punjab local govt elections election commission notice to chief secretory | Express News

سانپ

Well-known member
پاکستان کے الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ کرنے پر سخت نوٹس دیتے ہوئے چیف سیکریٹری اور صدر محنت گورنمنٹ کی طرف سے طلب کیا ہے۔

الیکشن کمیشن کا یہ خطبہ ایک بار پھر حکومت پنجاب کی عملداری پر تنقید کر رہا ہے جس نے بلدیاتی انتخابات کی تاریخ سے پہلے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ حلقہ بندی رولز اور یونین کونسلوں کا نوٹیفکیشن فراہم نہیں ہوا ۔

الیکشن کمیشن کا یہ خطبہ ایک بار پھر حکومت پنجاب کی عملداری پر تنقید کر رہا ہے اور الیکشن کو منع کرنے والے فیصلے سے انکار کرتا ہے۔

الیکشن کمیشن نے اس صورتحال کو حل करनے کے لیے مزید کارروائی کی جائے گی، اور یہ بات بھی پتہ چل گئی ہے کہ پنجاب میں لاءکلی گورنمنٹس کی مدت 31 دسمبر 2021 کو ختم ہو چکی ہے۔
 
ماڈرن ٹیکنالوجیز سے بھی کئی سال پہلے کے اپنے فون پر کیا کرتا تھا؟ وہ اسی وقت جب میری مدد کی بات کرتا تھا، میں اسے ڈسک انٹرنیٹ پر کیا کروں گا؟ اب پتہ چلتا ہے کہ ٹیکنالوجیز کم از کم 20 سال سے تبدیل ہو رہی ہیں...
 
ایسا نہیں سوچ سکتا ہے کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات منع کر دیئے جائیں گے! یہ بھی بہت دیر ہو گیا ہے۔ پچاس لاکھ سے زیادہ لوگ اس سے متاثر ہوں گے، اور وہ سب اپنی امیدوں کو کھو دینگے! میں یہاں تک کہ نہیں آئا کہ کس طرح ایل سی کی جانب سے کیا جائے گا، لیکن میرے لئے یہ بھی واضح ہے کہ اچھے کارروائیوں کو کرتے رہنا چاہیے۔
 
یہ تو بہت غم بخش ہے کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہونگے ، اور اس کی وجہ یہ کہ حکومت پنجاب نے ایسے ماحول کو بنایا ہے جہاں لوگوں کو اپنی اپنی گارڈنوں اور اس کے ساتھ فائدہ بھی نہ مل سکا ، یہ ایک کٹر سندرم ہے جو سماجی اور سیاسی طور پر بھی نقصان پہنچا رہا ہے ، لیکن یہ بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ اگلی بار ایسا نہ ہو، اور الیکشن کمیشن کی یہ رپورٹ جس میں اس صورتحال کو بیان کیا گیا ہے وہ ہمھنگر سے بھی مختلف ہے ، ابھی بھی کئی گورنمنٹس نے 31 دسمبر کو ختم ہونے والی مدت سے اپنا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں ہوئی ، اب یہاں الیکشن کمیشن کا بھی کچھ کام کرنا پڑ رہا ہے۔
 
اس صورتحال پر ایک ساتھ توجہ دینا چاہیے کہ لاءکلی گورنمنٹس کی مدت اس لئے بھی پوری نہیں ہوئی کہ انہوں نے اپنے کام کو بالکل کامیاب بنایا ہو اور یہ بات صاف ہو چکی ہے کہ پنجاب میں سسٹمک لیڈرز کی اتھارٹی سے بھرپور تعلق رکھتے ہیں۔
 
يہ تو ایک بڑا مسئلہ ہے! حکومت پنجاب کے اس کھیل میں اچانک بیٹھنا بہت غلط ہے. بلدیاتی انتخابات پر انحصار کرنا اور حلقۂ بندی رولز، یونین کونسلوں کا نیٹ ور्क نہیں بنایا تو کیسے چل سکتا ہے؟ یہ ایک بڑی دیکھ بھال کی ضرورت ہے اور الیکشن کمیشن کو اس بات کو پورا کرنا چاہئے کہ یہ کچھ حقیقت پسند رہے.

جب ہم نے پہلی بار میں بھی اپنے لئے یہ معاملات کو حل کرنے کی کوشش کی تو اس نے ایک بھرپور منچ دیا تھا. اب سے پھر اسی کے ذریعہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مجھے لگتا ہے حکومت پنجاب نے اس وقت پر بھی ایک سچا کام نہیں کرنا چاہئیے۔

ہر سال میں اسی طرح کی باتوں کے باوجود ان کو کبھی بھی اس بات کو یقینی بنایا نہیں ہوا ہے، اور اب تک ایسے صورتحال کی ایک سے زیادہ بار نہیں دیکھا گیا ہے. مجھے لگتا ہۈ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو لوگ ان معاملات میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ اس کو حل کرنے کی کوشش کریں گے اور مجھے یہ بھی امید ہے کہ انہیں ایک سچا کام کرنا پڑے گا۔
 
ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں الیکشنز کا نظام بھی ایسی صورتحال کا شکار ہوا ہے جیسا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ ہونے کی بات کر رہی ہے۔ یہ بات تو سچ ہے کہ الیکشن کمیشن کو بھی اپنی فرائض کو پورا کرنے میں معذول ہوتا دیکھا جاتا ہے اور اس سے governments پر لگتا ہے کہ ان کے ساتھ نہایت بے ایمانی کرتے ہیں۔ لیکن اس میں ایک سوال ہے کہ یہ الیکشن کمیشن اور governments کی تنگ آتے ہوئے تعلقات پر کیا نظر رکھیں گے؟
 
یہ واضح تھا کہ حکومت پنجاب کے اس ناکام اور غیر کارخانی کردار سے ہر ایک بچتا ہے، لاکھ لاکھ گروپوں کو منظر عام پر لانے کے بجائے یہ لوگ آسان سے کہیں پھینکتے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات کی تاریخ میں اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ حلقہ بندی رولز اور یونین کونسلوں کا نوٹیفکیشن نہیں ہوا، حکومت پنجاب کی ایسی ایमپائر منظر عام پر لانی کی وجہ سے ہار جاتا ہے اور لوگ انصاف کی گھڑیوں کے تالاب میں پڑتے ہیں।
 
بھائی اس صورتحال سے پوری پاکستان متاثر ہوئی ہے 🤕، الیکشن کمیشن کی ایسا خطاب جیسا governments پر دباؤ ڈالتا ہے؟ کوئی بھی حکومت اپنے منصوبوں سے نکل نہیں سکتی؟ میرا یہ کہنا ہوگا کہ الیکشن کمیشن کی ایسا کارروائی بہت اچھی ہے۔ #پاکستان_کی_حالیات #الیکشن_کمیشن #اسلام آباد
 
اس وقت کی سیاست بہت ایسی ہی نظر آ رہی ہے... ایک طرف حکومت پنجاب نے بلدیاتی انتخابات کا معزز اقدامہ کرنے سے انکار کیا، تو دوسری طرف الیکشن کمیشن نے اپنی پوری صلاحیتوں کا استعمال کر کے ان کو روکنے کی کوشش کی ہے... یہ سب کچھ ایک ایسا ماحول Ban رہا ہے جہاں قانون کی بات اس پر قمیض نہیں ہوتے... اور اب بھی لاءکلی گورنمنٹس کو 31 دسمبر 2021 تک نہیں چلا گیا... یہ تو سمجھنے کے لیے بھی مشکل ہو گیا ہے کہ politics کی industry میں کیا سبق لینا ہو گا? 🤔
 
ਇس صورتحال نے میری توجہ بھی جھیل دی ہے 🤔 اور اس پر مبنی statistic्स کا ایک چارٹ بنایا جا سکتا ہے۔ اب تک پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تعداد ہزاروں سے زیادہ رہی ہیں، لیکن پچھلے 2 سالوں میں صرف 12 elections hui hain 📉۔ اور یہ سب اس بات کا نتیجہ ہے کہ حکومت پنجاب کی لاءکلی گورنمنٹس کی مدت 31 دسمبر 2021 کو ختم ہو چکی ہیں 🕰️۔ government کے بھراواں اور bureaucratic delay ki statistics bhi banaye jaa sakti hain, jisse kya faisla karna padega? 🤷‍♂️
 
🤣
ایسے میں کیا رکھنا؟
[Image of a person trying to hold back laughter with hands on head](https://i.imgur.com/8qkx3mF.jpg)
ایسے میں حکومت پنجاب کی اور الیکشن کمیشن کی اہم جگہوں پر ایک دوسری کا خوف ہی نہیں ہوتا
[Image of two people running away from each other](https://i.imgur.com/9n8QjgP.jpg)
ایسے میں الیکشن کو منع کرنے والا فیصلہ اس وقت کیا گیا ہے جب پنجاب کی حکومت اس بات پر یقین کر چکی ہے کہ وہ اچھی طرح سے کام کر رہی ہے
[Image of a person holding an "I'm not sure" sign](https://i.imgur.com/MdP9TqR.jpg)
ایسے میں ابھی بھی الیکشن کا فریز ہو نا ہو جائے گا
[Image of a calendar with a red "X" marked on it](https://i.imgur.com/6dLp1qK.jpg)
 
🤔 toh yeh alag alag hai... elections commission ka kya karega? yeh ghar tak nahin pahunch raha. agar government ki taraf se kuch nahi hai to kaisi bhi baat ho jayegi, yeh toh ek darwar hoga.

maine socha tha ki elections ko manne wala faisla sahi hogya, lekin ab mujhe lagta hai ki yeh galat si nahi. government ki taraf se koi action nahin nahi honi chahiye... toh yeh ek darwaza hai, lekin agar yeh sahi si nahi ho raha to kabhi bhi elections bina honge.

mujhe lagta hai ki elections commission ka yeh kya karega? government ko kuch nahi karna padega. is tarah se elections commission ka toh ek cheez hai, lekin government ki taraf se koi action nahin honi chahiye.
 
اس صورتحال کو حل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کو یہ کارروائی ضروری ہے کیونکہ حکومت پنجاب نے بلدیاتی انتخابات سے پہلے حلقہ بندی رولز اور یونین کونسلوں کا نوٹیفیکنگ فراہم کرنے میں بھی کوئی توجہ نہیں دی ہے ۔ یہ بات بھی جاری ہو رہی ہے کہ الیکشن کمیشن کی اتھارٹی کو لاوا کرنا ضروری ہے، نہ تو حکومت پنجاب اور نہ ہی اس وقت کی الیکشن مینڈیٹ میں رکھی گئی پارٹیز۔
 
جب بھی الیکشن کی بات آتی ہے تو دل کو ٹھکانہ نہ لگتا ہے! پہلی بار پہلے اور تیسری بار... بلدیاتی انتخابات میں حلقہ بندی رولز بھی کیے جانے چاہئیں تو کیا ہوتا? یہ ایک دیرپا مسئلہ ہو گا. میرا خیال ہے الیکشن کمیشن کو اس صورتحال پر زور دینا چاہیے، لہذا وہ ٹرول بھی کرنا چاہیں گی.
 
بھائیو، یہ بات بہت غمزی ہے کہ حکومت پنجاب نے بلدیاتی انتخابات کا بھی انعقاد کرنے کی بے فائدہ مند اقدار کی ہوئی ہے۔ یہ بات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ لوگ جو کرسنا چاہتے ہیں اور دیکھتے ہیں وہ ایسا ہی کر رہے ہیں۔ لاکھوں کی رقم کو بھی نہیں، نہیں تو ایک صحت مند اقدار کی ہوئی بات کئے بغیر. میتھن سے ٹھکانا کرنی چاہئے۔
 
الیکشن کمیشن نے ایک پریشانی سے دوچار کیا ہے جنھیں حل کرنا مشکل ہوگا، پاکستان کی سیاسی تاریquet کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ لگتا ہے کہ الیکشن منع نہیں ہونے دے گی بلکہ اس صورتحال سے نکلنے کی کوشش کرے گی
 
پنجाब میں بلدیاتی انتخابات ہونے کا یہ واقعہ بہت بھرپور بات بن گیا ہے... حکومت پنجاب کی ایسی صورت حال سے نکلنا مشکل ہوگا، جس سے لوگ انki فیکٹریز اور شاپنگ سینٹرز میں سوار ہونے کی امید کرتے ہیں... پھر بھی الیکشن کمیشن نے ایک بار پھر یہ بات جاری رکھی ہے کہ حکومت پنجاب کو اپنی کارروائیوں میں ترجیح دی جائے، کیونکہ بلدیاتی انتخابات پاکستان کے معاشرے کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہیں... حکومت کو بھلائی بنانا پڑے گا!
 
میں تو انکشافات میں مصروف تھا؟ ایسا کہنا بہت مشکل ہے کہ پنجاب کی حکومت نے بلدیاتی انتخابات کو منع کرنے والی نئی اہدفت کیوں بھول دی? آج واپس جانا ہے، یہ وقت ختم ہو چکا ہے اور اب پھر ایک بار منظر میں آرہا ہے... [1]

الیکشن کمیشن نے بھی اس بات پر زور دیا کہ لاءکلی گورنمنٹس کی مدت 31 دسمبر 2021 کو ختم ہو چکی ہے، اور اب ان کو ایڈمنسٹریٹو سیکرٹری کی طرف سے منسلک کر دیا جائے گا... [2]
 
واپس
Top