پانچ نومولود بچوں کی وفات 5 ماہیں کی عمر میں شاہ منصور صوابی میں
شاہ منصور صوابی میں ایک ایسے معاملے کا پتہ چلایا جس نے لاکھوں افراد کو دلتا ہوا رکھ دیا ہے۔ باچا خان میڈیکل کمپلیکس میں پیدا ہونے والے پانچ نومولود بچوں نے 5 ماہ کی عمر میں اپنا سفر آخیر کر دیا ہے، جس سے لوگوں کو غور و فکر کا باعث بن رہا ہے۔
انھیں تعلق منصور خیل کے زیدہ صوابی نے کیا تھا۔ پانچ بچے میں ایک بیٹا اور چار بیٹیاں شامل تھیں، ان کی ولادت قبل از وقت ہوئی جس سے لوگوں کو دلتا ہوا رکھا۔
پہلے گھنٹوں میں اس معاملے کے بعد ایس اور تباہ کن واقعات سامنے آئے، جب یہ بات سامنے آئی کہ انھیں چار وینوں میں تحت رکھا گیا تھا۔ ہالانکی یہاں ایسے لیکن وہ مریضوں کو بھی پہچانتے تھے، ان کے لئے نئی وینوں کا انتخاب کرنے پر کام کیا جاتا تھا۔
اس معاملے میں ہمارے ملک میں ایسے واقعات بھی سامنے آتے ہیں جو لوگوں کو دلتا رکھتے ہیں اور ان کے ذہنی و جسمانی صحت کے لئے بھی خطرے میں پڑتے ہیں۔
جب دلتا ایسے واقعات کو سامنے لاتا ہے جو لوگوں کی زندگیوں کو کٹار کر دیتا ہے تو یہ ان لوگوں کے لیے بھی نہیں، جنہیں یہ معاملات سے آگے نکلنے کی صلاحیت ہے؟ پانچ نومولود بچوں کی وفات 5 ماہ کی عمر میں شاہ منصور صوابی میں ایک دلتا معاملہ ہونے کا لگتا ہے، لیکن یہ کہا نہیں کہ انہیں بچا نہیں جا سکا تھا، اس کی وہی وجہ تھی جس کی وجہ سے ان کو 5 ماہ کی عمر میں اپنا سفر آخیر کر دیا گیا تھا۔ یہ معاملے لوگوں کو غور و فکر کا باعث بن رہے ہیں اور اس پر سافٹی کے ساتھ بات چیت کی پریشانی ہو رہی ہے۔
جب تک پابندیاں بنائی گئیں تو لوگ چور بن کر رہے، اسی طرح اب معاملات بھی اس طرح سے ہوتے جائن گے، وہ یہ سوچتے ہیں کہ ان کی جان سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا! 5 ماہیں کی عمر میں ایسے 5 بچوں کی وفات ہوئی جو ابھی صحت مند تھے اور جانتے تھے کہ ان کی پیداوار ہوتے ہی وہاں تک پہنچتا ہے، اور اب یہ معاملات لوگوڰ کو کتنا دلتا رکھے گا!
جب تک یہ معاملہ سامنے آتا رہے گا تو لوگ دلتا رکھوں گے، پینس اور دھکے کا بوجھ لگا ہے۔ مریضوں کے ساتھ ان کی کھدوشی کا یہ معاملہ تو بھی گھبراہٹ کا سبب بن رہا ہے، انہیں یقین نہیں کیا جا سکta کہ ایسے حالات کیسے پیدا ہوتے ہیں۔ اس معاملے میں لوگوں کی دلتا، پریشانی اور قلق کا ماحول رہتا جارہا ہے، یہ تو کھدوشی کے علاج کے لئے ایک بڑا خطرہ بن گئا ہے...
ایسا تو حق ہے کہ ان چار وینوں میں سے ایک بچے کو نئی وین کے ساتھ جاری رکھا گیا تھا، لیکن پھر یہ بات کیوں اٹھی؟ اس معاملے میں ہمیں ان لوگوں پر غور کرنا چاہئے جو وین کا انتخاب کرتے ہیں، ان्हیں ہمیں تعلیم اور تربیت دی جانی چاہئیے تاکہ وہ اپنے کام کو بہتر بنا سکواں۔
اس معاملے سے ہمارے ملک کی ایک بڑی problem ہے, کیا یہ صرف ان 5 نومولودوں کی وفات ہی نہیں تھی؟ کیا انہیں کوئی معاملہ سے لڑنا پڑا، کیا انہیں کوئی بدکار نے مریضوں کو دلتا رکھ دیا? یہ سوال ہمیں اس معاملے میڹور لے جاتا ہے کہ ہمارے ملک میں کیونکر ایسے واقعات ٹیکر رہتے ہیں۔
عجیب عجیب، یہاں ایک بچوں کی وفات سے لوگوں کو اس قدر دلتا ہوا رہ گیا کہ ابھی تو پہلی بار اپنے بچوں کے لئے وینوں کی خریداری کرنا شروع ہوئے تھے، اور اب ایک چھٹکنے والے کے بعد ابھی ساتواں نہیں آ گیا؟ اور یہ کیسے ممکن ہوگا کہ ان بیچوں کو اس کے لئے جب تک معاشی حالات بہتر نہ ہوں، وہ ایسے ہی رہتے ہیں؟
وہاں تک، یہ معاملہ ایک گہری سماجی समस्यہ کی نشانی ہے جو ہمیں سوچنے پر مجبور کر رہی ہے کہ اس معاملے میں سائنسدانوں اور دیکھ بھال کے کارکنوں کی اہم کردار ادا کر رہے ہیں، لیکن کیا ہمیں یہ سمجھنے کی کوئی کوشش نہیں کرنی چاہیے کہ اس معاملے میں ان سائنسدانوں اور دیکھ بھال کارکنوں کے باوجود کیا ہوا ہے؟ ان کا کام بھی کیا تھا، اس معاملے کی پوری وضاحت نہیں کی جا سکتی؟ اور یہ تو ایک پریشانی ہی نہیں بلکہ ایک بدوसरت جو ہمیں سوچنے پر مجبور کر رہی ہے کہ ہم اپنی سائنس اور دیکھ بھال کی پدھرتی ہوکر اس معاملے کو سمجھنا چاہیں اور اس سے سीखنا چاہیں۔
یہ واقعات ہمیں دلتا ہوا رکھتے ہیں اور یہ بھی تھوڑا سا خوفناک لگتا ہے کہ ہماری صحت و فصیل کی پابندی ہم ٹھیک نہیں رکھتے تو کیا ہوتا؟ اب یہ معاملہ سامنے آیا ہے اور لوگ اس پر سوچ رہے ہیں اور سچائی سے بات کرنا چاہئے کہ یہ معاملے تو ہمیں دلتا ہوا رکھتے ہیں لیکن ان کو حل کرنے کی بھی ضرورت ہے
یہ معاملہ توجہ کی ضرورت ہے، میری رائے اسے ایک ننڈا معاملہ قرار دیتا ہوں۔ پہلے گھنٹوں میں یہ بات سامنے آئی کہ ان بچوں کو چار وینوں میں رکھا گیا تھا؟ اور کیا وہ مریضوں کو پہچانتے تھے؟ یہ بتاتے ہی جھٹلے ہیں۔
اس معاملے سے کہیں زیادہ متاثر ان لوگوں ہیں جو اس وقت بھوک سے مر رہے ہیں اور ان کی ضروریات پورا نہ ہوا دیکھتے ہیں۔ یہ معاملہ دلتا ہو کر کہلا رہا ہے، لیکن اس سے لوگوں کی وہ مصیبت بھی کہیں پھونک دی جائے؟
بچوں کی وفات سے نا بڑی چٹان ہے، لیکن یہ بات بھی تھی کہ انھیں چار وینوں میں رکھا گیا تھا، پھر بھی وہ مریضوں کو پہچانتے تھے؟ ایسا لگتا ہے کہ ہم اپنے ڈاکٹروں پر اچھی طرح ترسیب نہیں کرتے، یا انھیں بھی صحت کی پلیٹو میں رکھ دیا گیا ہے۔ ہم اپنی جانت کی کمی کو غلطیوں پر چھپاتے رہتے ہیں، اور ان غلطیوں سے ہمارے ملک میں بھی یہ معاملات سامنے آتے ہیں جو لوگوں کو دلتا رکھتے ہیں۔
بے شمار غمگسٹ ماہرین اور لوگوں نے ان بچوں کی وفات پر غنائِ نظر رکھی ہے، پانچ نومولود بچوں کی وفات 5 ماہ کی عمر میں شاہ منصور صوابی میں ایک اسی معاملے کا پتہ چلایا جس نے لاکھوں افراد کو دلتا ہوا رکھ دیا ہے۔
اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ پانچ بچے باچا خان میڈیکل کمپلیکس میں پیدا ہوئے تھے، ان میں ایک بیٹا اور چار بیٹیاں شامل تھیں، لیکن اس سے قبل وہ بچے اپنی عمر کے برعکس نکل پئے تھے جو نتیجہ ایسا ہوا کہ انھیں چار وینوں میں رکھا گیا تھا
اس معاملے سے دلتا لگتا ہے اور لوگوں کو غور و فکر کی بات کرتی ہے، اس کا نتیجہ ایسا ہوا کہ انہیں اپنی عمر میں مریضوں کے لئے نئی وینوں کا انتخاب کرنے پر کام کرنا پڑتا تھا اور ایک بھی بات یہ ہے کہ ان کی وفات اس سے پہلے ایسی ہوسٹلی میں پیدا ہونے والے بچوں کی وفات سے مختلف نہیں ہے
اس معاملے سے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ ہمارے نظام میڈیکل سسٹم میں بھی اسی طرح کی ناقصیاں پائی جاسکیں گی، ان لوگوں کو ایک وین کے تحت رکھنا چاہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہاں میڈیکل سسٹم کی کمی کی بھی پوری طرح وجہ پائی جائے گی...