قطبِ شمالی کی سمت امریکی جنگی طیاروں کی گھن گرج سنائی دینے لگی

یوٹیوبر

Well-known member
امریکی جنگی طیاروں نے قطبِ شمالی کی سمت ایک گھن گرج سنائی دی جائے گی، یہ کارروائی سوشل میڈیا پر سٹوریز ہوئی ہے کہ امریکی جنگی طیارے جلد ہی گرین لینڈ میں واقع امریکی فوجی اڈوں پر تعینات ہو جائیں گے۔

دنیا کے سرد ترین مگر اسٹریٹجک لحاظ سے نہایت اہم خطے گرین لینڈ میں امریکی عسکری سرگرمیوں نے نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ اس کے بعد امریکا نے شمالی سرحدوں کے دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنے جنگی طیارے گرین لینڈ منتقل کرنا شروع کر دیے ہیں، جسے عالمی سیکیورٹی منظر نامے میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی و کینیڈین مشترکہ دفاعی کمان نوراڈ نے سوشل میڈیا پر بیان میں تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی جنگی طیارے جلد ہی گرین لینڈ میں واقع امریکی فوجی اڈوں پر تعینات ہو جائیں گے، اس کارروائی سے مقامی حکومت کو پیشگی طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔

نوراڈ کا کہنا ہے کہ یہ فوجی تعیناتی ڈنمارک کی حکومت کے ساتھ مکمل مشاورت اور ہم آہنگی کے تحت کی جا رہی ہے، جبکہ تمام سفارتی اجازت نامے بھی حاصل کر لیے گئے ہیں۔

عسکری ذرائع کے مطابق یہ اقدام کسی فوری تصادم کا اشارہ نہیں بلکہ بدلتے ہوئے عالمی خطرات کے تناظر میں دفاعی تیاریوں کا حصہ ہے۔

گرین لینڈ اگرچہ ڈنمارک کا خودمختار علاقہ ہے، تاہم 1951 میں امریکا اور ڈنمARK کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کے تحت امریکا خطے کے تحفظ کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔

اس کے علاوہ 1958 میں سرد جنگ کے دوران قائم کیا گیا ادارہ نوراڈ آج بھی شمالی امریکا کے فضائی دفاع اور بیلسٹک میزائلوں کی نگرانی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
 
اس کارروائی سے پہلے میرے جہاں تک جان پڑی ہے، اس کے بارے میں کوئی خبر نہیں تھی کہ امریکی جنگی طیارے جلد ہی گرین لینڈ پر تعینات ہو جائیں گے۔ یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ اس کارروائی سے عالمی خطرات کی دکھ بھی نہیں اٹھتی ۔ لیکن، اس بات پر توجہ دینا ضروری ہے کہ یہ کارروائی ہر صورتحال کے لئے تیار کرنا پڑ سکتی ہے، جس سے حقیقت میں مقامی حکومت کو پیشگی طور پر آگاہی بھی ملا سکتا ہے۔
 
امریکی جنگی طیاروں کو گرین لینڈ منتقل کرنا، یہ ایک بڑا بات چیت ہے جو دنیا کے عالمی خطرات پر نजت تھمائی اور defence کی پلیٹ فارم پر ہمارے خطے کو مضبوط بنانے کی طرف لے جائے گا. مگر اس بات کو ضرور سمجھنا چاہئے کہ یہ کارروائی دنیا بھر میں فضا پر ہونے والی ہما ہوم کی وجہ سے شروع ہوئی ہے۔

اس بات کو بھی یقین رکھنا چاہئے کہ امریکی فوجی اڈوں پر تعیناتی نہیں بلکہ اس خطے کیDefense ہی اس کارروائی کی بنیاد پرستی گا۔

مگر یہ بات ضرور سمجھنی چاہئے کہ جیسے جیسے دنیا بھر میں نويں عالمی تنازعات پیدا ہونے لگتے ہیں، اس سے صرف ایک بات صاف اور۔

اس کی حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں فضا پر ہونے والے تنازعات سے پہلے ہی ڈنمارکی و امریکی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی تھی، یہ معاہدہ ہماری ایک طویل تاریخ میں سے ایک ہے جو 1951 میں صدر ایرون نے انعقاد کیا تھا۔

اس کی پالیسی کو بھی سمجھنا چاہئے کہ امریکا، جیسا کہ ہمیں کبھی کچھ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی ایک فوجی اہداف کو ہمیشہ یورپ میں رکھتا رہا ہے، مگر اب اس نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اپنے دفاعی اہداف کو شمالی امریکا میں بھی رکھتے ہیں۔
 
اس بات پر یقین ہے کہ جب امریکی جنگی طیارے گرین لینڈ جانے والے ہیں تو اس میں کوئی بھی خطرہ نہیں ہے، انطکہ وہ یہاں رہتے ہوئے ساتھ ہی ایسے اہم کام کیے جائیں گے جو ناہیٹے میں بھی کر سکتے ہیں، اس کے بعد یہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ڈنمارک اور امریکا کے درمیان کی ایسے معاہدات کو کبھی بھی جائز نہیں سمجھا جاسکتا، اس کے علاوہ گرین لینڈ میں ایسی اور بھی سے زیادہ خطرناکThings رکھتے ہیں جن پر امریکا کا انتباہ نہیں ہوتا، اس لئے یہیں تک پہنچ کر ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ یہ کارروائی کو ہم بھی ساتھ دیکھیں اور اس میں اپنی جان کی بھی قیمتی معلومات بھی شامل کریں! 😬
 
علاوہ ازیں امریکا نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ گرین لینڈ ایک اہم فوجی اڈے کے طور پر استعمال ہونے والی ہو، اس طرح کی سرگرمیاں بالکل جدید ہیں۔

اس کیو۔ ڈھونگلا نے کہا تھا کہ یہ نئی کارروائی بہت اچھی ہوسکتی ہے، حالانکی اس کا مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ایسا کیا جا رہا ہے یا نہیں۔
 
توڈھرے توڈھرے فوجی ہوڈوں پر امریکی جنگی طیاروں کی منتقلی کرنے کا یہ فیصلہ تو ہمیں بھی اچھی طرح مشورہ دیتا ہے کہ ہم کیسے اپنی سرحدی سلامتی کو مضبوط بنائیں؟

تمام تاکفے سے منصرف ہو کر امریکی فوجی اڈوں پر تعینات ہونے کا یہ قدم تو نئی ہلچل پیدا کرتا ہے، جیسا کہ اب تک ہم دیکھ چکے ہیں۔ اور یہ صرف ایک راز ہے، ہمیں یہ بھی پتہ ہونا چاہیے کہ ہم اس خطے میں ہمیشہ سے موجود تھے۔
 
یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ امریکی جنگی طیاروں کو گرین لینڈ میں برتیا جانا ایک بڑا معاملہ ہو گا، لیکن یہ सवال ہے کہ اس سے کیا فائدہ ہو گا؟ اس خطے میں امریکی جنگی طیاروں کو رکھنا ایک بڑی خربو دیکھائی دے گی، انٹرنیٹ پر سب جانتے ہیں کہ یہ بات تو چیلنج ہو گئی ہے کہ امریکی اور ڈنمارکی فوجی دو طرفہ تعاون کر رہے ہیں، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ان میں سے کون سی وجوہات ہیں۔

اس گھن گرج پر میں یہ सवال ہے کہ اس سے کیا تحفظ حاصل ہوگا؟ یہ تو ایک بڑا معاملہ ہو گا، لیکن اس سے پہلے میں انہیں یہ بات سناننی چاہئے کہ یہ کوئی واضح مہم نہیں ہے اور یہ صرف ایک دفاعی تیاری کی صورت میں ہو گئی ہے۔

کیا اس کارروائی سے ہجوم کیا جا رہا ہے؟ میرے لئے یہ بات واضح نہیں ہے اور میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اس پر زیادہ جائزہ لگایا جائے، کیونکہ دنیا بھر میں اس سے متعلق ایک بڑی بحث ہوئی ہے اور میں نہیں چاہوں گا کہ یہ بات غلط ہو جائے۔
 
mera khayal hai ki america kya kar rahi hai? koi log bata rahe hain ki America apne fauji taiyar hon keh, aur phir koi log bata rahe hain ki yeh kya nahi, America uss duniya ka safar karte hain. Main sochta hoon ki America ko pata nahi hai ki unki zarurat kahan hai? unke fauji taiyar hon kehna to bhi sirf ek cheez hai, aur unki zindagi mein koi realty nahi hai.

aur phir yeh baat kyun nahi hai? America uss duniya ka sabse bada power hai, lekin kis tarah? unke fauji ki takat unki zameen par aandhi honi hai, aur unki zindagi mein koi realty nahi hai. main sochta hoon ki America ko apne aap ko samajhna chahiye.

Aur baat yeh hai ki America uss duniya ka sabse bada threat hai, lekin kis tarah? unke fauji ki takat unki zameen par aandhi honi hai, aur unki zindagi mein koi realty nahi hai. main sochta hoon ki America ko apne aap ko samajhna chahiye.
 
امریکی جنگی طیاروں کو گرین لینڈ لانے کا یہ decision تو پتہ چل گیا ہی، اب وہاں سے واپس نہیں آئنگ۔ اس میں کوئی Surprise nahi ہے، وہاں ایک گھن گرج بنائی گئی ہوگے اور اب انہیں ڈرپ کیا جا رہا ہے۔ اس لیے بھی یہ ہمیں نہیں Surprise دیکھنے دو گا، ہم سب جانتے ہیں کہ अमریکی عسکری سرگرمیوں سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں ملتا۔
 
امریکی جنگی طیاروں کو گرین لینڈ منتقل کرنا ایک یقینی بات ہے اور اس کی پیچیدگیاں سمجھنے کے لئے ہم کو اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے। ان طوریروں کے داخل ہونے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ شمالی امریکا کی سیکیورٹی اس خطے میں بھی اہمیت رکھتی ہے، چاہے یہ طوریروں سے متعلق ہو یا نہیں۔

اس کے علاوہ ان معاہدات جو امریکا اور ڈنمارک کے درمیان طے کی گئی ہیں، یہ واضح کرتی ہیں کہ یہ خط کو تحفظ کے لئے ایک اہم کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔

لہذا، اس کارروائی سے پہلے بھی ان معاہدات کی جانت کے ساتھ چلو، ان طوریروں کو داخل کرنے کے منصوبوں میں کسی کی بات نہیں ہونا چاہیے، مگر اس بات پر زور دیا جائے کہ یہ کارروائی کی پیچیدگیاں سمجھنے کے لئے ہم کے لئے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے اہمیت رکھتی ہے 🤔
 
یہ بات تو پتہ چل گئی ہے کہ امریکا ایک نئے ماحول کو پیدا کرنا چاہتا ہے، یہ جو سے وہ اپنے دفاع کی جگہ پر یقین رکھتا ہے اور اس لئے سے یہ نوجوانوں کو جنگی طیاروں کی پڑحاچلی میں شامل کرنا چاہتا ہے، لیکن کیا وہ صرف اس لئے کہتے ہیں؟ یہ تو ایک نئی جنگ ہو سکتی ہے یا کسی اور صورتحال کی پھینکی ہوئی پٹی ہو گی?
 
امریکی فوجی طوریاروں کو گرین لینڈ لانے کا یہ فیصلہ تو ایک نئے دور کا اشارہ ہے، پھر بھی اس پر توجہ دینے والی بات یہ ہے کہ ان طوریاروں کو گرین لینڈ میں استعمال کرنے سے قبل کیا جائے گا؟ ناکام رہنے کی سہولت ملے گی اور بھی پچھلے ہی اس مقام پر ان کا استعمال کیا گیا تھا، وہاں بھی شانے شاندار سے کبھی ایسا نہیں ہوا تو حالات اب اور کیسے ہوگے؟

یہ بات یقین سے کہہ کے جواب دیتے ہیں کہ ہم اس پر توجہ نہیں دے رہے، ہمیں اپنے بچوں کو یہ بات بتانی چاہئے کہ دنیا میں جتنا بھی شاندار اور بھرپور ہوتا ہے اس کے ساتھ ہی کثیف و پریشان بھی رہتا ہے، اور ان طوریاروں کی آمد کے ساتھ ساتھ یہ نئی جنگی تاریخ شروع کرنے والے کو اپنی فوجی سرگرمیوں سے جو کچھ بھی آتا ہے وہ ہماری بچوں اور خواتین کے لیے نہیں بلکہ دنیا کی بھر میں پریشان لوگوں کے لیے ہے

اس کے علاوہ اس کے بارے میں یہ سوچنا بھی ضروری ہے کہ ہم ان طوریاروں کو اپنے فوجی اڈوں پر اترانے سے پہلے آپریشن کی صلاحیت کو کیسے جائزہ لیں گے؟

اس نئے دور میں دنیا میں کیا ہو رہا ہے، یہی سوال ہے جو ہمارے سامنے اٹھایا جارہا ہے
 
امریکی جنگی طیاروں کو گرین لینڈ منتقل کرنا ایک بڑا کیا جانے والا فیصلہ ہے؟ میری رائے میں یہ سچ ہے کہ اس کارروائی سے عالمی خطرات میں سے ایک ختم نہیں ہوتا، بلکہ نئے Challenges کی taraf اشارہ ہوتا ہے۔

جس سے واضح بات چلتी ہے کہ گرین لینڈ میں امریکی فوجی اڈوں پر تعینات ہونے کی تصدیق کوئی Surprise نہیں ہے، میرے خیال میں یہ معاہدے کے تحت ہوا سکتا ہے جو پچھلے سالوں سے قائم ہوئے ہیں۔

لیکن یہ بات بھی ضروری ہے کہ اس کارروائی کی پہلی کبھی نہیں، جو نئی صلاحیتوں کو بنانے میں مدد دیتی ہے۔ میرا خوف یہ نہیں کہ اس سے کسی بھی طرف سے خطرہ پیدا ہو، بلکہ یہ ایک defensive move ہوتا ہے جس کے تحت دنیا کو Defence کی تیاریاں دیکھنی پڑیں گی۔
 
اس طرح کے واضع اور پائیدار خطرات کو سامنا کرنے کے لیے ہی ناقص فوجی منصوبوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسا تو یقیناً ٹیکٹیکل انٹیلی جنس اور کوآرڈینیشن سے سہی محفوظ اقدامات ہوسکتے ہیں، لیکن کیا ابھی بھی ایسی حالتوں میں انہیں ناقص بنایا جاتا ہے جو اس بات کی لائحہ درجہ کر دی۔

اس سے قبل کی معلومات کچھ اور ماحولوں میں بھی اسی طرح سے تیزی سے بدل گئی ہیں جیسا کہ اس مہم میں ہوا گئی ہے، ایک نئی صورتحال پیش آ رہی ہے اور کوئی معلومات بھی نہ ملنے پر اس کی ایسی منزلیں حاصل کر لی جائیں گی جیسا کہ یہ واضح طور پر ہو رہا ہے۔
 
یہ کام تو ایک بات ہے کہ امریکیوں نے کیا ہے، لیکن انہیں یہ بات بھی پتہ ہونی چاہیے کہ وہ ایسے وقت کی حقیقت سے جوڑ رہے ہیں جب کہ دنیا میں سوشل میڈیا پر نئے یورپی معاملات دکھائی دے رہے ہیں، کیا وہ حقیقت سے یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ ان کی جنگی طیارے جرمن یا روسی فوج کے لیے ایسی بات نہیں ہوگی؟ یہ صرف ایک واضح علامت ہے کہ انھیں ہمیشہ حقیقت سے جوڑنا پڑتا رہا ہے۔
 
یہ تو واضح ہے کہ امریکیوں نے ابھی سے گرین لینڈ میں اپنی فوجی پوزیشن بنانے کی صلاحیت ہی دکھائی ہوئی ہے اور اب وہاں موجودگی بڑھانے کا منصوبہ ہے، لیکن یہ بھی بات کہی جائے تھی کہ یہ ایک چیلنج بننے والا خطہ ہے، کچھ لوگ اسے امریکیوں کی فوجی موجودگی سے انڈیا کو خطرہ ہے اور کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ عالمیsecurity کی بات ہے، لیکن جبکہ وہ اس پر توجہ نہیں دی رہے کہ ایسا کیسے ممکن ہوگا?
 
واپس
Top