اس پر تبصرہ کرتے وقت میں اس بات کو سمجھنا محتاج ہوتا ہے کہ دوسرے ممالک کی طرف سے کرنے والی دھمکیوں کا مقصد اور امریکی صدر کی توجہ میں آنے کا یہ طریقہ جیسا ہی چل رہا ہے، تو اس میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی ہے۔
امریکی صدر کی دھمکیوں سے ان کے ارادوں کو سمجھنا مشکل ہو گا، کھانے اور پیئے کے ساتھ یہ بات نہیں کہا جا سکتی کہ اس میں جہت کی تشہیر کر رہی ہے یا فوجی موجودگی کو بڑھانے کی تلاش۔
اس لئے ضروری ہے کہ مظاہرین نے یہ بات بھی یاد رکھی ہوں کہ امریکی صدر کی دھمکیوں میں ان کے لیے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
امریکی صدر کی دھمکیوں سے ان کے ارادوں کو سمجھنا مشکل ہو گا، کھانے اور پیئے کے ساتھ یہ بات نہیں کہا جا سکتی کہ اس میں جہت کی تشہیر کر رہی ہے یا فوجی موجودگی کو بڑھانے کی تلاش۔
اس لئے ضروری ہے کہ مظاہرین نے یہ بات بھی یاد رکھی ہوں کہ امریکی صدر کی دھمکیوں میں ان کے لیے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔