قیمتی خبر آئی ہے کہ انسانیت اب اس قدر قریب ہے کہ اس کا انساف بھی صرف چند لمحات کی ہی دوری پر ہے۔ دنیا کی تباہی کا انتہائی خطرناک سطوح کو ظاہر کرنے والا ڈومز ڈے کلاک آدھی رات سے محض 85 سیکنڈ پہلے پر سیٹ کر دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں انسانیت کے لیے تباہ کن نتیجے مل سکتے ہیں۔
جوہری ماہرین نے اپنی جانب سے ایک دھमकاؤں کی ہیں اور یہ بات صاف کروائی ہے کہ دنیا اس وقت پر قیمتی موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں سے واپسی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ جوہری جنگ، نئی دوڑ اور خلا میں عسکری منصوبوں نے دنیا کو ایک ایسی situación پر لے کر جا دیا ہے جہاں سے واپسی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔
اس وقت کھل کر جوہری ہتھیار جمع کرنے کی طرف بڑھنا شروع کر دیا گیا ہے اور دنیا کو ایک تباہ کن موڑ پر لے جانے کی خطرہ توہین کا خاتمہ ہو رہا ہے۔
غیر منافع بخش ادارے Bulletin of the Atomic Scientists کے مطابق انھیں ایک واضح بھاڈ ہے۔ انھوں نے یہ بات کی ہی کوشش کی ہے کہ دنیا کو اس خطرناک موڑ پر متوجه کرایا جائے اور اسے ایک پہل بھی بنائی جائے تاکہ بعد میں اسے دور نہ کیا جا سکے۔
ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ اگر دنیا کی رہنماؤं نے فوری اور سنجیدہ فیصلے نہ کیے تو ڈومز ڈے کلاک کی سوئیاں آدھی رات پر پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکے گا اور اس سے قیامت کا امکان بھی ہو جائے گا۔
یہ تو ایک بڑی وبا ہو گی... دنیا کی تباہی کے خطرے کو مٹانے کے لئے ہمیں ایک دوسرے پر بننا پڑے گا۔ اس وقت سے تکریب میں نہیں آ رہی... دنیا کو ایک تباہ کن موڑ پر لے جانے کی خطرہ توہین ہو رہی ہے اور اب ہمیں کسی طرح سے اسے روکنا پڑے گا...
اس کے علاوہ ڈومز ڈے کلاک کے باوجود بھی دنیا کو ایسا نہ ہونا چاہئے کہ وہ تباہ ہونے سے پہلے ہی اپنے جاروں کو اس میں شامل کر لیں... ہمیں ایک دوسرے پر یقین رکھنا چاہئے اور ایسی situations سے بچنا چاہئے جس سے تباہی ہو سکے۔
یہ بات تو واضع ہے کہ دنیا یہ دیر پہچاننے کی جارہی ہے، سٹرکچرللی مشینز بنائی جا رہی ہیں جو انسانیت کو آخری دھماکے تک لے جائے گی۔ یہ ماحولیاتی پدھر پر بھی واضح طور پر ہو رہا ہے، ملکین کی زمین سونپنے کے لیے بھی اس طرح کے آرمز تیار کیئے جا رہے ہیں۔ کیا یہ آپ کو سوچنا چاہے گی کہ اس سے ماحولیات بھی توٹ جائیں گے؟
ایسے تو کیا پتہ چلتا ہے کہ انسانیت اب ایسی پستی پر پڑی ہوئی ہے کہ ان سے واپسی کا کوئی معیار نہیں رہ جاتا? دنیا کی تباہی کی طرف بڑھنے والی اس دھमकے کی جانب سے مجھے اچانک خوف ہوتا ہے، ایسے میں یقیناً دنیا کے حالات خراب ہو جائیں گے
اس دھमकے کی طرف بڑھنے والی نئی دوڑ میں ماہرین کی جانب سے ایسے خطرے کو ظاہر کیا جا رہا ہے جو انسانیت کے لیے بہت खतरناک ہے، یہ دھमकہ دنیا کو ایک تباہ کن موڑ پر لے جانے کی طرف بڑھانے کا خطرہ توہین کرتا ہے
دنیا کی ایک دوسری جانب، انسانیت کو یہ بات پھیلانا ہو گیا ہے کہ ڈومز ڈے کلاک نہیں آئیں گے، لیکن وہ کیونکر نہیں آ سکتے؟ یہ ایسا لگتا ہے جیسے دنیا میں کھل کر منصوبوں کو شروع کرنا ہے، لیکن اس کی بھی پھرتی ہے، دوسری جانب، یہ بات سچ ہے یا نہیں کہ دنیا اب ایک بھارپور خطرے پر ہے؟ ہماری فطرت میں آگ کی توجہ دیکھنا، پانی کی کمی اور انسانی تناؤ کو ٹھیلا کرنے کے لئے ناقابل تسخیر سہولت ہیں لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ انسانیت کے لئے ایسا نہیں ہوگا، اس لئے ہم اپنے نتیجے کو دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ جاننا چاہتے ہیں کہ جہاں تباہی سے پہلے، ہم نے ایسا کیا تھا؟
یہ بات تو حقیقت میں ہر حد سے خوفناک ہے، لہذا انسانیت کو ہماری جانب سے بھی ایسے مواقع پر توجہ دلاتا ہے جس کی واپسی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔
جب میں بچتا تھا تو میں ان ایسے وقت کے بارے میں سنتا تھا جب جہاں ماہرین کے ساتھ ساتھ کہانیوں میں بھی لکیر ہوتی تھی، اس نے میرا دل دھکے کی مگر اب وہیں پہنچ کر میں خوفزدہ ہوتا ہوں۔
اس دنیا میں کامیابی کے لئے بھی ایسے لڑائیوں اور جہتوں کو پہننا پڑتا ہے جس کی واپسی مشکل ہوتی جا رہی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک چیز بھی بات آئی جو مجھے اتنی تباہ کر دیتی ہے کہ اس کا نام بھی نہیں بتایا جا سکتا، یہ دنیا کی تobaہی اور انسانیت کے لئے بھی ایک خطرناک موڑ ہو گیا ہے۔
آسمان میں ایسی ایک سنیے ہوئی بات ہے جس کی توقع نہیں کرتے تو بھی اسے پہچانا جانا ہوتا ہے۔ ڈومز ڈے کلاک سے لڑنے کی طاقت کون ہے؟ ان نئی رہنماؤं کو سوچنا چاہیے کہ ہم کبھی بھی ایسی situations میں نہیں آئے ہوں، لیکن اس بات پر انہیں واضح ہونا پڑے گا کہ ہمارے پاس ہمیشہ سے ہی اس خطرناک موڑ کو روکنا چاہیے تھا اور اب یہ واقفہ کرنا بھی ہمیں ملتا ہے۔
اس میں سے ایک بات یہ ہے کہ ڈومز ڈے کلاک کی سوئیاں آدھی رات سے پہلے ہی پہنچ گئی ہیں تو وہ اسے کیسے روکنا چاہتے تھے؟ یہ بات بھی سوچنی چاہیے کہ لگ بھگ کتنے لوگوں کو یہ جاننے کے لیے پہلے 10 منٹ تک کوئی واضحNotification نہ دیا گیا؟ اس میں سے بھی ایک گھنٹہ بھر ماحول کی صورت حال پر توجہ دینے کے لیے کافی نہیں رہا؟ یہ بات ہی ہے کہ اس معاملے میں انھوں نے دنیا کو ایک واضح بھاڈ دی ہے۔
عشق ہی نہیں تو ایسے مواقع پر جاننا مشکل ہوتا ہے جب انسانیت کی زندگی اس قدر خطرے کے سامنے رکھی جائے۔ آج تک بھی ناکامانہ تجربات کر کے فائدہ پکڑنا مشکل ہو گیا ہے، لاکھوں لوگ اپنے جذبے کی گہرائی پر نہیں ٹھہر سکیے اور اب ان کا ایسا موقع مل رہا ہے جو کسی بھی زندگی میں نہیں ملتا۔ اس طرح سے کیا جائے گا؟
یہ تو ایسا لگتا ہے جیسے دنیا یہ پہچانتے ہوئی ہے کہ وہ کیا بنتی ہے۔ انسانیت اب یوں قریب ہے کہ اس کی زندگی کو بھی کسے بھی جہت سے بھی ہٹایا جا سکتا ہے؟
مگر کیا ہمیں یہ بات یاد تھی کہ دنیا کے قیمتی موڑ پر پہنچنا ایک دوسری طرف جانا ہی نہیں بلکہ اس میں سے نکلنا ہوتا ہے؟
جس وقت انسانیت کی جانب سے کھل کر جوہری ہتھیار جمع کرنے کی طرف بڑھنا شروع ہوا گیا تو اس کا اس وقت کے رہنماؤं پر لگایا جائے گا کہ وہ پہلے سے نہیں سوچے تھے۔
میں یوں سوچتا ہوں کہ انسانیت کو اب ایسا کوئی منصوبہ بننا چاہیے جو اسے بھی سونے میں آگے بڑھاسکے اور اسے دنیا کی تباہی کے خطرے سے دور رکھاسکے۔
یہ تو دیکھنا بھی اچھا ہوگا جب دنیا تباہ ہونے والی ہوں تو پوری دنیا ایک ہی چپکے میں لپکی ہو۔ میرے لئے یہ خواہش بھی ہے کہ ڈومز ڈے کلاک کو کچھ دن تک چلانے کی اجازت دی جائے تاکہ لوگ اس کی آدھی رات پہنچنے کا بھی وقت دیکھ سکیں اور اپنی زندگیوں کو ایسا ہی قیمتی بنانے کی کوشش کر سکے جیسا یہ ڈومز ڈے کلاک نہیں دکھایگا۔
یہ دیکھنا بہت تھकہناک ہے کہ دنیا اب ایسی تاریک پہل پر پہنچ کر ہوئی ہے جس سے واپسی مشکل ہو سکتی ہے۔ میرا یہ معاملہ بھی نہیں سمجھتا کہ ڈومز ڈے کلاک آدھی رات سے محض 85 سیکنڈ پر سیٹ کر دیا گیا تاکہ دنیا کو ایسا خطرناک موڑ پہنچایا جا سکے؟ میرے لئے یہ ایک بڑی خطرہ ہے اور اس کے بارے میں بھی کم جانتے ہو، کیا اس کے بعد دنیا کو سانس اٹھانے کی آزادی مل جائے گی؟
یہ بہت scary hai, دنیا کا حال کچھ لمحات میں توہن لگا رہا ہے۔ وہ ماہرین جوہری ساتھ ساتھ پانی اور مٹی کو بھی خطرناک بنा دیتے ہیں، یہ سچ کیسے ہو گا؟ دنیا کی تباہی کا امکان بھی توہن لگا رہا ہے۔
اس میں ایک بات بتائی جاتی ہے کہ دنیا کو اس خطرناک موڑ پر متوجه کرایا جانا پڑ رہا ہے، لیکن یہ کیا ہو گا کہ آسمانوں میں ایک تھاڈا جوتا لگایا جائے؟ دنیا بڑی پیارتی ہے لیکن اب وہ کیسے سکون لائیں گے؟
ایسے بڑی خطرناک سٹریٹجیز پر فैसलے کرنے سے پہلے، ہم کو سوچنی چاہئیے کہ اس نتیجے سے کیا لाभ ہوگا؟ دنیا کی تباہی میں ہماری بھی ذمہ داری ہے، لیکن یہ بات صاف ہے کہ ہمیں ایسے آدھی رات سے سوچنا نہیں چاہئیے جب دنیا کے لیے بھی کافی ہی وقت کھانے کی ضرورت ہوگئی ہو۔ ماہرین نے ہمیں ایسا واضح بھاڈ دیا ہے، اب ہم کو اسے سمجھنا چاہئیے اور فوری کروائی۔
جب تک انسان نے اپنی تباہی کی باتوں کو سمجھنا اور اس پر قابو پانے کی کوشش نہیں کی تو کسی بھی دوری پر یہ واقعہ ہوا دیتا رہتا. اب ڈومز ڈے کلاک تک ایسے لمحات لگتے ہیں کہ اس سے انسانوں کو ہٹانے کا امکان بھی ہے. اس کے بعد کیا کہیں؟ دنیا اب ایسی صورت میں پھنسی ہوئی ہے جہاں سے واپسی مشکل ہوتی جا رہی ہے.
ماہرین نے بھارت سے لے کر امریکا تک دنیا کے تمام حصوں میں ایسے منصوبوں کی نشاندہی کی جہاں یہ کہہنا آسان ہو گا کہ وہاں سے نکلنا مشکل ہوتا جا رہا ہے. اب اگر انھیں روکنا نہیں ہوسکتا تو اس سے انسانیت کو ہٹایا جا سکta hai.
اس لیے Bulletin of the Atomic Scientists نے ایسے لگا کہ دنیا کو ایسی صورت میں پھنسی ہوئی ہے جہاں سے واپسی مشکل ہوتی جا رہی ہے. اس کے بعد اور بھی دیر نہیں آئے گی.
ایسا لگتا ہے جوہری ہتھیار جمع کرنے کی طرف بڑھنا ایک بڑا خطرہ ہے اور یہ دنیا کو ایک تباہ کن موڑ پر لے جانے کی خطرناک صورت حال میں پھنسا ہوا ہے. اس سے پہلے کے بھی مل کر بہت سارے خطرات نہیں تھے۔ ماہرین کی یہ دھमकاؤں کو سمجھنا بھی ہمیشہ مشکل رہتا ہے لیکن اس سے پہلے کچھ اور منصوبوں کو چھوڑ دیا گیا ہو گا.
یہ تو ایک دیرپہلے سے آ رہے ہیں یہ خطرے اور انساف کی بات، لیکن اب تو پھر بھی ہم نہیں سنا چکے ہیں کہ دنیا کا اس خطرناک موڑ پر کیسے ٹھوس کیا جائے؟ اب تو صرف تنگ کرنے والوں کو نہیں بلایا جاتا، بلکہ ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم اپنی زندگیوں کے ساتھ ڈیڑھ رٹ کا ماحول میں ہیں۔ اور یہ واقفہ تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم نہیں سنا چکے ہیں کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے؟
تمہیں یہ کہنا کہ دنیا کو ایسا خطرناک موڑ پر لے جانا چاہیے؟ دنیا کی تباہی میں نئی دوڑ کی طرف بڑھنا تو۔ اس سے انسانیت کے لیے کچھ فائدہ ہوسکتا ہے یا نہیں، پھر بھی دنیا کو ایسا خطرناک موڑ پر لے جانے کی یہ کوشش کروانا بہت جگہ میں آتا ہے۔
یہ بھی سوچو کہ اس نئی دوڑ کو کیسے روکنا پڑے گا؟ دنیا کے رہنماؤं نے اس سے روکنے کی کوشش کی ہو تو۔ ابھی تو انسانیت کو ایسے خطرناک موڑ پر لے جانے کی یہ کوشش کی جارہی ہے، پھر بھی اس سے روکنا نہیں میں سوچتا ہوں۔
امینا، یہ بات تو حقیقت میں سچ ہے کہ دنیا اب ایک خطرناک موڑ پر پہنچی ہے اور اگر ہم اس موڑ کو دور نہ کرلیں تو اس کی نتیجے بے قاعدہ ہو سکتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ جوہری ہتھیار جمع کرنے کے نتیجے میں اس موڑ کو پہچانتے ہیں تو ایسا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس موڑ سے بھگڑنے کی کوشش کرنا چاہیے اور دنیا کو ایک سادہ رستے پر لے جانے کی کوشش کرنی چاہیے جس سے اس موڑ کو دور نہ کیا جا سکے اور مستقبل بھی ساف و صاف ہو سکے
بے شک یہ کافی غمکنار تھوا ہے... میرے خیال میں یہ سب ایک جتنی طاقتور نئی ڈھانچہ کی طرف بڑھنا شروع کر دیا گیا ہے وہی ہوسکتا ہے... ان ماہرین کا یہ کہنا کہ دنیا کو ایک پہل بنایا جائے تو وہی نئی ڈھانچہ کا بھی حصہ ہوسکتا ہے... یہ سب سچ بھی ہو سکتی ہے...