کا تعلق دن کے وقت سن ڈاگز سے ہوتا ہے، لیکن اس وقت جب آسمان میں چاند کے ساتھ تین اور چار روناک دھبے نظر آئے، تو یہ منظر ایسے نہیں رہا کہ وہ بھی ایک ہی وقت میں دیکھ سکیں۔
اس منظر کی وضاحت اس بات سے ہوتی ہے کہ چاند کی روشنی فضا کے اندر موجود برف کے ننھے ذرات سے گزرتی ہے، جس کو ذرات روشنی کو مخصوص زاویے پر موڑ دیتے ہیں اور ان ذرات کی بڑی توجہ کا سبب بنتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے آسمان پر کئی چاند موجود ہیں، جو اس منظر کو حیران کن اور دلکش بناتی ہیں۔