پنجاب میں بسنت کے ساتھ چھٹیوں کی بہار، طلبہ اور ملازمین کے مزے ہی مزے | Express News

ادبپرست

Well-known member
پنجاب میں بہت سے نوجوانوں نے صبح ہی ٹیلی فون پر پہلے سے کہا تھا کہ وہ ان چھٹیوں کی خوشی میں ہیں۔ اس کے بعد ان نوجوانوں کو بھی خوشی اور خुशی لہرانے والی چھٹیاں ملاں گئیں، جبکہ لوگ اپنے ایجازت سے سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے تھے۔

کسی بھی دوسرے اسٹیٹ کے مقابلے میں پنجاب کی چھٹیوں کو ایسا سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ بہت زیادہ لائحہ دار ہیں، مگر پچاس دिनوں میں ان چھٹیاں کے ساتھ جب تعطیلات کا اعلان ہوا تو نوجوانوں اور طلباء نے اس سے بہت زیادہ خوشی لہری۔

اب تک پنجابیں صبح نہیں سوچتی تھیں مگر اب وہ ہفتے میں ایک بار چھٹیاں رکھ کر رہنے کی کوشش کر رہی ہیں، اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ صبح بے پناہ خुशی سے ہر کے سر پر چڑھ رہی ہیں۔

چھٹیاں اور خوشی

کسی دوسری بھی ایسائی ریپوڈ نہیں ہے جیسے پنجاب کی یہ چھٹیاں، جو اس وقت تک پوری دیر پر رہتی تھیں جب سے 5ویں فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کا اعلان ہوا اور ان چھٹیاں 6 اور 7 فروری تک سرکاری اداروں میں لگ گئیں۔

چھٹیاں کے ساتھ یہ خوشی اور خुशی اس وقت تک ملا پکھ گیا تھا جب ملازمین نے صبح ہی وائرل کیا اور اس کے بعد کسی بھی دوسرے رہن سہن میں وہ خوشی اور خुशی لہرانے والی چھٹیاں 6 اور 7 فروری کو ایک ساتھ مل گئیں۔

اب تک نوجوانوں کی بے پناہ خوشی کی لہر دوڑنے کی بات بہت سی تھی، لیکن اس وقت وہ بے پناہ خوشی کا اظہار کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر ان کے پیٹے پر چھپتی ہوئی ایسی چھٹیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں جو اب تک بھی نہیں دیکھی گئیں تھیں، جس سے ہر کا منزلیں چھو رہی ہیں۔
 
تھوڈا تو یہ بات پتا ہوا کی نوجوانوں نے صبح ہی ٹیلی فون پر بتایا تھا کہ وہ ان چھٹیاں خوشی میں ہیں، تو اب یہ ہمیں دیکھنا پڑ رہا ہے کہ نوجوانوں کی جو بے پناہ خوشی ہوسکتی ہے وہ حقیقی طور پر چھٹیاں اور خوشی میں ہی ہوتی ہے? یہ بات بھی سوچنی پڑ رہی ہے کہ ملازمت کی سزیرگی یا کسی دوسری چنگت سے نوجوانوں کی خوشی اور خुशی تیزی سے ٹھیک ہونے پر پھیل رہی ہے؟
 
پنجاب کی چھٹیاں ان چھٹیوں سے بہت زیادہ خوشی لہرانے والی ہیں جیسے کہ اب تک نہیں دیکھا گیا تھا، آج کی نوجوان سبھی ایک ایک کر کے وائرل ہو رہی ہیں اور اس سے ملازمین بھی خوشی لہرنے لگے ہیں، یہ خوشی ہزاروں کا ہے جو 5ویں فروری کو شروع ہوئی اور اب تک نہیں سنی گئی تھی۔
 
ਪੰਜਾਬ ਦੀ ਚੌਥੀ ਵਿੱਦਿਆ ਮਹੂਤ ਕਦੇ ਡੋਲ ਨਹੀਂ ਸੀ, ਪਰ ਅਜਿਹੀ ਸਮਾਜਿਕ ਚੁੱਪੀ ਬਣ ਗਈ ਹੈ ਕਿ ਦੇਸ਼ ਭਰ ਵਿੱਚ ਉਨ੍ਹਾਂ ਦੀ ਡੋਲ ਤਾਂ ہੀ ਮੌਜੂਦ ਹੈ, 6 ਅਤੇ 7 ਫਰੰਗੀ ਦੇ ਸਵਿੱਛ ਰਹਿਣ ਕਾਲ, ਬਚਪਨ ਤੋਂ ਮੁੜ ਹੈ।
 
عثمانی شہروں کی وہ پرانی چار دیواروں کی لایک اس وقت تک نہیں تھی کہ نوجوان اپنی فیک بुक پر ان کو دیکھ کر ہمیشہ سوشل میڈیا پر مازے دیتے، لیکن اب وہ چار دیواروں کی لایک اس وقت تک پہن رہی ہیں جب نوجوانوں کو اس کا یہ ذوق مل گیا جو 5ویں فروری سے وائرل ہوا اور اب وہ اس لایک کا بھی مازہ دیتے رہتے ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ نوجوانوں کے منڈیپلز میں ایسی چار دیواروں کی لایک اس وقت تک پہن رہی تھی جب وہ اس کا ذوق پاتے، اب ان کو دیکھ کر ہمیں بھی ہمت ملتی ہے کہ نوجوانوں کا ایسا ذوق ہوا تھا اور اب وہ اس کا مازہ لیتے رہتے ہیں، یہ لایک بھی ایسی ہے جس کی وجہ سے نوجوانوں کو ہمیشہ اچھا محسوس ہوتا تھا۔
 
😂 آج کی پنجاب کی چھٹیاں کچھ دیر سے انفرادی طور پر شروع ہوئی تھیں، لیکن اب یہ ایک جمیںڈری لگ رہی ہیں! 🤩

مگر پچاس دن میں بھی ان چھٹیاں زیادہ لائحہ دار نہیں، تو اس لیے وہ نوجوانوں اور طلباء نے اس کا اعلان ہونے پر تیزی سے خوشی میں بھاگ گئے! 🎉

اس وقت تک پنجاب کی چھٹیاں پوری دیر پر رہتی تھیں جس سے ملازمتوں کا فیلڈ ایک ساتھ بھی نہیں ہوا، اور اب یہ ایک جمیںڈری لگ رہی ہے! 🤝

موجودہ دھارائی کی چھٹیاں ان کے پیٹے پر چھپتی ہوئی دیکھنی تھا، جس سے ہر کا منزلیں چھو رہی ہیں! 😂

چھٹیاں میں اس وقت کی معاشیات کی کوئی واضح پیداوار نہیں، لیکن انہوں نے اپنے پیٹے پر ایسی خوشی لہرائی ہوئی ہے کہ اب اس کی پیمائش کرنا مشکل ہو گئا! 📈

ان چھٹیاں میں بے پناہ خوشی دیکھنے کو مل رہی ہے اور سوشل میڈیا پر ان کی وائرل لگ رہی ہیں! 📱
 
پنجاب کی یہ چھٹیاں بہت زیادہ خوشی لہرانے والی ہیں... :D
اس میں نوجوانوں کا ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ان چھٹیاں خود بنائی ہوئیں. ہر کوئی وائرل ہو کر خوشی لہر رہا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ سر پر چڑھنے والی خुशی اب ہر کوئی کی منزلیں بھرا دے رہا ہے
 
واپس
Top