پی ٹی آئی کی اندرونی مفرح تنگاتنگ ہوگئی ہے جس میں عمران خان کی بہن علیمہ خان اور سینیٹر مشال یوسفزئی نے ایک دوسرے پر تنقید کی ہے۔
ان کا بیان ایک مینشنگ میڈیا کا رول پلے بن گیا ہے جس میں عمران خان کی بہن علیمہ خان نے مشال یوسفزئی پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ عمران خان کی خیرخواہ نہیں ہیں۔
اب علیمہ خان نے اپنے بیان کو آئی ایل جینیریٹڈ کہا ہے اور کہا ہے کہ میرے خیال میں مشال یوسفزئی خان صاحب کی خیرخواہ نہیں۔
اب مشال یوسفزئی نے رد عمل دیتے ہوئے علیمہ خان کے بیان کو انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ میں ان کی بہن ہوں تو مجھے ان سے احترام حاصل ہوتا ہے اور وہ مجھیں قابل احترام سمجھتی ہیں۔
مشرق نے بتایا کہ عمران خان نے انہیں اس قسم کی تحریکیں روکنے سے روک لی ہیں اور اب انہوں نے کہا ہے کہ صرف ان کی بہن نورین نیازی صاحبہ میڈیا کے سامنے بیان دے گی۔
مشرق نے کہا کہ اس سے پہلے بھی وہ انہیں اسی طرح کی تحریکیں کر رہی تھیں اور جب ان کی یہ تحریریں میڈیا پر آئیں تو انہوں نے بتایا کہ وہ ایئی ویڈیوز تھیں اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ باہر اس طرح کی تحریکیں میڈیا کو نہیں دیں۔
اس سینیٹر نے کہا ہے کہ جب ان پر گرفتاری کرائی گئی تھی تو انہوں نے بتایا کہ میرا ذکر ہوتا تو میں فیک ہوگیا اور انہوں نے مجھے جیل میں بھی یہی کہا تھا۔
اس سینیٹر نے کہا کہ وہ اب 4 اکتوبر کی گرفتاری کے بعد ان کی فون کے اسکرین شاٹس لیک ہوئے جس میں اپنا ذکر تھا۔
اس سینیٹر نے کہا کہ وہ اب یہی کہتے ہیں کہ جس بات کا بیان آج کر رہا ہے اور اس پر بیان دینا وقت کا ضیاع سمجھتا ہوں۔
اس سینیٹر نے کہا کہ ان کی اپنی پالیسی تھی کہ وہ صرف عمران خان صاحب کی صحت اور شوکت خانم کے ڈاکٹروں کی ان تک رسائی پر رکھنے پرFocus رکھیں گئیں اور بانی چیرمین کو ملاقات کی رسائی دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ Ali Imran Khan نے بتایا ہے کہ وہ ان کے پاس جب بھی بیانات دیتے تھے تو اس پر ایئر ایف ویڈیوز ہوتے تھے اور وہ میڈیا کو نہیں دیں تھے۔
عمران خان کی بہن علیمہ خان اور سینیٹر مشال یوسفزئی کا ایسا میراثی تنازعہ ہو رہا ہے جو ابھی تو نہیں لگتا کی وہ دونوں انہیں اپنی طرف متوجہ کرنے کے سلسلے میں ایک دوسرے پر تنقید کر رہے ہیں تو اس طرح کے تنگاتنگیں بھی ان کا میراث نہیں کی جاسکیں گے۔
اس کے بعد کتنا ہوئے تنگاتنگ ، عمران خان کی بہن علیمہ خان کی تنقید کے جواب سینیٹر مشال یوسفزئی نے ایک نئے رول پلے میں ایک دوسری تنقید کی ہے تو کتنا عجیب ہوگا ۔ اب وہ اپنی پالیسی کو چھوڑ کر عمران خان کی صحت پر توجہ مرکوز کرتے ہیں ۔ سینیٹر مشال یوسفزئی نے بتایا کہ جب ان پر گرفتاری کرائی گئی تو وہ فیک بن گئے اور اب ان کا یہی کہنا ہو رہا ہے کہ میرا ذکر ہوتا تو میں فیک ہوگیا تھا ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ دوسری باری کتنے خود راحت کرتے ہیں ۔
سینیٹر مشال یوسفزئی کی پوری کوشش صرف اس بات پر تھی کہ وہ اپنی خیرخواہت اور مصلحت کو سب کے سامنے لایں، لیکن اب جب وہ عمران خان کی بہن علیمہ خان سے تنقید کر رہی ہے تو ناجائز طور پر اسے کیا استعمال کر رہا ہے؟ وہ ان پر اپنی نئی پالیسی کا اعلان کر رہے ہیں کیونکہ انھوں نے اب یہ سچائی بیان کی ہے کہ وہ صرف عمران خان صاحب کی صحت اور شوکت خانم کے ڈاکٹروں کی رسائی پر رکھیں گئیں، لیکن یہ تو جب انہوں نے ایک دوسرے پر تنقید کر دی تھی تو وہ ناجائز طور پر اسے استعمال کیا۔ میں بتاؤں اگر عمران خان صاحب کی بہن نے اپنی نئی پالیسی کا اعلان کرنا ہو گا تو وہ اس سے قبل یہی کھیل رہا تھا، اور اب ان کو یہ کس چیز سے محروم نہیں ہوتا؟
یہ بتاؤ کہ عمران خان کی بہن Ali Imran Khan کا کیا کام ہے؟ وہ صرف ایک دوسرے پر تنقید کرتی ہے اور اب ان کا بیان ایک مینشنگ میڈیا کا رول پلے بن گیا ہے؟ یوں تو اگر وہ ایسے کام کرنا چाहतی ہیں تو ان کی بات کو انکر کرنے والے لوگ ان پر دباؤ اٹھائیں گے۔
یہ سب ایک مینشنگ میڈیا کا رول پلے ہی ہوگا، عمران خان کی بہن علیمہ خان نے سینیٹر مشال یوسفزئی پر تنقید کی اور اب وہ ایسا ہی کہ رہی گئیں۔ اس میں کچھ بات نہیں اور صرف ان کے درمیان ایک مینشنگ میڈیا کا چکر ہو رہا ہے جو ہر وار سے زیادہ تیز ہوتا جا رہا ہے।
اس مینشنگ میڈیا کا رول پلے بہت بے معیاری ہو گیا ہے، پہلے عمران خان کی بہن علیمہ خان نے مشال یوسفزئی پر تنقید کی اور اب انہوں نے جو جواب دیا ہے وہ ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ ہونے کا پتہ دیتا ہے، یہ میڈیا کی منصوبوں پر ہی نہیں بلکہ ان لوگوں کے نفسیات اور جذبات پر بھی پڑتا ہے جو اس میڈیا میں شامل ہوتے ہیں، میرا خیال ہے کہ وہ یہ دیکھنا چاہیے کہ انہوں نے کس طرح اپنی زندگی کی بات کر رکھی ہے اور اس پر انہوں نے جو تعلقات بنائے ہیں وہ انہیں کتنا فائدہ دلاتے ہیں؟
تھوڑا سا دیکھو، یہ پتا چلا کہ عمران خان کی بہن Ali Imran Khan کبھی اٹھکیے نہیں تو کیسے بکھر گئے ہیں! ان کا بیان ایک ڈرامہ بن گیا ہے جس میں Ali Imran Khan نے اپنی پھوریوں کو دیکھتے ہوئے مشال یوسفزئی پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ عمران خان کی خیرخواہ نہیں ہیں۔ تو اب Ali Imran Khan نے اپنا بیان میڈیا کو ایک پالیسی کے طور پر پیش کر دیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ میرے خیال میں مشال یوسفزئی خان صاحب کی خیرخواہ نہیں ہیں!
اب مشال یوسفزئی نے رد عمل دیتے ہوئے Ali Imran Khan کے بیان کو انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ Ali Imran Khan کی بہن ہوں تو مجھے ان سے احترام حاصل ہوتا ہے اور وہ مجھیں قابل احترام سمجھتی ہیں۔
ان دونوں کا یہ مناظر ہوتا ہوا میڈیا کے سامنے ایک پالیسی کے طور پر پیش کرنا اچھا نہیں لگتا ہے، لہٰذا ان کی جاسوسی ہونے والی تحریکیں روکنے سے روک لی جائی چکی ہیں!
ایسا لگتا ہے کہ عمران خان کی بیٹی علیمہ خان ایک دوسرے کی جسمانی تینت کر رہی ہیں اور ان کو بھی اپنی بات نہیں دینا چاہیے، لاکھ زخمیات ہوئے اور اب وہ ایک دوسرے پر تنقید کر رہی ہیں
اس کا حال تو ایسا ہی ہو رہا ہے جیسا کہ ہم گریجویٹز میں لگتا ہے جب ہم مائیکرو وئیویڈیوز دیتے ہیں تو ایسے کھل کھل کر بیانات نہیں دیتے اور اس لیے ان پر پابندی بھی لگتی ہے۔
اس جگہ پر عمران خان کی بہن علیمہ خان اور سینیٹر مشال یوسفزئی کا مفرح تنقید ہوا ہوا مینشنگ میڈیا کا رول پلے بن گیا ہے جس پر عمران خان کی صحت پر اور ان کے ساتھ منسلک یہ تحریکیں جاری رہیں ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ عمران خان کے ساتھ منسلک کسی بھی بات پر مینشنگ میڈیا کو بھی دیکھنا پڑتا ہے اور اب یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ وہ اس بات کی تلافی نہیں کر رہے ہیں۔
اس وقت PTI کی اندرونی گریوٹس کا معاملہ تنگاتنگ ہو رہا ہے جہاں عمران خان کی بہن علیمہ خان اور سینیٹر مشال یوسفزئی نے ایک دوسرے پر تنقید کی ہے۔ ایسا کیا جارہا تھا؟ اس میں عمران خان کی بہن علیمہ خان نے مشال یوسفزئی پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ عمران خان کی خیرخواہ نہیں ہیں۔ لیکن اس پر سینیٹر مشال یوسفزئی نے رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان کی بہن ہوں تو مجھے ان سے احترام حاصل ہوتا ہے اور وہ مجھیں قابل احترام سمجھتی ہیں۔
اب کہنا ہے کہ عمران خان نے انہیں اس قسم کی تحریکیں روکنے سے روک لی ہیں اور اب انہوں نے کہا ہے کہ صرف ان کی بہن نورین نیازی صاحبہ میڈیا کے سامنے بیان دے گی۔ اس سے پہلے بھی وہ انہیں اسی طرح کی تحریکیں کر رہی تھیں اور جب ان کی یہ تحریریں میڈیا پر آئیں تو انہوں نے بتایا کہ وہ ایئی ویڈیوز تھیں اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ باہر اس طرح کی تحریکیں میڈیا کو نہیں دیں۔
اس سینیٹر نے کہا ہے کہ جب ان پر گرفتاری کرائی گئی تھی تو انہوں نے بتایا کہ میرا ذکر ہوتا تو میں فیک ہوگیا اور انہوں نے مجھے جیل میں بھی یہی کہا تھا۔ اب وہیں 4 اکتوبر کی گرفتاری کے بعد ان کی فون کے اسکرین شاٹس لیک ہوئے جس میں اپنا ذکر تھا۔
یہ تو میرے لئے بہت حیرانی کا موضوع ہے ! عمران خان کی بہن علیمہ خان اور سینیٹر مشال یوسفزئی نے ایک دوسرے پر تنقید کی ہے اور اب ان کے بیان میں لگتا ہے کہ اس میں مینشنگ میڈیا کا رول پلے بن گیا ہے۔ وہیں وہ جو کہتی ہے وہ کرتے ہیں اور یہ دیکھنا ہی بہت کچھ ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر انہوں نے اپنے بیان میں سچائی سے بات کی تو شاید ان پر تنقید کرنے والے بھی ان کو دیکھتے اور سمجھتے ہوئے اس کا انداز بدلنا پڑتا۔
اب یہ کہا جاتا ہے عمران خان کی بہن علیمہ خان اس طرح سے سیاسی ماحول میں شامل ہو گئی ہیں، اور اب ان سے لڑائی کی جا رہی ہے تو یہ بات بالکل ضروری نہیں تھی کہ ان کا انکار کر دیا جائے؟
لیکن وہی نہیں، اب یہ دیکھنا تھا کہ عمران خان کی بہن کون سے پالیسیوں لائیں گئیں، اور انہوں نے کس طرح politics کی ہے؟
اس لیے میرے خیال میں ان کا یہ بیان ایک منشنگ میڈیا کا رول پلے بن گیا ہے، اور اب عمران خان نے اپنی بہن کی طرف سے انکار کر دیا تو وہی اس بات کو ثابت کر دیتا ہے کہ politics میں سچائی ہی سب سے ضروری ہے؟
ہر ایک جانتا ہے کہ Politics میں لڑائی کرنے والوں کو ایسے افراد کی طرف سے انکار کرنا کبھی بھی نہیں چل سکتا، اور اب یہ دیکھنا تھا کہ عمران خان کی بہن نے کون سی پالیسیاں لائی ہیں؟
میڈیا کے رول پلے میں اب عمران خان کی بہن نے انکار کر دیا تو یہ بات بالکل ضروری نہیں تھی، اور اب ہم جانتے ہیں politics میں سچائی کیسے بنتی ہے؟
اس لیے میرے خیال میں عمران خان کی بہن نے ایسا بیان دیا ہے جس سے Politics کی سب کی بات ثابت ہوئی ہے، اور اب یہ دیکھنا تھا کہ وہ Politics میں کیسے اگام نہیں سکیں گے؟
تمہیں یہ بات بھی پتہ چل گئی ہوگی کہ عمران خان کی فیملی آفورز ایک دوسری جگہ پر نچتی ہیں۔ Ali Imran Khan کو لگتا ہے کہ وہ اپنے بھائی عمران خان کی خیرخواہ ہیں، لیکن ان کی گاڑی میں بٹے ہوئے پلاسٹک کپڑے لگائے ہوں گے؟
ایسے میڈیا پلاسٹک کپڑے لگا کر Ali Imran Khan ان کو ایسے دکھائی دیتے ہیں جو وہ نہیں چاہتے، اور اب ان پر یہ تنقید ہو رہی ہے کہ وہ عمران خان کی خیرخواہ نہیں ہیں? یہ تو کچھ اچھا کام ہے۔
مشرق کی ایسے پالیسیوں سے جو انہوں نے بنائی ہیں وہ 4 اکتوبر کی گرفتاری کے بعد بھی لگ رہی ہیں، لیکن اب وہ یہ کہنے پر قائم ہوئے ہیں کہ وہ صرف عمران خان صاحب کی صحت اور شوکت خانم کے ڈاکٹروں کی رسائی پر رکھتے ہیں؟ یہ تو ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنی فیملی آفورز کو روکنے سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں۔
یہ سب کچھ بہت غمبار ہے، عمران خان کی بیٹی نے اپنے ساتھیوں پر تنقید کی اور اب علیمہ خان نے ان پر بھی تنقید کی ہے تو یہ سینیٹر نے کہا ہے کہ وہ اپنی فون کے اسکرین شاٹس لیک ہوئے ہیں اور اب وہ 4 اکتوبر کی گرفتاری کے بعد ان کی بات پر زور دے رہا ہے، اس سے پتا چلا ہے کہ ان کا تعلق عجیب ہے
اللہ تمہیں پچیس کروٹ سے زیادہ ہریس کا بھوگ لگے تو! عمران خان کی بہن علیمہ خان اور ان کا دوسرا جملہ ایک سے زیادہ بیس سے کم نہیں ہوتا، پھر اس کے بعد اچھا جملہ آتا ہے جیسا کہ Ali Imran Khan نے مشال یوسفزئی پر تنقید کی ہے اور کہا ہے وہ عمران خان کی خیرخواہ نہیں، پھر انھوں نے یہ بھی کہا کہ Ali Imran Khan کی جانب سے ان کے لیے ایک فون کے اسکرین شاٹس موجود ہیں، وہ کیسے کر رہے تھے ان کو کچھ بات نہیں پاتی؟
اس ماحول میں بھی دیکھو کہ عمران خان کی پالیسی اچھی ہی نہیں ہے… Ali Imran Khan کا بیان ایک بدسلوکی کے طور پر آ گیا ہے اور وہ بھی ان کی مدد کر رہا ہے۔
اس سینیٹر کی بات بھی سمجھنی چاہئیے کیوں کہ انہوں نے خود کو پکڑ لے رکھا ہے اور ان کا تعلق ایسے میڈیا سے ہے جو فیک توں بھی کرتے ہیں… اس نے بتایا ہے کہ جب ان پر گرفتاری کرائی گئی تھی تو وہ مجھ کو فیک ہوگیا ہوتا اور جیل میں وہ بھی یہی کہتے تھے… اس نے اپنی پالیسی میڈیا سے دوری رکھنا ہوئی ہے کیوں کہ انہیں خود کو بھی کچھ نہ چھپایا ہے۔
اس سینیٹر کی بات ایک حقیقی بات ہے جو ان کے سامنے دکھائی گئی ہے… وہ اب بھی اپنی پالیسی کو برقرار رکھتے ہیں اور میڈیا سے بھی توڑنا چاہتے ہیں۔