سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے جنوری میں شہر بھر میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کی، جس سے شہر بھر میں غیر قانونی ساختوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے۔
ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے مزمل حسین ہالیپوٹو نے بتایا کہ سب سے زیادہ کارروائیاں ڈسٹرکٹ ایسٹ میں کی گئیں، جہاں 68 غیر قانونی تعمیرات مسمار کی گئیں۔ دیگر علاقوں میں_carvings کا سلسلہ جاری رہا، جیسے:
مزمل حسین ہالیپوٹو نے بتایا کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف یہ کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی اور شہر میں قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے گا۔ وہ شہریوں سے اپیل کرتے ہوئے کہانے لگے کہ وہ تمام قانونی اصولوں کی پابندی کریں تاکہ مستقبل میں ایسی مشکلات سے بچا جا سکے، اور کہا کہ اس کارروائی کو شہر کی منظم ترقی اور عوام کی حفاظت کے لیے ضروری سمجھنا ہو گا۔
اس وقت کے وہ حالات جس پر یہ کارروائی ہوئی، یہ بہت مایوسی کی وجہ ہے۔ آپ سے پوچھا جائے تو یہ سمجھنے کے لیے کہ شہر میں غیر قانونی تعمیرات نہیں کیے جا سکتیں، تو اس کا ایک اور نام ہوگا، جس کو "ناکام ترمیمی" کہتے ہیں، جو نئے سے پرانے کا خاتما بنتا ہے، نئے شہر کی بنیاد رکھنے میں مدد دیتا ہے اور عوام کو اپنی جگہوں پر سکون کے حقدار بنا دیتا ہے۔
اس معاملے کے بارے میں ایس بی سی اے کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ شہر بھر میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جس نے عوام کو ایسی طرح متاثر کیا ہے کہ وہ ناکام ترمیمی کو روکنے میں مدد ملے گی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ شہریوں کو اپنی جگہوں پر سکون کے حقدار بنانے کی ضرورت ہے، اور شہر کی منظم ترقی میں اسے شامل کرنا پوری اہمیت رکھتا ہے۔
یہ کارروائی تو حقیقت میں بڑی لازمی تھی، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو یہی چاہیے کہ وہ شہر کی منظم ترقی کے لیے کام کرتی ہے اور عوام کو ضروری پابندیوں سے آگاہ करاتی ہے۔ جس سے سندھ بھی اپنی معیشت میں ترقی کے لیے ترجیح دے سکے گی۔ اس چارٹ سے اچھا دیکھ سکتے ہیں کہ ڈسٹرکٹ ایسٹ میں سب سے زیادہ کارروائیاں تھیں، جبکہ وسعت کے حساب سے سایونٹال اور ملیر میں کم کارروائیاں ہوئیں۔ یہ دیکھنا بھی فائدہ مند ہوگا کہ شہر کی مختلف علاقوں میں مختلف سطح پر کارروائیاں ہوئیں، جس سے یہ بات قائم ہو سکتی ہے کہ وہاں زیادہ تر تعمیرات غیر قانونی تھیں۔
ایس بی سی اے نے ایسا کیا ہے؟ یہ تو بہت چییز... شہر میں غیر قانونی تعمیرات کی جانب سے کروائے گئے کاروائیوں پر ٹھیک اور ناقد دونوں پکڑ لیے ہوتے ہیں... شہر میں لوگ کیسے چلتے ہیں، انھیں یہاں تک پہنچنے کی اجازت نہیں ملتی ہے؟ ایسا کیا آئندہ بھی ہوگا? شہر میں انفراسٹ्रकچر کو بڑھایا جائے گا تو کھربا پیدل چلتے ہوئے لوگوں کی زندگی کیسے رہے گی؟
اس سلسلے میں میرے خیال ہیں کہ یہ کارروائی ایک Good Step ہے، لاکین اس پر مزید توجہ دینی پڑے گی کہ شہر کی منظم ترقی کیسے ہو سکے گا؟ میں انسafi سے یقین رکھتا ہوں کہ شہریں اپنی عمارات بنانے سے پہلے سارے قوانین کو پڑھ کر چکنا چاہئیں تاکہ مستقبل میں Problem نہ ہو کے .۔
ایس بی سی اے کے ذریعہ جاننے پر یہ واضح ہے کہ سندھ میں غیر قانونی تعمیرات کو روکنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھی گئیں، جس سے اس شہر میں بھی غیر قانونی عمارات کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے ،اس کی وجہ سے یہ شہر دیکھنا ہی مایوس کن ہے
تمام لوگ اس پر توجہ دینا چاہیے کہ اس کارروائی نے شہر میں غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کرکے ایسی صورتحال سے بچایا ہے جس کی وجہ سے پچاس سال قبل انفراسٹرکچر ٹامٹار ہوگیا تھا۔ اب یہ کراہی میں ملازمین کو کام کرنے پر مجبور کر دیتا تھا اور شہر کی منظم ترقی سے بچا نہیں سکتا تھا۔ اگر لوگ قانون کا احترام نہ کریں تو اس طرح کی کارروائیوں کو ضروری سمجھنا ہو گا۔
یہ سارا کام ہی نہیں بلکہ واضح ہے کہ سندھ میں ہر سال یہ کارروائیاں ہوتی رہتی ہیں، اور ابھی ایسے ہی واقعات سامنے آئے ہیں۔ شہر میں کچھ لوگ اپنی اشتہار کی فیکٹری یا کوٹج بنانے والے نہیں پائے، یہ تو چلنا ہی بہت آسان ہو گیا ہے کہ وہ کوئی بھی فیکٹری یا کوٹج بناتے ہیں اور پھر سارے شہر میں دھول اٹھانے والے کام کی جائے۔ یہ تو کچھ لوگ اس پر لگا کہ وہ اپنے ملک کو ایسے ہی بناتے رہنے دے گا، لیکن یہ تو وہ نہیں سمجھتے کہ ان کی فیکٹری یا کوٹج کتنے لوگوں پر نقصان پڑتے ہیں؟
یہ کام نہ صرف سرگروں میں توہن ہے بلکہ شہر کے صحت مند ترقی کو بھی خطرہ پہنچاتا ہے! لوگ یہ کہتے رہے تھے کہ شہر میں تعمیرات کی نئی پالیسی کے تحت کچھ نئے منظر کے نظر آن گے لیکن واضح ہو چکا ہے کہ انہیں نہیں سمجھا جاتا! اس سلسلے میں کارروائی کو جاری رکھنا اور شہر کی منظم ترقی پر زور دينا ضروری ہے!
ایس بی سی اے نے سندھ میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کی، جو بھرے موڑ کی سیریز ہوئی! 68 غیر قانونی عمارتیں مسمار کر دی گئیں، جو انفرادی طور پر یوں نہیں تھیں بلکہ وہ ڈسٹرکٹ ایسٹ میں سب سے زیادہ تھیں! مزمل حسین ہالیپوٹو کے شہریوں کا مشورہ ہے کہ وہ تمام قانونی اصولوں کی پابندی کریں، لہذا مستقبل میں ایسی مشکلات سے بچا جا سکے! اس کارروائی کو منظم ترقی اور عوام کی حفاظت کے لیے ضروری سمجھنا ہو گا.
یہ تو بہت ہلکی جانب دیکھتے ہیں نہیں، شہر میں غیر قانونی تعمیرات کو کھڑے کرنے کی یہ کارروائی سب سے اچھا تھا۔ یہ وہ شخصوں پر پابندی لگا رہا ہے جو پوری طرح قانون کی جانب سے نہیں آتے، اور یہ شہر کو بھی ایسے ساتھ چلنے میں مدد کرتا ہے جہاں کسی کو اپنی جگہ نہ مل سکے۔
لیکن، اس بار ایک بات ہوگی وہ لوگ جنہوں نے یہ کارروائیوں میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا وہ بھی اپنی جگہ سے نکلنے کے لیے مجبور ہوجائیں گے۔
اس کی ٹیکسٹری کورنگی میں دیکھنا ایک ایسا جوہر تھا جس نے میرے لئے خاص طور پر اچھا محسوس کیا
یہ بات بھی یقینی ہو گی کہ لوگ اپنی وہ نیلیمر کی سزائی مظالم ڈال کر ہی چلپاتے رہیں گے، اور ان سے پہلے ایسی کارروائیوں کو بھی جاری رکھا جائے گا جو نئے کامیاب شہر کی بناوٹ میں مدد دے، تو لوگ کیا بتاتے ہیں کہ آپنا باپ کا انساف کرنے اور پچھلے بلا گھیڑوں کو سزائی دینے کی وہی ترتیلی ماحولیہ جاری رکھیں گے؟
اس نئی کارروائی سے پہلے بھی ہو چکی تھی کہ سندھ میں غیر قانونی تعمیرات پر کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے کچھ اور کارروائیں ہون گیں گی تو یہ نہیں تو۔ یہ شہر بھر میں غیر قانونی تعمیرات کا ایک دہرائی جانے والا مسئلہ ہے، اور صرف اسے حل کرنے سے نہیں بلکہ اس کا کوئی حل بنانے کی ضرورت ہے۔
سڈی نے کہا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات سے عوام کو نقصان پہنچتا ہے، اور یہ شہر کی منظم ترقی پر بھی تأثریں پاتی ہے تاکہ اس میں ایسا نہ ہو کہ عوام کو ایک دوسرے پر چیلنج کرنا پڑے جو نہیں اچھا سائنسی طریقے سے بنایا گیا ہے، اس لیے یہ کارروائی کھل کر کی گئی ہے تاکہ عوام کو ان تمام معاملوں میں ایک ایسا منظر پیش ہو کہ وہ بھی اپنے اور شہر کے لیے یہی چاہتے ہیں۔
نظریہ: یہ کارروائی سندھ کی شہری ترقی کو دیکھ کر مہم کے ساتھ تھام گئی ہے ، لہذا بلاشبہ اس پر سست پاؤں نہیں اٹھانا چاہئیں جبکہ دیگر علاقوں میں بھی کریک ڈاؤن سلسلہ جاری رہا تو یہ بھی ان کے لئے فائدہ مند ہوگا ، لیکن یہ دیکھنا پچتا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کی تعداد میں کمی آئی اور نئی تعمیروں میں بھی تیزی سے نئے پھنسنے والے سامع ہوا ہیں ।
کیا یہ دیکھنے میں آئے کہ کتنے غیر قانونی تعمیرات مسمار کی گئیں؟ 68 کی تعداد بھی اتنی ہی ناڈر است?
میں سوچتا ہوں کہ یہ کارروائی نہ صرف شہر کی منظم ترقی کو دیکھنے میں آئے گی بلکہ عوام کی حفاظت بھی کرے گے، اور شہر میں قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کی کوشش کریگی۔
لیکن ایسے سے جو کہیں چاہئے وہی ہو گا، جو کہیں نہیں چاہے۔ میں تو اس کے لیے تھوڑا سا انٹراسٹ بھی لیتا ہوں...
یہ تو بہت ایسے لوگوں کو سونے والی بات ہے جو اپنے گھر کی تعمیر میں یہدے سے کام نہیں کر رہے، نا تو پینس لگ رہے تھے اور اب تو پینس کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ان کی پیسی میں کمی ہو گی بلکہ شہر میں سب کچھ ایسا ہوجاتا جس سے لوگ افسوس کرتے ہیں۔
یہ دیکھ کر میرا دورہ ہوا کہ شہر بھر میں لوگ غیر قانونی تعمیرات پر آگے بڑھ رہے ہیں، چاہے وہ سب سے زیادہ اچانک ہوئی کریک ڈاؤن ہو جس کی وضاحت ذیل میں دی گئی ہے یا اس کے بعد بھی لوگ ان قانون کو نہیں منا رہے ہیں، یہ سچ کہیں نہ کہیں کی بھی جاری ہوا ہو گے اور سڑکوں پر غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ چلتا رہے گا تو یہ صرف ایسا نہیں رہ سکتا، میرا خیال ہے کہ شہریوں کو اپنی عمارت بنانے کی پابندی کرنا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسی مصائب سے بچا جا سکے اور یہ سڑک پر ہونے والے کارروائیوں کو شہر کی منظم ترقی اور عوام کے لیے ایک اہم کارنامہ سمجھنا چاہیے