استعماری حکمرانوں کے خلاف متحد ہونا، ایک نئی ناقص پالیسی کی ضرورت
حیدرآباد میں ایک بڑے جلسے پر خوشحال خان کاکڑ نے ملک میں دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کرنے کو متحد ہونے کی ضرورت بتائی، جس سے پشتون عوام کو دیارِ غیر میں محنت و مزدوری کرنا پڑا ہے۔
کاکڑ نے کہا کہ اس جلسے پر حیدرآباد پارٹی ایگزیکٹوز اور کارکنوں کو دلی مبارکباد پیش کی گئی، جو میں شہید عثمان خان کاکڑ کی سرگرمیوں کی وجہ سے ملتا ہے۔
انہوں نے یہ کہا کہ آج ہم سندھ کے تاریخی شہر حیدرآباد میں اپنے عوام سے مخاطب ہیں، اور ہماری پالیسیوں کی وجہ سے دیارِ غیر میں لاکھوں پشتون لوگ دھکے دھوئیں کا شکار ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انگریزی استعمار سے لے کر آج تک ہمارے اکابرین نے جمہوریت اور سماجی عدل و انصاف کے لیے قربانیں دی ہیں، اور اب اس ملک کو برابر شہری بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
کاکڑ نے کہا کہ سینیٹ کو بااختیار بنایا جائے، مالیاتی بل سینیٹ سے منظور ہو، اور قومی زبانوں کا احترام کیا جائے، کیونکہ یہ سینیٹ ایک وفاقی اسمبلی ہے جو قوموں کی برابری پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ وفاقی حکومت ایک طرف کچھ کہتی ہے اور صوبائی حکومت کچھ اور، جس سے زیادہ مذاق اور کیا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے حیدرآباد کی تقسیم پر بھی زور دیا، جس سے سندھ کو دو حصوں میں منقسم کر دیا گیا۔
اس جلسے پر کچھ باتें تو اچھی ہیں مگر کیا پوری ناقص پالیسی بنانے کی کوشش سے ملک کو دہشت گردی کا سامنا کرتا ہوگا؟ وہ کیسے اپنے لوگوں کو دیارِ غیر میں لاکھوں پیسے دینا پڑ رہا ہے؟
یہ دھمکیوں اور مظالم کا ایک نئا دور ہے، خوشحال خان کاکڑ کی بات سے کوئی فائدہ نہیں، وہ ایسے لوگوں کی دھمکی کر رہے ہیں جو انہیں سیاسی طاقت سے محروم کرتے ہیں، اس سے باپور کو بھی نتیجہ ملتا ہے اور سندھ کی تقسیم کا ایک نئا دور شروع ہوتا ہے۔
اس جلسے کا اچھا ساتھ ہوگا تو فائدہ ہو گا؟ لکھی نہیں تو بلاشپے ہوتا ہے। اس وقت کو ہمارے عوام کے لیے سب سے اچھا وقت ہے جب وہ اپنے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں۔ پوری دنیا اس کی نمائندگی کرتی ہو۔
ایسے بات چیت کے لیے تو نہیں بلکہ ایسی ہدایت کی ضرورت ہے کہ صوبائی سرکاروں پر بھی دباو ڈالا جائے، جو سندھ کی تقسیم پر بے پناہ مہارت رکھتی ہے اور اس بات کو نہیں پہچانتا کہ وہ پہلے یہاں کی عوام سے کیا استحکام دیکھنے لگے?
بہت گھنٹیاں ہی پہلے اس نئے جلسے پر غور کیا اور نہ ہی نہیں تھا اچھا۔ اگر اسے ایک ناقص پالیسی کی ضرورت ہے تو کہاں تک پوری پالیسی بننے دو اور ان لوگوں کو متحد کرنا جو دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں وہ سبھی ایک لاکھ روپے کے ساتھ آ جائیں گے؟
ایسا لگتا ہۈں کہ آج کی تحریکیں اور خوشحال خان کاکڑ کی باتوں سے ملک کو ایک نئی پالیسی کی ضرورت ہے جو دہشت گردی کے خلاف، جمہوریت اور سماجی عدل و انصاف کے لیے بھرپور ہو
جن لوگ اپنے عوام سے متعلق ہیں اور ان کی شہادت کا خیرمnہ میندہ کرتے ہیں تو وہ دھکے دھوئیں میں لوگ جان بھونتی رہتے ہیں اور ان کی پالیسیوں سے ان پر یقین کیا جاسکتا ہے۔
لیکن اس بات کو پورا سمجھنا ضروری ہے کہ وفاقی حکومت کو اپنے کام پر فокس کرنا ہوگا اور سینیٹ کو بااختیار بنایا جائے تاکہ ان کی رائے پر کچھ نہ کچھ ٹیک ایک ہو
اس جلسے کا ایک اور اہم پوائنٹ ہے کہ لوگ متحد ہو کر خود کو سنے، کہیں نہ کیں یہ تو دھوکہ ہے اور جھوٹا پکڑنا ہے، لہذا ہمیں ایسے لوگوں سے مل کر بات کرتے ہیں جن کی نظر اس بات پر مبنی ہے کہ دھوکہ ہے یا جھوٹا پکڑنا ہے۔
اس سے پہلے کہیں کچھ نہ ہو کر اس پر بات کی جا رہی ہے، جو انصاف کو آگے بڑھانے والا ہے اور جس سے سندھ کے لوگوں کے درمیان بھرا پھرکا خیرات کے زمرے میں یہ بات آئی ہے کہ ہمارے ملک میں دہشت گردی کا ماحول بڑھ رہا ہے، جس سے پختون عوام کو واپس دیارِ غیر جانب محنت و مزدوری کرنا پڑتا ہے۔
مگر یہ بات تازہ اور سچی نہیں، دوسری طرف وفاقی حکومت کی ناکامی کا بھی ایسا وقت آ گیا ہے جب اس پر انحصار کرتے ہوئے لوگ دھول میں لگے ہوتے ہیں اور ملک کی اس پالیسی سے مخالفت کرتے ہوئے آتے ہیں جو ان کو دیارِ غیر جانب محنت و مزدوری کرنا پڑتی ہے۔
اس لیے یہ بھی ایک اہم بات ہے کہ ہمیں ملک کی سیاسی صورتحال کو جانتے رہنے، دوسری طرف وفاقی اسمبلی میں سینیٹ کو بااختیار بنایا جائے، مالیاتی بل سینیٹ سے منظور ہو اور قومی زبانوں کا احترام کیا جائے۔
یہ بتاتا ہے کہ ابھی تک جو بات چیت کی جا رہی تھی وہ پوری نہ ہوئی، اور ابھی سے لاکھوں پشتون لوگ دیارِ غیر میں محنت و مزدوری کر رہے ہیں۔ اس سے ان کا دھکہ دھوی کیا جاتا رہا ہے، اور یہ تو بھائے بھائی نہیں۔ چاہیں تاکہ ہم سندھ کے عوام سے مل کر ان کی پوری بات سن لیں اور فوری کارروائی کروائی جاسکے۔
جب تک ہم ایک لازمی پالیسی کے تحت رہتے ہیں تو دہشت گردی کو تیز چلوگیا کروگیا۔ اس کی بجائے، دہشت گردی سے نمٹنے اور ملک کو ایک متحد ریاست بنانے کا وقت ہو گیا ہے.
بے شک یہ جلسہ ایک بڑے پیمانے پر دھچکنے والی خبر ہے... لگتا ہے کہ خوشحال خان نے اچھی اچھی بات کہی ہے، لیکن اس کو کام لانا بھی مشکل ہو گا... پوری دنیا میں یہ سوچ رہا ہے کہ جو لوگ دلیڈری کی اور انصاف کی بات کرنے والے ہیں، وہ ہمیشہ ناکام ہو جاتے ہیں...
میں لائے ہوئے دھچکنے والے لوگوں کی بات کرتا رہوں تو میں اس کے بارے میں زیادہ بولتا رہا، حالانکہ اس پر کسی کی بات نہیں ہوتی... میری نظر یہ ہے کہ لوگ دھچکنے والے ہیں تو ابھی تک دھچکنے والا رہتے ہیں، اگر ان کو ناکام ہونے کی بات سنائی جائے تو وہ پورے پیمانے پر دھچکنے لگتے ہیں...
اس جلسے پر خوشحال خان کاکڑ نے دہشت گردی کی جدوجہد کی ضرورت بتائی، جو دوسرے لوگوں کو بھی متاثر کرتے ہیں اور انھیں متحد کرنے کی जरور ہے। میں اس سے نئی دلی پر زور دیتا ہوں کہ اس جلسے میں ان لوگوں کو شامل ہونا چاہیے جنہیں دہشت گردی سے زیادہ پریشان کر رہا ہے، اور وہ بھی اسی جدوجہد میں شامل ہونے کی کوشش کریں گے۔
اس وقت کی صورت حال کچھ دیر سے عجیب ہی لگ رہی ہے۔ پرانے استعماری حکمرانوں کے خلاف متحد ہونا ایک نئا پالیسی کا مطالبہ ہے۔ کاکڑ صاحب کو بھی اچھا لگتا ہے کہ سینیٹ کو بااختیار بنایا جائے، مالیاتی بل سینیٹ سے منظور ہو، اور قومی زبانوں کا احترام کیا جائے۔ لیکن یہ بات تو دھیپ ہو چکی ہے کہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کو ایک ساتھ نہ ہونے کی تنگاتیں کس قدر جھیلتی ہیں؟ اور حیدرآباد کی تقسیم پر بھی یہ بات تو کیا دلیپ ہوئی ہے۔