انٹارکٹکا میں ایک پینگوئن جو برف سے ڈھکے پہاڑوں کی سمت بڑھتا دکھایا جا رہا ہے، اسے اب ’’نہلسٹ پینگوئن‘‘ کہا جارہا تھا جو سوشل میڈیا پر نئی وائرل ترین کلپس میں شامل ہوا ہے اور لوگ اسے خاموش بغاوت، ذہنی تھکن یا سماجی دباؤ کی علامت کے طور پر درجہ بندی کر رہے تھے۔ جس وقت اس منظر کو ’’نہلسٹ پینگوئن‘‘ کا نام دیا گیا، پہلے نہیں سمجھا گیا تھا کہ یہ ساسور کی فلم ’’ایک موت کا سفر‘‘ سے لینا ہوگا جو 2007 میں ریلیز ہونے والی ڈاکیومنٹری تھی۔
پہلے یہ منظر اس فلم کے آخری حصے سے لینے پر مبنی تھا جس میں ایک ایڈیلی پینگوئن کو برف سے ڈھکے پہاڑوں کی سمت بڑھتا دکھایا جاتا تھا اور اس کے راز میں ورنر ہرزوگ نے بتایا تھا کہ یہ سفر موت پر منتزع ہوتا ہے اور انہوں نے اسے ’’موت کی جانب مارچ‘‘ کہا تھا۔
19 برس بعد یہی منظر دوبارہ سامنے آیا اور ڈیجیٹل دنیا میں جذباتی ردعمل کی لہر دوڑ گئی۔ اس وقت یہ سوال پیدا ہوا کہ آیا یہ وہی پینگوئن تھا جو پہلے 2007 میں فلم میں دکھایا گیا تھا، یا یہ سب انسانوں کی اپنی تشریحات تھیں؟
تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ اس ویڈیو کی اصل وہیں اور نہیں جو لوگ سمجھا رہے تھے۔ یہ ویڈیو پہلے سے موجود ایک فلم ’’ایک موت کا سفر‘‘ سے لی گئی ہے اور اس میں بھی اس منظر کا واقعہ دکھایا جاتا تھا۔
اس سائنسی حقیقت کو استعمال کرتے ہوئے لوگ بتاتے ہیں کہ وہ پینگوئن کسی فطری یا حیاتیاتی خرابی کی وجہ سے راستہ بھول رہا تھا اور اس نے اپنا سفر دوسرے جانوروں کی طرح چل پڑتا ہے۔
اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب کسی جانور کو کالونی سے الگ ہونے پر کچھ کا راستہ بھول جاتا ہے تو وہ ایک فطری عمل میں چل پڑتا ہے۔ اس طرح کی جانوروں کو گھیرنے سے بچانے کے لیے انہیں اپنے راستے سے لگا کر واپس چلاانا پڑتا ہے، جبکہ نہیں تو موت کی طرف جانے لگتے ہیں۔
اس کہانی میں ورنر ہرزوگ کی ایسی شخصیت اور اس کی فلموں کی دنیا کو شامل کرنا ہمیشہ سے دلچسپ رہا ہے، جبکہ انہیں اپنی فلموں میں ناواقفیت اور غیر واضح تصورات کی وجہ سے کافی تنقید کا سامنا ہوا ہے۔
پہلے یہ منظر اس فلم کے آخری حصے سے لینے پر مبنی تھا جس میں ایک ایڈیلی پینگوئن کو برف سے ڈھکے پہاڑوں کی سمت بڑھتا دکھایا جاتا تھا اور اس کے راز میں ورنر ہرزوگ نے بتایا تھا کہ یہ سفر موت پر منتزع ہوتا ہے اور انہوں نے اسے ’’موت کی جانب مارچ‘‘ کہا تھا۔
19 برس بعد یہی منظر دوبارہ سامنے آیا اور ڈیجیٹل دنیا میں جذباتی ردعمل کی لہر دوڑ گئی۔ اس وقت یہ سوال پیدا ہوا کہ آیا یہ وہی پینگوئن تھا جو پہلے 2007 میں فلم میں دکھایا گیا تھا، یا یہ سب انسانوں کی اپنی تشریحات تھیں؟
تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ اس ویڈیو کی اصل وہیں اور نہیں جو لوگ سمجھا رہے تھے۔ یہ ویڈیو پہلے سے موجود ایک فلم ’’ایک موت کا سفر‘‘ سے لی گئی ہے اور اس میں بھی اس منظر کا واقعہ دکھایا جاتا تھا۔
اس سائنسی حقیقت کو استعمال کرتے ہوئے لوگ بتاتے ہیں کہ وہ پینگوئن کسی فطری یا حیاتیاتی خرابی کی وجہ سے راستہ بھول رہا تھا اور اس نے اپنا سفر دوسرے جانوروں کی طرح چل پڑتا ہے۔
اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب کسی جانور کو کالونی سے الگ ہونے پر کچھ کا راستہ بھول جاتا ہے تو وہ ایک فطری عمل میں چل پڑتا ہے۔ اس طرح کی جانوروں کو گھیرنے سے بچانے کے لیے انہیں اپنے راستے سے لگا کر واپس چلاانا پڑتا ہے، جبکہ نہیں تو موت کی طرف جانے لگتے ہیں۔
اس کہانی میں ورنر ہرزوگ کی ایسی شخصیت اور اس کی فلموں کی دنیا کو شامل کرنا ہمیشہ سے دلچسپ رہا ہے، جبکہ انہیں اپنی فلموں میں ناواقفیت اور غیر واضح تصورات کی وجہ سے کافی تنقید کا سامنا ہوا ہے۔