public not servant of sho application not write bakhidmat supreme court | Express News

کھلاڑی

Well-known member
اسلام آباد میں سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے کا احاطہ کیا، جس کی وجہ سے عوام کا خادم ہاؤس افسر (ایس ایچ او) کو صرف "جناب" کے ذریعے آڈیٹ کیا جائے گا اور ان کے نوکر نہیں سمجھا جائے گا۔

اس فیصلے میں اس بات کا تصدیق عمل میں لی گئی ہے کہ پرانی غلامانہ زبان کو ختم کر دیا جائے گا اور شہری شکایت کنندہ سے عوام کو صرف "آلہ و Allah" سے جوڑنا چاہیے۔

اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے پولیس کارروائی میں بھی ایسی پالیسیوں کی تصدیق کر دی ہے جس سے عوام کو "فریادی" کی اصطلاح سے منع کیا گیا ہے اور حق مانگنے کا تاثر دیتے ہوئے "آلہ و Allah" کے ذریعے جوڑنا چاہیے۔

اس فیصلے میں پالیسی ایف آئی آر درج کرنے والوں کو شہری شکایت کنندہ نہیں سمجھا جائے گا بلکہ اطلاع دہندہ قرار دیا گیا ہے اور ایسے لوگوں کو سزائے موت یا زخمی کی سزا ہو سکتی ہے۔

اس فیصلے کے تحت پولیس افسران کو تاخیر کی پالیسی سے منع کر دیا گیا ہے اور ایف آئی آر میں تاخیر پر PPPC 201 کے تحت مقدمہ لگایا جا سکتا ہے، اس کے علاوہ پولیس افسران کو یقینی طور پر ایف آئی آر درج کرنے کی پالیسی سے منع کر دیا گیا ہے۔

اس فیصلے میں یہ بھی قرار دیا گیا ہے کہ پولیس اور شہری کے تعلق کی نئی تشریح، ریاستی رویے میں بڑی تبدیلی ضروری ہے۔
 
اس فیصلے سے پتہ چلتا ہے کہ شہری شکایت کنندہ کو ایسے لوگوں پر اقدامات کرنے سے روکا جائے گا جو عوام کی ترجیح نہیں کرتے، یہ پھر بھی عوامی حقوق کو قائم رکھنا ضروری ہے اور ایسے لوگوں پر دباؤ ڈالا جائے گا جو عام masses کے حق میں نہیں کھڑے ہوتے ہیں. 😐
 
اس فیصلے سے میرا لگتا ہے جیسے 90ء کی دہائی کے آدھے میں ہوتا تھا جب پولیس افسران گوریلا فtorوں اور گریبوں سے لڑتے تھے۔ اب یہ بھی ایسی ہی صورتحال نظر آ رہی ہے جب شہری شکایت کنندہ کو بھی ایسا ہی đốiदरج نہ کیا جائے گا اور انھیں "فریادی" سے منع کیا جائے گا۔ میرا خیال یہ ہے یہ سب بھی ایک ایسا ماحول تھا جو لوگوں کو اپنی حقیقت کی طرف متوجہ کر رہا ہے۔ اور اب مجھے لگتا ہے یہ فیصلہ بھی ایسی ہی صورتحال کا احاطہ کر رہا ہے۔
 
اس فیصلے سے ایسے لوگوں کو خطرہ ہو گیا ہے جو اپنی حقوق کی وضاحت کرنے کے لئے "فریادی" اصطلاح استعمال کرتے ہیں اور انھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ انھیں کوئی ذمہ داری نہیں ہے جو انھیں اپنے حق کے لئے جاری رکھتی ہے۔
 
اس فیصلے سے پہلے پھر ایسا نہیں تھا کہ پولیس افسران "فریادی" کی اصطلاح سے منع کر دیے جائیں گے اور عوام کو صرف "آلہ و Allah" سے جوڑنا پڑے گا؟ یہ تو انتہائی معتدلی پالیسی ہے، خواہ جسے چاہیے ہو یا نہیں۔ میں اس کے لیے دوسری طرف کھیلنے والوں کی طرف مائل ہون گا۔
 
اس فیصلے سے پوری ملک میں ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسا کہ میری جانب سے ہمیشہ بتایا تھا کہ عوامی سرگرمیوں میں "آلہ اور Allah" کی استعمال کو ایک حد تک روکنا چاہیے تو یہ بھی اچھا ہے۔ لیکن یہ بات ایسی ہے کہ جب آپ عوامی سرگرمیوں سے پہلے کے ناابھاشے میں اتر جاتے ہیں تو وہ لوگ جو "فریادی" اصطلاح کی استعمال کرتے ہیں وہ اپنی شہر کے عوام سے اچھا نہیں لگتے، لیکن اب جب اس فیصلے میں "آلہ اور Allah" کی استعمال کو ایک حد تک روک دیا گیا ہے تو یہ لوگ عوام کے سامنے اچھے نہیں لگتے۔

اس فیصلے سے میری بہت سی چिंٹائیوں میں سے ایک ایسی ہے جس کی واضح نہیں تھی کہ شہری شکایت کنندہ کو ان کے ساتھ "فریادی" تصور کیا جائے گا یا نہیں، لیکن اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ ایسے لوگ جنہیں شہری شکایت کنندہ سمجھا جاتا ہے وہ ان کی شکایت نہیں سمجھتے، بلکہ انہیں "فریادی" قرار دیں گے۔

اس فیصلے سے اس وقت کے شہر میں پوری ایسی ایسٹیمیشن ہو گی ہے جیسا کہ یہ واضح طور پر کہنا نہیں کی جا سکta کہ ان لوگوں کو کس طرح سے سزائے موت یا زخمی کی سزا دی جائے گी।
 
اس فیصلے سے ہاؤس افسر کو صرف "جناب" سے آڈیٹ کیا جائے گا، یہ تو ایک اچھا move hai 🙌، لیکن عوام کا نوکر کیسے سمجھا جائے گا؟ کبھی کبھار ان کو بھی کچھ سمجھنے کی پڑتی ہے। اور فریادی اصطلاح سے منع کرنا ایک اچھا decision hai 🙏، لیکن حق مانگنے والوں کو اس کا اثر و رسوخ نہیں مل سکتا، انہیں بھی کسی طرح سمجھنا پڑتا ہے۔
 
ایسے فیصلوں پر غور کرنے کا یہ وقت کیا ہے؟ آج کچھ لوگ "جناب" سے ٹکراتے رہتے ہیں اور ایک نئی نسل کے سامنے چلے آ رہے ہیں جو سمجھنا پسند نہیں کرتی۔ یہ بات یقینی ہو گئی ہے کہ پرانی غلامانہ زبان کو ختم کر دیا جائے گا اور شہری شکایت کنندہ سے صرف "آلہ و Allah" سے جوڑنا چاہیے، لیکن یہ کیا پابند ہونے کی بات ہو رہی ہے؟ میری خواہش ہے کہ لوگ ایسے فیصلوں کو سمجھیں اور ان پر عمل کرائیں، نہ یہ سوچتے ہیں کہ وہ "جناب" سے ٹکرا رہے ہیں۔

اس میں ایک بات بھی ہے جو لوگوں کو سمجھنی چاہیے، یہ کہ پولیس اور شہری کے تعلق کی نئی تشریح ضروری ہے، لیکن یہ کیا پابند ہونے کی بات ہو رہی ہے؟ میرا خیال ہے کہ اس فیصلے سے صرف ایسے لوگوں کو فائدہ ہوا ہے جو "جناب" سے ٹکراتے رہتے ہیں اور ان کی خواہشوں کو پورا کرنے کے لیے ایک نئی نسل کے سامنے چلے آ رہے ہیں۔
 
اس فیصلے سے پتہ چalta ہے کہ شہری شکایت کنندہ کو صرف "آلہ و Allah" میں جوڑنا پیا گئا ہے اور ان کی شکایات کو اسٹیٹ کے ساتھ تھوڑا سا "جناب" کے ذریعے تعلقات قائم کرنے پڑتے ہیں، یہ بہت مایوس کن بات ہے، آپ کی شکایت کو ان کو "جناب" کے ساتھ دیکھنا پیا گئا ہے اور اس طرح آپ اپنی شقایاتی باتوں کو اس وقت لگائیں گی جب یہ طاقت کے حوالے ہو جائے گا۔
 
اس فیصلے سے پتہ چل رہا ہے کہ سپریم کورٹ نے ایسے و्यकتیں کو جو عوام کی خادم ہاؤنڈ سروس (ایچ ایس ایو) میں کام کر رہے ہیں انھیں صرف "جناب" کے ذریعے آڈیٹ کیا جائے گا اور ان کے نوکر نہیں سمجھا جائے گا... یہ ایک بڑی تبدیلی ہے کیونکہ اب یہ و्यकتیں صرف "جناب" سے جوڑنی پڑتے ہیں اور ان کی سوچ سمجھ کو نہیں سمجھایا جاتا...
 
واپس
Top