کراچی، ڈاکوؤں کی فائرنگ کے دو واقعات میں دو افراد زخمی | Express News

ایسے واقعات ہو رہے ہیں جو میری ساتھ بھی ہوسکتی ہیں... پہلے تو شہر کی ایسی صورتحال نہیں تھی جس پر یہ ہوا، اب یہ دوسری بار ہو رہا ہے... یہ زخمی ہوئے لوگ کس طرح بچ سکتے ہیں؟

جب اس شخص کو طبی امداد کے لیے سول اسپتال منتقل کیا گیا تو میں سوچta ہوں کہ یہ صرف ایک واقعات سے بھی نکل جائے گا... لگتا تھا کہ پہلے واقعے کو دیکھتے ہوئے ان لوگوں کو بھی دھماکوؤں کی فائرنگ سے بچا جا سکتا تھا... میں یہ کہتا تھا کہ کیا ہمارا شہر اس kadar خطرناک ہو گیا کہ اب یہ ہوا نہیں ہوتی؟
 
🤔 یہ واقعات تو انسداد تنازعات کو لینے میں حکام کی صلاحیت کا ایک اور prova کے طور پر آ رہے ہیں لیکن یہ بھی بات کہیں پہلی جگہ پر دھماکوؤں کی فائرنگ میں سے ایسا نہیں کیا گیا تھا جو اس کے بعد آئے واقعات سے ہوا ہے۔ یہ بات تو پتہ چلتا ہے کہ ان واقعات کی جڑیں بہت گہری ہیں لیکن یہ دیکھنا کہ شہر کی سیکیورٹی کے بارے میں تینوں کی ایک آگاہی ہو کہ ان واقعات کو ہونے سے پہلے اور اس کے بعد کے نتیجے کی پابندی کر لی جا سکے تو بہت دیر ہوتی۔
 
اس واقعات سے ہر کوئی خوفزدہ ہے اور پھر یہ بات کیوں چلتی ہے کہ دھماکوؤں کی فائرنگ کے بعد بھی لوگ اس طرح کی زخمیاں لینے کا موقع دیتے ہیں؟ اس سے ہر کوئی ان کے خلاف کہنے لگتا ہے لیکن پھر بھی جہاں یہ واقعات ہوتے ہیں وہاں لوگوں کی ایسی بھاگڑ چپکری دیکھنا نہیں آسamantha 😳
 
اس دوسرے واقعے کے بعد، میں سوچتا ہوں کہ یہ شہر کی سیکیورٹی سسٹم کی ناکامیت پر بات کر رہا ہے۔ آگرہ تاج کالونی جیسے مقامات پر دھماکوؤں کی فائرنگ کے بعد یہ دوسرے مقامات پر بھی دیکھنے کا وعدہ کیا جائے گا؟ اور اس سے یہ کہا جائے گا کہ ہمارے شہر کی سیکیورٹی اس طرح سے خراب ہو چکی ہے؟
اس واقعات کے بعد، میں ایک سؤال پوچھنا چाहतا ہوں کہ یہ دوسرے مقامات پر دیکھنے والے ہی نہیں، لیکن یہ کیا کرتے ہیں؟ کیا وہ ان واقعات کی رپورٹ کر کے سوشل میڈیا پر اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانے کا ایسا اہم کردار ادا کرتے ہیں جو ان دوسرے واقعات کی وجہ بن جائے؟
 
واپس
Top