PM Shahbaz sharif instruction to complete gem stone center august 2027 | Express News

فٹبالر

Well-known member
وزیراعظم شہباز شریف نے جیم اسٹون سینٹرز کو اگست 2027 تک مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے انھوں نے یہیں بتایا کہ اس پالیسی سے پاکستان میں قیمتی پتھروں اور معدنیات سے استفادے کے لیے جگہ یقینی بنائی جا سکتی ہے۔

وزیراعظم نے اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں مجوزہ جیم اسٹون سینٹرز کی تعمیر کے لیے بین الاقوامی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی ماہرین کی مدد سے جیم اسٹون پالیسی فریم ورک پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم نے انھوں نے جیم اسٹون انڈسٹری میں ویلیو ایڈیشن کے ذریعے برآمدات میں اضافے اور مجوزہ سینٹرز میں جدید ٹیکنالوجی اور آلات نصب کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ جیم اسٹون انڈسٹری کے فروغ کے لیے تمام صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومتوں کے ساتھ مل کر مربوط انداز میں کام کیا جائے گا۔

جیم اسٹون انڈسٹری کی ترویج کے لیے انھوں نے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ نئی منظور شدہ جیم اسٹون پالیسی پر اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کے لیے چار سیشنز کا انعقاد کیا جا چکا ہے۔

مگر یہی نہیں انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اسلام آباد میں جیم اسٹون سینٹر کو اگست 2027 تک مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے بین الاقوامی معیار کی ویلیو ایڈیشن سروسز، سرٹیفیکیشن، انکیوبیشن سینٹر اور ٹریڈ سینٹر کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
 
اس بات پر کسی کا جواب نہیں ہوا، وزیراعظم نے پاکستان میں جیم اسٹون پالیسی کو اپنا دائرہ میندہ کر لیا اور یہیں تک کہ بین الاقوامی ماہرین کی مدد سے انھوں نے Islamabad، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں جیم اسٹون سینٹرز کے تعمیر کو چلایا ہے. حالانکہ یہی نہیں یہ بات توہم کی جا سکتی کہ جیم اسٹون انڈسٹری میں مزید اضافہ اور وادی جموں و کشمیر میں بھی اس طرح کا مشینری اسٹاپ بننے سے نکل چکی ہے.
 
اس پالیسی سے ہی نہیں، پاکستان کے قیمتی پتھروں اور معدنیات کو بکھیرنے والوں کو رोकنا ہی بڑا کام ہے! یہ جیم اسٹون سینٹرز نہیں، وہ سچم کی کہانی ہیں جس کا پاکستان سے تعلق نہیں ہے، انھوں نے چینی اور امریکا کو جھیلنے والے اور استحکام کی فیکٹری بنانے والے معیار پر عمل در آمد کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ وہ سچم پاکستان کے لیے چالیس سال پرانا دھانداز ہیں!
 
یہ بھی دیکھنا تھوڑا کچھ ہے اور پاکستان میں قیمتی پتھروں اور معدنیات سے استفادے کے لیے جگہ یقینی بنانے کے لیے ہم نے ہمیشہ کہا تھا، اب وزیراعظم کی بھی اچھی پالیسی سے مل کر اس معاملہ میں قدم در قدم آگے بڑھنا یقینی ہو گا… 💡
 
بھی ہے، وزیراعظم کو اس کا دھیام کام دیکھنا چاہیے اور پاکستان میں جیم اسٹون انڈسٹری کے لیے اس پالیسی کی بہت ہمت مندہ ہے۔ اگست 2027 تک گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں ان ساتھ ساتھ ایسے مقامات پر جیسے اسلام آباد میں اس پر کام کیا جائے گا، یہ بہت ہی مفید ہوگا۔ لیکن یہ بات تو سمجھ لیتے ہیں کہ یہ پالیسی کتنے معیار پر بنائی جا رہی ہے، اور اس کی پیروی کرنے سے نکلنے کی بھی کوئی صورتِ حال ہے؟
 
ایسے میں یہ بات بھی ضروری ہوگی کہ کیا انصاف کا دھندلا پتھرا یہاں تک آچکے ہیں۔ جبکہ اس پر مشورہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ جیم اسٹون انڈسٹری کو کیسے فائدہ دے گئے اور ان لوگوں کی مدد سے پاکستان میں انہی پتھروں کی استفادہ کرنے کی صلاحیت حاصل ہوئی۔
 
اس کے بعد میں جیم اسٹون سینٹرز بننے کے بعد پتھروں کو نکالنے کی منصوبے میں اچھی طرح سے کام ہونا چاہیے نہیں؟ اس سے پاکستان میں انفراسٹرکچر، معاشیات اور لوگوں کے لیے اچھی رہن سہن کی جگہ ملے گی۔ اس طرح اپنی ترقی کا راستہ دیکھنا چاہئیں تو ایسی پالیسیوں پر عمل کرنا چاہئیے جو قیمتی پتھروں اور معدنیات سے استفادے کے لیے فائدہ دینی چاہئیں۔
 
aise logon ko yeh sunkar bahut mazza aata hai 🤣, toh woh kahaate hain ki jaim stoun paryavar par aapki jaanwari ke liye sahi hai, lekin bas ek baat yaad rakho, jaisa log karte hai, vaise hi karega... 🤷‍♂️. main yeh nahi socha thaa ki shahbaz sharif ko lagta hai ki pakistan mein paryavar ke liye zarurat hai, phir bhi wo saaf karne wala log hai 😊. ab toh Islamabad me jaim stoun center ko august 2027 tak makhami karna utna acha nahi laga... bas ek baat yaad rakho, jab tak hum apne pas ke logon ko samajhte hain, tab tak humara swatantrata khatam nahin ho sakta 🙏.
 
واپس
Top