گرین لینڈ پر قبضے کی امریکی خواہش کے پیچھے کس کا ہاتھ نکلا؟ حیران کن خبر آگئی

کنسول پرو

Well-known member
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے برطانیہ اور فرانس کے ساتھ مل کر گرین لینڈ پر قبضے کی خواہش ایک نئی سوچ نہیں بلکہ امریکی کاروباری تاجر رونالڈ لاؤڈر کی جانب سے جسٹی شہرت رکھنے والی عالمی کاسمیٹکس کمپنی اور ان کے وارث کے مفادات پر منحصر ہے۔

امریکی صدر کو یہ واضع نہیں ہوتا کہ ان کی یہ خواہش اس کی سیاسی یا دفاعی حکمت عملی سے جڑی ہوئی ہے یا اس میں ایک کاروباری منصوبہ شامل ہے، جو وہ ایک ماہرہ تاجر نے تیار کیا ہو۔

رونالڈ لاؤڈر کا تعلق دنیا بھر میں کاسمیٹکس کی صنعت سے ہے، ان کے پاس ایسٹی لاؤڈر نے بنایا ہوا عالمی کا سب سے بڑا کاسمیٹکس کاروبار ہے جو دنیا بھر میں مختلف ممالک میں اپنے مشین کی قیمتی Metals اور اجوائن کی برآمد کر رہی ہے، ان کی حکومت نے ساتھ ہی یوکرین پر قبضے کا بھی منصوبہ تیار کیا ہے۔

الاؤڈر کی جانب سے جسٹی شہرت رکھنے والی عالمی کاسمیٹکس کمپنی کے وارث نے خود کو اہم مہموں میں بھی شامل کیا ہے جیسا کہ یوکرین میں کئی ہزار امریکی فوجی تہت نہر دے رہے ہیں، ان کی حکومت کو ان مہموں کے لیے بھی 5 ارب ڈالرز بھی اٹھا رہی ہیں۔
 
اس بات پر چیلنج ہے کہ امریکی صدر نے یوکرین یا گرین لینڈ پر قبضے کی خواہش جسٹی شہرت رکھنے والے عالمی کاروباری ادارے کی طرف سے ہونے کا مشاہدہ کیا ہے یا ان کے کاروبار کو یہ خواہش ملنے میں مدد مل رہی ہے؟ اس بات پر لگتا ہے کہ اس سے دنیا بھر میں ایک نئی سوچ پیدا ہو رہی ہے جس سے ہر ممالک کی سرزمین اور ریاستوں پر قبضہ کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
 
یہ غلط فہمی ہے کہ امریکی صدر کی ایسی خواہش نہیں ہو سکتی جو صرف ان کے کاروباری مفادات پر منحصر ہو۔ اگر یہ حقیقت تھی تو لگتا کہ دنیا میں ساتھیوں کو بھی ایسا ہی تجویز کیا جائے گا کہ وہ اپنی ملکیت کی ایسی چال آفر ہو جس پر ان کا کاروبار یقینی بن جائے... 😂
 
امریکی صدر کو یہ تو واضح ہوتا ہے کہ وہ ایک ماہر تاجر کی بنائی ہوئی منصوبہ نہیں بلکہ ایسے ایجینڈہ سے جڑا ہوا ہے جو ناواقف لوگوں کو بھگاد کر رہا ہے۔ اور یہاں کاسمیٹکس کی صنعت کے بارے میں کچھ بات نہیں ہوئی، ایسے تو ان کے پاس عالمی کا سب سے بڑا کاروبار ہے جو دنیا بھر میں اپنی Metals اور اجوائن کی برآمد کر رہا ہے، لیکن کچھ نہیں تو انہوں نے یوکرین پر قبضہ کا بھی منصوبہ بنایا ہے؟ اب یہ سے پوچھو کیا امریکی صدر اپنی Politics کی سے جو منصوبہ تیار کیا ہوا وہ ایک ماہر تاجر نے تیار کیا ہے یا کچھ عالمی اور بین الاقوامی منصوبہ نہیں؟
 
اس کی خواہش کا ایسا لگتا ہے جیسے یہ صرف ایک نئی سوشل میڈیا ٹرینڈ ہو۔ ابھی تو پورے عالمی نظام کو پچتاوا پہنچایا گیا اور اب وہ اس کاسٹنگ آف ایسٹ پر چل رہے ہیں؟ لاکھ لاکھ پیسے اور اس نے ساتھ ہی یوکرین پر قبضے کا بھی منصوبہ تیار کیا ہے؟

نہیں، یہ واضع طور پر نہیں ہوتا کہ ان کی یہ خواہش سیاسی حکمت عملی سے جڑی ہوئی ہے یا صرف ایک کاروباری منصوبہ؟ لاکھو لاکھ پیسے اور اس نے کیا معقول ذمہ داریاں لے لیں?

نہیں، یہ واضع طور پر نہیں ہوتا کہ ان کی یہ خواہش ایک ماہرہ تاجر نے تیار کی ہو یا اس میں کسی بھی سیاسی دباؤ سے جڑی ہوئی ہے؟ لاکھ لاکھ پیسے اور اس نے کیا معقول ذمہ داریاں لے لیں? 🤑
 
بھارتی اور چینی کاروباریوں کی جاسوسی پکڑنے والی نئی امریکی اسٹرٹجیز میں ان کا ایسے ساتھ ہی کونال لانڈا کی جانب سے بھی کاروباری منصوبوں کو توجہ دی جارہی ہے؟ یہ نچٹکے تو یہی سارے کیسوں میں لگتے ہیں...
 
ایسا سے کیا ہو گا یقیناً یہ برطانیہ اور فرانس میں امریکی فوجیوں کو بھی کھانا رکھنا پڑے گا؟ 😂 اور اس وارث نے اب تک کیسے یہ جھگڑا کیے ہیں? کاسمیٹکس میں اس کے کچھ ذاتی مفادات تو ہیں یا ان کا منصوبہ بھی یہی ہے؟ آج سے پانچ دہائیوں پہلے کس نے سمجھا تھا کہ یہ عالمی کاروبار وہی ہے جو اب بھی جاری ہے؟
 
امریکی صدر کا یہ مشن تو بہت ایسے لوگوں کی کھیتوں میں پانی ڈالتا ہے جن کی جانب سے اچھی نہیں ہوتی، اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں اپنے معاشرے کو بدلنے کی چٹانوں پر پہنچایا جا رہا ہے۔ لاؤڈر کی بھی یہ طرح کی وبا ہے، ان کے پاس دنیا بھر میں کاسمیٹکس کی صنعت ہے اور انہوں نے اپنی عالمی کاسمیٹکس کمپنی کو اس قدر طاقی کا مرکز بنا دیا ہے کہ اب وہ دنیا بھر میں اپنے مشین کی قیمتی Metals اور اجوائن کی برآمد کر رہی ہے، ایسا پتا لگتا ہے کہ انہوں نے یہ بھی کوئی واضح حکمت عملی نہیں بنائی ہے بلکہ صرف اپنے فائدہ کی اور دنیا کو اس طرح کی تنگی میں پڑا رہا ہے۔
 
امریکی صدر کا یہ کہنا کہ وہ گرین لینڈ پر قبضے کی خواہش رکھتے ہیں، ساتھ ہی ان کی اچھی سیاسی حکمت عملی کے حوالے سے نہیں بلکہ رونالڈ لاؤڈر کی کاسمیٹکس کمپنی کے کاروباری مفادات کے لیے ہے! یہ ایساFeels لگتا ہے جیسے ان کو سوچنے میں کام نہیں اٹھانا پڑا ہے کہ اپنیPolitical سستے اور ایک کاروباری منصوبے کی طرف بڑھنا ہو گا!
 
امریکی صدر کی جانب سے گرین لینڈ پر قبضے کی خواہش ایک نئی سوچ نہیں ہے بلکہ رونالڈ لاؤڈر کا مفاد ہی ہو سکتا ہے۔ یہ بات بھی نہیں پتہ چلتी کہ ان کی خواہش کو ایک سیاسی منصوبہ یا ایک کاروباری منصوبہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے। لاؤڈر کی حکومت نے یوکرین پر قبضے کا بھی منصوبہ تیار کیا ہے، جو کہ ایک بڑا کاروباری منصوبہ ہو سکتا ہے۔ اس بات کی کوئی یقین نہیں کہ امریکی صدر کی سیاسی حکمت عملی میں وہی تفصیل ہے جو رونالڈ لاؤڈر کے کاروباری منصوبے میں ہے۔
 
امریکی صدر کی یہ خواہش کس حد تک سچ نہیں لیکن وہ اپنے معاشی منصوبوں میں بھی انچپٹ ہوئے ہیں، خاص طور پر جب یہ بات سامنے اٹھتی ہے کہ ان کی طرف سے یورپ کو خوفزدہ کرنے کا منصوبہ بھی تیار ہو چکا ہے، لیکن اس پر غور نہیں کیئے جاسکتا کہ ایک معاشی طاقت یہی ہے جس سے دنیا کا اکثریت کا شعبہ خوفزدہ ہوتا ہے
 
نہ ہی یہ جانب سے ایک نئی سوچ ہے، نہ ہی اس کا کوئی سیاسی اور دفاعی مقصد ہے۔ امریکی صدر کی یہ خواہش لافز ہے، صرف ٹیلموں کو ہو رہی ہے۔ جسٹی شہرت رکھنے والی عالمی کاسمیٹکس کمپنی اور ان کے وارث کا مفاد یہی ہے۔ یہ تو اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ دنیا بھر میں کس کی ہدایت نہیں ہو رہی ہے۔
 
اس نئی منصوبے سے پہلے ٹرمپ سے لوڈر تک کی ملاziت کے لیے کوئی prove نہیں مل رہا، یہ بھی جانتے ہو اور نہیں، کیسے ان دونوں کی ایک دوسرے پر منحصر ہو سکتی ہے؟ لاؤڈر کو 5 ارب ڈالرز لگ رہے ہیں، اور اس سے پہلے ان کے پاس کیا ہے؟ یہ بھی جانتے ہو یا نہیں؟
 
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے برطانیہ اور فرانس کے ساتھ مل کر گرین لینڈ پر قبضے کی خواہش، یہ ایک ایسی بات نہیں ہے جو آپ کو اچھی سے سوچنے پر مجبور کرتی ہو۔ اس کا پہلا ذریعہ یہ تھا کہ وہ امریکی کاروباری تاجر رونالڈ لاؤڈر کی جانب سے جسٹی شہرت رکھنے والی عالمی کاسمیٹکس کمپنی کے وارث کے مفادات پر منحصر ہے، جو کوئی ایسا معاملہ نہیں ہے جس پر آپ کو غور کرنا پڑے۔

ماہر تاجر رونالڈ لاؤڈر کا تعلق دنیا بھر میں کاسمیٹکس کی صنعت سے ہے، ان کے پاس ایسٹی لاؤڈر نے بنایا ہوا عالمی کا سب سے بڑا کاسمیٹکس کاروبار ہے جو دنیا بھر میں مختلف ممالک میں اپنے مشین کی قیمتی Metals اور اجوائن کی برآمد کر رہی ہے۔ لیکن یہ بات تو واضع نہیں کہ اس کاروبار کا تعلق سیاسی یا دفاعی حکمت عملی سے بھی ہے۔
 
جب تک یہ بات پتہ نہ کرتی ہو کہ برطانیہ، فرانس کی ایک جواب دینے کی کوئی بوجھ نہیں تو میرا خیال ہے یہ سب رونالڈ لاؤڈر اور ان کے ساتھ منسلک کاروباری منصوبوں پر مشتمل ہے، وہ اس میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے اپنی کاسمیٹکس کمپنی کو اس میں شامل کر رہا ہے، اور ان کے پھر سے امریکا میں پائے جانے والے فوجی مہموں کا بھی ایسا ہی منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔

یہ سب کچھ امریکی صدر کو تباہی پہنچانے اور اس کی جگہ نئے قائم کرنے کا ایک منصوبہ ہو سکتا ہے، اور یہ کھل کے کہیں نہ پوچھیں، سب کہیں یہاں تک کہ اٹھنے کی تلاش میں ہے۔
 
اس بات سے واضع نہیں ہوتا کہ ایسا کیسے ہوا، کیا یوکرین پر قبضہ اس کی ایک کاروباری منصوبہ تھا؟ ڈونلڈ ٹرمپ کو پوچھنا چاہیے کہ ان کی یہ خواہش اور وہ اس میں کس طرح ملوث ہوئے? یا ڈالر نما تجارتی منصوبے سے وہ پہلے سے ہی اہمیت رکھتے تھے?
 
واپس
Top