پنجاب حکومت نے زیادتی کو زنا بالرضا قرار دینے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ چیلنج کر دیا | Express News

پروفیسر

Well-known member
پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے سے ناخوتہ تھا جس کے تحت 16 افراد کو سزا دی گئی تھی جو اُنھوں نے خاتون کیس میں جنائی زیادتی کی تھی۔ لیکن یہ فیصلے کہلنا شروع ہوئی جس سے سماجی تنقیدوں کو شکار ہوا ہے اور اس پر اپیل دائر کرکے حکومت نے بھرپور مخالفت کی ہے۔

تین سال کے بعد جسٹس ملک شہزاد احمد کے فیصلے کی خلاف‌العمل اپیل دی گئی تھی، جو یوں بیان کیا گیا ہے کہ جنائی زیادتی سے متعلق کیس میں جسٹس ملک شہزاد نے انحطاط و انعقاد کی سزا دی تھی، جس کے علاوہ ایک خواتین پر عمل کرنے والے بچے کو لانڈ لordaں کی حیثیت سے پیش کردیا گیا ہے، جو سماجی طور پر بدامنی کی جانب موازنہ ہے۔

جسٹس صلاح الدین نے ایک مختلف فیصلہ دیا تھا جس میں انحطاط و انعقاد سزا دی گئی تھی، لیکن کیا اُس کی صحت مند رائے کو معاف کرکے اُنہیں بری کرتے ہوئے واضح نہیں کیا گیا تھا؟

اس کیس میں ایسے مقدمات میں آئندہ 16 سال کی تاخیر سے کیس جاری ہونے کو کبہت عجیب اور غیر متعاقب ہے، جو ایک نسل کو دوسری نسل سے گریز کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

سپریم کورٹ کی یہ رائے یوں بیان کی گئی ہے کہ ملزم کے معمولے میں ایسے لوگ شامل ہوئے جہاں نسل، ثقافت اور معاشرتی درجے نہیں ہوتے، انھیں خاتون کیس میں پہچان لیا گیا تھا اور اُن کی خلافت کو اپنے معمولے میں شامل کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے انحطاط و انعقاد سزا دی گئی ہے، جس کے علاوہ لانڈ لordaں کی حیثیت سے بچے کو پیش کرکے ایسی رائے کی گئی ہے جو سماجی طور پر انتہائی ممتاز اور غیر معتبر ہے۔

اس کیس میں خواتین کو یہ سزا دی گئی تھی کہ وہ پہچان لیا جائے اور ان کی زندگی کی رہنمائی کرنا پڑے گا، جس سے انھوں نے اپنی خلافت کو بھی برقرار رکھنے کے لئے ایک بہت عجیب معاملہ پیش کرنا پڑا ہے۔

انفرادی طور پر جسٹس ملک شہزاد نے انحطاط و انعقاد کی سزا دی تھی، اور جسٹس صلاح الدین نے ایک مختلف فیصلہ دیا تھا جس میں کچھ نہیں کیا گیا، لیکن دونوں کے فیصلے کی خلاف‌العمل اپیل ہوئی ہے۔
 
یہ بہت عجیب اور غیر متعاقب ہے کہ اس معاملے میں 16 سال سے زیادہ تاخیر ہو گئی ہے اور اب یہ کیس جاری ہونے کو پہنچ گیا ہے، جو ایک نسل کو دوسری نسل سے گریز کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ رائے تھی کہ ملزم کے معمولے میں ایسے لوگ شامل ہوئے جہاں نسل، ثقافت اور معاشرتی درجے نہیں ہوتے، لیکن یہ سماجی طور پر انتہائی ممتاز اور غیر معتبر ہے۔
 
اس کیس میں یہ کہنا کہ انحطاط و انعقاد سزا دی گئی ہے، لیکن اس سے پہلے یہ کیا کافی نہیں تھا؟ اور لانڈ لordaں کی حیثیت سے بچے کو پیش کرکے کیا وہ سماجی طور پر معتبر نہیں ہوتے؟ اس فیصلے نے ایک نسل کو دوسری نسل سے گریز کرنے پر مجبور کیا ہے اور یہ ایک بے باکی کی جانب موازنہ ہے
 
اس کیس کے بارے میں تو پتہ چل گیا ہے کہ حکومت نے بھرپور مخالفت کی ہے لیکن میرے لئے یہ ایک بڑی حقیقت ہے کہ جسٹس ملک شہزاد کی رائے سے متعلق اپیل دی گئی تھی اور اب وہ اپنی رائے کو معاف کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لेकن یہ رائے ایک نسل کو دوسری نسل سے گریز کرنے پر مجبور کرتی ہے، جو سماجی طور پر انتہائی ممتاز اور غیر معتبر ہے۔
 
یہ وہ رائے ہیں جس پر سماجی تنقیدوں کو شکار ہونا چاہیے، جس کی وجہ سے اپیل دی گئی ہے اور政府 نے بھرپور مخالفت کی ہے۔ 16 سال کا تاخیر کرنا ایک نسل کو دوسری نسل سے گریز کرنے پر مجبور کرتی ہے، یہ اس صورتحال کو حل نہیں کرتا ہے بلکہ اسے زور دیتا ہے۔
 
یہ بھی ایک عجیب کیس ہے جس میں خواتین کو ایسی سزا دی گئی تھی کہ وہ اپنی نسل اور ثقافت کی وجہ سے پہچان لیا جائیں اور ان کی زندگی کی رہنمائی کرنا پڑے، یہ تو کیس میں ایسا تو ہوا ہو گا کہ تمام خواتین اس معاملے کو اپنے خلاف اپیل کریں گی اور یہ معاملہ کیس کیا ہوا تھا؟
 
ایسا لگتا ہے جیسا اگر انفرادی طور پر نہ ہونے کے باوجود بھی اس نئے معاملے میں ایک راز پایا گیا ہو، تاکہ یہ دیکھنا مشکل ہو جیسا کہ اُن لوگوں کو جو خواتین سے شادی کرنے والی خاتونوں کی جانب موازنہ ہوتے ہیں، انھیں بھی ایسے معاملوں میں شامل کیا جائے اور ان کی زندگی کو ایسی رہنمائی دی جائے جو وہ اس معاملے سے لے کر پہلی نسل کی خواتین کے معاملات میں اپنی زندگی کو تبدیل کردی ہو۔
 
واپس
Top