نااہل بھارتی حکومت کی ناکام سفارتکاری مودی کے معاشی ترقی کے دعوے چکنا چور

فلمساز

Well-known member
مودی کا معاشی ترقی کا دعویٰ چکنا چور، بھارتی governments اچھی کوشش نہیں کر رہی ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ کی دوغلی پالیسیوں پر بھارت کی آئین کے ساتھ منافقانہ بیانات بھی بے نقاب ہیں۔

امریکہ اور چین نے مودی حکومت کو جھیل کر چاہتے ہیں، لیکن وہ اپنی بدترین سفارتکاری کرتے رہے ہیں، انہوں نے روس اور یوکرین جنگ میں بھارتی شہریوں کی مدد کرنے سے انکار کر دیا، اور ایران کے ساتھ چاہ بہار بندرگاہ منصوبہ کو خوف سے ختم کر دیا ۔

امریکہ کے دباؤ میں بھارت نے چاہ بہار بندرگاہ کا منصوبہ ختم کر دیا، اور چین کے ساتھ تجارتی خسارے میں 116.1 بلین ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ مودی کی ناکام معاشی پالیسیوں نے بھارت کے علاقائی تسلط کا دعویٰ فاش کردیا ہے، اور دہلی میں امریکی سفیر کو چھین لیا گیا ہے ۔

امریکہ کے ساتھ مودی کی دوغلی پالیسیوں نے بھارتی حکومت کے سمجھنے کی صلاحیت کو کم کر دیا ہے، اور بھارت کی ناقص سفارتی و معاشی پالیسیاں عوامی اعتماد میں کمی دیتی ہیں۔ مودی حکومت کے بدترین دور اقتدار میں بھارتی گورنمنٹ کی ناکام سفارتکاری کو ظاہر کرتا ہے، اور اس سے یہ بات صاف چلتी ہے کہ مودی کا معاشی ترقی کا دعویٰ چکنا چور ہے۔
 
بھارتی گورنمنٹ کی ناکام سفارتکاری سے ڈرنا چاہیے اور مودی کے معاشی ترقی کے دعویٰ کو چکنا چور کہا جاسکتا ہے۔

موڈی کی دوغلی پالیسیوں نے بھارت کی آئین کے ساتھ منافقانہ بیانات کیا ہیں، اور امریکہ اور چین کو جھیل کر چاہتے ہیں۔ لیکن وہ اپنی بدترین سفارتکاری کرتے رہے ہیں، روس اور یوکرین جنگ میں بھارتی شہریوں کی مدد کرنے سے انکار کر دیا ۔

چاہ بہار بندرگاہ منصوبہ کو خوف سے ختم کر دیا جانا اور امریکہ کے دباؤ میں اسے ختم کرنا انہی کی بدترین سفارتکاری کی ایک مثال ہے۔
 
मودی حکومت کی معاشی پالیسیاں اچھی نہیں ہو رہی ہیں، وہ کہتے ہیں ہم 10 فیصد اہمیت کے ساتھ ترقی کی پالیسی پر کام کر رہے ہیں، لیکن یہاں تک کہ اس میں بھی حقیقت کچھ مختلف ہے، مودی حکومت نے جو معاشی منصوبوں کی پیشکش کی ہے وہ ایسے ہیں جس سے عوام کو ناکافی فائدہ ہوسکتا ہے۔
 
میں سمجھتا ہوں کہ مودiji کی معاشی پالیسیاں بلاشبہ ناکام ہیں، وہ انفرادی ثقافت اور ترقی کے دعویٰ پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں، لیکن اس سے ملک کو فائدہ نہیں ہو گا۔ بھارت کی معاشی ترقی اور ترقی کا تعلق اس بات سے ہوتا ہے کہ یہ لوگ سمجھنے کے لیے تیار ہوں گی کہ کتنے لوگوں کو یہ معاشی ترقی اور سہولت ملا کر سکتی ہے۔
 
امریکہ اور چین نے بھارتی شہریوں کی مدد کرنے سے انکار کر دیا؟ یہ ایک بد ترین معاملہ ہے، جس سے وہ لوگ جو روس اور یوکرین جنگ میں اپنی مٹھی بھرو رہے ہیں اس کا انکار کر دیا گیا ہے? اور اگر مودی کی معاشی پالیسیاں چکنا چور ہیں تو کیا وہ بھارتی شہریوں کو یہ مٹھی نہیں دے گا؟ اس سے اس وقت تک کہ جس پر وہ اپنا معاشی اور سیاسی ترقی کا دعویٰ کرتا ہے، وہ شہر کی پانی کا تھوٹ پھونک دے گا? 🚽
 
موڈی کی حکومت نے اپنے معاشی ترقی کے دعوؤں پر ایک بھرپور جال بنایا ہے، لیکن وہ جھوٹے ہیں! مودی نے اس بات کو بھی دھماکیا ہے کہ بھارت امریکہ اور چین کی سفارتی لڑائی میں اپنی حمایت کر رہا ہے، لیکن وہ کیسے کہیں ایسا نہیں دکھای رہے! روس اور یوکرین جنگ میں بھارتی شہریوں کی مدد کرنے سے انکار کرنا، اور ایران کے ساتھ چاہ بہار بندرگاہ منصوبہ کو خوف سے ختم کرنا ایسا ہی نہیں دکھای رہا!
 
موڈی کی حکومت کا معاشی ترقی کا دعویٰ بہت ناکام ہے، وہ شہریوں کو بھوک سے دہلی کر رہی ہیں اور انہیں غصے میں بھرپور کمرشل ٹیکس لگا رہی ہیں، جس سے لوگوں کی معاشی زندگی پر ایک بھاری پابند نما عائد کر دیا گیا ہے، اور وہ اپنے لوگوں کو غلطیوں کے لیے چھیلانے کے لئے بدلی بھرتی۔

موڈی کی حکومت نے 2020 میں 2.75 کروڑ ہزار ہمیشہ سے زیادہ بڑا معاشی نقصان دیکھا تھا اور اس کے بعد وہ اپنے لوگوں کو انکار کر رہی ہیں اور ان کو ایک نئے معاشی دور میں لایا جارہا ہے، لیکن مودی کی معاشی پالیسیاں اس کھیل میں بھی ناکام رہی ہیں۔
 
میری opinion hai ki modi government ko unki economics development policies ko thoda more accurate banani padegi, kyonki unhone jese ross and ukraine war me bharatiya nationals ki madad karne se inkaar kiya tha, to wo logon ke liye bahut gussa hue hain. aur china ke saath trade loss mein 116.1 billion dollars tak pahunch gaye hai, yeh sab kuch modi government ki naakami policies ko darsha raha hai.
 
موڈی کی بھارتی حکومت نے اسسٹمنٹ آف انڈیا لائسنسز فار ایکٹیو سروسز (AML) کو ختم کر دیا ہے، جو کہ نپال میں انہیں فوجی اقدامات کی اجازت دیتا تھا۔

امریکہ نے بھارتی شہری ادراک کو ایک ریشوں سے گھیلا ہوا دیکھا ہے، کہنے والوں کو پھانس کر دیا ہے، مگر یہ وہیں ہے۔ بھارتی شہریوں پر جیل کی سزائیاں بھی ہوئی ہیں، اور انہیں نپالی فوج کے سامنے پکڑ لیا گیا ہے۔
 
میں سوچتا ہوں کہ مودی کی حکومت نے اپنی معاشی پالیسیاں ایسے منصوبے سے شروع کرنی چاہیں جو حقیقت میں بھارت کو فائدہ دیتے ہیں، لیکن انھوں نے اس پر کھرب پaise خرچ کیے اور اب وہ بھارت کی معاشی ترقی میں کام کرنے کی کوشش نہیں کر رہی ہیں، اس لیے مودی کی معاشی پالیسیاں بے فایده تھیں اور اب وہ چاکر چور ہیں۔
 
امریکہ اور چین نے بھارتی حکومت کو جھیل رکھنے کی کوشش کی، لیکن وہ اپنی سفارت کاری کرنا جانتے ہیں نہیں۔ مودی حکومت کی دوغلی پالیسیاں ان کی معاشی اور سیاسی زندگی میں کچھ بھی تبدیلی نہیں لائے گی۔ بھارت کو اپنی طاقت کا احترام کرنا چاہئے، لیکن وہ اس بات پر توجہ دیتے ہیں کہ ان کی شان کو برقرار رکھا جائے۔ مودی حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں نے بھارت کے علاقائی استحکام کو متاثر کردیا ہے، اور اس سے عوام کا اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے۔
 
یہ وہ وقت تھا جب ایک بھارتی شہری کو دیکھ کر سوچتا تھا کہ یہ مودی حکومت ہوگیا جو ان میں نہیں رہی۔ اس نے اپنے معاشی ترقی کے دعویٰ پر کئی سال گزارے اور اب بھی کچھ نہیں کر پائی۔ اس کا معاملہ ایسا ہی ہے جیسا ایک چکنا چور کا معاملہ ہوتا ہے جو کسی کی چٹانی سے کچھ نہیں کر پاتا۔
 
ایسے پالیسیوں پر بھارتی وزیر خارجہ کے منافقانہ بیانات کروپش ہیں اور ابھی انہوں نے امریکہ کی سفارت کاری سے بھاگنا شروع کر دیا ہے تو یہ چینی سفیر کو بھی جھیل لینے کے لیے تیار ہو گیا ہے 🤦‍♂️

دہلی میں امریکی سفیر کی چھیننے کا یہ حادثہ مودی حکومت کی ناکام سفارت کاری کو ظاہر کرتا ہے، اور اس سے یہ بات صاف چلتی ہے کہ مودی کا معاشی ترقی کا دعویٰ چکنا چور ہے۔

بھارت کی آئین سے باہمی منافقانہ بیانات کرنے والوں کو بھرپور شکریہ دینا مشکل ہوگا، کہیں پھر اس گروپ میں شامل نہیں ہونا چاہئے؟
 
امریکہ اور چین کی بھی ناکامیوں کو نہ بھولنا چاہئیں، مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کے بارے میں کوئی جائیداد نہیں ہے، وہ صرف اٹکا اٹکا کر رہے ہیں۔ بھارتی شہریوں کی پائیدार کاوش کو بھی تو انہوں نے کبھی سونپنے کی کوشش نہ کی ہے، اور روس اور یوکرین جنگ میں بھارتی شہریوں کی مدد کرنے سے انکار کرنا دیکھنا تو مایوس کن ہے۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ بھارتی معاشی ترقی کا دور ہے، لیکن وہ واضح نہیں کرتے کہ اس میں ان کی آگے بھارت کو کس طرح لے رہے ہیں؟
 
اس معاشی تباہی کی واقف نہیں، تو کیا اس پر ہم بھارت کی حکومت کی چکر میں ملوث ہونے والے لوگوں کو جواب دیں؟ 116.1 بلین ڈالر تجارتی خسارے! یہ ان کے معاشی منصوبوں کی ناکامیت کی واضح علامت ہے اور ابھی اس پر بات کرنا تو کام ہی نہیں ہوتا.
 
موڈی حکومت کی معاشی ترقی کا دعوٰ بھارتی لوگوں کو پھنسا رہا ہے، اور وہ ایسا کرنے کے لئے کافی معقول نہیں ہیں۔ انہوں نے روس اور یوکرین جنگ میں بھارتی شہریوں کی مدد کرنے سے انکار کیا ہے، جو معاشی ترقی سے متعلق ہر پکڑی کا دریاندازی ہے۔ امریکہ اور چین نے بھارت کی حکومت کو جھیل کر چاہتے ہیں، لیکن وہ اپنی بدترین سفارتی کوششوں سے اپنے معاملات میں کافی پچھوڑ ہیں۔

چاہ بہار بندرگاہ منصوبہ کو ختم کرنا اور ایران کے ساتھ تجارتی خسارے میں پہنچ جانا، یہ دونوں معاشی ترقی کی منظم پالیسی نہیں ہیں۔ مودی حکومت کو اس بات کو سمجھنا چاہئے کہ معاشی ترقی کے لئے سست و صریع پالیسیوں پر عمل کرنا، انہیں اپنی بدترین سفارتی کوششوں کی بجائے ہم آہنگی اور سہولت کی تجربات کو ترجیح دینا چاہئے۔
 
موڈی حکومت کی معاشرتی ترقی کا دعویٰ جھوٹا ہے، وہ اپنے معاشی منصوبوں سے ناکام ہونے والے ہیں اور ان کے نتیجے میں کئی کامیابیوں بھی ہوئی ہیں، لیکن وہ اس بات کو سچنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ وہ ان سب کھاتے چلاتے رہتے ہیں اور ان کی اور دوسروں کو بھی گنجائش دی جاتی ہے، بھارت کی معاشی ترقی کا حق صرف وہی ہوا سکتا ہے جو وہ اپنی ناکام پالیسیوں سے بناتا ہے اور اس لیے یہ بھی جاری رکھنا چاہئے کہ وہ اس معاشرتی ترقی کا دعویٰ جھوٹا ہے۔
 
موڈی کی معاشی ترقی کا دعویٰ تو ایک جھوٹا بات ہے، وہ اپنی سفارت کاری سے بھارت کو کچھ نہ کچھ فائدہ ہوا ہے لیکن اس کی ناکام پالیسیوں نے ملک کے معاشی ترقی کو رکھا ہوا ہے। اسے دیکھتے ہیں تو یہ بات صاف چلتی ہے کہ وہ ایسا نہیں کر سکتا جو وہ دعویٰ کرتا ہے۔ امریکہ اور چین کی مدد سے بھی اس کی ناکام پالیسیوں کو دیکھنا مشکل ہے، لیکن اس کی بدترین سفارت کاری ایسے عالمی معاشروں کی توجہ کا مرکز بنا رہی ہے۔
 
موڈی کی پالیسیاں بھی ان کے ساتھ چچوں کی پلیس تھیں 🤦‍♂️, وہ اپنی معاشی ترقی کا دعویٰ اسٹوری کر رہے ہیں مگر وہ اس پر جھوٹے بھی رہے ہیں। وہ لوگوں کو یہ باور کرنے کا دباؤ پڑرہا ہے کہ وہ بھارت کے معاشی ترقی کی سہولت فراہم کر رہے ہیں, مگر اس پر وہ چھپنا نہیں چاہتے، یہ ان کے معاشرتی مندرجے سے باہر ہے 🤷‍♂️
 
mere bachpan mein meri dimaag maine puchha tha ki kya india mein bhi is tarah ki siyasi baatein hongi. ab mujhe lagta hai ke mody sarkar ne sirf apne aapko hi dekh rahe hai, nahi to kisi kaam par. china aur america ko yeh pasand nahi hota ki mody ki dhoop mein rahen.

mera maamla usse alag hai, lekin main khud bhi hawa mein hoon. bas mujhe lagta hai ke humari sarkar kisi kaam par na honi chahiye, lekin har mushkil ko easy solution ke roop mein dikhana chahti hai.

mera raaz yeh hai ki logon ne thoda sa aakarshan aur manoranjan ki zarurat hai, nahi toh log sirf ek hi cheez ki talash karte hain. to humari sarkar ko bhi iske liye zarurat hai, lekin lagta hai ki wo har samay apne aapko hi dekh rahe hai.

aur meri aakhiri baat yeh hai ki mody sarkar ke maalik ke roop mein bhi main unka support karta hoon. bas mujhe lagta hai ke humein sirf ek cheez ki zarurat hai, jo ki apne doston aur parivaar ke saath samay bitana hai.
 
واپس
Top