بھارتی شہروں اور دہلی میں تیز رفتار ترقی کو دیکھ کر یہ سوچنا مشکل ہو گیا ہے کہ یہ سچ ہی نہیں ہے؟ ملک کے دیگر شہروں میں اسی طرح کی ترقی دیکھنے کو مل رہی ہے لیکن وہ اس کے پیچھے ایسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں جس سے ابھرتی ہوئی نئی نسل کے لیے بھی نتیجہ مل سکتا ہے۔
ان شہروں میں بھی ان کی سوچ، اسکول والوں اور ان کی تعلیم پر کیسے فیکٹرنگ ہوسکتی ہے؟ یہ دیکھنے کو ملا رہا ہے کہ نئی نسل ان شہروں میں بھی ایسی تیز رفتار ترقی کی طرف سے چل رہی ہے لیکن اس کے ساتھ دوسری جہت کی معاشی تبدیلی کا اور اس کے ساتھ ساتھ نئی نسل کے لیے معاشرتی بدلتگی کا بھی رخ ہو گیا ہے۔
ان شہروں میں کیونکر یہ توازن حاصل نہیں ہوسکTA ہے کہ جس سے معاشی ترقی میں لوگ ایک اور ایک کو چھوڑ کر اپنے لیے کچھ نہ کچھ حاصل کر सकن، ان شہروں میں پھر نئی نسل کی معاشی بحالی کا سچے معنی پیدا ہونے پر وہ بھی ایک اور ایک کو چھوڑ کر اپنی ترقی کا مظاہرہ کر سکتی ہے، اس شہروں میں ابھری ہوئی نئی نسل کی معاشی ترقی پر یہ کہانی جاری ہے۔
ان شہروں میں اسی طرح کی معاشی تبدیلی کا سچے معنی پیدا ہونا چاہتا ہو تو ان لوگوں کو خود اپنی ترقی سے محروم رہنے پر مجبور کرنا ہی نہیں ہوگا لیکن اس کے لیے ان شہروں میں اسی طرح کی معاشی بدلتگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
اسے دیکھتے ہیں نئی نسل کا ایک ایسا کردار جس سے ان کے لیے معاشی ترقی کی بڑی اور مشکل چیلنج مل رہی ہے، اسے دیکھتے ہیں کہ ان کی سوچوں میں ایسا تبدیلی لانے والی وہ فیکٹرنگ ہوتی ہے جو ان شہروں میں بھی دکھائی دے رہی ہے۔
اسے دیکھتے ہیں کہ نئی نسل کی معاشی ترقی کا ایسا پتہ لگانا ہوتا ہے جس سے ان کے لیے معاشی بدلتگی کا مطلب یہ نہیں ہو کہ وہ اپنی ترقی کو چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں بلکہ اس سے ان کی معاشی زندگی میں ایسے تبدیلیاں آئیں جو ان کو معاشی طور پر مستحکم کرتی ہوں اور ان کے لیے ان شہروں میں بھی ایسی تبدیلی لائیں جس سے ان کے لیے معاشی ترقی کی اور اس کے ساتھ ساتھ ایک نئی زندگی ہو سکتی ہے۔
اسے دیکھتے ہیں کہ ایسا پتہ لگانا جس سے ان شہروں میں بھی ایسی تبدیلی آئی، جو نئی نسل کو معاشی طور پر مستحکم کر سکتی ہو اور ان کی زندگی میں ایسا تبدیلیاں لائیں جس سے ان کے لیے ایک بھرپور معاشرتی اور معاشی भविषت ہو سکے۔
اسے دیکھتے ہیں کہ یہ نئی نسل کی ایسی تبدیلی لانے کی جہت دیکھی جاتی ہے، جو اس کی معاشی ترقی کو چلائی رکھ سکتی ہو اور اس سے ان کے لیے ایک نئا معاشرتی و معاشی منظر نامہ بننے میں مدد مل سکتی ہے۔
ان شہروں میں بھی ان کی سوچ، اسکول والوں اور ان کی تعلیم پر کیسے فیکٹرنگ ہوسکتی ہے؟ یہ دیکھنے کو ملا رہا ہے کہ نئی نسل ان شہروں میں بھی ایسی تیز رفتار ترقی کی طرف سے چل رہی ہے لیکن اس کے ساتھ دوسری جہت کی معاشی تبدیلی کا اور اس کے ساتھ ساتھ نئی نسل کے لیے معاشرتی بدلتگی کا بھی رخ ہو گیا ہے۔
ان شہروں میں کیونکر یہ توازن حاصل نہیں ہوسکTA ہے کہ جس سے معاشی ترقی میں لوگ ایک اور ایک کو چھوڑ کر اپنے لیے کچھ نہ کچھ حاصل کر सकن، ان شہروں میں پھر نئی نسل کی معاشی بحالی کا سچے معنی پیدا ہونے پر وہ بھی ایک اور ایک کو چھوڑ کر اپنی ترقی کا مظاہرہ کر سکتی ہے، اس شہروں میں ابھری ہوئی نئی نسل کی معاشی ترقی پر یہ کہانی جاری ہے۔
ان شہروں میں اسی طرح کی معاشی تبدیلی کا سچے معنی پیدا ہونا چاہتا ہو تو ان لوگوں کو خود اپنی ترقی سے محروم رہنے پر مجبور کرنا ہی نہیں ہوگا لیکن اس کے لیے ان شہروں میں اسی طرح کی معاشی بدلتگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
اسے دیکھتے ہیں نئی نسل کا ایک ایسا کردار جس سے ان کے لیے معاشی ترقی کی بڑی اور مشکل چیلنج مل رہی ہے، اسے دیکھتے ہیں کہ ان کی سوچوں میں ایسا تبدیلی لانے والی وہ فیکٹرنگ ہوتی ہے جو ان شہروں میں بھی دکھائی دے رہی ہے۔
اسے دیکھتے ہیں کہ نئی نسل کی معاشی ترقی کا ایسا پتہ لگانا ہوتا ہے جس سے ان کے لیے معاشی بدلتگی کا مطلب یہ نہیں ہو کہ وہ اپنی ترقی کو چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں بلکہ اس سے ان کی معاشی زندگی میں ایسے تبدیلیاں آئیں جو ان کو معاشی طور پر مستحکم کرتی ہوں اور ان کے لیے ان شہروں میں بھی ایسی تبدیلی لائیں جس سے ان کے لیے معاشی ترقی کی اور اس کے ساتھ ساتھ ایک نئی زندگی ہو سکتی ہے۔
اسے دیکھتے ہیں کہ ایسا پتہ لگانا جس سے ان شہروں میں بھی ایسی تبدیلی آئی، جو نئی نسل کو معاشی طور پر مستحکم کر سکتی ہو اور ان کی زندگی میں ایسا تبدیلیاں لائیں جس سے ان کے لیے ایک بھرپور معاشرتی اور معاشی भविषت ہو سکے۔
اسے دیکھتے ہیں کہ یہ نئی نسل کی ایسی تبدیلی لانے کی جہت دیکھی جاتی ہے، جو اس کی معاشی ترقی کو چلائی رکھ سکتی ہو اور اس سے ان کے لیے ایک نئا معاشرتی و معاشی منظر نامہ بننے میں مدد مل سکتی ہے۔