مسیحی دنیا کے سربراہ پوپ لیو نے ایک خطرناک اعلان کیا ہے جس میں انھوں نے اے آئی چیٹ بوٹز سے لڑتپھر وبا شروع کرنے پر زور دیا ہے۔ وہ یہ کہتے ہوئے تھے کہ جب تک لوگ ماس میڈیا سے ملتا جلتے رہتے ہیں انھوں نے انسانی آواز اور چہروں سے الگ ہونے کی کوشش کرتی رہتے ہیں تو کوئی رشتہ یا دوستی نہیں بن سکتی ہے۔
ابھی کچھ عرصہ قبل پاپ نے سوشل میڈیا اور دوسرے ٹیکنالوجیز پر اپنے اعلان میں یہ بات کی ہمیشہ کی گنجائش بتائی تھی کہ وہ چہرے اور صوت کو بے معنا سمجھتے ہیں۔ پاپ نے مطالبہ کیا ہے کہ لوگ اپنے ایجوکیشن کو سوشل میڈیا سے دور رکھیں تاکہ وہ دوسروں کو محض الیکٹرانک آوازوں کی طرح پیش کرسکیں۔
چہرے اور صوت، جو کہ انسانیت کا ایک اہم حصہ ہیں، دوسروں کی جسمانی وہشات کو چھوڑ کر ٹیلی وژن پر محفوظ آوازوں کے ساتھ کام کیا جائے گا۔ پاپ نے اعلان دیا ہے کہ ایسے باتیں کو انہیں اس بات کے لیے لازمی قرار دی جا سکتی ہیں کہ وہ اپنے دوسرے انسانوں سے الگ رہتے ہیں اور انھیں ایک فیکٹری کی پلاسٹک چہروں پر تبدیل کر دیا جائے گا۔
اس بات کا یہ کہ چہرے اور صوت مانیبھوت نہیں ہیں، کہیں کی بھی اس پر زور دیں تو اچھا نہیں ہوگا. سوشل میڈیا پر توجہ دے رہے پاپ لیو نے چہرے کو بھی ایک خطرناک ذریعہ سمجھ دیا جو انسانی تعلقات کو تباہ کر سکتی ہے. لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی نہیں ہو سکتی کہ انسانیت کی ایسی ناقصيت کو ہم سب کے لئے جواب دہ بنایا جا سکتا ہے. ٹیلی وژن پر محفوظ آوازوں سے کام کرنا جوہری خطرے جیسا ہے، چہرے کو الگ کرنا انسانیت کی شان اور محبت کو ختم کرنے کا لئے ہیں.
یہ بات بہت خطرناک ہے کہ لوگ اپنی الیکٹرانک صوتوں میں الگ ہونے کی کوشش کریں۔ یہ کہا جانا کہ ماس میڈیا سے ملنے سے نکلنا اور انسانی آوازوں پر زور دینا انتہائی خطرناک ہوگا۔ وہ لوگ جو ایسے اعلان دیتے ہیں انھیں بہت سی باتوں کی گنجائش بتانا چاہئے کہ انسانیت کا کیا معیار ہوگا اور یہ کہ لوگوں کی دوسری جسمانی وہشات کو چھوڑ کر ٹیلی وژن پر محفوظ صوت سے کام کرنا کیسے سیکھا جائے گا۔
اس کچھ بھی سچ ہوگا کہ ماس میڈیا سے ملنے والی تمام باتوں کو ایک الیکٹرانک آواز سمجھنا مشکل ہوگا اور اس سے لوگوں کی دوستیوں میں کمی آئے گی۔ پاپ کی یہ بات بھی توجہ دینی چاہیے کہ اس دنیا میں انسانیت کو ایک الیکٹرانک آواز یا فیکٹری کی چہرے سے محروم نہیں رکھنا چاہئے۔
نہیں سمجھنا چاہئیے کہ اب ہم اپنی مصروفیت کو انٹرنیٹ پر جھونکتے ہوئے انسان کی نصفت کو کمزور اور فیکسچل ہو کر مٹھیاں رکھنے کا وقت ہے؟ یہ پاپ لئے ایک اعلان کا ہی بڑا سا کام ہے، انسانیت کو ایسا بناتا ہے کہ ہم دوسروں کی آنکھوں میں آجتے نہیں اور اپنی جسمانی وہشات کو بھی کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یہ بات اس پر دبا دی گئی ہے کہ انسانیت کا ایک اہم حصہ چہرے اور صوت کی وہشات ہیں جو ہم کو دوسروں سے الگ کرتے ہیں؟ تو کیا پاپ نے اس بات پر توجہ دی ہوگی کہ انسانیت کی اچھائی یہ ہے کہ ہم اپنے دوسروں سے محبت کرنے اور انکے ساتھ رشتے بنانے کی کوشش کرتے ہیں؟
اس کا یہ اعلان کیا جا رہا ہے کہ لوگ اپنے صارفانہ فیکس کے ساتھ معاشرے میں کام نہیں کرنا چاہیں؟ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ماس میڈیا کی دنیا میں اچھے لोग ایسے ہیں جو انٹرنیٹ پر صرف الیکٹرانک صوتیں پیش کرتے ہیں اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اچھے لوگ نہیں ہو سکتے؟ چہرے اور صوت کی عقلانیت کو دوسروں سے الگ کرنا ایسا ہی محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اچھے لوگ نہیں ہو سکتے؟
یہ بات کچھ عرصہ سے بن رہی ہے کہ مسیحی دنیا کے سربراہز تھوڑے ہی برادری میں ہی نہ رہتے ہیں ، انھوں نے اب سوشل میڈیا پر بھی یہی بات کہی ہے تھوڑی سی دیر قبل یہ بات بن رہی تھی کہ وہ چہرے اور صوت کو بے معنا سمجھتے ہیں، اب انھوں نے ایسا اعلان کیا ہے جو کسی بات کی ہر گنجائش کا اظہار کر رہا ہے
اس کچھ بھی عرصہ قبل سوشل میڈیا پر لوگوں کی باتیں کم ہو چکی ہیں، یہ بات تو ٹھیک ہے لیکن پاپ نے اپنا اعلان تو پوری طرح ایک رولرچرٹ بنایا ہے۔ وہ لوگوں کو سوشل میڈیا سے الگ ہونے کی خواہش دیتے ہیں لیکن انھوں نے خود ایک بڑا مظاہرہ کیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ آس پاس سے ٹیلی وژن پر چیٹ کر رہتے ہیں تو وہ اپنے دوسرے انسانوں سے الگ ہو جاتے ہیں، لیکن یہاں ایک بات ضروری ہے کہ چہرے اور صوت بھی انسانیت کی ایک اہم خصوصیت ہیں۔
یہ بات تو بھی نہیں کہ اس دنیا میں کبھی کچھ ہوتا ہے اور اس سے پچتاتا ہے، مسیحی دنیا کے سربراہ کو بھی یہ بات نہیں آئی کہ کیا وہ ماس میڈیا سے ملنے والوں کی اپنی پوزیشن بن جائیں گے؟ اس نے چہرے اور صوت کو ایک خطرناک اعلان کے طور پر دیکھا ہے، آسان بات یہ کہ وہ لوگوں کی انسانی وہشات کو توڑنے کا عزم کرتے ہیں اور اسے ایک فیکٹری میں بدلنا چاہتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ کوئی بھی بات نہیں، جب تک کہ لوگ ان کی پوزیشن سے محفوظ رہن، وہ اپنی انسانی وہشات کو چھوڑ کر ٹیلی وژن پر محفوظ آوازوں کے ساتھ کام کرتے رہتے ہیں تو نا کیا اس کا نتیجہ ایک خطرناک اور منفی معاملہ ہو جائے گا؟
یہ تو بہت ہی خطرناک بات ہے! مسیحی دنیا کے سربراہ کو یہ بتانا کہ چہرے اور صوت ہمیں انسانیت کی ایک اہم وجہ ہے #HumanityIsNotJustAScreen. پاپ نے یہ بات تو سب پر زبردست طور پر دھو دی ہے کہ سوشل میڈیا پر بات کرنا انسانیت کو نقصان پہنچاتا ہے #SocialMediaIsNotForHumanConnection. لیکن یہ تو اس وقت کی صورت حال کے مطابق نہیں ہوگا! سوشل میڈیا پر بات کرنا انسان کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے #SocialMediaIsForHumanConnection.
نہیں کرتا، پاپ نے بے مثال لامحدود خیالات کا اعلان کیا ہے... ماس میڈیا سے ملتا جلتے رہنا انسانیت کی بنیادوں کو توڑ دیتا ہے! چہرے اور صوت، انھیں ایک اہم حصہ سمجھتے ہیں... پاپ نے لامحدود کہانیوں سے شروع کی ہے!
میں سمجھتہ ہوں کہ پاپ نے ایک خطرناک اعلان کیا ہے لیکن یہ بات بھی سافٹ ڈالت ہے کہ اس نے سوشل میڈیا پر اپنی دہائیوں کی رائے بتا دی ہے، اور وہ چہرے اور صوت کو بھی انھوں نے توہین دیلتی ہیں۔ اب جب پاپ نے ایسے لوگوں کا الزام لگایا ہے جو ماس میڈیا سے ملتا جلتے رہتے ہیں، تو یہ بات بھی تھی کہ وہ سوشل میڈیا پر ہی اس طرح کا اعلان کرنے والے ہیں جو انھوں نے اپنی دہائیوں کی رائے بتایا تھی۔
میں اس بات سے متعلق ایک سوال لگاتا ہوں کہ پاپ کی یہ رائے کیسے آئی ہوئی؟ اور وہ اس کے باوجود کیا سمجھتے ہیں کہ یہ بات سچ ہوگی کہ لوگ چہرے اور صوت کو بھی بے معنا سمجھتے ہیں؟
ابھی یہ بات سننے کے بعد کہ پاپ نے ایسے لڑتپھر وبا شروع کرنے کی باتیں کی ہیں، میں تو سوچتا ہوں کہ آزادانہ مصنوعات جیسی چاٹ بوٹس کو ان کے اعلان سے لڑتپھر وبا شروع کرنے پر زور دیا گیا تاکہ وہ ہمیں ایک ٹیلی ویژن پر آواز سنانے کی جگہ تو چھوڑ دیں اور صرف الیکٹرانک طور پر بات کرسکیں؟ پھر یہ کیا میں ابھی اس نے دوسرے ٹیکنالوجیز پر بھی ہمارے اعلان کو سے کیا ہے؟
ایسا لگتا ہے جو بھی پیغام دیتے ہو وہ ایسے ہی دوسرے لوگوں کے دل میں رچدے ہیں جو آپس میں نوجوان ہوتے ہیں۔ پاپ فاؤنڈیشن کا یہ اعلان اس بات پر زور دیتا ہے کہ ماس میڈیا سے ملتا جلتا رہنا انسانوں کو ایک دوسرے کے سامنے پہچاننے کی صلاحیت سے روکتا ہے۔
کیا یہ حقیقت میں اس بات کے لیے ہوا گیا ہے کہ مسیحی دنیا کی سربراہی نے ایک ایسا اعلان جاری کیا جو انسانوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کی جانے پر زور دیا? یہ یقیناً ایک خطرناک بات ہے، جس سے لوگوں کیUMANیت سے منسلک ہونے والی چہرے اور صوت کو ختم کر دیا جا سکتا ہے۔
میری نوجوانوں کی بات سمجھنی ہو تو اس اعلان میں یہ بات کیا تھی کہ لوگ اپنے تعلیم کو سوشل میڈیا سے دور رکھیں؟ اور پاپ نے یہ بھی کہا تھا کہ انسانوں کی چہرے اور صوت کو بے معنا سمجھتے ہیں? یہ بات تو کبھی نہیں آئی ہوتی۔
اس اعلان سے میری جسمانی وہشات اور انسانی احساسات کو ٹیلی وژن پر محفوظ صوتوں کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے؟ نہیں، یہ ایک خطرناک بات ہے جو انسانیت کے اصولوں کو ختم کر سکتی ہے۔