کراچی میں ایک نوجوان مزدور کا ایسا حادثہ پیش آیا جس سے وہ اس دنیا کو چھوڑ کر باقی ہے۔ شہر قائد میں ایک کمپنی میں کام کرتے ہوئے فلک شیر نے اپنے زندگی کی سب سے اچھی پہچان لینے کی کوشش کی تھی لیکن اس نے خود کو ایسے دھچکا سے مایوس کر دیا جس سے وہ انھیں بھی نہیں چھوڑ سکے گا۔
فلک شیر، جو 24 سالہ تھے، کورنگی علاقے چار نمبر فلور مل کی قریب ایسے مقام پر کام کر رہے تھے جہاں انھیں یقینی طور پر اپنے کام کو سافٹ لیول پر لینے کا موقع نہیں ملتا۔ اس حادثے میں انھوں نے ایک مشین میں پھنس کر خود کو خطرے کے بحیرے میں ڈال دیا اور اب وہ اپنی زندگی کو یقینی طور پر ختم کر چuke ہیں۔
ان کے انتقال کے بعد ان کی لاش جناح اسپتال منتقل کر دی گئی تھی، جہاں اسے ہم آہنگی سے ساتھ دیتے رہنے کو پہلا چانس ملتا ہے۔ حادثے کے بعد کمپنی نے خود کو معزز کر لینے کی کوشش کرتے ہوئے ایسے پہلے اقدامات شروع کیے تھے جو اس حادثے سے انھیں اور اسے بھی نجات دہandi کی جانے والی کوشش کو موثر بنائیں۔
فلک شیر، جو 24 سالہ تھے، کورنگی علاقے چار نمبر فلور مل کی قریب ایسے مقام پر کام کر رہے تھے جہاں انھیں یقینی طور پر اپنے کام کو سافٹ لیول پر لینے کا موقع نہیں ملتا۔ اس حادثے میں انھوں نے ایک مشین میں پھنس کر خود کو خطرے کے بحیرے میں ڈال دیا اور اب وہ اپنی زندگی کو یقینی طور پر ختم کر چuke ہیں۔
ان کے انتقال کے بعد ان کی لاش جناح اسپتال منتقل کر دی گئی تھی، جہاں اسے ہم آہنگی سے ساتھ دیتے رہنے کو پہلا چانس ملتا ہے۔ حادثے کے بعد کمپنی نے خود کو معزز کر لینے کی کوشش کرتے ہوئے ایسے پہلے اقدامات شروع کیے تھے جو اس حادثے سے انھیں اور اسے بھی نجات دہandi کی جانے والی کوشش کو موثر بنائیں۔