آٹے کی قیمتوں میں ایسا نہیں کہ دیکھ رہا تھا، شہر گوجرانوالہ اور پسرور میں یہ آج بھی شدید اضافے نالہ ہو رہا ہے۔ آٹا ایک ایسا Staple بن گیا ہے جو غریب اور متوسط طبقے کے لیے مشکل ہے، جبکہ یہ ایسے لوگوں تک پہنچتا جاتا ہے جو اس کی قیمتوں سے پہلے آٹھارہ روپے کے نیچے ہی رہتے تھے۔
آٹے کی قیمتوں میں ایسا اضافہ ہوا ہے کہ گوجرانوالہ اور پسرور کے شہریوں کو بہت پریشان کر دیا گیا ہے۔ مارکیٹ میں آٹے کی قیمت میں ایک لاکھ 125 روپے سے 1280 تک، اور پانچ لاکھ 1850 سے 1900 تک اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح کا آٹا صرف 20 کلو میں بھی نہیں دیکھا جاسکتا، اور مارکیٹ میں یہ پوری طرح سے غائب ہو گیا ہے۔
سرکاری سطح پر آٹے کی قیمت مقرر ہے، لیکن اس کا کوئی اثر نہیں دیکھتے رہنے کے لئے، جس میں 10 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 905 روپے اور 20 کلو آٹے کے تھیلوں کی قیمت 1810 تک مقرر کر دی گئی ہے، لیکن مارکیٹ میں یہ نہیں دیکھا جاسکتا۔
سفید شہر کے ایک بڑے شہر سے موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق، اس سے بھی آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس میں 15 کلو آٹے کا تھیلہ 1900 روپے تک فروخت ہوتا ہے، جبکہ کریانہ فروش فی کلو آٹے کو 130 روپے میں فروخت کرنے لگے ہیں۔
آٹے کی قیمتوں میں ایسا اضافہ ہوا ہے کہ گوجرانوالہ اور پسرور کے شہریوں کو بہت پریشان کر دیا گیا ہے۔ مارکیٹ میں آٹے کی قیمت میں ایک لاکھ 125 روپے سے 1280 تک، اور پانچ لاکھ 1850 سے 1900 تک اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح کا آٹا صرف 20 کلو میں بھی نہیں دیکھا جاسکتا، اور مارکیٹ میں یہ پوری طرح سے غائب ہو گیا ہے۔
سرکاری سطح پر آٹے کی قیمت مقرر ہے، لیکن اس کا کوئی اثر نہیں دیکھتے رہنے کے لئے، جس میں 10 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 905 روپے اور 20 کلو آٹے کے تھیلوں کی قیمت 1810 تک مقرر کر دی گئی ہے، لیکن مارکیٹ میں یہ نہیں دیکھا جاسکتا۔
سفید شہر کے ایک بڑے شہر سے موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق، اس سے بھی آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس میں 15 کلو آٹے کا تھیلہ 1900 روپے تک فروخت ہوتا ہے، جبکہ کریانہ فروش فی کلو آٹے کو 130 روپے میں فروخت کرنے لگے ہیں۔