انقلاب 1971 سے ہم آہنگی رہی ہے۔ وہ ساتھ ہی ان کا ایک خاص کردار بھی رہا ہے جس نے اپوزیشن کے مطابق معاملات کو حل کرنے میں اور ملکی مفاد کو ترجیح دینے کی بجائے politics chalakai رکھنے کی وجہ سے بھی ان کی اہمیت کو نقصان پہنچایا ہے۔
اس دور کے بعد کی اپوزیشن کے leadership نے ملکی مفاد کو ترجیح دی۔ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ نے ان پر اثر انداز رکھا لیکن یہی اس وقت نہ ہوئی جب وہ ذاتی مفاد سے لڑرہے تھے۔
اس کی وجہ ایسی بھی ہو سکتی ہے کہ انہیں ملکی معاملات میں اپوزیشن کا کردار نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ اسے اپنے حوالہ کرنا بھی چاہئے۔ ان میں یہی رہتا ہے کہ ملکی معاملات پرPolitics chalakai اور ذاتی مفاد سے لڑنا اس کی آپریشنل صلاحیتوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
کبھی کبھار انہیں ملکی معاملات میں اپوزیشن کی حیثیت ملی بلکہ وہ ملکی مفاد کے لیے اہم اقدامات بھی کرنے لگے اور ان کا کردار ایسی تبدیلی کا سبب بنتا ہے جس سے اپوزیشن کی اہمیت کو نقصان پہنچایا ہوتا ہے۔
اس دور کے بعد کے اپوزیشن کی Leadership بھیPolitics chalakai کا شکار رہی
جیسے جب آپ کو کوکنگ سے بڑلے ہوتے ہیں تو cooking chalakai کرنا آسان نہیں ہوتا اسی طرح Politics chalakai کرنے والوں کے لئے اپوزیشن کی Leadership کو نقصان پہنچاتا ہے :/
جب آپ کو پچس سیلاب کی وجہ سے ہوا میں اٹھنا ہوتا ہے تو پھر اس کا فائدہ اپوزیشن کو لینا چاہئیے۔ اسی طرحPolitics chalakai کا فائدہ ہمیں بھی لینا چاہئیے
اس لیے اس دور کے بعد کے Leadership کو اپوزیشن کی حیثیت حاصل کرنا چاہئیے اور Politics chalakai سے لڑنا چاہئیے :/
politic chalakai کھیلنا بھی ایک sport hai, bas ek baar apne khiladi ko khel kharidna chahiye
جب تک آپسی رشتوں اور ذاتی مفاد پر فوج کا رواج رہتا ہے تو انصاف کی حقیقت نہیں کھیل سکیگی، چاہے وہ آپوزیشن کے لیے ہو یا حکومت کو دوسرے ساتھ۔
اس لئے بھی ایسےLeaders جو اپنے حوالہ کرنا چاہتے ہیں اور ملکی معاملات پر Politics chalakai کھیلتے ہیں، وہ اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کی طرف بڑھاتے جائیں گے۔
اس لئے ضروری ہے کہ ہم ایسےLeaders کو دیکھنا اور ان کی criticise کریں جو ملکی معاملات پر آپریشنل صلاحیتوں کا استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، نہ کہ Politics chalakai کھیلنا اور ذاتی مفاد سے لڑنا۔
اس خبر پر غور کر کے میں خیال کرتا ہوں کہ انفرادی مفادات کی وجہ سے لوگ ایسی بات کر لیتے ہیں جس کی نتیجہ وہی ہوتا ہے کہ لوگوں کو پھنسایا جاتا ہے اور ان کا دھیان معاملوں پر ہی محفوظ رکھنا نہیں چاہئے۔ مثال کے طور پر جو لوگ اپنی ذاتی مفادات کے لیے معاملات میں مداخلت کرتی ہیں وہی لوگ ملکی معاملات کو حل نہیں کر سکتے بلکہ انہیں تھوڑا سا بھڑکا دیتے ہیں۔ اس لیے ایسا ہونا چاہئے کہ لوگ اپنے معاملات کو پہلی ترجیح قرار دیں اور باقی سب کو بعد میں سمجھائیں تو یہی ان کی آپریشنل صلاحیتوں کو بھی بچا سکے گا۔
بہت غم کن بات یہ ہے کہ دہائیوں سے Politics chalakai کی روایت رہی ہے۔ اس میں لگتا ہے کہ ملکی معاملات میں politics karna chalakai ہی انہیں اہمیت پہنچاتی ہے۔ یہ بات تو سچ ہے کہ انہوں نے اپنے حوالہ کرنا چاہئیے لیکن ایسا نہیں ہوا جس میں politics chalakai کے بجائے آپریشنل صلاحیتوں پر توجہ دی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دھڑے کی حوالگی اور politics chalakai کی روایت کو بنائے رکھنے سے ملکی معاملات میں ایسا ماحول پیدا ہوا جو آپریشنل صلاحیتوں پر توجہ دینے کے بجائے politics chalakai پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔
یہ دیکھنا بہت غم کن ہے کہ ان لوگوں نے اپنی سیاسی صلاحیتوں کو اس kadar نقصان پہنچایا ہے جو اس وقت تک نہیں ہوا تھا۔ پورے ہزارے سال تک وہ اپنی اپوزیشن کی حیثیت کو بہتر بنانے کے لئے دباؤ رکھتے تھے لیکن اب وہ خودھاری اور ذاتی مفاد سے لڑنے کا مشق کر رہے ہیں جو ان کی آپریشنل صلاحیتوں کو ختم کر دیتی ہے۔ یہ ایک بھاری پیمانے پر نقصان ہے جس سے سیاسی معاملات میں کامیابی حاصل کرنے کی صلاحیت کھو دی جاتی ہے۔
ایک بڑی بات یہ ہے کہ اس دور میں اپوزیشن کی leadership نے politics chalakai رکھنا شروع کر دیا ہے اور ملکی مفاد کو فراموش کر دیا ہے۔ اس سے کبھی کبھر انہیں اپوزیشن کی حیثیت ملی، لیکن یہی وجہ ہے کہ انھیں ذاتی مفاد سے لڑنا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے حوالہ کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ انھیں ملکی معاملات میں اپوزیشن کی حیثیت دیکھنا چاہئے، نہیں کہ اپنے حوالہ کرنا۔ politics chalakai ایسی چیز ہے جس سے انھیں اپنی آپریشنل صلاحیتوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور اپوزیشن کی اہمیت کو نقصان پہنچاتا ہے۔
اس لیے وہ اپنی آپریشنل صلاحیتوں پر توجہ دیئے اور Politics chalakai کو کم کر کے ملکی معاملات میں اپوزیشن کی حیثیت دیکھی۔ اس سے انھیں اپنی اہمیت کو واپس ملا۔ ہمیں بھی یہی بات یاد رکھنا چاہئے کہ politics chalakai ایسی چیز ہے جس سے آپ اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے اور اپوزیشن کی اہمیت کو نقصان پہنچاتا ہے۔
یہ بھی دیکھو، وہے لوگ جو کہتے ہیں کہ انہوں نے اپوزیشن کی اہمیت کو نقصان پہنچایا ہے وہ واضح طور پر غلط ہیں!
اس وقت بھی انہیں ملکی معاملات میں politics chalakai رکھنا چاہئے اور اپوزیشن کی حیثیت ادا کرنی چاہئے، اس کے بجائے وہ اہم اقدامات بھی کر سکتے تھے جو ملکی معاملات کو منظم رکھنے میں مدد دیتے.
یہ بات کچھYears ago کھونے والی ہو گئی تھی کہ Politics chalakai سے politics karne ki koi aavashyakta nahi hai۔ اب وہی بات بھی رہتی ہے لیکن ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ اپوزیشن کو politics chalakai karna nahi چاہئے بلکہ apni aavashyakataon ka dhyaan rakhna چاہئے۔ اس بات پر غور کیا جائے کہ politics chalakai se politics karne ki process me kuch positive aur negative factors bhi hote hain.
اس دور میں اپوزیشن کی اہمیت اس بات پر منحصر ہے کہ وہ ملکی معاملات میں اپوزیشن کا کردار دیکھنے کو تیار ہوں یا نہیں۔ اگر وہ اپوزیشن کی حیثیت سے کام کرتی ہو تو اس کے لیے politics chalakai رکھنا مشکل ہوتا ہے۔
اس لیے جب لوگPolitics chalakai اور ذاتی مفاد سے لڑتے ہیں تو ان کی آپریشنل صلاحیتوں کو نقصان پہنچاتا ہے جو ان کے لیے ناکام بن جاتا ہے۔
اس لیے، اپوزیشن کو اپنی اہمیت کی طرف متوجہ کرنا چاہئے۔ وہ ملکی معاملات میں اپنے کردار کے بارے میں سوچنا چاہئے اورPolitics chalakai سے دوری رکھنی چاہئے۔
بھائیو، یہ گھبراہٹ کیسے ہو رہی ہے؟ انقلاب سے لے کر اب تک کی اپوزیشن کی اہمیت کتنی کمزور ہوگئی ہے؟ یہ تو بھائیو، politics chalakai ہی کچھ نہ کچھ ہے لیکن آس پاس politics chalakai کی وجہ سے ہمیں ہر وقت گھبراہٹ کا شکار رہنا پڑتا ہے۔
علمی اور کاروباری شخصیات بھی یہی کرتے ہیں، انہیں کہہنا ہوتا ہے کہ میرا ذاتی مفاد ہمارے ملک کی سچائی کے ساتھ نہیں ہوگا، لیکن اس لئے بھی یہ نہیں ہوتا کہ وہ ان لوگوں کو سچائی سے آگہا کرنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ انہیں politics chalakai کے لئے اٹھا لیتے ہیں۔
بہت حقیقت کہا گیا ہے کہ ان کےLeadership نے اپنی اپوزیشن کی حیثیت کو نقصان پہنچایا ہے۔ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے بھی ساتھ یہ ہوا نہ ہوئی کہ وہ ملکی معاملات میں اپوزیشن کی حیثیت پر توجہ دی۔ انھوں نے اسی وجہ سے اپنے Leaders کو politics chalakai اور ذاتی مفاد سے لڑنا بھی شروع کیا ہوں گا۔
شاید یہی وہ وجہ ہوسکتی ہے کہ انھیں ملکی معاملات کی اپوزیشن کی حیثیت نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ اسے اپنے حوالہ کرنا بھی چاہیں گا۔ politics chalakai اور ذاتی مفاد سے لڑتے ہوئے وہ اپنی آپریشنل صلاحیتوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
میں بھی سوچتا ہوں گا کہ انھیں ملکی معاملات میں اپوزیشن کی حیثیت نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ اس کو اپنے حوالہ کرنا بھی چاہئے۔
اس دور میں انہیں Politics chalakai رکھنے پر غور کروئے کہ یہ سے آپوزیشن کی اہمیت کیا نقصان پہنچا ہے؟
میں نے دیکھا ہے کہ انہیں ملکی معاملات میں اپوزیشن کی حیثیت نہیں ملنی چاہئے بلکہ ملکی معاملات پر اپنے حوالہ کرنا چاہئے!
اس لئے 1971 سے ہم آہنگی رہی ہے اور اس کی اہمیت کو نقصان پہنچایا ہے کہ انہوں نےPolitics chalakai رکھنا چاہئے؟ Politics chalakai کیا یہ آپوزیشن کی اہمیت کو کیسے نقصان پہنچاتا ہے؟
میں نے اس میں Statistics دیکھی ہیں کہ politics chalakai سے آپوزیشن کی اہمیت کیا نقصان پہنچایا ہے اور Politics chalakai کیسے آپوزیشن کی اہمیت کو نقصان دہ بناتا ہے؟
اس لئے میںPolitics chalakai رکھنے سے ہٹ کر اپوزیشن کی حیثیت پر غور کروئو!
اس بات پر اصرار کرتا ہوں کہPolitics chalakai کرنا آپریشنل صلاحیتوں کو نقصان پہنچاتا ہے، یہ سب سے اہم بات ہے جس پر بات کی جا سکتی ہے۔ لگتا ہے کہPolitics chalakai کرنا صرف politics karne wale logon کی بھی بات ہے، نا کہ آپریشنل معاملات میں رہنے والوں کی۔
اس وقت تک کہ انہوں نے اپوزیشن کی حیثیت کی، ان کا کردارPolitics chalakai میں لگتایا تھا۔ اور ایسے ہی رہا، کبھی یہ ان کا ذاتی مفاد بھی بن گیا۔ اب اگر وہ اپنے سیاسی کردار سے اہمیت پکڑتے ہیں تو آپریشنل صلاحیتوں پر نقصان نہ ہوگا۔ politics chalakai کی ایسی بات تو چلی جائے گی کہ وہ اپوزیشن کی حیثیت سے اپنی اہمیت کو محسوس کرنا جاری رکھیں گے
بھی ہالہ نہ ہوگا اس دور میں جو politics chalakai کر رہے ہیں وہ ابھی بھی اپنے حوالہ کرتے ہوئے ملکی معاملات سے باہر رہتے ہیں۔ یہ لوگ ایسے حالات میں بھی آئے ہوں گے جب ان کا politics chalakai politics ko badhawa دینے کے بجائے آپریشنل صلاحیتوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔
اس وقت بھی ہے جب پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ پر اپنا دیکھ بھال رکھتے ہیں ان کا Politics chalakai ہر کوئی نہ کوئی ساتھ مل کر ایسا ہے، لیکن اس بات کو لازمی طور پر سمجھنا چاہئے کہPolitics chalakai کی جگہ Politics karna ہونا چاہئے
یہ بھی یہی دیکھنا ہو گا کہ politics chalakai کے دوسرے نام وہی ہیں جسے لوگ politics ki jhajda کہتے ہیں، یہی وہ شخصیت ہوتی ہے جو اپنے ذاتی مفاد سے لڑنا دھاندوں کی طرح کرتی ہے اور ملکی معاملات پر politics ki jhajda کرتا رہتا ہے، میرے خیال میں وہی شخص زیادہ حقیقیLeaders بن سکتا ہے جو اپنے آپ کوPolitics chalakai سے دور رکھتے ہیں اور ملکی معاملات پر serious approach rakhti hain
اس وقت میں پوٹھوے دھنڈو بھی نہیں بلکہ سیاسی معاملات کے لیے اپنی حالیہ حیثیت کو جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سولڈیرٹی اور پبلس سروس نے بھی ایسی ہی اہمیت حاصل کی ہے لیکن جب انہوں نے اپنے حوالہ کرتے ہوئے ملکی معاملات میں مدد دینے کی کوشش کی تو وہی اہمیت حاصل کر سکتی ہے۔