گرین لینڈ کا یہ مقام ان کی خواہش تھی
امریکا نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے بعد گرین لینڈ کو اپنے کنٹرول میں لانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
گرین لینڈ کا دارالحکومت نُوک، ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن سے بھی زیادہ قریب ہے اور امریکہ اس مقام کو اپنی فوجی базوں کی حیثیت میں استعمال کرنا چاہتا ہے۔
اس علاقے پر قبضے کے لیے ایک نئی جنگ شروع ہو رہی ہے۔ امریکہ کا یہ مقصد اسے روس اور چین سے دور رکھنا ہے جبکہ اسے یورپ کے لیے ایک عالمی تجارت کی بنیاد رکھنے میں مدد ملے گی۔
اس لیے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ نے وینزویلا میں ایسے کارروائیوں کی تاخیر کر رکھی ہے جس سے انہیں پورے عالمی تجارت کا مقابلہ کرنے کا موقع مل جائے گا۔
جغرافیائی لحاظ سے یہ علاقہ براعظم شمالی امریکہ میں واقع ہے اور یہ ڈنمارک کے زیر انتظام ہے۔ یہاں کی 81 فیصد زمین مستقل برف سے ڈھکی ہوئی ہے، جو اسے دنیا کے سرد اور سخت ترین خطوں میں شمار کرتا ہے۔
نورک کے دارالحکومت کوپن ہیگن سے بھی زیادہ قریب ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ نولیک کا گزرگاہ اور ’ناورٹ رابٹ‘ ایک دوسرے کے بعد قریب آتے ہیں۔
اس لیے یہ مقام امریکی فوج کو اپنی فوجی کارروائیوں کی حیثیت میں استعمال کرنے کا ایک اہم مقام رکھتا ہے اور اسے اب ایسے نئے تجارتی گزرگاہوں کے لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے جو یورپ اور ایشیا کو ایک الغدقی سے ملا کر اس کی عالمی تجارت میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
امریکہ کی بھرپور جاسوسی اور انٹیلیجنس ریکارڈوں سے یہ بات پتہ چلتا ہے کہ گرین لینڈ میں امریکی فوجی اڈے اپنی فوجی کارروائیوں کی حیثیت میں اس کی بنیاد رکھتے ہیں، لیکن اس کا یہ مقصد بھی رہا ہے کہ یہ اور یورپی ممالک کے درمیان سمندری گزرگاہوں کو بھی اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
ایسے جگہوں پر ٹیکسٹائل، پلیٹ و کیمera کی ایک نئی لائیڈ بن چکی ہے کہ یہاں سے صرف ایک بات پتہ چلتी ہے کہ یہ شہرت اور پیار ہی کیا ہے۔ گرین لینڈ میں امریکی فوجی اڈوں کی بھرپور موجودگی نے لوگوں کو اب اس مقام پر فخر اور ایمانت محسوس کرنے کی اجازت دی ہے، لیکن یہ سوال توہین کا باعث بنے گا کہ یہاں سے نکلنے والی امریکی فوج کو اس مقام پر ایسا محسوس ہو گیا ہے کہ یہ اپنا ایک نئا گھر بنایا جا رہا ہے اور وہ یہاں سے نکل کر اس مقام پر اپنی فوجی کارروائیوں کی بنیاد رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس طرح ایسے لوگ جو گرین لینڈ کا دورہ کر چکے ہوں گے، وہ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ اس مقام پر امریکی فوجی اڈے بھرپور موجودگی رکھتے ہیں، لیکن ان کا یہ مقصد یہ ہی نہیں کہ وہ یہ مقام پر اپنی فوجی کارروائیوں کی بنیاد رکھنے کے لیے آئے ہوں گے، بلکہ ان کا یہ مقصد یہ ہے کہ وہ یہ مقام پر اپنی فوجی اڈیں لگائیں اور اس مقام کو اپنے کنٹرول میں لیں تاکہ ان کی فوجی کارروائیوں کی بنیاد رکھی جا سکے۔
اس طرح یہاں سے نکل کر ایسے لوگ جو امریکی فوجی اڈوں کے بارے میں پچھتے ہیں، وہ پتہ چلتے ہیں کہ یہ مقام پر अमریکی فوجی اڈے نہ صرف اپنی فوجی کارروائیوں کی بنیاد رکھنے کے لیے آئے ہوں گے بلکہ ان کا یہ مقصد بھی ہے کہ وہ اس مقام کو اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
یہ سچا ہے کہ گرین لینڈ اور وینزویلا کے مابین امریکی فوجی کارروائیوں کی تاخیر کیا جارہی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ دوسرے ملکوں کو ان میں مدد کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ شانہ کی بات ہو تو یہاں تک کہ وینزویلا نے اپنی فوج کو امریکی فوجی کارروائیوں میں شامل کرنا بھی کیا ہوگا لیکن اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ اپنے ملک سے باہر انہیں مدد کرتے ہیں، بلکہ یہ سب ایسا محسوس کرنا مشکل ہوگا کہ وہ کیسے انہیں مدد کرتے ہیں۔
جب تک امریکہ نے وینزویلا میں ایسے کارروائیوں کو تاخیر دے رکھا ہے واکٹور کرتے ہوئے کہ دنیا بھر میں اس کی تجارت کی بڑی پہچان ملاتے رہیں تو اب یہ ایسا نہ ہوگا
جغرافیائی لحاظ سے یہ علاقہ خاص طور پر براعظم شمالی امریکہ میں واقع ہے لیکن اس کی بھرپور فوجی اڈیوں کے نئے قائم ہونے سے یہاں ایک نئی جنگ شروع ہوجاتی ہے جس میں کتنے بھی ملک شامل ہو سکتے ہیں۔
اس مقام پر امریکہ کی خواہش کچھ زیادہ عرصہ پورے عالمی تجارت کا مقابلہ کرنے کا موقع مل جائے، تو کیا اس سے آگے یہی راز نکلتا ہو گا؟ کہ جو لوگ اپنی خواہشوں کو پورا کرنا چاہتے ہیں انہیں پہلے اسی جگہ پر سٹیشن ہونا چاہیے جس سے وہ اپنے مقصد کو پورا کر سکیں، دوسری جانب یہ بھی بات لازمی ہے کہ لوگ اس مقام پر پہنچتے ہوئے ان کی خواہشوں کو پورا کرنے سے پہلے اپنی جگہ پر اسی طرح کی خواہشوں کا تعلق رکھنا چاہیے، نہ تو یہ مقام جو کہ لوگوں کو اپنے مقصد سے پہلے اپنی جگہ پر اسی طرح کی خواہشوں کا تعلق رکھنے کی اجازت دیتا ہو اور نہ یہ مقام لوگوں کو اپنی جگہ پر اسی طرح کی خواہشوں کا تعلق نہ رکھنے دیں تو اس کی برائے آپلیشن بن سکتا ہے۔
اس طرح کے امریکی یورپ کے لیے سمندری گزرگاہوں پر کنٹرول رکھنے کا مقصد، ایک نئی عالمی تجارت کو شروع کرنا ہی نہیں بلکہ اس علاقے میں اپنی فوجی قوتوں کی موجودگی کو بڑھانا ہوگا
ایسا مہذوس بنتا ہے یہ وینزویلا کے بعد گرین لینڈ پر امریکہ کا نظر تھا، اور اب انہوں نے یہ مقام اپنے کنٹرول میں لانے کی خواہش ظاہر کر دی ہے۔ یہ مقام کوپن ہیگن سے بھی زیادہ قریب ہے اور یہ یورپی اور ایشیائی تجارتی گزرگahoں کے لیے ایک اہم مقام ہو سکتا ہے، لیکن اس پر قبضے کے لیے ایک نئی جنگ شروع ہونے کی پدھر ہے۔
اس بات کو پوراہام نہیں کیا جا سکتا کہ امریکا گرین لینڈ پر اس کی خواہش تھی کہ وہ یورپی تجارت کو روس اور چین سے دور رکھنے کے لیے اپنی فوجی کارروائیوں کی حیثیت میں استعمال کرے گا؟ امریکی فوجی اڈے اس علاقے پر موجود ہیں یا نہیں؟ امریکا نے وینزویلا میں اپنی فوجی کارروائیوں کے بعد گرین لینڈ کو اپنے کنٹرول میں لانے کی خواہش ظاہر کی ہے یا پھیکر؟
یہ مقام ایک نئی جنگ کا آغاز کر رہا ہے؟ میرے خیال میں یہ امریکہ کی جانب سے منصوبہ بنایا گیا تھا، تو وہ ایسے لینڈ کو اپنے کنٹرول میں لانے کے لیے اپنی فوجی کارروائیوں کی حیثیت میں استعمال کر رہا ہے۔ نُوک اس مقام پر امریکہ سے زیادہ قریب ہے، تو یہ اور پہلے سے ہی ایک اہم فوجی کارروائیوں کا مقام رہا ہے۔