دائیں بازو کی وراٹ سمیلن میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف زہریلے اشتعال انگیز تقریریں ہوئیں جس میں ہندوتوا لیڈروں نے شرما اور پانڈے کو خاص مقام دیا۔ شھرما نے ہندو لڑکی کی ایک ہندو لڑکی کو بھگاتے ہوئے ان کی 100 لڑکیوں کو بھگالنے کا وعدہ کیا اور یہ بات پر زور دیا کہ مسلم کمیونٹی کی "بڑی آبادی" کی وجہ سے ان کی تعداد کو کم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔
اس تقریر کے بعد 116 مسلمان مردوں کو قتل کر دیا گیا اور ان کی لاشوں کو گاؤں میں دفن کر دیا گیا اور ان کے اوپر گوبھی کے پودے لگائے گئے۔
اس تقریب میں ایک نامعلوم شخص نے ایسا کہنا کہ "آپ کی کالونیوں میں محتاط رہیں، کسی ہندو عورت یا لڑکی کو ’جہادیوں‘ کے ہاتھوں اغوا نہ ہونے دیں۔"
سورس کی حوالہ
ایس پی آف پولیس کے پاس شرما کی مخالفت پر ایک باضابطہ شکایت درج کرائی گئی اور وہ رائے بریلی سے متعرض ہونے والے مسلمانوں کی نسل کشی کا مطالبہ کرنے پر یہ کہتے تھے کہ "آئینی جمہوریت میں نفرت انگیز تقریر اور نسل کشی کے مطالبات کو معمول نہیں بنایا جا سکتا"۔
اس تقریر کے بعد 116 مسلمان مردوں کو قتل کر دیا گیا اور ان کی لاشوں کو گاؤں میں دفن کر دیا گیا اور ان کے اوپر گوبھی کے پودے لگائے گئے۔
اس تقریب میں ایک نامعلوم شخص نے ایسا کہنا کہ "آپ کی کالونیوں میں محتاط رہیں، کسی ہندو عورت یا لڑکی کو ’جہادیوں‘ کے ہاتھوں اغوا نہ ہونے دیں۔"
سورس کی حوالہ
ایس پی آف پولیس کے پاس شرما کی مخالفت پر ایک باضابطہ شکایت درج کرائی گئی اور وہ رائے بریلی سے متعرض ہونے والے مسلمانوں کی نسل کشی کا مطالبہ کرنے پر یہ کہتے تھے کہ "آئینی جمہوریت میں نفرت انگیز تقریر اور نسل کشی کے مطالبات کو معمول نہیں بنایا جا سکتا"۔