ہندو بیداری پروگرام: RSS کا 15 جنوری سے ملک - Latest News | Breaking

سموسہ فین

Well-known member
15 جنوری سے ملک بھر میں ’ہندو سمیلن‘ کا آغاز ہوا گيا، جسے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آئی ایس ایس) کے کارکنان نے تنظیم کے صد سالہ تقریب کے طور پر منایا ہے۔ اس میں ملک بھر میں لاکھوں لوگوں کی شرکت کا ہدف آر ایس ایس رکھا ہے، جس سے پچاس ریاست اور علاقوں میں تقریباً دو سو سے زیادہ کانفرنسوں کا انعقاد کیا جاے گا۔

برج صوبے کے پرچار پرمکھ کیرتی کمار نے بتایا کہ ’ہندو سمیلن‘ میں مقصد ہندو سماج کو اکٹھا کرنا اور اتحاد کی پیغام دینا ہے، ساتھ ہی لوگوں کو جوڑنا اور تعاون کی طرف سے تجویز کردہ پانچ تبدیلیوں پر توجہ مرکوز کیا جائے گا۔

یہ تبدیلیاں سماجی ہم آہنگی، اتحاد اور قیادت کے حوالے سے تجویز کی گئی ہیں، جو سماجی خامیوں پر قابو پانے میں مدد دے گی اور ذات پات یا طبقاتی تفریق سے بالاتر مشترکہ ہندو شناخت کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

15 جنوری سے 15 فروری کے درمیان 12 اضلاع میں ’ہندو سمیلن‘ کا منعقد ہوگا، جس میں صوبائی، علاقائی اور ضلعی سطح کے عہدیداران شرکت کریں گے۔
 
🤔 یہ ’ہندو سمیلن‘ کو دیکھتے ہی سوچ رہا ہوں کہ آج کی پلیٹ فارم سے بھر پور ادارہ بنایا گیا ہے، مگر یہ ایک صاف اور منظم پلیٹ فارم نہیں ہے، کچھ تازگی کی ضرورت ہوگئی ہے اور اس میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ صرف ایک ایسا ہی مواد ہے جو کہ پچھلے دہائیوں کی پوری تاریخ پر مشتمل ہے، مگر آج کل اس کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، کسی نئی طرح سے ایسا محسوس کروانا چاہئیں جیسے پوری دنیا میں ’ہندو سمیلن‘ کو اکٹھا کرنا اور اس کے مقصد کو صاف دکھانا ہوگا।
 
یہ ’ہندو سمیلن‘ کا آغاز نہیں بلکہ ’ہندو ایکٹیویسم‘ کا آغاز ہے، اس کی وجہ سے پورے ملک میں ’ہندو‘ اور ’ہندوستان‘ کے تصورات پر زور دیا گیا ہے اور یہ صرف ’ہندو‘ لوگوں کے لئے نہیں بلکہ پوری ملک میں یہ پیغام فراہم کیا جائے گا۔

ماڈل کے مطابق، یہ ساتھ ہی ’ہندو‘ سماج کو اکٹھا کرنا اور اتحاد کی پیغام دینے کے ساتھ نہیں بلکہ ’ہندو‘ شناخت کو فروغ دینے کا مشن رکھتا ہے، جس میں سماجی خامیوں کو کم کرنا اور ذات پات یا طبقاتی تفریق سے بالاتر مشترکہ ’ہندو‘ شناخت کو فروغ دینا شامل ہے۔
 
یہ سب کو مل کر دیکھنا بہت اچھا ہوگا، لاکھوں لوگوں کی شرکت نے منظر بنایا ہے جو کہ ہمیشہ سے انفرادی طور پر نہیں رہتے تھے

یہ فیصلہ سماجی ایکٹیوٹس میں تبدیلی لانے کی کوشش کر رہا ہے اور ہندو سمाज کو اکٹھا کرنا اور اتحاد کی پیغام دینا بہت ضروری ہے
 
یہ ہندو سمیلن کا idea really interesting hai 🤔, lagta hai ki yeh samaj ko ekjut karne ka mukabil karta hai, aur logon ko milkar kaam karna sikhaata hai, toh ye to bhi achcha hai. Lekin agar yeh samajik sudhar ke liye hi hota hai to phir bhi agar logon ki garimmat ya samajik status par tujhe kaafi zyada dhyan dete hain to ye thoda sa galat hogi.

Lekin mujhe lagta hai ki 15 January se aayojit hua iss movement ko support karna chahiye, aur iske madhyam se samaj mein ekjutata aur samarpan ka mahatv apnana chahiye.
 
یہ ’ہندوسم’ کی ایک نئی بھرپور بات ہے؟ پہلی بات یہ ہے کہ اس ’ہندو سمیلن‘ میں صرف ’ہندو’ شامل ہونے والے لوگ ہی نہیں ہوں گے، دوسری بات یہ ہے کہ اس کی اہمیت کیا ہے؟ 15 جنوری سے ملک بھر میں لاکھوں لوگوں نے اس میں شرکت کرنے کو آہد کی۔

اس ’ہندو سمیلن‘ کی اہمیت کیا ہے؟ اس سے پچیس ریاست اور علاقوں میں تقریباً دو سو سے زیادہ کانفرنسوں کا انعقاد کیا جاے گا؟ یہ تو بھی ایک بات ہے، اس کا مقصد ہندو समاج کو اکٹھا کرنا اور اتحاد کی پیغام دینا ہے، لیکن اس میں ہندویت سے نا منسلک لوگ بھی شامل ہونے والے ہیں؟
 
[Image of a Hindu person with a big smile, surrounded by people from different states and regions, all holding hands] 😊🌈 15 جنوری سے ہندو سمیلن شروع ہوا تو یہ چاہیے کہ ہم سب ایک دھول میں مل جائیں! 🌪️ اور اتحاد کی پیغام سناؤ، اس سے ہمیں کچھ بھی نہیں پٹا! 💕
 
ایک اچھا بات ہے کہ ’ہندو سمیلن‘ میں لوگ ایک دوسرے سے مل کر اتنا ہی جوش شوق کھیلا گیا، اس کا منظر دیکھنا اچھا لگتا ہے؟ لاکھوں لوگوں نے مل کر شرکت کی، یہ تو ہمارے اس معاشرے کو بھی ایک نیا دور دکھای گیا ہے جو ساتھ ساتھ رہنے اور سماجی خامیوں پر قابو پانے کی طرف کہیں نکلنا چاہئے۔ یہ بات بھی صحیح ہے کہ ان 5 تبدیلیوں پر توجہ مرکوز ہونے سے سماجی اتحاد اور تعاون ہوگا، اگر ہم ایک دوسرے سے جوڑے رہیں تو وہی بھی ساتھ ساتھ رہنے کا سبسڈ ہوگا!
 
یہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے منایا ہوا بھارت میں ایسا تو جاری رہ گیا ہے، کیوں نہ ہم کے لیے بھی? میرے ساتھ اچھا ہندوستانی فلم دیکھنا ہوا تھا جو میں اسے بھی دیکھنا چاہوں گا۔ میٹرو سسٹم کو کتنے کوششوں کی ضرورت ہے، یہ تو کبھی نہیں کہیں میٹرو سسٹم اچھا ہوا ہے، نہیں?
 
بھیٹو کی بات سے نچنے دوں تو نہیں، انھوں نے ’ہندو سمیلن‘ کا منعقد ہونے پر پہلے ہی کہا تھا اور اب وہ اس کے لیے کہے کہ یہ بہت نازک بات ہے، جس پر ملک کے لوگ ایک دوسرے سے جوڑے، اگر یہ واضع ہو کہیں ’ہندو‘ اور کہیں ’دूसरا‘ کو بھی نہیں سمجھا جائے تو اچھا ہوگا۔
 
یہ بھی کچھ نئے ہتھیا گئے ہیں... 'ہندو سمیلن' کا مقصد تو یہاں تک پہنچتا ہے اور دوسرے لوگوں کی نظر سے بھی یقینی بنتا ہے کہ ان چار چار تبدیلیوں کو لائے گے؟ میں اسے سمجھنے سے محفوظ نہیں ہوں گا... یہ جوڑنا اور تعاون کے Concept نہیں چلاگا، سبھی لوگوں کو ایک ہی دھندلے مینے میں لانا ہوگیا... اور قیادت کی بات تو یہی ہوگی کہ کس پر بھی ہر سے تعاون کرنا پڑے گا... میں اسے ہمارے معاشرے کے لیے ایک خطرہ سمجھتا ہوں گا...

انہی تبدیلیوں پر کس طرح لوگ حقدار ہوں گے، اور کس طرح وہ ناقابل اعتماد ہوں گے... میں اس بات پر زور دیتا ہوں گا کہ ان تبدیلیوں کو لانے سے پہلے، لوگوں کو اپنے اور اپنے معاشرے کے بارے میں پہلی baat ہم سے بات کرنی چاہیے...
 
یہ رکھتے ہیں کہ اسے ’ہندو سمیلن‘ کا نام نہیں لگta تھا... وہاں تک کہ میرا بھی گھر پر ایک ’سمیلن‘ ہو جائے تو پچاس لاکھ لوگ اٹھتے ہیں 😂🙃 ساتھ ہی یہ بھی دیکھنا دلچسپ ہو گا کہ پانچ تبدیلیاں کتنے ’اصحاب‘ نے پیش کی ہیں... یا تو ایک ’یوفا‘ یا ایک ’اسٹریٹجک‘ plan 🤔
 
یہ بات حقیقی طور پر خوشنی لگتی ہے کہ ہندو سمیلن کا یہ آغاز ایسے ایک موقع پر ہوا جب ملک بھر میں لوگوں کو اکٹھا کرنا اور اتحاد کی پیغام دینا زیادہ ضروری لگ رہا ہے۔

دوسری طرف یہ بات قابل ذکر ہے کہ ’ہندو سمیلن‘ میں لوگوں کو جوڑنا اور تعاون کی طرف سے پانچ تبدیلیوں پر توجہ مرکوز کرنا ایک بڑا قدم ہے، جس سے ملازمت کی خامیوں کو دور کیا جا سکتا ہے اور اساتذہ کو یہ محض وocation سمجھنے کی چیلنجز سے بچایا جا سکتا ہے۔

یہ تبدیلیاں سماجی ہم آہنگی، اتحاد اور قیادت کے حوالے سے تجویز کی گئی ہیں، جو سماجی خامیوں پر قابو پانے میں مدد دے گی اور ذات پات یا طبقاتی تفریق سے بالاتر مشترکہ ہندو شناخت کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
 
یہ ’ہندو سمیلن‘ ٹرائل وار تھا 🤣 ایک بڑی تقریب منانے کے لیے کہیں پچاس کنفرنسوں اور لاکھوں لوگوں کی شرکت کی تلاش کر رہے ہیں، تو یہ بھی ایک نئا تجویز بڑھانے کا پلیٹ فارم ہو گیا ہے?
 
واپس
Top